Skip to content

ایک سفر رنج شام

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 13

ایک سفر رنج شام

رفیع حیدر انجم، ارریا ، بہار ، انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ شام ڈھلے جب وہاں پہنچا، تو منظر حسب معمول وہی تھا۔ ” چائے ؟” ۔۔۔۔۔۔”سگریٹ ؟”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں / نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چائے اور سگریٹ پر نپی تلی مسکراہٹ اور بیسیوں بار کی جانچی پرکھی نگاہوں کی مانوس دستک ۔۔۔۔۔ آج فیصلہ کر کے آیا ہوں ۔ میری مرضی کے خلاف تم مجھے نہیں کھول سکتے ۔ میں نے اپنے احساس کے دروازے پر اپنے آپ کا قفل ڈال دیا ہے۔ دستک کی آواز بند دروازے سے ٹکرا کر چور چور ہو گئی ہے ۔ چھناکے کی آواز سے لوگ باگ چونک اٹھتے ہیں۔

” معاف کیجیئےگا ۔ ۔ ۔ ۔ بہت شرمندہ ہوں ، مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ” بیرا ٹوٹی ہوئی چائے کی پیالی کے ٹکڑوں کو سمیٹنے لگا ہے ۔ ریستوراں کے مالک کی شناسا نگاہیں میری تلاشی لے کر مطمئن ہو چکی ہیں۔

” دیکھا تم نے آج کی یہ نیوز ۔ ۔ ۔ ۔ بورڈ آف ڈائرکٹرز نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” اپنا جملہ پورا کئے بغیر اس نے اخبار میری طرف بڑھا دیا ہے ۔ اتنی اچھی خبر پر مسکرا کر کم از کم وِش تو کرنا ہی چاہیئے۔

‘مگر کیوں ؟ کون سا احسان کر دیا ہے ان لوگوں نے ؟’

“کچھ کہا تم نے ؟”

“نہیں تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !” میں جیسے بس پر اونگھتا ہوا کسی مسافر سے ٹکرا گیا ہوں ۔

“اور،وہ جوشی ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” میری آنکھوں میں حوشی کی چمک نہ پا کر دوسری کرسی حیرت سے قریب سمٹ آئی ہے اور تیسری کرسی کا آدمی گہری سوچ میں مستغرق ہے۔ لاشعوری طور پر چند الفاظ ترتیب پا کر باہر نکلنے کا جتن کرتے ہیں لیکن میں انہیں حلق کے اندر ہی گھونٹ لیتا ہوں۔” اپنے آپ سے کہنے کے لئے کسی سہارے کی کیا ضرورت ہے ؟” نہیں، مجھے کچھ نہیں کہنا۔ جہنم میں جائے بورڈ آف ڈائرکٹرز اور وہ سالا جوشی ۔۔۔۔ اس طرح خوش کرکے وہ میرے جذبات و احساسات کو نہیں خرید سکتے۔” وہ تینوں کسی موضوع پر محو گفتگو ہیں۔ ان کے چہروں پر وقفے وقفے سے مختلف رنگ ڈوبتے اور ابھرتے ہیں۔

مسکراہٹ، ندامت، حیرت، مسرت، بےچارگی، رنج، افسوس، درد، دھواں، قہقہہ، جھینپ، شرمندگی، تشکر، اندھیرا، اجالا، دستک، دستک ۔۔۔۔ میں نے دروازہ نہیں کھولنے کا قصد کر لیا ہے اور اب اخبار کے اشتہارات پڑھنے لگا ہوں۔ ‘گھر بیٹھے دَھن کمایئے’۔۔۔۔’فلمی ایکٹر بنئے’ ۔۔۔۔ ‘بغیر آپریشن کے شرطیہ علاج’۔۔۔۔’شکتی بلورکرز، سفید داغ ۔۔۔ ‘

” سب فراڈ ہے سالا، فریبی، مکار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

“کچھ کہا تم نے؟” ایک ساتھ کئی آوازیں میری سماعت سے چمٹ جاتی ہیں۔ ایک ایک چہرے پر اپنی خالی خالی نگاہیں پھینک کر جیسے اپنے آپ سے مخاطب ہوں۔

” نہیں، کچھ بھی نہیں۔ ” ایک طویل خاموشی کے درمیان تین مختلف چہروں پر سوالیہ نشان ابھر آئے ہیں۔

“ناراض ہو؟ ۔۔۔۔ پریشان ہو؟ “

میں نے خشمگیں نگاہوں سے اُن کی طرف دیکھا ہے اور یکایک چیخ پڑا ہوں۔ “خاموش ہو جاؤ ۔ فراڈ ہو تم سب۔ نقلی اشتہار، فریبی، مکار ۔۔۔۔”

مجھے خلاف توقع پا کر ان کے چہروں پر حیرت اور غصہ کی مشترکہ لکیریں ابھر آئی ہیں۔ شائد یہ لوگ میری دماغی حالت پر شبہ کرنے لگے ہیں۔ ‘ اتنی اچھی خبر پا کر تو مجھے بےحد خوش ہونا چاہیئے۔ کتنی بےصبری سے اِس دن کا انتظار تھا اور وہ ۔۔۔۔ وہ سن لے تو کتنی خوش ہوگی ۔۔۔۔! ۔۔۔۔ مگر کیوں ؟ کیوں خوش ہوگی وہ؟ اِس کی خوشی پر صرف میرا حق ہے۔’

تشکیک کی ایک گہری لکیر نے میرے وجود کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک بے پناہ جذبات سے بھرا ہوا اور دوسرا کسی بھی احساس سے یکسر خالی۔

“خالی ہو گیا صاحب؟” میں لاشعوری طور پر چونک پڑتا ہوں۔ بیرا چائے کی خالی پیالی اٹھا کر آگے بڑھ گیا ہے۔ لوگ باگ آس پاس کی میزوں کو بھرنے لگے ہیں۔ اخبار میری مٹھیوں میں دبا ہوا ہے۔ یکایک تین شناسا چہروں نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا ہے۔

” ابے ! آج تو پہلے کیسے پہونچ گیا؟ ” ایک ہی ضرب سے جیسے دروازے کا قفل بےجان ہو کر نیچے گر پڑا ہو ۔

” کب سے انتظار کر رہا ہوں یار ۔۔۔۔ یہ دیکھ، بورڈ آف ڈائرکٹرز نے ہم لوگوں کو پرمانینٹ کر دیا ہے اور وہ جوشی آؤٹ ہو گیا چڑی کے غلام کی طرح ۔۔۔۔”میں جلدی سے تازہ اخبار اور خالص مسکراہٹ ان کی طرف اچھال دیتا ہوں ۔۔۔ خوشی سے تقریبآ چیختے ہوئے۔ وہ تینوں بےتحاشہ مجھ سے لپٹ گئے ہیں۔

”بیرا ۔۔۔۔ چائے اور سگریٹ ”

دروازہ کھلتے ہی میرے وجود کا دوسرا ٹکڑا اس شور شرابے سے گھبرا کر کہیں فرار ہو گیا ہے۔

Published inرفیع حیدر انجمعالمی افسانہ فورم