Skip to content

انفصام

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر85
انفصام
گلفام غوری – لاہور, پاکستان

جس وقت گولی چلنے کی آواز آئی اس کے فوری بعد دوسری آواز دروازہ بند ہونے کی تھی. پروفیسر کو محسوس ہوا جیسے نہانی پر رکھے لوہے پہ ہتھوڑے کی ضرب پڑی ہو اور لوہا اُچھل کر نہانی سے ٹکرایا ہو. اور اس ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی گمک ضرب کی بازگشت بن کر رہ گئی ہو. مگر پروفیسر کو یقین تھا کہ پہلی آواز گولی کی تھی جو اندر کمرے سے آئی. اور دوسری آواز دروازے کی تھی جو اس کے لاؤنج سے نکلنے کے بعد بند ہوا. پروفیسر کی ٹھہرے پانیوں جیسی شخصیت پر کوئی اثر نہ ہوا. ایک پتھر سا پانی کی سطح سے ٹکرایا اور ڈوب گیا. پروفیسر مُڑ کے دیکھے بنا وہیں صحن کی سیڑھیوں میں بیٹھ گیا. اس کی پشت پیچھے دروازہ بار بار بند ہوتا رہا. اور ہر مرتبہ دروازہ بند ہونے سے پہلے گولی چلتی رہی. پروفیسر آنے والے وقت سے بے نیاز اندر ہی اندر پیچھے کی جانب سفر کرنے لگا.
راحیلہ کو گئے چالیس دن ہو گئے تھے. وہ ابھی لیکچرار تھا اور کالج سے پڑھانے کے بعد سیدھا گھر جانے کی بجائے شام نگر کی پچھلی طرف نکل جاتا جہاں ویلڈنگ کی دکانیں تھیں. ویلڈنگ کی دکانوں کے بیچ ایک لوہار کی دکان تھی جس کے باہر لوہار کے شاگرد لوہا کوٹتے رہتے تھے. نہانی پر رکھے لوہے پر جب ہتھوڑے کی ضرب پڑتی تو “ٹھا” کی آواز کے ساتھ لوہار کے حلق سے “ھو” کی آواز نکلتی. اس نے کبھی اس بات پر غور کرنے کی کوشش ہی نہ کی کہ “ھو” کی آواز “ٹھا” سے پہلے آتی ہے یا بعد میں. وہ تو بس لوہے کی اُچھل سے پیدا ہونے والی “ٹھن” کی آواز میں کھو جاتا. لوہار لوہا کوٹتا رہتا اور وہ “ٹھا ٹھن” کی آواز سنتا رہتا. اس “ٹھا ٹھن” کی آواز میں وہ ایسا محو ہوتا کہ لوہار کے حلق سے نکلنے والی “ھو” اس کی سماعت پر اثر انداز نہ ہوتی. راحیلہ کو گئے ابھی صرف چالیس دن ہوئے تھے اس لئے اس کی زبان سے تسبیحات جاری تھیں. وہ “ٹھا ٹھن” کی آواز سُنتا رہتا اور زبان و دل سے کبھی نفی اثبات تو کبھی “اللّٰہ ھو” کا ذکر کرتا رہتا. اسے محسوس ہوتا جیسے راحیلہ جاتے ہوئے اس کو نہانی پر رکھ گئی ہے. اور وہ ہتھوڑے اور نہانی کے بیچ تکلیف سے اُچھل رہا ہے.
“آگے کیا سوچا ہے بیٹا؟” ایک شام اس کے باپ نے پوچھا.
راحیلہ جاتے ہوئے اسے گنگ کر گئی تھی.
“بیٹا اتنی لمبی زندگی ہے, تنہا کیسے گزارو گے؟” اس کے باپ نے پیار سے کہا.
جواب میں اس نے خالی نظروں سے باپ کی طرف دیکھا اور اُٹھ کر جاتے ہوئے اک سرسری نگاہ ماں پر ڈالی. ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے.
“نوید بیٹا ہم تو تمہارے… ” اُس کے باپ کا جملہ ادھورا رہ گیا جس وقت اُس نے خود کو کمرے میں بند کیا.
