Skip to content

باد مشرق تیرا انتظار باقی ہے

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 97
” باد مشرق تیرا انتظار باقی ہے”

تسنیم کوثر سیّد .نئی دہلی ۔انڈیا

رات دیر سے سوئی تھی اور صبح دیر تک سونے کا ارادہ تھا ۔مگر ٹی وی کی تیز آواز نے سونے نہ دیا ،ابا جب سے ریٹائر ہوئے ہیں انکو کوئی کام نہیں سوائے ٹی وی دیکھنے ا ور تبصرے کرنے کے۔صبح ہوئی نہیں کہ ٹی وی آن۔اتنی ڈرامائی انداز کی خبریں آتی ہیں کی فکشن کا گمان ہوتا ہے اور تو اور نیوز چینل خبروں کے بیچ میں کامیڈی کے پورے پورے ایپیسوڈ ڈال دیتے ہیں ۔ہمارے گھر میں دوسرا کوئی چینل نہیں چلتا ۔آج کے ماحول میں یہ بھی اچھا امتزاج ہے خبریں دیکھنے سننے والا اختلاج کے دوروں سے محفوظ رہتا ہے ۔لیکن ہر چیز کا اوور ڈوز ہے۔ابا بھی کیا کریں کنکریٹ کے اس جنگل میں جسے عُرف عام میں دلّی کہتے ہیں جسے کچھ لوگ اب ہستنا پور کہنے اور کہلوانے میں لگے ہیں ابا نے تین کمروں کا فلیٹ افورڈ کر لیا بس یہی کافی ہے ۔انکے پروویڈنٹ فنڈ کی رقم سے بس یہ ہوا کہ ہم سب کرائے کہ مکان سے اٹھ کر اپنے فلیٹ میں آگئے اور تو اور برسوں کے اپنے ہمسائے پٹیل انکل سے جھگڑا کری آئے ،کیوں نہ کرتے ۔۔۔انہوں نے بات ہی ایسی کی ۔۔ابا نے اتنے پیار سے مسلمانوں کے گڑھ میں وہ بھی مسجد کے برابر والی بلڈنگ میں فلیٹ لیا اور وہ فرمانے لگے کہ تم مسلمانوں کو نہ بیماری ہے ہر جگہ مِنی پاکستان چاہئے ۔تیس پینتیس سال یہیں کاٹے سندر نگر میں کوئی فلیٹ نہ ملا جو چلے گئے اوکھلا اور وہ بھی ابوالفضل ۔۔۔نالے کے ُاس پار ۔۔۔۔مجھ سے نہ رہا گیا میں نے بھی تُرکی بہ تُرکی جڑ دیا۔جب سے آپ لوگوں نے جنپد بنانے شروع کر دئے ہیں نہ جیسے جین ہاوسنگ ،ساورکر سوسائٹی،گوڈسے دھام،اروڑا اینکلیو،بنگالی ہاتا مارواڑی باسہ اور شر ط رکھ دی کے کوئی غیر جات برادری کا وہاں نہیں گھس سکتا تو انکل جی ہم تو ٹھرے الپ سنکھیک ہمیں اچھوت بنانے میں کیا دیر لگے گی اور یوں بھی ہمارے ملک میں ہم جیسوں کو جانور سے کمتر سمجھا جا رہا ہے اسلئے بھیڑ کو اپنے ریوڑ میں ہی رہنا چاہئے۔سُلگی پہ تیلی جواب تو دے دیا لیکن حقیقت یہ تھی کہ ددّا کئی سال سے کہہ رہی تھیں کہ چھوٹے دادا کی طرف گھر لیا جائے۔سو ابا نے لے لیا۔
ہمارے گھر میں ڈرائنگ روم کا ایک کونا ددّا کے لئے مخصوص ہے وہاں وہ اور انکی جماعت پرانے وقتوں کو یاد کر کے آہیں بھرنے کا کام کرتی ہے۔دائیں طرف کچن سے لگی کھلی اسپیس میں ڈائننگ میز رکھی ہے جہاں امی صبح سے شام تک اپنے ضروری کام نمٹاتی ہیں اور جج بن کر بات بے بات عدالت بھی وہیں لگاتی ہیں مزاج گرم ہے اورانکا غصے والا بلب اکثر آن ہوتا ہے ۔اسپر ستم یہ کہ ابا اور بھای کی ضد سے بہو پاکستانی لے آئی ہیں ۔