Skip to content

اٹل سچائی

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 103
اٹل سچائی
عالیہ تقوی، الہ آباد، انڈیا

منوج نے آنکھ کھول کر گھڑی کی طرف دیکھا۔ آٹھ بج رہے تھے۔ اب اٹھنا چاہئے بہت دیر ہوگئی۔ پھر سوچا آج تو اتوار ہے کون سا کالج جانا ہے تھوڑی دیر اور پڑا رہے۔ ڈیڑھ سال سے روز روز امروہہ سے مرادآباد اور مراد آباد سے امروہہ اپ۔ ڈاٴون کرتے کرتے وە بور ہو گیا تھا۔ بس اب پانچ چھ مہینے کی بات ہے پھر تو امروہہ میں ہی نوکری کرنی ہے یہ سوچ کر اسے بہت اچھا لگ رہا تھا۔
منوج کے باپ جوگیندر سنگھ کے پاس قریب دس ایکڑ زمین تھی۔ چار ایکڑ زمین تیس فیٹ چوڑی روڈ پر تھی۔ اس میں سے دو ایکڑ زمین کی فروخت پر عدالت نے روک لگا دی تھی۔ کئی پارٹیاں میڈیکل کالج اور انجینئرنگ کالج بنانے کیلئے زمین کی طلبگار تھیں لیکن جوگندر سنگھ نےقریب دو ایکڑ زمین اسی پارٹی کو دی تھی جس نے رقم کے ساتھ ساتھ منوج کو تعلیم مکمل ہونے کے بعد نوکری دینے کی پیش کش کی تھی۔
انجینئرنگ کالج کی عمارت زیر تعمیر تھی مگر جوگنرر سنگھ نے منوج کی نوکری ملنے تک داخل/ خارج روک رکھی تھی ۔ پتاجی کتنی دور کی سوچتے ہیں۔ آپ سچ مچ گریٹ ہیں پتا جی۔۔۔۔ تب ہی اسے خیال آیا پتا جی کی گاڑی تو اب تک آجانی چاہئےتھی لیکن پتاجی اب تک گھر نہیں آٴئے۔ ایسا کیوں؟۔۔۔۔۔ منوج کے پتا جوگندر چودھری اور ان کےبھائی مہندر چودھری میں پچھلے دس سالوں سے مقدمہ بازی چل رہی تھی۔ پہلے مقدمہ امروہہ کی عدالت میں چلا۔ وہاں سے تین بار ہارنے کے بعد مہندر چودھری نےالہ آباد ہائی کورٹ میں اپیل داخل کر دی۔ دونوں بھائی ایک ہی ٹرین سے جاتے اور ایک ہی ٹرین سے لوٹتے تھے۔ آج بھی دونوں بھائیوں کو مقدمے کی پیشی کے بعد نوچنڈی ایکسپریس سے واپس آنا تھا۔
دراصل منوج کے دادا سریندر چودھری بیس ایکڑ زمین چھوڑ کر مرے تھے۔ مہیندر چونکہ چھوٹے تھے جوگیندرنے کہا تم دس ایکڑ زمین اپنی پسند کی لے لو۔ باقی جو بچےگی میں لے لوں گا۔ مہیندر چودھری نے ساری زرخیز زمینیں لے لیں ۔ کم پیداوار دینے والی اور بنجر زمینیں جوگیندر چودھری کے حصے میں آئیں۔ اتفاق ایسا ہوا کہ چار ایکڑ سے کچھ زائد زمین جو بالکل بنجر تھی اس کے بغل سے تیس فیٹ کی سڑک بن گئی۔ پھر آس پاس کی زمینیں چوگنا سے دس گنا زیادە داموں میں بکنے لگیں۔ تبھی مہیندر چودھری نے بڑے بھائی پر بے ایمانی کا الزام لگا کر دوبارە بٹوارے کا مقدمە داخل کردیا۔
منوج ہڑبڑا کر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ آواز دی۔
اماں کیا پتا جی آئے”۔۔۔۔۔ جواب نہ ملنے پر وە دالان میں آیا تو دیکھا سامنے اماں کھڑی ہیں۔ چہرە بالکل زرد ٬نظریں ٹی وی کی طرف ٬جسے دو منٹ پہلے بیٹی ببیتا نے آن کیا تھا۔