اپنے کمرے میں اسے محسوس ہوتا جیسے راحیلہ یہیں کہیں ہے. سب نے کہا تھا کہ راحیلہ کا چیزیں راہِ خدا میں دے دو. مگر وہ سب سے لڑ پڑا تھا. سب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی. مسئلے مسائل سُنائے لیکن اُس نے ایسا لیکچر پلایا کہ کسی کی دوسری آواز نہ نکلی. صرف اُس کی ماں کے منہ سے “مگر بیٹا” کے الفاظ نکلے اور وہ بیٹے کی آنکھوں میں دیکھ کر خاموش ہو گئی. اگلے دن وہ نئے کپڑے اور جُوتے خرید لایا صدقہ خیرات کے لئے مگر راحیلہ کی ایک چیز بھی اُس نے کسی کو نہ دی. اسے لگتا کہ اگر یہ چیزیں کمرے سے نکل گئیں تو راحیلہ یہاں سے چلی جائے گی.
اُس کے کانوں میں باپ کی آواز گونج رہی تھی. جس پر راحیلہ کی باتیں اوور لیپ ہو رہی تھیں.
“آگے کیا سوچا ہے بیٹا؟” اُس کے باپ نے کہا تھا.
“آپ کی دو شادیاں ہوں گی.” اُس کا ہاتھ راحیلہ کے ہاتھ میں تھا.
“بیٹا اتنی لمبی زندگی ہے, تنہا کیسے گزارو گے؟” باپ کی بات اسے ہتھوڑے کی ضرب جیسی لگی.
“میری زندگی میں تو نہیں ہوگی دوسری شادی.” راحیلہ نے مسکرا کر کہا تھا.
ٹھا ٹھن ٹھا ٹھن کی آواز اُس کے کانوں میں گونجنے لگی.
راحیلہ اور وہ دونوں ایک ہی کالج میں لیکچرار تھے. وہ نفسیات پڑھاتا تھا اور راحیلہ حیاتیات. اس کے علاوہ راحیلہ بڑی اچھی پالمسٹ تھی. اُس کے اسٹوڈنٹس اکثر اسے اپنا ہاتھ دکھاتے تھے. وہ انہیں تمام حوصلہ افزا اور امید سے پُر باتیں بتا دیتی تھی. لیکن جن باتوں سے تخریب کا پہلو نکلنے کا اندیشہ ہوتا وہ انہیں حذف کر جاتی. جب بھی اُس کے کسی اسٹوڈنٹ سے متعلق کوئی پیش گوئی پوری ہوتی تو وہ خوشی خوشی آ کر پہلے راحیلہ کو بتاتا اور پھر سارے کالج کو. راحیلہ کالج بھر میں مشہور تھی اور اس سے زیادہ مشہور اس کی وہ پیش گوئی تھی جو اُس نے نوید کی دوسری شادی سے متعلق کر رکھی تھی. نوید کا چہرہ دوسری شادی کے ذکر سے کِھل اُٹھتا مگر وہ اندر ہی اندر تقدیر سے لڑنے کا فیصلہ کر چکا تھا.
اُس کی آنکھوں سے آنسو ٹپا ٹپ اُس کی شرٹ پہ گِر رہے تھے. اور یہ ٹپا ٹپ اسے ٹھا ٹھن جیس لگ رہی تھی.
پولیس اور ایمبولینس کے آنے سے پہلے جانے کون کون آ چکا تھا اور وہ وہیں صحن کی سیڑھیوں میں بیٹھا تھا. پولیس کو دیکھ کر اُس نے چُپ چاپ مُٹھیاں اوپر اُٹھا دیں. جس وقت اسے ہتھکڑیاں لگ رہی تھیں اُس کے کانوں میں کسی کی آواز پڑی.
“پروفیسر صاحب سے ایسی امید نہیں تھی.”
جس وقت پروفیسر کو پولیس وین میں سوار کیا جا رہا تھا اُس کی نظر ثمر پہ پڑی. ثمر کو اسٹریچر پہ ڈال کر ایمبولینس میں لے جا رہے تھے. وہ معجزاتی طور پر زندہ بچ گئی تھی.
“سر کبھی کبھی مجھے لگتا ہے آپ میرا بڑا نقصان کریں گے.”
