Skip to content

ایک مکمل کہانی

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 101
ایک مکمل کہانی
محمد عثمان عالم، راولپنڈی، پاکستان

جگر، دِل گردے، دماغ،معدہ، پھیپھڑے اور نجانے کون کون سے حصے اُس کے مردہ جسم سے کاٹ کر ایک سٹیل کے مخصوص برتن میں رکھے جا رہے تھے۔ اُس وقت میں بھی وہی موجود تھا۔
اُن لمحات میں، میں اندھا تھا۔۔۔۔۔ میری آنکھیں اِس کمرے نما ہال سے باہر کھڑے افسردہ اور غم ناک آنکھوں والے دوست کے پاس تھیں۔
مجھے یقین ہے اُس وقت۔۔۔۔۔ میں بہرہ بھی تھا کیونکہ اِس مردے نے مجھے کئی مرتبہ اپنی تیزابی آواز میں مخاطب کیا ہو گا لیکن میری سننے کی حِس دیواروں کے اکھڑے پلستر میں کہیں چھپی بیٹھی تھی۔
شاید اُس وقت۔۔۔۔۔ میں اپاہج بھی تھا ورنہ میری ٹانگوں میں حرکت ہوتی۔ میں تو کئی لمحوں سے ساکت اور بے حس تھا۔
میں جہاں کھڑا ہوں یہاں مُردوں کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے۔ سفید سنگِ مَرمَر سے بنے اِس تھلہ نما سٹریچر، جس پر جوان مردہ لڑکی کے جسم کے اندرونی اعضاء کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پولی تھین کے لفافے میں سلیقے سے ایک طرف رکھے جا رہے تھے، میں اِسی بدنصیب کا منہ بولا بھائی تھا۔
کچھ گھنٹے قبل جب اِس مردے میں کچھ جان باقی تھی اور اِس کو بطور انسان دیکھا جا رہا تھا تو اُن لمحوں میں، میں بھی اِس کے ساتھ انتہائی نگہداشت والے کمرے میں موجود تھا۔ میری ہاتھ کی ہتھیلی جتنی اِس لڑکی کے جسم کے ساتھ ڈرپ کونولا، پیشاب کی تھیلی، خون کی مقدار مانپنے اور دِل کی دھڑکن دیکھنے والی مشینیں جونکوں کی ماند چمٹی ہوئی تھیں۔
جب اُس نے اپنے خشک اور پیلے پڑتے ہونٹوں سے مجھے اپنے قریب ہونے کو کہا تو میں دھندلی نظروں سے اُس کے پائنتی پر کھڑا اُس کو دیکھ رہا تھا جس نے کچھ دیر بعد اُس کی جان قبض کرنی تھی۔
’’
بھائی انہیں چھوڑنا مت۔ ‘‘
گھُٹے گھُٹے اور نیم مردہ لفظ اُس نے اپنے مریل ہونٹوں سے میرے کانوں کے پیالوں میں اُنڈیلے۔
اُس وقت میرے اندھے پن کو بینائی ملی جب درمیانی عمر کی ایک لیڈی ڈاکڑ کے آگے کھڑا وہ شخص کسی ہوشیار موچی کی ماند گردن کی چمڑی میں بڑے بڑے ٹانکے پرُوتے ہوئے سینے کی جانب بڑھا۔۔۔ یا پیٹ اور سینے سے ہوتا ہوا وہ گردن کی چمڑی تک آیا شاید میری یادشت میرا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
میں منہ بولا اور وہ حقیقی بھائی جو اِس وقت اِس وحشی کمرے سے باہر کھڑا ہمارا منتظر تھا۔ وہ میرا بچپن کا دوست اور غم خوار تھا۔
میں اِن باتوں کی تفصیلات میں قطعاََ نہی جاؤں گا کہ جب اِس مردہ جسم کو ایمبولینس کی مدد سے گھر پہنچایا گیا تو وہاں کیا کہرام مچا تھا۔ ماں اور بہنیں کیا واویلا کر رہیں تھیں۔ بھائیوں کی آنکھیں نم ناک اور محلے والے کیسے متجسس اور سُن گھن میں لگے ہوئے تھے۔
میں ایک کردار ہوں منہ بولے بھائی کا ۔اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
اُس رات میرے کمرے کی اندھی دیوار سے اُس کا آخری جملہ سیم بن کر اُکھڑتا رہا۔
’’
بھائی اُنہیں چھوڑنا مت۔‘‘
مجھے وہ دِن اچھی طرح یاد ہے جب ٹھیک ایک سال پہلے وہ اِسی گھر سے بیاہی گئی تھی۔ روائتی سسرال والے۔۔۔۔۔ مادی ذہنیت۔ کبھی جہیز کی کمی کا طعنہ تو کبھی میکے کی طرف سے خواہش پوری نہ ہونے پر جسمانی تشدد۔
میں اُس پکی رپورٹ کی طرف آتا ہوں جو مطلوبہ تھانے میں مدعی کی طرف سے درج کروائی گی تھی۔
