Skip to content

ایک بیوہ کی تنہائی

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر72
“ایک بیوہ کی تنہائی ”
ڈاکٹر وحیدالزماں محمود آباد ، انڈیا

اجابت سے فراغت کے بعد جب وہ گھر کی طرف مڑی، قد آدم سایہ کو کاٹتا ہوا، وہ موذی سرسراک تیزی سے گزگیا۔ اس سے پہلے بھی کہیں کھیت میں، کہیں نالے پر دکھائی پڑا تھا۔نالہ بھی سانپ ہی کی مانند، چند قدم پہ لیٹا رہتا تھا۔ گاوءں کے مشرق میں پڑے ہوئے نالے پر خواتین صبح کو رفع حاجت کے لئے جایا کرتی تھیں۔ نالے کا پانی شفاف اورستھرا تھا۔نالے میں جا بجا سنگ وخشت پڑے رہتے تھے،کنارے پردورویہ جھاڑیاں استادہ رہتی تھیں۔جھاڑیاں، خواتین کی حاجات کے لئے پناہ گاہ تھیں۔ مرد بھولے سے بھی ادھرکا رخ نہ کرتے تھے۔ جھاڑیوں کےعلاوہ عورتوں کےلئے کوئی معقول جگہ نہ تھی۔ بکریاں انھیں جھاڑیوں سے اپنا پیٹ بھرتی تھیں۔بعض جھاڑیاں سایہ دار تھیں۔عورتیں انھیں کے سایہ میں سستاتی تھیں۔کپڑے دھو دھوکرانھیں پہ سکھاتی تھیں۔ بعض جھاڑیاں کافی اونچی تھیں اوربعض قامت میں قد آدم کے برابر تھیں۔جھاڑیوں کو قدرت نے ایسے استادہ کیا تھا جیسے وہ خواتین سے گویاکھڑی کھڑی باتیں کررہی ہوں۔ جھاڑیوں کے اطراف سبزگھاس خودرو تھی۔ دورویہ جھاڑیوں کے درمیان بہنے والا نالاہمیشہ خاموشی سے بہتا تھا۔ پانی کے بہاوء کا کوئی شورو شغب نہ تھا۔نالے کے کنارےدوطرفہ پتھر جمادئیے گئے تھے۔ پتھروں کے درمیان سبز گھاس اگی ہوئی تھی۔ انھیں پتھرروں پہ عورتیں کپڑے دھوتی تھیں۔برتن مانجتی تھیں۔موقع بہ موقع غسل بھی کرلیتی تھیں۔درگاہ پور گاوءں نالے سے چند قدم دور تھا۔ یہ نالا دو دہائی قبل خوب بھر کر چلتا تھا۔کئی بچے اس میں ڈوب چکے تھے۔پر اب نالے کاپانی اتنا نہیں تھا کہ کوئی بچہ یا بوڑھا ڈوبے یا خودکشی کرے۔
جس روز ہما کو راستے میں سانپ ملا تھا اسی روز شب میں شاد کو پہرے سے واپسی پر وہی افعی ملا۔ جواس کے پیر کے تلے پڑا، وہ موذی گداز، چکنا، لمبا اورموٹا تھا ۔ شاد کے پیر میں یکلخت لپٹ گیا۔شاد کی چیخ نکل گئی۔لوگ دوڑ پڑے۔ برق رفتاری سےمعاملہ لوگوں کی سمجھ میں آگیا۔وہ افعی شاد کو ڈسنے کے بعد چشم زدن میں آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔تلاش بسیار پربھی وہ افعی ہاتھ نہ آیا۔
دیکھتے دیکھتے شادکا حلق خشک ہوگیا۔ آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔بےہوشی طاری ہورہی تھی جو ابھی غنودگی کی شکل میں تھی۔ہوش میں لانے کی ساری تدابیر اپنائی جارہی تھیں۔ پانی کے چھینٹے دئیے جارہے تھے۔جھاڑ پھونک کرنے والے گھوم گھوم کر پشت پر کوڑے برسارہے تھے۔ آہو بکا کا عالم تھا۔بچہ بوڑھا دم بخود تھا۔سارا ہجوم شاد کو حلقے میں لئے ہوئے تھا۔زبانوں پر دعائیں تھیں اور دلوں میں دغدغہ تھا۔ہوتے ہوتے صبح ہوگئی۔ مرغ نے آواز سحردی، موءذن نے صدائے اللہ اکبر بلند کی۔