ثمر کی کہی گئی بات اسے ہتھوڑے کی طرح لگی اور وہ اُچھل کر ایک بار پھر ماضی میں جا گِرا.
ثمر ایک ہونہار طالبہ تھی مگر ہر وقت شیدائن سی بنی رہتی. عجیب و غریب سے سوال کرتی اور سوال کا جواب سُنے بنا اگلا سوال کر دیتی. سامنے والے کی بات ان سُنی کر کے اپنی کہے جاتی. سائیکالوجی کی کلاس میں سب سے زیادہ سائیکو نظر آتی. بے ربط سوال کرتی اور نفسیات کے اصولوں کو اپنے آپ سے جوڑ کر مجسّم تشریح کرتی. بڑی سے بڑی بات سہولت سے کر گزرتی اور چھوٹی سے چھوٹی بات دل سے لگائے رکھتی. انکار سُن کر بھی اصرار پہ مُصر رہتی اور اصرار پر چچ چچ کر کے نفی میں گردن ہلائے جاتی. اپنی عادات کے با وصف ہر ایک کے دل میں اندر تک اُتر جاتی.
ایک روز جب وہ پرنسپل آفس سے نکل رہا تھا تو ثمر اچانک سے آ دھمکی.
“سر color vision ایک بار دوبارہ explain کر دیں گے؟”
اس سے پہلے کہ وہ تشریح کرتا وہ بولی.
“سر پلیز اردو میں explain مت کریے گا. میری اردو بہت وِیک ہے.”
اُس نے ایک مرتبہ ثمر کا چہرہ بغور دیکھا اور نظریں جُھکا کر بولنا شروع کیا. “There are two main theories…”
“ہاں سر examples اردو میں دے سکتے ہیں. آپ کی examples مزے کی ہوتی ہیں.” وہ ایک مرتبہ پھر درمیان میں بول پڑی تھی.
ابھی اُس نے Trichromatic نظریہ بھی ٹھیک سے واضح نہیں کیا تھا کہ اُس نے ٹوک دیا.
“چلیں سر اسے چھوڑیں میں detail میں گھر جا کر پڑھ لوں گی. What is a testable prediction?”
ا”Hypothesis”
“سر اب آپ جا سکتے ہیں.” ثمر کے چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ تھی.
“وہ تھوڑے عرصے میں ہی اُس کی عادتوں سے واقف ہو چکا تھا. اور اُس کی ہر حرکت کو اس لئے نظر انداز کر دیتا کہ وہ ایک اچھی اسٹوڈنٹ تھی.
وہ چلنے لگا تو ثمر بھاگ کر پھر سامنے آ گئی.
“سر آپ ٹیوشن پڑھاتے ہیں؟”
اُس نے نفی میں سر ہلایا.
“وہ کیا ہے نا سر… میں آگے پڑھتی رہتی ہوں اور پچھلا بھولتی جاتی ہوں. سر آپ نہیں بھولتے پچھلا؟” ثمر نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا.
“میں پچھلا revise کرتا رہتا ہوں.”
اُس نے ثمر کی آنکھوں میں دیکھا اور چل دیا.
اگلے روز وہ اُس کے گھر میں آ دھمکی. پروفیسر کی ماں نے آ کر بتایا کہ اُس کی کوئی اسٹوڈنٹ ملنے آئی ہے. اُسے یقین تھا کہ ثمر کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتی. اُس نے ماں سے کوئی سوال نہ کیا اور ڈرائنگ روم میں چلا گیا. وہ کانوں میں ہینڈ فری لگائے منہ میں چیونگ گم چباتی ہوئی دونوں پیر ہلا رہی تھی. اُسے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے دیکھ کر ثمر نے ہینڈ فری اُتاری اور کھڑی ہو گئی.
پروفیسر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا.
“سر I am sorry آپ نے کہا تھا آپ ٹیوشن نہیں پڑھاتے. مگر میں ٹیوشن پڑھنے کی عادی ہوں شروع سے.”
