Skip to content

املتاس کا پیلا پھول

املتاس کا پیلا پھول
زارا مظہر

مارچ تو موسمِ بہار کے عروج کا مہینہ ہے مگر اُس سال بڑا مزاج دکھا رہا تھا سورج میں ابھی سے تپش سی تھی اسی لیئے موسم کی ادائیں کچھ بکھری بکھری سی ، تیکھی تیکھی رہنے لگی تھیں ۔۔۔۔۔ بہار اپنا مکمل حسن دِکھا چکی تھی ۔ اور اب ایسا پیش منظر تھا جیسے کسی شادی کی تقریب کے بعد گھر آ نے پہ آ نکھوں کا کاجل بکھرا بکھرا سا ہو جاتا ہے ، لپ اسٹک کا رنگ مدھم پڑ چکا ہوتا ہے افشاں جگہ جگہ چمکارے مارتی ہے یا کپڑوں کی استری ٹوٹ جاتی ہے ۔ ترتیب سے بنی خوش رنگ پھولوں کی کیاریاں اور پودے کہیں سوکھے اور رنگ اڑے پھولوں کے ساتھ ابھی بھی منظر میں موجود تھے ۔۔۔ مگر اب پودے ترتیب سے نکل کر کیاریوں کو بھی بے ترتیب کر رہے تھے گو کہ پودے اور کیاریاں بیک وقت تازہ ، شوخ پھولوں کے ساتھ کملائے ہوئے پھولوں سے بھی بھری ہوئی تھیں ۔ بیلے اور گلاب کی کلیاں بھی چِٹکتی ، مہکتی رہتیں ۔ تَرشَاوے پھلوں کے درخت سفید پھولوں بھری اوڑھنیاں اتار کے ہرے مَنکوں کی مالا پہن چکے تھے اور آ م کے درخت بُور سے لدے ہوئے تھے ۔ بے تحاشہ آ ندھیوں کا موسم سوکھے پتے اور بُور کا کیرا اڑاتا پھرتا ۔ ہوا میں بڑھی ہوئی پولن کی مقدار نے سانس کے مریضوں کو مشکل میں ڈالا ہوا تھا ۔ فضا میں نوزائیدہ تُرَش پھلوں کی تیز خوشبو ۔۔۔۔۔ بُور اور باٹل برش کے پھولوں کی ناقابل برداشت مُشک پھیلی رہتی ۔ رن وے کے اطراف لائین سے لگے املتاس کے ہزاروں درخت پیلے پھولوں کے جھالر دار سہرے نما پھول اوڑھے ہوا میں رعفرانی رنگ گھولتے محسوس ہوتے ۔ بے تحاشہ فلاورنگ کی وجہ سے پھولوں کے گرد موٹے موٹے کالے چمکیلے بھنورے اور رنگ برنگی تتلیاں منڈلالتی رہتیں ۔۔۔ پرندوں کے خوش الحان جوڑے شاخ در شاخ پھدکتے پھرتے ۔۔۔۔ اور کسی محفوظ و مخصوص جگہ میں آ لنا ڈال کر افزائش نسل کی سعی میں مصروف رہتے ۔
جاتی بہار کے یہی دن تھے جب فرحین سے پہلی بار ملی ۔
فرحین زندگی سے بھرپور شوخ و شنگ لڑکی تھی جِسے انتہائی خیال رکھنے والا شوہر ملا تھا ۔ جلد ہی ہماری گاڑھی چھننے لگی ۔ ہم دونوں تقریبا ہم عمر ہی تھیں ۔۔۔۔ وہ انتہائی گوری چٹی ، چپٹے چپٹے چائینیز نقوش کے ساتھ نِک سِک سے درست لڑکی تھی ۔ پہلی ملاقات میں اسکے بولنے کے منفرد اسٹائل اور لیئرز ہیئر کٹ نے فوراً توجہ کھینچ لی ۔ ایک اتفاقی ملاقات تھی ہماری جو دنوں میں گہری دوستی میں بدل گئی ۔
