Skip to content

امیدوں بھرا سفر

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 133
امیدوں بھرا سفر
اشفاق حمید انصاری

ناندورہ، مہاراشٹر

موہن کا تبادلہ شملہ ہو گیا تھا۔ ایک بار پھر سے سب سامان باندھ کر لے جانے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ لیکن کوئی چارہ بھی نہیں تھا کیوں کہ سرحد کے فوجی کی یہی زندگی۔۔۔۔
موہن نے اپنےگاؤں فون کیا۔” میں کل کی ٹرین سے شملہ جاؤں گا جمعرات سے ڈیوٹی پر حاضر ہونا ہے۔” سبھی سامان باندھ لیا ہے۔ وہاں پہنچنے کے بعد فون کرتا ہوں۔ اجے کہاں ہے؟؟ پڑھائی کیسی چل رہی ہے اس کی؟؟ سنیتا کہاں ہیں؟؟ اس کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟؟ کپاس کی فصل کیسی ہے؟؟ انا کھیت میں جاتے کیا؟ ان کی طبیعت کیسی ہے؟؟ مہادیو ٹریکٹر پر جاتا ہے کیا؟؟
موہن کو ملٹری میں بھرتی ہوئے پندرہ سال ہوچکے تھے۔ چار پانچ سالوں میں اس کا ریٹائرڈ منٹ تھا۔ اس کے بعد گاؤں ہمیشہ کے لئے آنے والا تھا۔سال بھر میں دو دو تبادلے’ پروموشن… لیکن کہیں بھی مستقل نہیں۔ موہن نے بیوی بچوں کو گاوں میں رکھا تھا تاکہ بچوں کو خالص دودھ اوراچھی تعلیم مل سکے۔
اجے اس سال بارہویں جماعت میں تھا۔ سنیتا دسویں جماعت میں پڑھ رہی تھی۔ ان کے امتحانات نزدیک تھے۔ مالن ان کو کسی بات کی کمی محسوس ہونے نہیں دیتی تھی۔ اجے کبھی کبھی ضد کرتا تو مالن اس کی ضد پوری کر دیتی تھی۔ موہن مالن سے اکثر کہتا تھا ” دو بچے یہی اپنی کل پونجی ہے۔ یہی اپنی دنیا ہے۔ اپنے بڑھاپے کا سہارا ہیں۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد میں گاؤں میں آکر سکون سے رہوں گا۔ میرا شیر اجے تب تک نوکری پر لگ جائے گا۔ اسے کلکٹر بننا ہے۔ یہ خواب وہ پورا کرے گا ہی۔ اس کے نوکری پر لگتے ہی ہمارا ایک ہی کام رہے گا، اچھی بہو اور اچھا داماد تلاش کرنا، مالن مسکرادیتی اور کہتی آپ کو تو بس خواب دیکھنے کی عادت ہے۔ لیکن ایسا نہ ہوا تو؟؟؟؟ موہن بوکہتا اشبھ مت بول، ہم نے اپنی اولاد کے لیے جو بھی کیا وہ بیکار نہیں جائے گا۔ وہ اپنا ہی خون ہے تجھے یاد ہے!! جب وہ تیسری جماعت میں تھا تب تم سبھی لوگ کشمیر آئے تھے، کشمیر کی وادیاں جھرنے ندیاں باغیچے سب گھما کر ایک ہفتہ بعد واپس بھیجا تھا۔ گاؤں واپس آنے کے بعد اجے کو جانڈیس پیلیا ہو گیا تھا۔ میں چھٹی لے کر گھر آیا تھا۔ ڈاکٹر ریڈی کے اسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا تھا پیلیا دماغ تک پہنچ گیا ہے۔ بہت مشکل ہے میں کوشش کر رہا ہوں۔ لیکن…… میں ڈاکٹر کے جملے سن کر کا ہکا بکا رہ گیا، مگر پھر بھی ڈاکٹر سے کہنے لگا ڈاکٹر صاحب کتنا ہی پیسہ لگنے دو نوکری کا پورا پیسا خرچ کر دوں گا میرے حصے کی آئی ہوئی پوری زمین بیج دونگا لیکن میرے بچے کی جان بچا لیجیے۔