پروفیسر نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اپنی اسٹوڈنٹ پر ایک بھرپور نگاہ ڈالی جو اُس کے سامنے والے صوفے پر چوکڑی مار کر بیٹھ گئی تھی. ثمر اُس سے آدھی عمر کی تھی مگر اُس کا اعتماد اپنی عمر سے دوگنا تھا. پروفیسر کھڑکی سے باہر لان میں دیکھنے لگا.
“سر آپ کلاس میں تو نظر چُرا کر بات نہیں کرتے.”
“یہ کلاس نہیں ہے ثمر.” پروفیسر نے اک سرسری نگاہ ثمر پہ ڈالی.
“سر آپ تو کہتے ہیں Once a teacher always a teacher”
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا, ثمر بول پڑی.
“سر آپ تو ہمارے Spiritual papa ہیں.”
پروفیسر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی.
“شکر ہے سر آپ کے منہ پہ بھی smile آئی.”
“مجھے اس لفظ پہ ہنسی آئی.” پروفیسر نے ہنسی میں بدلتی مسکراہٹ کی وجہ بتائی.
“سر سوسائٹی نے اس رشتے کو Taboo کیوں بنا دیا ہے؟ مطلب ٹیچر اسٹوڈنٹ کی شادی کو لوگ accept کیوں نہیں کرتے؟”
ثمر کی بات پروفیسر کی ہنسی غائب کرنے کے لئے کافی تھی.
“آپ شاید ٹیوشن پڑھنے آئی تھیں. کس لیکچر کی سمجھ نہیں آئی؟” پروفیسر کے چہرے پر سنجیدگی تھی.
“ارے نہیں سر, اس مرتبہ تو لگتا ہے کچھ زیادہ ہی سمجھ آ گئی. اُس دن آپ کلاس میں کہہ رہے تھے جسمانی بیماریاں بھی نفسیاتی بیماریوں کے symptoms ہیں. پاپا gastric patient ہیں. ماما کو uric acid ہے. میرے چاچو ہر وقت ڈکارتے رہتے ہیں. مجھے لگتا ہے سب ذہنی مریض ہیں. آپ بولتے نہیں ہیں. آپ بھی ذہنی مریض ہیں. میں چُپ نہیں کرتی. میں بھی نفسیاتی مریضہ ہوں.”
پروفیسر اسے چُپ چاپ دیکھے گیا.
“سر آپ کو Clinical اور Counseling میں سے زیادہ کیا پسند ہے؟ مجھے تو Social psychology زیادہ پسند ہے.” ثمر چوکڑی مارے دونوں گھٹنوں کو ترازو کے پلڑوں کی طرح اوپر نیچے حرکت دینے لگی.
“مجھے Experimental psychology پسند ہے.” پروفیسر نے جواب دیا.
“لگتا تو نہیں ہے.” ثمر نے پروفیسر کی آنکھوں میں دیکھنا چاہا.
پروفیسر نے نظریں چُرا لیں.
“سر آپ تو Psychologist ہی نہیں لگتے. آپ بس ٹیچر لگتے ہیں, Spiritual papa”
اب کی بار پروفیسر کے چہرے پر مسکراہٹ نہ آئی.
“سر آپ کو Social phobia تو نہیں؟”
پروفیسر کو معلوم تھا وہ جواب سُنے بنا اگلا سوال داغ دے گی. لہٰذا وہ خاموش رہا.
خاموشی کا لمحہ کچھ طویل ہوا تو اسے ثمر نے ہی توڑا.
“سر آپ مجھ سے شادی کریں گے؟”
عین اُس لمحے پروفیسر کی ماں ٹرے میں چائے کے کپ اور بسکٹ رکھے داخل ہوئی.
“لگتا ہے میرے بھاگنے کا وقت ہو گیا.”
وہ جلدی سے اُٹھی اور جاتے ہوئے ٹرے میں سے ایک بسکٹ اُٹھا کر “Thank you aunty” کہہ کے نکل گئی.
پروفیسر کی ماں کو ثمر ایک آنکھ نہ بھائی.
“بڑی بدتمیز لڑکی تھی. نہ آنکھ میں شرم حیا, نہ اُستاد کا لحاظ. اور دیکھا تھا لُنڈی سی قمیض پہنے کیسے چوکڑی مار کر سامنے بیٹھی تھی.”