رپورٹ میں درج تھا کہ لڑکی کو اُس کی ساس اور شوہر نے زبردستی تیزاب پلایا۔ بعد میں تیزاب ہی اُس کی موت کا سبب بنا۔
میری آنکھوں کے سامنے وہ بارہ دِن موت اور زندگی کے درمیان ڈسٹرکٹ اسپتال میں پڑ ی رہی۔ میں نے اِن دِنوں میں موت کو اُس کے جسم کے اندر اور باہر آتے جاتے دیکھا۔
موت تو اُس تیزاب کے اندر کہیں چھپی بیٹھی تھی جو اُس کی خوراک کی نالی سے معدہ، جگر، پھیپھڑوں اور آنتوں کو چیرتی ہو ئی نکل گی تھی۔
اُن دنوں کی بات ہے جب موت اُس پر مکمل طور پر حاوی نہ ہوئی تو اُس کی سڑی آنتوں کو پیٹ سے باہر رکھ دیا گیا۔
اُس کی گھلی آنتیں کچھ ہی دِنوں میں سرانڈ پیدا کرنے لگیں۔ اِس سے قبل کہ اُس کو پلاسٹک کی آنتیں لگائی جاتیں۔ موت اُس کے جسم کے ایک ایک خلیے کے مرکزہ تک جا پہنچی تھی۔
اِس کہانی میں میرا کردار ایک منہ بولے بھا ئی کا ہے اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔
’’
بھائی اُنہیں چھوڑنا مت۔‘‘
ایک ایک کر کے یہ الفاظ میرے جسم کے پسینے سے اُس وقت بہہ رہے تھے جب تفتیشی افسر کے ہمراہ میں، میرا دوست اور اُس کی ماں حوالات کی سلاخوں کے پیچھے بند اُس شخص کے بالکل سامنے تھے جسے میں نے چھوڑنا نہیں تھا۔
اُس کی موت اخبارات کی چار کالم کی خبر بنی۔ نجی ٹی وی چینل نے پیکجز اور کرائم رپورٹ بنا کر چلائی۔ خواتین کی علمبردار تنظیموں کو اُن کے حق میں ایک اور سٹوری مل گی۔
مجھے یاد ہے اُس کی ماں، میرا دوست اور میں اگلے چھ ماہ تک منشی ،وکیلوں اور عدالتوں کے چکر میں پڑے رہے۔ کہیں بھی ہمیں انصاف کا سستا پرندہ نظر آتا ہم اُس کے گھونسلے تک لازمی جاتے۔
چھ ماہ منہ سے کہنا آسان ہے، جب جیب اور گھر کی تجوری خالی ہو اور قرضوں کی گٹھ پشت پر وزن بڑھا رہی ہو تو آگے کا سفر مشکل ہو جاتا ہے۔
دوست کے گھر کی دیوار سے مجھے ہمیشہ مقتول کی سسکیاں اور آہیں سنائی دیتی رہیں۔
کارنس پر پڑی اُس کی معصوم تصویر مجھ سے اور میرے دوست سے صرف ایک ہی سوال کرتی۔
’’
بھائی اُنہیں چھوڑنا مت۔‘‘
کیس کی پیروی کے دوران ہی مجھے کچھ وقت کے لئے دوسرے شہر عارضی طور پر منتقل ہونا پڑا۔
رات پڑتے ہی وہاں بھی اُس کے الوداعی تیزاب میں ڈوبے الفاظ بدنما کیڑوں کی شکل اختیار کرتے جنہیں فرش ساری رات اُگلتا رہتا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیڑے میرے بستر میں داخل ہو کر میر ے کانوں کے راستے آنکھوں سے بہنا شروع ہو جاتے۔
انہی دنوں میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ میرا دوست قبرستان میں اپنی بہن کی قبر کھود کر اُس میں سے مردہ نکال رہا ہے اور اُس کی ماں اپنے بیٹے سے میرے متعلق سرگوشی کرتی ہے کہ اُس کو اِس حرکت کی خبر نہ ہونے پائے۔
کچھ عرصے بعد واپس لوٹا تو خبر ملی کہ 302 کے کیس میں بند ملزم مجرم ثابت ہونے سے قبل ہی باعزت بری ہو گیا ہے۔
دوست کے گھر گیا تو وہاں ٹوٹے ہوئے کچے گھر کی جگہ سہ منزلہ مکان تیار کھڑا تھا جس پر خوبصورت ٹائلیں لگائی جا رہی تھیں۔
میں باہر سے ہی پلٹ آیا اور سیدھا اُس کی قبر پر جا پہنچا جہاں گارے کی لپائی کے بجائے قیمتی سنگِ مر مر سے مزین قبر تھی۔
وہ اپنی ہی قبر کے سرہانے سر جھکائے بیٹھی تیزاب کے آنسو بہا رہی تھی۔
مجھے دیکھا اور بولی؛
’’
بھائی اُنہیں چھوڑنا مت۔‘‘
میں بے یقینی کی چادر میں منہ چھپائے قبرستان سے باہر نکل آیا۔
میں تو ایک کردار ہو منہ بولے بھائی کا اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

Published inعالمی افسانہ فورممحمد عثمان عالم