مالن، میں نے تو تجھ سے کبھی نہیں کہا لیکن وہ آٹھ دن اور رات میرے لئے ایک جیسے تھے، بیٹے کی فکر میں رو رو کر میرا پورا تکیہ گیلا ہو جاتا تھا۔ ان آٹھ دنوں میں، میں ایک پل سو نہیں پایا تھا اور تو کہتی ہے ایسا نہیں ہوا….. تو؟؟؟؟؟؟
گاؤں آنے کے بعد موہن اپنے دونوں بچوں کو اسکول میں لے جاتا تھا۔ جاتے جاتے اجے کو ٹریکٹر چلانے کےلیے دیتا۔ کبھی فلم دکھانے کے لیے، کبھی سرکس دکھانے کیلئے تو کبھی باغ میں گھومنے کے لیے لے جاتا۔
چھٹی ختم ہوتے ہی موہن کا دل بھر آتا تھا۔ بیوی بچوں کو چھوڑ کر جانے کو دل نہ کرتا مگر اپنے فرض کے آگے مجبور ہوجاتا۔ اجے سے پوچھتا تو پڑھ لکھ کر کیا بنے گا؟؟؟؟ وہ کہتا تھا کلکٹر…
سینہ فخر سے پھول جاتا۔ اجے سےکہتا پڑھائی کر، تاکہ بڑا ہو کر ہمارا نام روشن کرسکے ،۔ ساری جائیداد کا تو اکیلا وارث بننے والا ہے۔ تیری اور سنیتا کی تعلیم کے لیے ہم خون پسینہ ایک کردیں گے۔ کچھ بھی کمی نہیں ہونے دیں گے۔ سنیتا کی پیٹھ پر اور سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتا، اپنے کلیجے پر پتھر رکھ کر سب گھر والوں سے جدا ہوتا تھا۔
اجے کے بارہویں کے امتحان شروع ہوئے۔ موہن صبح شام فون کرتا تھا کہ پیپر کیسا گیا؟؟؟ پورا حل کیا تھا نا؟؟؟؟ جو پڑھا تھا وہ تمام پیپر میں آیا تھا نا؟؟؟ اس کی زندگی کا ایک ہی خواب تھا۔ بس اجے کو اچھے نمبرات ملنے چاہیے۔ جمعرات کے دن اجے کا آخری پیپر تھا۔ دوپہر کے دو بجے پیپر ختم ہوا چار بجے تک اجے گھر نہیں پہنچا تھا۔ مالن گھر پر اسکا انتظار کر رہی تھی۔ اچانک اس کے ایک دوست کا فون آیا۔اور کہنے لگا آپ کے لڑکے کو گاندھی چوک میں کچھ لڑکوں نے بہت پیٹا ہے آپ جلدی آجاؤ اجے مشکل میں ہے۔
یہ سن کر مالن کے دل کو دھکا سا لگا۔ فوراً گھر سے نکل کر گاندھی چوک پہنچی۔ کیا دیکھتی ہے کہ اجے نیچے گرا ہوا پڑا ہے۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔
اس کی سائیکل گٹر میں گری ہوئی تھی۔ مالن نے اجے کو اٹھایا۔ بہت بھیڑ جم گئی تھی۔ جیسے تیسے زخمی اجے کو گھر لے آئی گھر آنے کے بعد مالن نے موہن کو فون کیا۔ اجے سائیکل سے گر گیا جلدی آو اسے چوٹ لگی ہے۔ دوسرے دن موہن بھی چھٹی لے کر گھر آیا۔ پوچھ تاچھ کرنے لگا۔ اتنے میں دو پولیس والے آگئے اور اجے کو پولیس اسٹیشن لے گئے۔ ان کے پیچھے موہن اور مالن بھی گئے۔ پولیس اسٹیشن میں دس بارہ لڑکے تھے اور ان سے پوچھ تاچھ چل رہی تھی۔ دو گھنٹے کے بعد موہن کو پولیس نے اندر بلایا اور کہنے لگا۔ لڑکی کے چکر کا سارا معاملہ ہے۔ اس مرتبہ آپ کے بیٹے کو چھوڑ رہا ہوں۔آپ کی توجہ نہیں ہے کیا لڑکے پر؟؟؟؟ اندر ڈال دیا تو کیریئر برباد ہوجائے گا۔