پروفیسر نے ماں کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور چائے لے کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا.
“اسی لئے کہتے تھے وقت پہ شادی کر لو. کب تک راحیلہ کا غم سینے سے لگائے رکھو گے؟”
ماں کی آواز اُس کے کانوں میں پڑ رہی تھی.
اُسے لگا ایک مرتبہ پھر کسی نے اسے نہانی پر رکھ دیا ہے. راحیلہ کی یاد اسے نہانی کے مانند لگتی. اسے محسوس ہوتا جیسے وہ لوہے کی طرح سخت ہے اور ہر کوئی اسے توڑنے کے لئے اُس پر ہتھوڑے برساتا ہے. ہر چوٹ پر وہ شدت سے تڑپتا اور تڑپ کر نہانی سے لپٹ جاتا, اگلی چوٹ کھانے کے لئے. اگلی ضرب کے انتظار میں وہ راحیلہ کی یاد سے لپٹا رہتا. اسے ایک ایک کر کے وہ تمام لڑکیاں یاد آئیں جن سے شادی کے لئے اسے اُکسایا گیا تھا. ہر ایک نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی تھی. اور ہر کوئی اُس لوہے کو توڑنے میں ناکام رہا تھا.
اُس کا مسئلہ Instrumental تھا یا Blastic, اُس نے کبھی خود پر ماہرِ نفسیات کی سی نگاہ نہیں ڈالی تھی. وہ چاہتا تو راحیلہ کے چلے جانے کو قدرتی آفت سمجھ کر Instrumental ثابت کرتا اور پُر سکون ہو جاتا. یا اسے روز مرہ زندگی میں بیتنے والا ایک واقعہ تصور کر کے Blastic بنا دیتا. مگر کبھی اُس نے اس زاویے سے سوچا ہی نہیں تھا. اُس پر اپنی تمام علامات واضح تھیں. اسے بھوک نہیں لگتی تھی. اگر بھوک لگتی تو خوراک پر کوئی توجہ نہیں تھی. اگر کچھ کھا لیتا تو بے لذتی محسوس ہوتی. اسے راتوں کو نیند نہ آتی. اگر نیند آتی تو دیر سے آتی. رات بھر بار بار آنکھ کُھلتی. صبح معمول سے بہت پہلے نیند یکسر غائب ہو جاتی.
ثمر نے ہوش میں آنے کے بعد بیان دیا تھا کہ اُس نے خودکشی کی کوشش کی تھی. پروفیسر نوید کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں تھا. ثمر کے بیان نے اسے رہائی دلا دی تھی. رہائی ملنے کے بعد وہ سیدھا ثمر سے ملنے ہسپتال کی طرف چل دیا. اُس نے کرائے پر گاڑی لی اور ڈرائیور کو ہدایت کی کہ رستے میں کسی پھولوں والی دکان پہ روکنا. اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے. اُسے معلوم تھا کہ ڈرائیور اسے mirror میں سے دیکھ رہا ہے. مگر وہ اس کی پرواہ کئے بغیر ثمر کے متعلق سوچ رہا تھا. اسے ثمر کی باتیں کانوں میں سُنائی دے رہی تھیں.
“سر کبھی کبھی مجھے لگتا ہے آپ میرا بڑا نقصان کریں گے.”
“فی الحال تو آپ خود اپنا نقصان کر رہی ہو.”
وہ کالج کی لائبریری میں بیٹھا تھا اور ثمر اُس کے سامنے کرسی پہ آ کر بیٹھ گئی تھی.
“نہیں سر آپ نقصان کر رہے ہیں. میری زندگی کا, میرے وقت کا, میری محبت کا, emotions کا.” ثمر کی نگاہیں پروفیسر کو دھنستی ہوئی محسوس ہوئیں.
“سر مجھے بھوک نہیں لگتی, پیاس نہیں لگتی, راتوں کو نیند نہیں آتی, پڑھائی میں دل نہیں لگتا. میں Illusion کا شکار ہوں. ہر طرف آپ نظر آتے ہیں. کتاب پڑھتی ہوں تو اُس میں بھی آپ نظر آتے ہیں. آپ کے Illusion card کی طرح black dots کہیں نہیں ہیں مگر پھر بھی وہ سفید dots کے بیچ نظر آتے ہیں. میں جانتی ہوں آپ کہیں نہیں ہیں مگر پھر بھی نظر آتے ہیں.” ثمر اُس روز بے تکان بول رہی تھی.