درگاہ پورکا گاوءں ماتم کناں تھا۔ دوا دارو، جھاڑ پھونک سب بے سود تھا ۔ شاد کا جسم ٹھنڈا ہوچکا تھا۔ناک سے پانی اورکانوں سے لہو رس رہا تھا۔ مجمع لاش کا
حلقہ بگوش تھا۔ ہر متنفس آخری دیدار کررہا تھا۔مجمع میں ہر ایک کی آنکھ نم تھی۔ہما لاش کے سرہانے بے ہوش پڑی تھی۔بال منتشر تھے۔اس کو اپنے جامے کی سدھ نہ تھی۔پوری رات گریہ وزاری سے پاگل سی ہوگئی تھی۔ایک گھونٹ پانی و ایک نوالہ تک منہ میں نہ گیا تھا۔ہما کو جب بھی ہوش میں لایا جاتا، پچھاڑیں مارمارکر گرجاتی۔چند خواتین اس کو سنبھالے ہوئے تھیں۔
جنازہ اٹھ گیا تھا۔ہما کی عدت پوری ہوگئی تھی۔رفتہ رفتہ ہما روزمرہ کے کاموں میں خود کوچاروناچار مصروف رکھنے کی کوشش کرنے لگی تھی، پر شاد کی مجسم تصویراوراس کا خیال ہمہ وقت اس کے ذہن سے کسی صورت میں محو نہ ہوتا تھا۔شاد کے ساتھ ہما کی شادی کے ایک سال چند مہینے ہوئے تھے۔شاد کے ماں باپ عمرکی پختگی،بیماری اورضعف کی وجہ سے شادی سے پہلے ہی چل بسے تھے۔ شاد اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا بچا تھا۔ ایک بھائی اوردو بہنیں بچپن میں ہی دنیا دیکھے بغیر فوت ہوگئے تھے۔ہما کے گھر میں ہما کے آنسو پوچھنے والا کوئی نہ تھا۔ہما تنہا تھی بالکل تنہا۔دن کسی صورت سے، کام میں،کبوتروں کی دیکھ بھال میں،باغیچے کی آبپاشی میں کٹ جاتا تھا پررات پہاڑ بن کرآتی تھی۔ نیند کوسوں دور تھی۔آنکھیں ٹکٹکی باندھے چھت کے شہتیر تاکتی رہتیں۔غفلت ہونے لگتی تو کبوتروں کی غٹرگوں، غٹرگوں آوازیں ابھرنےسے نیند بالکل اچاٹ ہوجاتی اورہما تارے گنتی رہتی۔نیند نہ آنے پر چھت کے شہتیر شمار کرتی تو وہ اتنے لمبے معلوم ہوتے جیسے وہ افعی ہوں۔ رنگ رنگ کے کبوتر جو کابکوں میں پھڑ پھڑاتے،آہستہ آہستہ چلتے، ایک دوسرے پر سوار ہونے لگتے،اس وقت ہما کی کیفیت دگر گوں ہوجاتی۔ ہما کی نظرجب ان کی دموں پر پڑتی تویہ دمیں بڑی خوبصورت معلوم ہونے لگتیں جیسے وہ چمکتے ہوئے ازدہے ہوں۔ ازدھے کے خیال سے ہما کے رونگٹے کھڑے ہوجاتےاور وہ کانپ جاتی۔پھروہ سکڑ کر بچہ بن جاتی۔ دھیرے دھیرے وہ اپنے پیروں کو ڈھیلا کرتی اور تانتی اور آہستہ آہستہ نوبت بنوبت یہی عمل دھراتی اور جب وہ اس عمل سے فرصت پاتی تو نئے سرے سے سوچنا شروع کردیتی۔اسی طرح وہ نئے نئے خیالوں کو جنم دیتی۔کبھی کبھی اوٹ پٹانگ خیال اس کا تعاقب کرتےاور تعاقب کرتے کرتے سحر کردیتے۔ہما رات بھر خیالات کے تانے بانے بنتی رہتی۔اسی طرح وہ راتیں کاٹتی تھی بل کہ رات اس کو کاٹتی تھی۔