موہن عجیب سا منہ لے کر گھر آیا۔ اس کےخواب چکنا چور ہوتے ہوئے نظر آنے لگے تھے۔ جس کی بہتر زندگی پر اسکے بڑھاپے کا انحصار تھا وہ آوارہ نکلا۔ اس کو فضول شوق لگ گئے تھے۔ سوچا تھا میرا نام روشن کرے گا۔ میری عزت کو چار چاند لگائے گا۔ بارہویں جماعت میں پورے ضلع میں اول آئے گا۔ مستقبل میں کلکٹر بنے گا۔لال بتی والی گاڑی میں گھومے گا۔ جس کے آگے پیچھے سپاہی ہونگے۔ لاؤڈسپیکر والی گاڑیاں ہونگی۔ گاؤں میں پہنچتے ہی گھر کے سامنے گاڑیوں کی لائن لگیں گی۔ ہماری محنت بھری زندگی کامیاب ہوں گی۔ ہم دونوں نے کتنی مصیبتیں اٹھائیں تھی۔ مالن کھیت میں اور میں سرحد پر۔۔۔۔۔۔
اجے جب چھٹی جماعت میں تھا، ایک دن کھیت میں کام کرتے ہوئے مالن کے پیر میں چوٹ آگئی۔ پیر خون میں لت پت ہو گیا لیکن وہ کام کرتی رہیں۔ کیوں آخر کیوں؟؟؟ اس لئے کہ بارہویں کے بعد اس کا بیٹا یو پی ایس سی کی تیاری کے لیے جائے گا تو خرچ زیادہ لگے گا۔ اگر ضرورت پڑے تو ممبئی بھی بھیجنے کی تیاری تھی تا کہ اس کا بیٹا کلکٹر بنے۔ لیکن بیٹا لڑکیوں کے چکر میں پڑ گیا ہے یہی سوچ کر موہن کا دماغ خراب ہو گیا۔اس کے سپنوں کو گویا آگ سی لگ گئی ہو۔ اس کے خواب چکنا چور ہوتے نظر آنے لگے۔
موہن نے اپنے بیٹے کو کچھ نہیں کہا۔ کہتا بھی کیسے؟؟ لڑکا جب برابری میں آجائے تب کہا بھی کیا جاسکتا ہے؟؟؟ عمر کے اس موڑ پر کچھ کہنا بھی بے سود ہی تھا،، رات میں بھر یہی تمام باتیں موہن کے ذہن میں گردش کرتی رہیں نیند تو اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
دوسرے دن موہن،اجے کو اپنے کھیت لے گیا۔ اجے کافی گھبرایا ہوا تھا۔ اور سوچ رہا تھا کہ اب مجھے ما رکھانی پڑے گی۔ ملٹری والا باپ ہتھوڑے جیسا ہاتھ… میرا اسکول جانا بھی بند ہو جائے گا، یہی سب سوچ کر اجے تھر تھر کانپنے لگا۔ کھیت میں پہنچتے ہی آم کے پیڑ کے نیچے دونوں بیٹھ گئے۔ موہن کچھ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ اس کے بعد اس نے اپنے بیٹے کو قریب لیا اور اس کے سر پر سے ہاتھ پھیرتے ہی کہنے لگا، بیٹا اس عمر میں ایسی غلطی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن تو بھی یہ غلطی کرے گا مجھے ایسی امید نہ تھی۔ تم نے تو کلیکٹر بننے کا طے کیا تھا نا؟؟؟ بیٹے اسطرح بری صحبت، و آوارہ گردی کرتے کرتےکوئی کلکٹر بنا ہے؟؟ تو نے سنا ہے آج تک؟؟ بیٹا اس عمر کا پیار جھوٹا ہوتا ہے۔ یہ سب واسنا کا کھیل ہوتا ہے۔ ایک کتیا کے پیچھے بھی دس بارہ کتے لگتے ہیں۔ کھیل کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ مرتے ہیں کیا فرق رہ جاتا ہے ان میں اور اپنے میں؟؟؟؟
اور تیری اسطرح کی حرکت کا تیری چھوٹی بہن سنیتا پر کیا اثر ہوگا کبھی اس بارے میں بھی سوچا ہے تونے؟
مرنا ہی ہے تو اپنے ملک کے لیے مرو۔ مار ہی کھانی ہے تو اپنے ملک اپنے وطن و اپنے ماتاپتا کے سمان کیلئے کھاؤ۔ بیٹا اپنی پڑھائی کے لیے اگر تم نے کھانا کم کیا، کھیل کود بند کیا، دوستوں کے پاس جانا بند کیا، مووی دیکھنا بند کیا، یہ تمام نادانیاں پانچ سات سال بند کرےگا تب ہی تو بڑا بنے گا۔ بس تجھے یہ طے کرنا ہے۔ بیٹا ایک مرتبہ طے کرنے کے بعد دماغ میں وہی رہتا ہے۔ اگر تو نے اپنے کیریئر کی طرف توجہ دیا تو لڑکیاں تیرے پیچھے آئیں گی۔ نہیں تو تجھے ہی ان کے پیچھے تاعمربے عزت ہوکر گھومنا پڑے گا۔ اب تو طے کر تجھے کیا کرنا ہے۔ اس کے بعد موہن نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ آخر میں دونوں باپ بیٹے بغیر بات کیے گھر واپس آئے۔