منوج نے گھبرا کر ٹی وی کے سکرین کی طرف دیکھا۔ بار بار بریکنگ نیوز فلیش ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ الہ آباد سے میرٹھ جانے والی نوچنڈی ایکسپریس رام پور کے پاس حادثہ کا شکار۔۔۔۔۔ سلیپر کے دو ڈبے پلٹے۔۔۔۔۔ پندرہ افراد ہلاک لگ بھگ ساٹھ زخمی۔
منوج کے ہوش بھی خبر کو دیکھ کر گم ہوگئے۔ اس نے اپنے کو سنبھالا اور ماں اور بہن کو دلاسا دینے لگا۔
تبھی دروازە پر زور زور سے دستک ہوئی ۔ دروازە کھولا تو دیکھا سامنے آنسوٴوں میں ڈوبا امر کھڑا تھا۔
امر چاچا مہندر کا بیٹا تھا اور منوج سےچھ مہینے بڑا تھا۔ بچپن میں دونوں میں بہت دوستی تھی۔ دونوں گھرانوں کے تعلقات خراب ہونے پر بھی ان دونوں میں ویسے ہی بول چال تھی۔ امر نے پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دی تھی اور کھیتی باڑی میں باپ کا ہاتھ بٹانے لگا تھا۔
کیا ہوا؟” منوج نے پوچھا۔
منوج پتا جی نہیں رہے
کیسے پتہ؟
ہسپتال سے شاید فون کر رہے تھے پتاجی۔ وە شدید زخمی تھے۔ انہوں نے کہا کہ تاوٴ جی سے میں ان کی طرف سے معافی مانگ لوں۔ اگر وە نہ رہیں تو مقدمہ واپس لے لوں کیونکہ ساری غلطی ان کی تھی۔ زمینیں خود انہوں نے چھانٹ کر لی تھیں۔ان کے بات کرتے کرتے فون بند ہو گیا۔ میں نے ڈائل کیا تو کسی نے بتایا کہ وە گزر گئے۔۔۔۔۔ تاوٗ جی کہاں ہیں؟” “وە تو لوٹے نہیں۔
کیا؟”۔۔۔۔۔ تبھی منوج کے موبائل کی گھنٹی بجی۔۔۔۔”ہیلو۔ جس نمبر سے فون جا رہا ہے یہ کس کا ہے؟
میرے پتاجی کا
ان کا نام؟
جوگیندر چودھری
آپ کو بھارتی ریل کی طرف سے اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کے پتا جی اب نہیں رہے۔
منوج نے ایک چیخ ماری اور امر سے لپٹ گیا۔
آناً فاناً صحن میں لوگوں کا مجمع لگ گیا۔ صحن دونوں گھروں کا ایک ہی تھا۔
اڑوس پڑوس کے گھروں سےچارپائیاں لا کر صحن میں بچھا دی گئیں۔ دونوں بھائی بیٹھے رو رہےتھے اور لوگ ماتم پرسی کر رہے تھے۔ تبھی نمبردار چاچا چائے٬ ناشتہ اور جیپ لےکر آ گئےاور بولے۔
بچو چائے پی لو اور گھر سے ساری آئی ڈیز اپنی اور اپنے پاپا لوگوں کی لے کر آٴوٗ۔ رام پور جانا ہے۔ پانچ دس ہزار روپئے بھی رکھ لینا۔ یہ شیرا تمھارے ساتھ جیپ لے کر جائے گا۔ یہ وہاں ہر طرح تمھاری مدد بھی کرے گا۔ رشتہ داریاں ہیں اس کی وہاں اور دیکھو پوسٹ مارٹم کا سرٹیفکٹ بھی ڈاکٹر سے لے لینا۔
دونوں بھائی پندرە بیس منٹ میں تیار ہو کر آ گئےاور شیرا انہیں لے کر روانہ ہو گیا۔
جیپ کی روانگی کے بعد نمبردار نے ایک نظر چودھری بھائیوں کےاونچے اونچے مکانوں اور لمبے چوڑے صحن پر ڈالی اور دھیرے سے بولا۔
سب کچھ یہیں رە جاتا ہے، آدمی چلا جاتا ہے۔ دونوں بھائی زمین کے لئے لڑتے لڑتےایک ساتھ ہی اوپر چلے گئے۔ زمین نہ لے جا سکے اپنے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ زمین ویسے ہی اپنی جگہ ہے۔۔۔۔۔ یہ زمین تو نہ تیری ہے نہ میری ہے۔۔۔۔۔ کچھ بھی ساتھ نہیں جاتا انسان کے۔۔۔۔۔ کیوں نہیں آتی سمجھ میں کسی کے یہ اٹل سچائی؟

Published inافسانچہعالمی افسانہ فورمعالیہ تقوی