ابا کو تاریخی کام کرنے کا بڑا شوق ہے وہ اڑ گئے کہ اپنے مہاجر دوست عبداسطار کی بیٹی کو ہی امی کے لاڈلے کی دلہن بنائیں گے۔اپنی دانست میں انڈ و ۔پاک ریلیشنز کو متوازن رکھنے کے لئے انکا یہ یوگدان تاریخ میں سنہری سطر میں کندہ ہوگا۔امی تو ابا کو اس مورچے پر شکست دینے کے لئے آس پڑوس رشتہ دار احباب عوام و خاص میں رشتہ ڈھونڈھنے کے لئے پا بہ رکاب رہیں ادھر بھیا نے فیسبک اور اسکائپ کے ذریعے عشق پیچاں کی ساری منزلیں گربہ قدمی سے طے کر لیں یوں نائلہ بھابی نام کا قلعہ فتح کر لیا اورامن کی فاختہ کی پوری نسل پیدا کرنے کی پلاننگ واٹس ایپ پہ کر ڈالی۔امی کو تو ہارنا ہی تھا ۔ایک مصیبت یہ ہوگئی کہ تب سے امی کی عقابی نگاہیں مجھے اپنے ہالے میں رکھتی ہیں مبادہ کوئی نیپالی داماد نہ گلے پڑ جائے۔مجال ہے جو انکی موجودگی کے بنا میں کسی سوشل سائٹ کی علت میں گرفتار ہوں گئو رکشک دل کی طرح بریانی میں بیف سونگھتی پھرتی ہیں اور تو اور مجھ سے سارے پاسورڈ لے رکھے ہیں گاہے بگاہے چھاپے ڈالتی رہتی ہیں ۔مگر انکو کیا پتہ کس نوجوان نسل سے پالا پڑا ہے جسکے کھانے کے دانت اور دکھانے کے اور ۔
آج امی کا پارہ کچھ زیادہ ہی گرم تھا۔۔ٹی وی آن تھا اور ناشتہ ٹیبل پر رکھ دیا گیا تھا لوگ باگ اپنے بنکروں سے نکل کر ڈائننگ کی طرف چل چکے تھے جیسے ہی نائلہ بھابھی میز تک پہونچیں امی پھٹ پڑیں۔
ــکیا اذیت ہے صاحب کیا درندگی ہے ۔۔۔ارے مار کے جی نہ بھرے ہے ان نامرادوں کا جو نعش کا حشر نشر کر دے ہیں۔۔ائے کہاں لکھا ہے کہ مملکت خدادا کے وحیانہ قانون میں کہ لاش کی بے حرمتی کرو ائے یہ بھی نصف ایمان ہے؟
دیکھ تو وہ ٹی وی رہی تھیں لیکن مخاطب بھابی سے تھیں۔۔۔۔لو !پھر سر کاٹ کر لے گئے تمائے جلاد فوجی ہمائے جوانوں کے اور لاش پارسل کردی۔۔۔وہ اسوقت مودی جی کے اوتار میں تھیں۔امی کے جارحانہ تیور بتا رہے تھے کہ انکو جواب نواز شریف سے نہیں راحیل شریف سے چاہئے۔
بھابھی نے ایک طائرانہ نظر ٹی وی پہ ڈالی جہاں اینکر فوج کا سپہ سالار بنا ایک کے بدلے دس سر کاٹ لانے کے دعوے اسٹوڈیو میں بیٹھا کر رہا تھا۔بھابھی نے بریڈ کے دو پیسسز ٹوسٹر میں ڈالے اور قدرے تمسخرانہ انداز میں بولیں ۔۔۔سرجیکل کا بڑا شوق ہے نا ۔۔۔بھگتیں اب۔۔۔۔ ننھی میزائل داغی جا چکی تھی اب تو باقائدہ جنگ طے تھی۔ہاں تو دراندازوں کے خلاف ہم سرجیکل کریں گے تو تم پوسٹ مارٹم پر اتر آوگے؟امی نے بھابھی کو راحیل شریف مان لیا ۔۔ وہ کارپیٹ بامبنگ کی تیاری میں تھیں۔ نائلہ بھابھی نے پاک سرزمین شاد باد کا نعرہ بلند کیا اور امی پر جوابی کاراوائی کر ڈالی ۔۔آپلوگ مانتے نہیں نہ ۔۔۔بتانا پڑتا ہے ۔۔آپنے کتنے مارے ہم نے کتنے مارے ۔
ابا نے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مداخلت ضروری سمجھی اور خوامخواہ امریکہ بننے کی کوشش کی ـ۔ارے یہ سب تو ہوتا ہی رہتا ہے ورنہ دونوں ملکوں کی فوجیں بیکار نہ ہوجائیں !میڈیا کو بھی تو رسد پانی چاہیے نا۔