بارہویں کا رزلٹ آیا اجے کو%64 فیصد مارکس ملے۔ اس نے اپنے باپ کو فون کیا کے نتیجہ آگیا ہے۔ میں مزید تعلیم کے لیے پونا جانا چاہتا ہوں؟؟؟ موہن بولا دیکھ بیٹا جیسا تجھے مناسب لگے۔۔۔۔
مالن کو محسوس ہوا کہ اجے نے یہیں کہیں ایڈمیشن لینا چاہیے، پڑھائ کرنی چاہیے لیکن اس کی خواہش بقیہ تعلیم کے لیے پونہ جانے کی تھی۔ اجے پونا چلا گیا۔
اجے کو پونا گئے ہوئے تین سال ہوگئے۔ موہن نے والینٹری ریٹائرڈ منٹ کا فیصلہ کیا۔ اس کا دل نوکری میں نہیں لگ رہا تھا۔ گھر جانے کی بھی پہلے جیسی خوشی نہ تھی۔ سوچتا تھا مالن کو لے کر کہیں دور چلا جائے۔ موہن نوکری کا استعفیٰ دے کر ہمیشہ کے لیے گاؤں آگیا۔ اپنے کھیت میں کام کرنے لگا۔ کبھی کبھی پونا سے بیٹے کا فون آتا کہ فیس بھرنی ہے، روپیوں کی ضرورت ہے، روپئے بھجوادو۔ اس کے سوا اور کوئی بھی بات نہیں ہوتی۔ موہن اب بہت اداس اداس رہنے لگا تھا۔
جمعرات کے دن کھیت میں گّنا بونا تھا اس لیے موہن کھیت میں پہنچ گیا تھا۔ وہ ٹریکٹر کے ذریعے کھیت کی صفائی کر رہا تھا۔ اتنے میں دور سے اسے اپنی بیٹی سنیتا آتی ہوئی نظر آئی۔ سنیتا دوڑتی ہوئی اپنی آنکھوں سے آنسو پوچھتی ہوئی آ رہی تھی۔ اسے دیکھ کر موہن کا کلیجہ پانی پانی ہو گیا۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس کے دل میں الگ الگ خیالات آنے لگے۔سوچنے لگا کہیں مالن کو تو کچھ ہو نہیں گیا؟؟؟
اس کی طبیعت بگڑ تو نہیں گئ ؟؟؟ موہن نے فوراً اپنا ٹریکٹر بند کیا۔ نیچے اترا اتنے میں سنیتا نزدیک آ گئی تھی۔ وہ اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ اسے کچھ بول کر بھی نہیں آرہا تھا۔ اور پسینے میں لت پت تھی۔ ڈری ہوئی سہمی ہوئی اپنے باپ کے پاس آکر رک گئی۔
موہن نے ڈرتے ڈرتے پوچھا… بیٹا کیا ہوا؟ کچھ تو بولو؟ کیا ہوا؟ سنیتا نے اپنے ہاتھ میں لائی ہوئی تھیلی موہن کے آگے بڑھا دی اور نیچے بیٹھ کر زور زور سے سانس لینے لگی۔ موہن نے جلدی سے تھیلی کھولی اس میں ایک اخبار تھا اخبار میں پہلے ہی صفحے پر جلی حرفوں میں ایک خبر چھپی ہوئی تھی۔
’’ یو پی ایس سی امتحان میں اجے موہن جادھو مہاراشٹر میں ساتواں‘‘
موہن نےخبر پڑھ کر اخبار اور سنیتا کو اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ وہ اس طرح رونے لگا جس طرح خزاں کا موسم گزرنے کے بعد موسمِ بہاراں میں پیڑ جھومنے لگتے ہیں۔ موہن کے آنکھوں کے آنسوؤں سے سنیتا کا سر اور پیشانی تر ہوگئ۔

Published inاشفاق حمید انصاریعالمی افسانہ فورم