“ثمر یہ میرے مسلک کے خلاف ہے ورنہ میں آپ کو Psychology چھوڑنے کا مشورہ دیتا.”
“سر میرا مسئلہ Psychology نہیں, محبت ہے.”
“یہ محبت نہیں ہے بچے….” ثمر نے اُس کی بات بیچ میں سے ہی اُچک لی.
“سر آپ بے شک مجھے بچی کہہ لیں. مگر آپ میری محبت کو بچہ نہیں کہہ سکتے. آپ ہی کہتے ہیں محبت نفسیاتی عارضہ ہے. محبت بچوں کی نفسیات پر اس طرح اثر انداز نہیں ہوتی.”
“لگتا ہے مجھے آپ کے ساتھ sessions رکھنے ہی پڑیں گے.” اُس نے ماحول کو ہلکا کرنے کی کوشش کی.
“رکھ لیں سر sessions, یہ محبت نہ تو کم ہوگی اور نہ ہی ختم ہوگی. اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا. یہ محبت آج سے نہیں ہے. جس دن آپ نے ہمیں Sensation & Perception کا chapter پڑھایا تھا, یہ تب سے شروع ہو گئی تھی. Hearing اور Vision پر آپ پوری طرح چھا گئے تھے. میری Chemical senses آپ سے متعلق بالکل clear ہیں. میری آنکھوں پر آپ پٹی باندھ دیں. میں آپ کی Smell سے آپ کو پہچان لوں گی. آپ کی Body aroma میری سانسوں میں رچ بس چکی ہے. میں اگر آپ کے جسم پہ ہونٹ رکھ دوں تو مجھے یقین ہے اس کا ذائقہ وہی ہوگا جو میں سوچتی ہوں. مجھے Sessions کی نہیں Marital therapy کی ضرورت ہے. اور مجھے یقین ہے آپ کو بھی ہے.”
“یہ آپ نے نفسیات کو کس سے لنک کرنا شروع کر دیا ہے؟” پہلی بار پروفیسر نے ثمر کی بات کاٹی تھی.
“ثابت کریں سر میں غلط link کر رہی ہوں.” ثمر کے لہجے میں چیلنج تھا.
“میں ثابت کر دوں گا.”
“میں نہیں مانوں گی.” ثمر نے دو ٹوک کہا.
پروفیسر اُس کی ضد کے آگے خاموش رہا. اسے ایک بار پھر اپنا وجود نہانی پہ پڑے لوہے کی طرح محسوس ہوا. جس پہ ثمر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی.
“مجھے یقین ہے آپ سے شادی کر کے Skin receptors کے خلا بھی پُر ہو جائیں گے. سر میں جانتی ہوں میں Deja Vu کا شکار ہوں. مجھے ایسے لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ پہلے بیت چکا ہے. میں یہ سب باتیں آپ سے پہلے بھی کر چکی ہوں. وہ زندگی جو میم راحیلہ نے آپ کے ساتھ گزاری ہے, دراصل میں نے گزاری ہے. اور آپ Jamais Vu سے متاثر ہیں. آپ اس سب سے, ان باتوں سے, اس ماحول سے, مجھ سے اچھی طرح مانوس ہیں. پھر بھی آپ اس Sensation کو اجنبی سمجھ رہے ہیں.”
پروفیسر کو ثمر کی باتیں صاف سُنائی دے رہی تھیں.
جس وقت وہ ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوا ثمر سو رہی تھی. اُس کے پاس اُس کے گھر والے موجود تھے. وہ معذرت کر کے کمرے سے نکل جانا چاہتا تھا. وہ محسوس کرانا چاہتا تھا جیسے وہ غلط کمرے میں آ گیا ہے. مگر ثمر کے باپ نے آگے بڑھ کر اسے روک لیا. ثمر کا باپ اس کی عمر کا تھا. ثمر کی ماں آنسوؤں کے ساتھ ہاتھ میں تسبیح چلا رہی تھی. ثمر کے بھائی نے اُٹھ کر پروفیسر کے لئے جگہ خالی کر دی. ایک طرف شاید ثمر کی بھابھی بچے کو فیڈر پِلا رہی تھی.
