Skip to content

انتخاب

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر132

انتخاب
عذرا حکاک

سرینگر ،کشمیر

گزشتہ سات مہینوں کے مسلسل طوفان سے اِس گھر میں کس قدر اندھیرااچھا گیا تھا،اشفاق تکیہ سے ٹیک لگائے ،اپنی داہنی بازوں آنکھوں پر جمائے بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ اچانک سیل فون کی آواز پر چونک پڑا۔سیل فون پر نظر پڑتے ہی اُس کے چہرے کا رنگ اُڑگیا اور فوراََ فون کان پر لگا کر سلیقے سے سلام کرنے لگا۔”اسلام علیکم۔۔۔ جی میں ٹھیک ہوں۔ بھابھی اور عائشہ بھی ٹھیک ہیں ۔“پھر سر جھکا کر ہلکی آواز میں جواباََ کہا” مجھے تھوڑا وقت دیں باجی!!میں۔۔۔“ اتنے میں ہی فون کاٹ دیا گیا۔ وہ اپنی پُر نم آنکھوں کو پونچھنے ہی لگا تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور جو سامنے کھڑا تھا اُس سے نظریں ملانے کی ہمت اُس میں موجود نہ تھی۔اِسلئے فوراََسیل فون اُٹھا کر مصروفیت کا مظاہرہ کرنے لگا۔”اشفاق تم نے دو دن سے کھانا نہیں کھایا ۔ اِس طرح کرو گے توتمہاری طبیعت بگڑ جائے گی۔لو جلدی کھانا کھا لو۔۔۔“وہ عورت اِس طرح تاکید کرنے لگی جیسے کہ اشفاق اُس کے لئے کوئی چھوٹا سا بچہ ہو۔”جی بھابھی ٹھیک ہے ۔“وہ موبائل کو آنکھوں کے نزدیک لے جا کرجواب دینے لگا۔جب وہ کمرے سے باہر چلی گئی تو اشفاق پھر کسی سوچ میں ڈوب گیا۔

صرف سات ماہ قبل وہ ایک لاڈلا ،خوش مزاج اور مزاحیہ شخص تھاجس کی زندگی کے صرف دو مقصد تھے ۔ ایک اچھی نوکری اور دوسراناہدہ سے شادی۔۔۔جس سے وہ شادی کاوعدہ کر چکا تھا ۔گھر میں ایک بوڑھی ماں ، بڑا بھائی فردوس اور اُسکی بیوی فوزیہ تھی ، جن سے وہ بے حد محبت کرتا تھا۔فردوس نے اُسے کبھی باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی اور ماں نے زندگی بھر لاڈ پیار سے پالاپوسا۔ فوزیہ ایک یتیم لڑکی تھی جس کی شادی تقریباََ دو سال پہلے اشفاق کی ماں نے اپنے بڑے بیٹے فردوس سے کرائی تھی۔ فوزیہ بالکل سیدھی سادھی اور سلجھی لڑکی تھی جس کے لئے اُس کا شوہر اور گھر پریوار ہی سب کچھ تھا۔ اُس کی چوڑیوں کی کھنک اور قہقہوں کی گونج کے باعث پورے گھر میں چہل پہل رہتی ۔ اشفاق سے فوزیہ کا رویہ بڑا دوستانہ تھا ۔ اشفاق کو اگر کسی سے خوف آتا تو وہ تھی اُ سکی بڑی بہن جو انتہائی سنجیدہ مزاج تھیں اور اکثر اُسے اُس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی رہتی لیکن وہ اُس کی باتوں کو ایک کان سے سُنتا اور دوسرے کان سے نکال باہرکردیتا۔ جب بھی و ہ سسرال سے آتی تو روز فوزیہ سے چوری چھُپے دریافت کرنے لگتاکہ وہ واپس کب جا رہی ہیں۔ فوزیہ جواباََ مسکرا دیتی۔

فوزیہ نے انہی ِ دنوں ایک خوبصوت بچی کو جنم دیا تھا جس کا نام اشفاق کی مرضی سے عائشہ رکھا گیا۔ایک دن اشفاق نوکری ملنے کی خوش خبری لئے گھر واپس آہی رہا تھا کہ اچانک اُسے خبر ملی کہ لالچوک میں اَندھا دُھند فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد جان بحق ہوئے ہیں جن میں اُس کا بھائی فردوس احمد خان بھی شامل ہے۔ یہ خبر اِس گھر پر ایک پہاڑ کے مانند ٹوٹ پڑی۔اِس صدمے کو اشفاق کی ماں برداشت نہ کر سکی ۔جلد ہی اُس نے بستر پکڑ لیااوروہ بھی دو مہینوں میں چل بسی۔آخری سانسیں لیتے ہوئے اُس نے اشفاق سے پُر نم آنکھوں سے التجا کی تھی ”فوزیہ سے شادی کر لینا اور عائشہ کے سر پر ہاتھ رکھنا۔“