دن ہوتے ہی وہ کبوتروں اور مرغیوں کو دانہ ڈالتی۔حمیدن مائی پڑوسن صبح ہی صبح آجاتی اور دنیا جہان کی باتیں کرتی۔جمع خاطر رکھتی۔ڈھارس بندھاتی۔وہ تنہائی میں مونس اورحاضرمیں رفیق تھی۔وہ ایک طرح ماں اورساس کا کردار ادا کرتی تھی۔ہما کی عدم موجودگی میں وہ ہما کی قائم مقام ہوتی تھی۔کبوتروں کی نگرانی کرتی اور باغیچے کی رکھوالی کرتی تھی۔ہما کو حمیدن مائی کی وجہ سے ایک گونہ اطمینان ہو گیا تھا۔ ہما کو تنہائی کی کے دن کاٹتے کاٹتے ایک عرصہ ہوگیا تھا۔طبیعت اوب چکی تھی- اس غرض سے مائکے جانے کے لئے مچلنے لگی تھی۔اس نے اپنے ارادے سے مائی کو آگاہ کیا۔ ہما حمیدن کو ہمیشہ مائی کہ کر مخاطب کرتی تھی۔مائی سے ایک دن کہنے لگی کہ مائی جی میں اماں کے یہاں جانا چاہتی ہوں۔آپ کا کیا خیال ہے۔بیٹی شوق سے جایئے ہم سب دیکھ لیں گے۔
ہما نے عزم مائکہ کیا۔زاد سفر ساتھ لیا۔روشن آباد کے ماہی چوراہے پر پہنچی۔ایک تانگے پرسوار ہوئی۔فیصل پور چلنے کے لئے تانگے والےسے کہا۔تانگہ چل پڑا۔تانگے پر ہما کے علاوہ دوسرے مسافر بھی تھے۔مسافروں کے علاوہ تانگے پرگھاس کی ایک بڑی سی گٹھری بھی رکھی تھی۔کوچوان گھاس کی گٹھری فیصل پور جاتے ہوئے آخری پھیرے میں رکھ لیا کرتا تھا۔فیصل پور کے نزدیک ہی چھینکا سرائے میں اس کا گھر تھا۔
دھوپ کی تمازت وشدت میں، نصف النہار کے وقت سواریاں بھی بہت کم نکلتی تھیں۔کچھ وقت کے لئے، اسی دورانیے میں، سلارو کوچوان اپنے گھوڑے کو ایک باغ میں باندھ دیتا تھا۔قدرے کچھ آرام کرتا تھا اور گھوڑے کے لئے درانتی سے گھاس کاٹتا، گھاس کی لمبی لمبی پوٹلیاں بناتا اور ان پوٹلیوں کو تلے اوپر رکھ کر گٹھری کی شکل دیتا اور اس گٹھری کو ایک چادرسے جووہ اس کے پاس ہمہ وقت رہتی تھی ، اسی میں باندھ لیتا تھا۔ آج بھی روز کی طرح اس نے یہی عمل دھرایا۔گٹھری تانگے پہ رکھی ،گھوڑے کو تانگے میں جوتا، سواریوں کو لیا اور تانگہ ہانک دیا۔
گھوڑا بگٹٹ بھاگتا چلا جارہا تھا۔سواریاں آپس میں تعارف کے بعد محو گفتگو تھیں۔ ہما کو بائیں سیٹ پہ سواریوں کے درمیان نششت ملی ہوئی تھی۔دھوپ ڈھل چکی تھی۔آفتاب نے اپنی تمازت کم کردی تھی۔سفر جنوب سے شمال کی جانب تھا۔گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز ٹپ ٹپ ابھر رہی تھی۔ٹاپوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔
ربیع کی فصل ابھی سبز پوش تھی۔گندم کے کھیت لہلہارے تھے۔دورویہ سڑک کے اشجار سایہ کئے ہوئے استادہ تھے۔ہما کا دایاں پیر گھاس کی گٹھری کے کھلے ہوئے حصے میں تقریبا نصف ساق تک، آہستہ آہستہ ہچکولوں کے دوران داخل ہوگیا تھا۔ ہما کو دائیں پیر میں شلوارکےاندرکچھ سرسراہٹ محسوس ہوئی۔ اس نے یکلخت تانگہ روکنے لئے سلارو کوچوان سے درخواست کی کہ بھیا تانگہ روکو۔کوچوان نے جھٹ تانگہ روکا ۔سرسراتی ہوئی شے ہما کی شلوارکے ایزار تک رسائی کرچکی تھی۔وہ شے راستہ مسدود پاکر، واپس ہورہی تھی، جبھی ہما نے برق رفتاری سے اس کو اپنی مضبوط گرفت میں لے لیا۔