پروفیسر نے پھولوں کا گلدستہ ایک طرف رکھا اور چُپ چاپ بیٹھ گیا.
پروفیسر کو ثمر سے ہونے والی آخری ملاقات یاد آنے لگی. وہ اسے بارہ سال بعد ایک سیمینار میں ملی تھی. اسے دیکھتے ہی وہ اپنی سیٹ سے اُٹھ کھڑی ہوئی. اُس کے جذبات اب بھی ویسے ہی شدت سے بھرپور تھے. مگر اب وہ پہلے جیسی نوجوان طالبہ نہیں تھی جو نفسیاتی مفروضوں کو اپنے آپ سے جوڑتی تھی. اب وہ خود ایک ماہرِ نفسیات تھی. سیمینار کے اختتام پر اُس نے پروفیسر کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی جسے پروفیسر نے خوش دلی سے قبول کر لیا.
“سر میں نے شادی نہیں کی.” سیمینار کے دوران ثمر نے کہا تھا.
اس سے پہلے کہ پروفیسر سوال کرتا, ثمر نے خود ہی کہا تھا.
“سر کچھ خلا پُر نہیں ہوتے.”
پروفیسر تقدیر سے لڑتے لڑتے تھک چکا تھا. وہ جو کبھی لوہے کی طرح مضبوط تھا, اب نرم پڑ چکا تھا. اسے اپنے باپ کے الفاظ یاد آ رہے تھے. اسے اپنی ماں کی باتیں صاف سُنائی دے رہی تھیں. ہر کسی نے اسے دوبارہ شادی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر اُس نے ہار نہیں مانی تھی. لیکن اب وہ ثمر کی بات سُن کر نرم پڑ گیا تھا. اُس کی ہمت جواب دے گئی تھی. اسے راحیلہ کا مسکراتا چہرہ نظر آ رہا تھا.
“میری زندگی میں تو نہیں ہوگی دوسری شادی.” راحیلہ نے مسکرا کر کہا تھا.
“میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں اپنی تقدیر سے لڑوں گا.” پروفیسر کے لہجے میں عزم تھا.
“کیوں؟”
“بس میں دیکھنا چاہتا ہوں تقدیر کیسے اثر انداز ہوتی ہے.”
“یہ کیا بات ہوئی بھلا؟”
“میں اپنی دوسری شادی کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود بنوں گا.”
“اچھا اگر دوسری شادی کرنی پڑے تو کس سے کریں گے؟”
“میں نے نہیں کرنی.”
“فرض کرو اگر کرنی پڑے تو کس سے کریں گے؟”
پروفیسر نے راحیلہ کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور سونے کے لئے کروٹ بدل لی. راحیلہ نے بھی منہ دوسری طرف کر لیا. کچھ دیر بعد پروفیسر نے دوبارہ کروٹ لی اور کہا.
“اگر مجھے دوسری شادی کرنی پڑ ہی گئی تو کسی بیوہ یا طلاق یافتہ سے کروں گا.”
“کسی کنواری سے کیوں نہیں؟” راحیلہ نے سوال کیا مگر پروفیسر نے کوئی جواب نہ دیا.
پروفیسر ثمر سے ملنے اُس کے گھر جا رہا تھا. ایک سُنار کی دکان کے سامنے پروفیسر کچھ سوچ کر رک گیا. اُس نے اپنے گھر والوں سے ثمر سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر سب نے اُس کی مخالفت کی. جب وہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا تو سب اسے آمادہ کر رہے تھے. اب جبکہ وہ خود شادی کرنا چاہتا تھا تو ہر کوئی اسے لعن طعن کر رہا تھا. سب اسے اُس کی عمر کا احساس دلا رہے تھے. اسے معلوم تھا کہ اب کوئی بھی اُس کی شادی سے راضی نہیں. پھر بھی اُس نے ثمر کے لئے انگوٹھی خریدی. سُنار کی دکان پہ ایک لڑکا لوہے کے ایک ٹکڑے پر سونے کی ڈلی رکھے چھوٹی سی ہتھوڑی سے میٹھی میٹھی ضربیں لگا رہا تھا.