امی آج سارے پھپھولے پھوڑ لینے کے موڈ میں تھیں۔اچھا ۔۔۔اتّا سا ملک پِدی سا ۔۔۔آنکھیں دکھا رہا ہے ۔۔ارے ہم سب مل کر تھوک دیں ۔۔تو بہہ جائے ۔۔چھلانگیں دیکھو یہ لمبی لمبی۔۔
اچھا تو آپ مل سکتے ہیں ؟ایک ساتھ تھوکیں گے ؟بھابھی نے ڈرون حملہ کیا ۔۔امی آپلوگ اچھوت ہیں اچھوت کس دنیا میں رہتی ہیں آپ ؟تھوک بھی نہ تھوک میں شامل کریں یہ لوگ۔اور وہ کون ہیں آپکے سچر صاحب انہوں نے تو نبی کی امت کو دلتوں سے بدتر قرار دے دیا ہے اور مزہ تو یہ ہے کہ آپ لوگوں نے مان بھی لیا ہے۔بھابھی نے گرم چائے کپ میں انڈیلتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی ۔
لیکن امی بھی تیار بیٹھی تھیں انہوں نے مودی نام کی اسکڈ داغی ۔۔۔56 انچ کے سینے سے اب تک سابقہ نہیں پڑا تھا نا ۔۔اب کے سے آنا۔۔۔بھابھی کے پاس پیٹرےاٹ ریڈی تھی وہ بولیں۔امی جان ہمارا ملک اتا سا ضرور ہے لیکن آپکے یہاں تو صرف ایک سینہ 56 انچ کا ہے ہمارے یہاں تو سارے سینے 56 انچ کے ہیں ۔ ارے نئیں کِتّا بھی فوں فاں کر لیں اِتّا دم نہ ہے ۔اس سے پہلے کے دونوں طرف کے ہم جیسے مظلوم شہری مارے جاتے ددّا کی اینٹری ہوئی اور وہ ہمیں بانکی مون کی طرح لگیں۔لیکن امی کو تو کُمک مل گئی ۔ددا کی طرف گھوم کہ بولیں ۔یہ شعبدے بازیاں کیا کیا گُل کھلاتی ہیں ان مہاجروں کو کیا پتا ۔خود تو دربدر ہوئے اور ہمیں چھوڑ گئے بے یارو مددگار۔سچ کہتی ہوں اماں مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے ہم 1947 میں جی رہے ہیں مجھے تو خواب میں پیڑوں سے لٹکتی لاشیں دکھائی دیتی ہیں ۔امی آبدیدہ ہوگئیں۔
ائے بی وہ لاشیں علماٗ کی تھیں اور وہ وقت 1857 غدر کا تھا جب ہم آزادی کی پہلی جنگ مل کر لڑ رہے تھے ہم ایک قوم تھے دشمن ہمارا ایک تھا وہ علما ہی تھے جنہوں نےمادر وطن کی آزادی کے لئے نعرہ انقلاب بلند کیا تھا اور لٹکا دئے گئے پیڑوں سے ۔ توپ کے منہ پر رکھ کر داغ دئے گئے صاب کیا شاہ و کیا گدا حب وطن سے لبریز جسم وجاںپھانسیوں پر ہلکے ہونے کہ بجائے بھاری پڑے۔ددا کا سفید براق چہرہ وفور جزبات سے سرخ ہو گیا پیشانی یوں چمک رہی تھی جیسے پیچھے سورج چھپا ہو ۔انکی آواز بتدریج بلند ہورہی تھی ارے سال 1947 تو منحوس ثابت ہوا ۔ملک کے ٹکڑے کر دئے گئے اور قیامت یہ ہے کہ ہم جشن آزادی مناتے ہیں 14 وہ 15 ہم ۔انگریزوں کا کیا بگڑا یہ جا وہ جا۔
ددا کے ہاتھ میں سروتا تھا وہ چھالیہ کتر رہی تھیںاور یوں چلا رہی تھیں جیسے انگریزوں کے سر کاٹ رہی ہوں کٹ کٹ کٹ۔لیکن میں یہ سوچ رہی تھی کہ بھابھی تو حب الوطنی میں رطب السان ہیں اور ہم ؟ہمیں اس قضیے میں الجھا دیا گیا ہے کہ مادر وطن کو بھارت ماتا کہنا حرام ہے۔

Published inتسنیم کوثرعالمی افسانہ فورم