Skip to content

امید

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 144
عنوان: امید
ثمرینہ علی, لاہور, پاکستان.
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات دبے قدموں اپنا سفر طے کر رہی تھی. ان کے دل کی دھڑکن گھڑی کی ٹک ٹک سے ہم آہنگ تھی. وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے لیکن ایک دوسرے سے آنکھیں چرائے بیٹھے تھے. سامنے میز پر کاغذوں کا پلندہ سانپ کی طرح کنڈلی مارے پڑا ہوا تھا.
تھوڑی دیر پہلے شافع نے اس پلندے کو لہراتے ہوئے کہا تھا,
“یہ ہے آپ کی تمام کرپشن اور غیرقانونی کاروباری ڈیلز کے ثبوت. اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والوں میں آپ بھی شامل ہیں… کیا یہ غداری نہیں… اس ملک سے… اسکے شہیدوں سے… گرینڈ پا آپ غدار ہیں… غدار”
شررررل…شررررللل
الفاظ تھے کہ کوڑے…
جس نے ان کی روح و جسم کو گھائل کردیا تھا. جلن تھی کہ کم نہیں ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی. “غدار, غدار” کی بازگشت ان کے کانوں میں گونجتی چلی جا رہی تھی.
وہ وقت گزرنے کے احساس سے بےنیاز دل و دماغ میں برپا ہونے والی قیامت صغریٰ کے حصار میں جکڑے اپنے نامہء اعمال کا حساب کتاب کرنے میں مصروف تھے.
دماغ کے نہاں خانوں میں دفن شدہ یادیں باہر امڈ آنے کو بیتاب تھیں. وہ ماضی کے دھندلکے میں گم ہوتے چلے گئے.
تقسیم کا پُرآشوب زمانہ تھا. عمر یہی کوئی آٹھ نو برس کے لگ بھگ ہوگی. اُن کی آنکھوں کے سامنے آج بھی وہ سارے مناظر تازہ تھے جن سے نبرد آزمائی کرتے انہوں نے اپنے ابا کے ہمراہ پاکستان میں قدم رکھا.
انگریزوں اور ہندوؤں کی تمام تر ملی بھگت کے باوجود اکھنڈ بھارت کی شدید ترین خواہش پوری نہ ہونے کے باعث انسانوں نے درندوں کا چولا پہن لیا. ہر طرف جے بجرنگ بلی اور ست سری اکال کے نعروں کی گونج تھی.ہاتھوں میں بلم, گنڈاسے , بندوقیں اٹھائے درندے…. جسموں کو نوچتے بھنبھورتے بھیڑئیے… آج بھی چیخ و پکار سے اُن کے کان کے پردے پھٹے جاتے ہیں. ہر طرف ننگ دھڑنگ نچے ہوئے لاشے, خونچکاں بدن , سربریدہ اجسام , چیخ و پکار…
لاکھوں مرد و زن اور بچے اس وحشت و بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے. جو لوگ بچ بچا کر کیمپ پہنچے ان کی حالت ابتر تھی. نہ کچھ کھانے کو ملتا نہ پینے کو, ہاں جن کے پاس پیسہ تھا وہ کسی نہ کسی طرح کھانے پینے کا بندوبدست کرلیتے. کئی دنوں کے انتظار کے بعد کچھ ٹرک ہمیں پاکستان پہنچانے کے لیے آئے. ہر کسی کی کوشش تھی کہ کسی طرح ٹرک پر چڑھ جائے. کسی کو ایک دوسرے کی خبر نہ تھی. آپا دھاپی, نفسا نفسی, دھکم پیل کا عالم تھا. سواریاں کم اور سوار زیادہ تھے. سو بہت سے لوگ سوار ہونے سے محروم رہ گئے. اس قیامت خیز صورت حال میں بھی وہ لوگ فائدے میں رہے جن کی کسی سے جان پہچان تھی یا جن کے پاس روپے تھے.
آخر کار پاکستان کی جانب سفر کا آغاز ہوا…
آہ…
قیامت کا سفر تھا.. روتے بلکتے بچے, لٹے پٹے ڈرے سہمے افراد…. بلوائیوں کے حملے کا ڈر… رستے میں بکھرے خونریز مناظر …. اُن کے خوف, عدم تحفظ اور بے یقینی میں اضافہ کررہے تھے. کسی کو بھی یقین نہ تھا کہ وہ صحیح سلامت پاکستان پہنچ سکے گا.
آزاد ملک کے باسی تو اس اذیت کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے جس سے ہم گزر کر آئے.