“بچے اسے کیا کہتے ہیں؟” اُس نے لوہے کے ٹکڑے کی طرف اشارہ کر کے پوچھا.
“انکل جی اسے نہانی کہتے ہیں. اُس لڑکے نے جواب دیا.
“نہانی تو اسے نہیں کہتے جو لوہار استعمال کرتے ہیں؟” پروفیسر نے سوال کیا.
“سر جی اُسے بھی کہتے ہیں اور اِسے بھی. دونوں کی خاصیت ایک جیسی ہے. اِسے نہانی بھی کہتے ہیں, سندان بھی کہتے ہیں اور اہرن بھی.” اب کی بار سُنار نے خود جواب دیا.
پروفیسر کو دونوں کا ہم نام ہونا کچھ عجیب سا لگا. اُس نے اپنی سہولت کے لئے دونوں کے نام الگ الگ کر لئے. اسے محسوس ہوا کہ اب وہ لوہے جیسا سخت نہیں رہا. اب اسے اپنا آپ سونے جیسا نرم محسوس ہوا. اسے لگا کہ وہ اہرن سے لپٹا ہے. ثمر اُس پر سُنار کی سو ضربوں کی طرح دھیرے دھیرے اثر انداز ہوئی ہے.
اُس کے سامنے اپنی ساری کیس ہسٹری تھی. اُس نے ساری زندگی اوہام میں گزاری تھی. اسے ناموجود کی آوازیں سُنائی دیتی تھیں. اسے ہر وہ چہرہ دکھائی دیتا تھا جو پاس نہیں تھا. اُس کی زندگی میں ایک اضطراب تھا, ایک بے ترتیبی تھی. اُس کے نزدیک حقیقت اور آگہی دوسرے لوگوں سے بالکل مختلف تھی. اُس کے لئے حقیقی اور خیالی دنیا میں حدِ فاصل ختم ہو چکی تھی. اُس کے لئے حقیقی دنیا وہی تھی جو اُس کے اندر تھی. باہر کی دنیا بے معنی تھی. اسے اندر کی آوازوں نے جکڑ رکھا تھا. اُس کے لئے باہر کی دنیا سے رابطہ رکھنا دشوار تھا. یہ سارا عرصہ اُس نے بے اصل اور غیر حقیقی دنیا میں گزارا تھا.
ثمر اپنے ماں باپ سے الگ تنہا زندگی گزار رہی تھی. گھر کے باہر ثمر افضل کے نام کی پلیٹ لگی تھی. جب وہ ثمر کے گھر پہنچا تو وہ دروازے تک خود آئی تھی. صحن میں سیڑھیوں کے تین زینے چڑھ کر لاؤنج کا دروازہ تھا. ثمر اور وہ لاؤنج میں بیٹھے تھے. اک خوش گوار ملاقات کے بعد ثمر کا سوال وہی سالوں پُرانا تھا. اُس نے جیب میں رکھی انگوٹھی کو اندر ہی اندر چُھوا اور انکار کر دیا. اُس روز ثمر نے انکار سُن کر اصرار نہیں کیا. وہ روتی ہوئی اندر کمرے کی طرف بھاگ گئی. پروفیسر خاموشی سے اُٹھا اور لاؤنج سے نکل گیا. لاؤنج کا دروازہ ابھی مکمل بند نہیں ہوا تھا کہ اندر سے گولی کی آواز آئی اور ساتھ ہی “ٹھک” سے دروازہ بند ہو گیا.
ہسپتال کے کمرے میں بیٹھے اُس نے آخری نگاہ ثمر پہ ڈالی. جیب سے انگوٹھی نکال کر پھولوں کے گلدستے کے پاس رکھی. ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر انگوٹھی کے نیچے رکھا اور کسی سے کوئی بات کئے بنا کمرے سے نکل گیا.

Published inعالمی افسانہ فورمگلفام غوری