ہماکو تانگے سے نیچے اتارا گیا۔گھوڑے کو تانگے سے جدا کیا گیا۔تا نگے کی بلیوں کو زمین سے ٹکایا گیا۔تانگے کے آکے ڈھلوے حصے سے ہما کھسک کھسک کر اتری ۔ ہما نے کسی صورت سے سانپ کی گرفت ڈھیلی ہونے نہ دی۔
راستے پر گزرتے راہی، ٹھٹہکتے اور تماشہ دیکھنے لگتے۔یکے بعد دیگرے رفتہ رفتہ مجمع جمع ہونے لگا۔ہما ہجوم کی حلقہ بگوش تھی۔کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھا۔ دفعتہ ہجوم سے ایک آواز ابھری کہ یہ رہا میرا انگوچھا۔
ہما اسے کمرسے لپیٹ لےاور لپیٹنے کے بعد آہستہ آہستہ اپنی شلوار ڈھیلی کرے اور نیچے کھسکائے۔پہلے بائیں ٹانگ سے شلوار کو آزاد کرے پھر دائیں کو آزاد کرنے کے لئے شلوار کو مع موذی کے یکبارگی اور ایک ہی جست میں پھینک دے۔ ہما کے اس عمل میں ہما کی کوئی معاونت کرنے کے لئے تیار نہ تھا ۔اسے ہما کو تنہا انجام دینا تھا۔
ریاض ہما کو دل وجان سے زیادہ چاہتا تھا۔بچپن کے دونوں ہم جماعت تھے۔میڈل کلاس ایک ہی اسکول سے پاس کیا تھا۔ہما اورریاض کی محبت اسکول میں کسی سے پوشیدہ نہ رہی تھی۔ہوتے ہوتے بات دونوں کے والدین تک پہنچ گئی۔نوبت اینجا رسید کہ دونوں کی تعلیم ترک کرادی گئی۔ہما کے والدین نے ہما کی شادی کردی اورریاض ایک شوگر فیکٹری میں ملازم ہوگیا تھا۔آج وہ فیکٹری سے گھر اسکوٹر سے واپس ہورہا تھااور وہ بھی فیصل پور جارہا تھا جہاں کی ہما رہنے والی تھی۔ہجوم دیکھ کر وہ بھی رک گیا تھا۔
ہما نےبڑی مشقت سے، تنہا ، صرف بائیں ہاتھ سے سارے عمل کو انجام دیا۔اس عمل میں وہ پسینے پسینے ہوگئی۔سارے عمل کے دوران، اس کا دایاں ہاتھ اس قدر تھک گیا تھا کہ قریب تھا کہ گرفت ڈھیلی ہوجائے۔
مجمع کے ہر فرد کی نظر بس انجام پہ ٹکی ہوئی تھی۔اس عمل میں ہماکو دو باتوں کی طرف دھیان تھا کہ ازدہے سے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی نہ ہونے پائے اور وہ کسی بھی صورت سے ننگی ہونے سے بچ جائے۔
ہما نے بڑے زور دار طریقے سے، پوری قوت سے ، یکبارگی اس موذی کو پھینکنے کے لئے استادہ ہوئی اور پھینک دیا لیکن تولیہ کو سنبھال نہ سکی اور برہنہ ہوگئی پر ہجوم کی نظریں گرتے ہوئے سانپ پر تھیں۔سانپ کا زمین پہ گرنا تھا کہ مجمع جان کی دہائی دینے لگا۔وہ چیخ وپکار مچی کہ بس خدا کی پناہ۔ ہما کو اس کے بعد ہوش نہ رہا ۔ اس کو اب اپنے جامے کی سدھ نہ رہی حالاں کہ وہ برہنہ تھی۔
سانپ کا گرنا تھا، گرا، پر وہ بوکھلایا ہوا ، زہرسے پر، غصے سے وہ اندھا تھا ۔ انتقام کے لئے تڑپ کر بھاگا اور خدا کا کچھ کرنا ایسا ہوا کہ ریاض جس نے تولیہ پھینکا تھا اسی کواس موذی نے ڈس لیا بل کہ پھاڑ کھایا ۔ ذرابھی دیر نہ لگی ریاض ٹھنڈا ہوگیا۔
اس جاں کاہ حادثے کی اطلاع ہما اور ریاض دونوں کے گھر والوں کو بھی جنگل کی آگ کی طرح ہو گئی ، انکے اہل خانہ آئے اور ایک مردہ کو اوردوسرے نیم مردہ کو لے گئے –

Published inڈاکٹر وحید الزماںعالمی افسانہ فورم