پاکستان پہنچنے بعد معلوم ہوا کہ اس کٹی پھٹی وسائل سے محروم نوزائیدہ مملکت میں جہاں انصار کی روایات کو زندہ رکھنے والے موجود ہیں وہاں ایسے ابن الوقت اور بے حس درندوں کی بھی کمی نہیں ہے جنہوں نے لٹ لٹا کر آنے والے افراد کی بےبسی و مجبوری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا. میں نے دیکھا کہ یہاں بھی وہ لوگ فائدہ میں رہے جن کی کسی سے تعلق داری تھی یا جن کے پاس پیسہ تھا. اسی بےیقینی و عدم تحفظ کی فضا نے مجھے سیکھایا کہ صرف دولت اور تعلقات ہی وہ کنجیاں ہیں جو بند دروازوں کو کھولنے کے کام آتی ہیں… میں مطلبی, خود غرض و مفاد پرست بن گیا. ہمیشہ اپنے مفاد کو اولیت دی. کبھی نہیں سوچا کہ میری خودغرضی کا کیا نتیجہ نکلے گا. اپنے تعلقات کے بل بوتے پر اپنا ہر جائیز و ناجائیز کام کروایا, جہاں تعلقات سے کام نہیں بنا وہاں پیسہ استعمال کیا. میرا مطمح نظر پیسہ تھا.
ٹن ٹن ٹن ٹن…
رات کے سکوت کو چیرتے ہوئے کلاک نے چار بجنے کا اعلان کیا. وہ ٹن ٹن کی آواز سے چونکا,ماضی سے نکل کر حال میں آیا. نائٹ بلب کی ملگجی روشنی میں کلاک کی جانب نگاہ کی پھر کمرے میں نظر دوڑائی. کاغذوں کا پلندہ سامنے ہی رکھا تھا لیکن شافع اپنی جگہ پر موجود نہیں تھا. ماضی کو کنگھالنے کے دوران انہیں پتا ہی نہ چلا کہ وہ کب اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا.
انہوں نے لمبی سانس بھری اور اپنی جگہ سے اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھے.
دروازہ کھول کر شافع کے کمرے کی طرف بڑھے. دروازے کی درز سے روشنی جھانک رہی تھی.
“ہممم… اس کامطلب ہے شافع بھی ابھی تک جاگ رہا ہے”
دستک دی لیکن جواب نہ ملا. تھوڑی دیر انتظار کیا اور پھر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئے.
شافع سامنے ہی آنکھوں پر بازو رکھے نیم دراز تھا. دروازہ کھلنے کی آہٹ سے ہاتھ ہٹا کر دیکھا. گرینڈ پا کو سامنے کھڑا دیکھ کر شکوے اس کی آنکھوں میں در آئے.
گرینڈ پا اس کے نزدیک بیٹھ گئے. اسکے دونوں ہاتھ تھام لیے, ” شافع, میرے بیٹے…میری جان.. جب تمہارے ماں باپ کا حادثے میں انتقال ہوا تو تم چھوٹے سے تھے. تمہیں تو اپنے نقصان کا اندازہ ہی نہ تھا لیکن تم خود سوچو اُس بچے کی کیا حالت ہوگی جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کو قتل ہوتے دیکھا. اپنی بہنوں کی عزت لٹتی دیکھی.خوف اور ڈر کے لفظ اس کیفیت کے آگے ہیچ ہیں جس سے میں گزرا. سب کچھ چھن جانے کا خوف ہمیشہ مجھ پر حاوی رہا. نہ صرف میں بلکہ میری عمر کے اکثر افراد میں وسائل کی کمی اور مسائل کی زیادتی نے افراتفری, انتشار اور مفاد پرستی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا.میں نے اپنے آس پاس سے جو سیکھا وہی لوٹایا, میں مانتا ہوں میں جھوٹا ہوں, بے ایمان ہوں , لالچی و مفاد پرست ہوں لیکن غدار نہیں. مجھے اپنے جرائم کا اعتراف ہے اور میں ہر سزا کے لیے تیار ہوں.”
یہ کہہ کر تھوڑا توقف کیا اور شافع کا جھکا ہوا سر اوپر اٹھایا, ” مجھے تم پر فخر ہے شافع…. میری عمر کے افراد شاید اپنے حالات کی وجہ سے اپنے مفادات کے اسیر تھے, اس ملک کو مضبوط اساس فراہم نہ کر سکے,لیکن تم نے آزاد فضاء میں آنکھ کھولی ہے. تمہارے اندر وہ خوف اور ڈر نہیں جس کا سامنا ہم نے کیا. جیسے ہر تاریک دن کے بعد سویرا ہوتا ہے اسی طرح یہ ملک بھی مشکل حالات سے گزر کر مضبوط تر ہو کر ابھرے گا. تم اپنا فرض نبھاؤ.”
باہر چھاتی سپیدی ان کے الفاظ کی سچائی کی تصدیق کررہی تھی.

Published inافسانچہثمرینہ علیعالمی افسانہ فورم