زندگی نے اِس طرح کروٹ بدلی تھی کہ اشفاق کے سارے ناز و انداز ہی بدل گئے تھے۔ اب گھر کی ساری ذمہ داریوں کا بوجھ اکیلے اُس پر آن پڑا۔ہر دن آفس سے تھک ہار کر جب گھر واپس آتا تو گھر کی چھوٹی بڑی چیزوں کی خریداری میں جُٹ جاتا۔ آٹا، مصالحے ، دودھ ، روٹی ،سبزی ،چاول وغیرہ میں ہی زندگی اُلجھ گئی تھی ۔پھر جب فارغ ہوتا تو عائشہ کے ساتھ کچھ دیر کھیل لیتا، اُس کے ننھے ننھے ہاتھوں کو چوُمتااوراُسے پیار کرتا تو دل کو کچھ حد تک سکون میسر ہوتا۔

یوں تو ناہداہ اشفاق اور اُس کے گھر کے حالات کے متعلق بخوبی واقف تھی کیوںکہ اشفاق وقتاََ فوقتاََاُسے اپنی روداد سُنایا کرتالیکن آج وہ آفس سے چھُٹی لے کر اُس سے ملنے صرف اِس غرض سے آپہنچاتاکہ وہ اُسے اپنے اور فوزیہ کے رشتے کی بات کے حوالے سے روشناس کرائے جو تقریباََ دو ماہ سے اُسنے اُس سے چھپائے رکھی تھی۔آج اُسے ہرمعاملے میں ناہداہ فوزیہ سے زیادہ قابل قبول لگ رہی تھی گویا کہ اُس کے دل نے ناہداہ کا ہی انتخاب کیا تھا۔

چائی کی پہلی چسکی لیتے ہوئے ناہداہ نے اُسکی اور سوالیہ نظروں سے دیکھ کر پوچھا”ہاں ! تم کچھ بات کرناچاہتے تھے۔“اشفاق سے سارا معاملہ سُننے کے بعد ناہداہ کی آنکھوں سے آنسوں ٹپکنے لگے جیسے وہ لمحہ اُس کے لئے تھم ساگیاہو۔ طویل وقفے کے بعد ناہداہ اپنے آنسوں پونچ کر اطمنان بخش انداز میں کہنے لگی”میں تمہاری حالت سمجھ سکتی ہوں اور یہ بھی سمجھتی ہوں کہ اِنسان کو زندگی میں بعض دفعہ ایسے فیصلے بھی لینے پڑتے ہے جو اُس کے مزاج کے مواقف نہیں ہوتے ۔ مجھے اِس بات کا افسوس ہے کہ میں تمہارے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ بس تم سے اِنتا کہنا چاہوں گی کہ تم میری طرف سے آزاد ہو۔“ یہ سُن کر اشفاق ٹھٹک سا گیا اور ناہداہ نظریں چُرا ئے کر کہنے لگی ”مجھے اب چلے جانا چاہیے،ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔“آج نہ جانے کیوں وہ اُسے حیران پریشان نظروں سے دیکھے جا رہا تھااور اُسے رُکنے کے لئے کہہ بھی نہیں رہا تھا۔آج حالات کے سامنے اُس کی محبت دم توڈ رہی تھی اور وہ کچھ بھی نہیں کر پارہا تھا۔

باجی ہر روز اشفاق سے پوچھتی کہ اُس کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ ہر دن اُسے سمجھاتی کہ عائشہ اور فوزیہ کو دردر کی ٹھوکریں کھانے سے اگر کوئی بچاسکتا ہے تو وہ خود اشفاق ہے لیکن وہ کرتا بھی تو کیا؟وہ کسی سے محبت کرتا تھا، اُس سے شادی کا وعدہ بھی کر چکا تھااور فوزیہ!! وہ تو اُس کے بھائی کی بیوی تھی ۔ وہ کیسے؟۔۔۔۔یہ سوچ کر وہ کچھ دیر کے لئے کانپ اُٹھتا۔ایک طرف اُس کی محبت ناہدہ تھی اور دوسری اور اُس کا فرض ۔اُس کو دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔

آخر کار اُس نے فیصلہ لے لیا تھاکہ اُسے کیا کرنا ہے۔بلا وہ کب تک اپنے حقائق سے منُہ موڈ سکتا تھا۔ گھرواپس آنے کے بعد جب اُس نے بہن سے فون پر بات کی تو رسمیہ علیک سلیک کے بعد کہا” باجی !میں کسی سے شادی کا وعدہ کر چکا تھاآج میں نے اس وعدہ سے منہ موڑ لیا کیوں کہ میری ماں کی وصیت اور میرے بھائی کی امانت کی حفاظت کرنے سے بڑھ کر میرے لئے اور کچھ نہیں۔مجھے آپ کا فیصلہ معقول لگا۔آپ نکاح کی تاریخ پکی کرواسکتی ہے ۔۔۔۔میں نے فیصلہ کر لیا۔۔۔۔۔“

Published inافسانچہعالمی افسانہ فورمعذرا حکاک