عمر کلاس تھری میں تھا پچھلے دو دن سے اسکول نہیں جا سکا تھا دو دن ہوسپٹل ایڈمٹ رہا ۔ پھول سا چہرہ کملا کر رہ گیا آنکھوں کی چمک ماند پڑ گیئ کوئی چیز ہی اندر نہیں ٹک رہی تھی کافی کمزوری ہوگئی تو دو دن کو اسپتال داخل کروانا پڑا ۔ مارچ کے پہلے ہفتے سے سالانہ امتحان شروع ہو رہے تھے اور اسکے نصاب کی کچھ چیزیں ادھوری تھیں ۔ پرائمری درجے کا سب کو علم تو ہے کتنی سخت مقابلے کی فضا بن جاتی ہے ۔۔۔۔ میں بچوں کو کسی بھی حالت میں چھٹی کروانے کی قائل نہیں کہ ہوم ورک وغیرہ جستجو کرنے سے مل تو جاتا ہے مگر بچے نے جو کمرۂ جماعت میں بیٹھ کر سیکھنا ہوتا ہے وہ رہ جاتا ہے ۔ خیر یہ تو بڑی نازک سی مجبوری تھی ۔۔۔۔۔ ماما سامنے والی لین کی بیک پہ میری کلاس فیلو رِدا رہتی ہے اسکی نوٹ بکس لے لیں میم نے کہا تھا اسکی اسائنمنٹ کمپلیٹ ہیں ۔۔۔۔۔ آ پ کو کیسے معلوم میں نے عمر سے پوچھا۔۔۔۔ بس والے انکل اسے وہاں سے پک اینڈ ڈراپ کرتے ہیں اس سے نوٹ بکس لے کر مسنگ ورک نوٹ کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر کی تجویز قابلِ عمل تھی ۔ بچوں کے بابا کچھ دن کی ٹریننگ پہ ہیڈ کوارٹر تھے سو سارا برڈن میرے اوپر تھا ۔۔۔۔ میں نے عمر کو انگلی سے لگایا اور رِدا کے گھر جا پہنچی ۔ کال بیل پہ میری ہی ہم عمر لڑکی نما خاتون نے دروازہ کھولا شکل کچھ جانی پہچانی سی معلوم ہوئی ۔۔۔۔ مگر بہت یاد کرنے پہ بھی یاد نہ آ سکا کہ پہلے کہاں ملے ہیں ۔ بڑے اخلاق سے اندر لے گئیں ۔ اس کا منفرد لہجہ پہچان کے لیئے درِ سماعت پہ مسلسل دستک دیتا رہا مگر گرفت میں نہ آ سکا ۔ ادھر ادھر کی باتوں کے ساتھ مدعا بیان کیا تو نوٹ بکس مل گئیں ۔ جونہی اس نے نوٹ بکس سلیقے سے شاپر میں بند کر کے پکڑائیں تو اوپر دھرے اسکی مومی انگلیوں والے ہاتھ نے ایکدم یاداشت کا در کھول دیا میں جو تمام بات چیت کے دوران الجھن میں تھی کہ اسے کہاں دیکھا ہے ایک دم یاد آ گیا ۔ ہم دونوں کے یہ پہلے پہلے بچے تھے اور لیبر وارڈ میں ہم اکٹھے ہی ایڈمٹ تھے ۔ فرحین کا سیزیرین تھا اس لیے وہ کچھ سکون میں تھی اور مجھے بار بار سہلانے اور ہمت بندھانے آ رہی تھی ۔ کبھی پشت پہ نرمی سے ہاتھ پھیرتی اور تسلیاں دیتی ۔ میں پہلی بار کی وجہ سے کافی گھبرائی ہوئی سی تھی وہ ہمدردی سے میری پشت سہلاتی اور محبت سے بار بار میرے بےچین ہاتھ تھام لیتی تب ہی اسکے کنول کے پھولوں کی طرح کِھلے ہاتھ یاداشت میں رہ گئے تھے ۔۔۔۔ میں نے اس سے رِدا کی ڈیٹ آ ف برتھ پوچھتے ہوئے یاد کروایا تو رہا سہا شک بھی دور ہوگیا ۔ اب ہم ایک دفعہ پھر گلے ملیں اور میں اسے اپنے ہاں آ نے کی دعوت دے آ ئی ۔ رہ جانے والا کام مکمل کر لیاگیا ۔
سرسری ملاقات گہری دوستی میں بدل گئی ۔ ہم گاہے بگاہے ایک دوسرے کے گھر آ تی جاتیں اور جب بھی کبھی ردا کو یا عمر کو مسئلہ ہوتا پچھلی لین سے نوٹ بکس مل جاتیں ورنہ تو خجل خواری رہتی تھی بیشتر مائیں اس معاملے میں بڑی تھڑ دِلی ہوتی ہیں ۔ یہ سوچ کار فرما ہوتی ہے کہ اگر ہم نے مدد کر دی تو ہمارا بچہ پیچھے رہ جائے گا ۔۔۔۔ شاید ہم دونوں کی ایک عمر اور ایک جیسی پسند نے ایک دوسرے کے بےحد قریب کر دیا تھا ۔ اسے کوکنگ بیکنگ بہت اچھی آ تی تھی ۔ وہ اکثر پیزا یا کیک بیک کرتی ۔ ایک بڑے پتیلے میں بڑے بڑے پتھر رکھ کر بھٹی کی شکل دے لی تھی اسی میں تقریبا روز کچھ نا کچھ بیک کرتی جو بچوں کو بے پناہ پسند آ تا ۔ اب وہ بچوں کی پسندیدہ ترین آ نٹی تھی ۔۔۔۔ اسکے پاس دو کمروں کا چھوٹا سا گھر تھا مگر اپنی نفیس طبیعت کے سبب اس نے اتنی خوبصورتی سے سجا رکھا تھا کہ میرا جی چاہتا میں بھی ویسے ہی چھوٹے سے گھر میں رہنے لگوں ۔۔۔ اسے کسی میڈ کی ضرورت نہیں تھی پورا گھر خود ہی دیکھ لیتی ۔ رِدا کے سوا سال بعد اسکے بیٹا ہوا تھا فہد اور میرے ہاں تین سال کے وقفے سے بیٹی ۔۔۔۔۔ سو ہم اپنی اپنی کمپلیٹ فیملی کے ساتھ خوش تھے ۔ اس نے بھی میری طرح بچوں کے ہر کام کے لیئے ٹائم مقرر کیا ہوا تھا ۔ میں بھی بچوں کو باہر نہیں نکلنے دیتی تھی اور وہ بھی ۔۔یوں بہانہ بن گیا کہ چاروں بچے ایک دوسرے کے ساتھ ہی کھیل کود لیتے اور ہمیں مکمل اطمینان رہتا ۔ دن رات کے آ نے جانے سے ہفتے مہینوں اور سالوں میں کتنی جلدی بدل جاتے ہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا ۔ اب ہمارے بڑے بچے گریڈ سیون میں تھے اسکول کیمپس الگ الگ ہو چکے تھے مگر رِدا اور عمر ابھی بھی اپنی اسٹڈیز ایک دوسرے سے ڈسکس کرتے اور نوٹ بکس کا تبادلہ جاری رہتا کوئی کام بوائز کو پہلے کروا دیا جاتا اور کبھی گرلز پہلے وہ حصہ کر لیتں چونکہ سلیبس دونوں سینٹرز میں ایک ہی تھا تو وہ لوگ ایک دوسرے سے ابھی بھی ہیلپ لیتے تھے ۔
اسی سال ہمیں آ فیشلی ملا ہوا گھر ایک مزید بہتر اور سہولیات کے ساتھ مزئین گھر سے بدلنے کا موقع ملا تو ہم نے فائدہ اٹھا لیا اور رن وے کراس کر کے دوسری طرف ہو گئے ۔ اب ہمارے گھر بالکل آ منے سامنے تھے ایک چوڑی سڑک اسکے گھر کے سامنے سے گھومتی ہوئی گزرتی تھی پھر املتاس اور سفیدے کے درختوں کی خوب چوڑی سی پٹی اور اسکے آ گے رن وے ۔ ایسے ہی رن وے کراس کر کے درختوں کی چوڑی پٹی اور پھر مین روڈ کے سامنے میرا گھر ۔۔۔۔ منظر اتنا صاف وسیع اور کھلا ہے کہ ہم گیٹ کے آ گے کھڑے ہوکر ایکدوسرے کو ہاتھ ہلا سکتے تھے آ واز نہیں سنی جا سکتی البتہ ۔ پیدل کراسنگ میں متوازن چال کے ساتھ اندازاً دس منٹ لگتے ہوں گے ۔ خیر کبھی مسئلہ نہیں ہوا بچوں کو اسکول بھیج کر اور ضروری کام نمٹانے کے بعد ہم اکثر ایک دوسرے کے پاس پہنچ جاتیں مختلف قسم کے ڈیکوریشن پیس بناتیں کپڑے ڈیزائن کرتیں اپنی درزن کو گائیڈ کر کے خوبصورت ڈریس بنواتیں ۔ کھانوں کی نئی نئی تراکیب ایک دوسرے کو بتاتے ۔ چلچلاتی دھوپ کی پرواہ نا کرتے ہوئے ائیر اسٹرپ کے انتہائی آ خری سرے پر چلی جاتیں اور ڈرائی ارینج منٹ کے لیئے ٹاہلی کی خشک پھلیاں سوکھے دھتورے ، خشک ٹہنیاں، سفیدے کی گول کالی مرچوں جیسے بیج ، ارجن کے گرے ہوئے سوکھے پھول ، املتاس کی سوکھی پھلیاں اور ہمہ قسمی جھاڑ جھنکاڑ سے اپنی اپنی باسکٹ بھر لیتیں پھر انہیں رنگتے کبھی اسپرے کرتے اور لمینیشن کی تہہ جما کر گلدانوں میں سجاتے ۔ خواتین کی دلچسپی کے تمام امور زیرِ بحث رہتے ۔ اکثر باتوں کے دوران ہم اتنی غافل ہو جاتیں کہ جب بچوں کی بس مختلف گھروں کے سامنے باری باری بریک لگا کر بچے اتارتی تو ہمیں ہوش آ تا اور ہم دونوں میں سے مہمان بنی سہیلی گھر کو دوڑ لگا دیتی ۔۔۔۔۔۔ ایسے ہی ایک دن وہ میری طرف تھی ہم ابھی ابھی ائیر اسٹرپ سے بہت سا قیمتی و نایاب مال جمع کر کے لائیں تھیں اور اب حسبِ معمول بچیوں کے کپڑوں کی ڈیزائننگ کر رہی تھیں وہ جھک کر ذرا سیدھی ہوئی تو اسکے منہ سے ایک سسکاری نکل گئی میں گھبرا گئی اللہ خیر ۔۔۔ مگر وہ سہولت سے سیدھی ہوکر بتانے لگی کہ جب فہد ڈیڑھ سال کا تھا ( اب فہد بارہ سال کا تھا ) تو اس جگہ یہ چھوٹا سا دانہ بن گیا تھا اس نے کمر سے ذرا سی قمیض سرکائی ایک روپے کے سِکّے برابر گول ابھارسا تھا ۔۔۔ میرے استفسار پر بولی اتنے سالوں میں تو کبھی تکلیف نہیں ہوئی اب چھ ماہ سے کبھی ٹیس سی اٹھ جاتی ہے پہلے چھوٹا سا تھا اب کافی بڑا ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔ خیر چھوڑو ۔۔۔۔ وہ بات کو لاپروائی کی چادر میں سمیٹ کر قمیضوں کی کٹائی میں مصروف ہوگئی اور اسکے ہاتھوں کے کنول بڑی سبک سری سے کپڑوں پر تیرنے لگے ۔۔۔ یوں جیسے دو سفید کنول تیز ہوا کے رخ پہ ادھر ادھر جھوم رہے ہوں ۔ اسکے خوشنما چمکیلے بالوں والا سر جھکا ہوا تھا اور سائیڈوں پہ لیئرز کٹنگ ہلکورے لے رہی تھی ۔
میرے دل میں ایک انجانے سے خدشے نے چند سیکنڈوں کے لیئےسر ابھارا ( سنا تھا امی کے ماموں کو ایسا ہی بے ضرر سا دانہ نکلا تھا ) جو بعد میں کینسر ۔۔۔۔۔ مگر میں نے اپنی سوچ کو پختہ ہونے سے پہلے ہی جھٹک دیا ۔ جونئیر ماڈل اسکول کی بس بچے ڈراپ کر رہی تھی ۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔۔۔۔ فرحین نے ایک طویل سانس کھینچی ۔۔۔۔ گیٹ کے پاس سے اپنی گول پیندے والی خشک ٹہنیوں سے بھری شہتوت کی چھمکوں سے بنی باسکٹ اٹھائی ۔ رن وے کے پار اسکے بچے بس سے اتر چکے تھے اور اسے ہاتھ ہلا ہلا کے بلا رہے تھے ۔ اس نے تین انچ کی ہیل پہن رکھی تھی بچوں کو دیکھ کر بے اختیار ہو گئی اور املتاس کی قطار کے نیچے نیچے بھاگنا شروع کر دیا میرے دل میں ایک وہم سا جاگا ۔۔۔ کہیں گر نا جائے ۔۔۔۔۔ اتفاق سے آ ج اس نے براؤُن کلر کے ییلے پھولوں والے کپڑے پہن رکھے تھے اسکے کندھوں پر کیپ شال تھی جو اسکے بھاگنے سے پیچھے کی طرف پھڑپھڑا رہی تھی اور وہ کسی آ فاقی مخلوق جیسی لگ رہی تھی۔ دیر ہوجانےپر وہ ایسے ہی بھاگتی تھی ۔ بھاگتے بھاگتے تیس چالیس سیکنڈ کے لیئے گھنے درختوں کے جُھنڈ میں گم ہوگئی جانے کیوں میرا دل ان چند سیکنڈز میں ڈوب ڈوب کے ابھرا ۔۔۔۔۔ مجھے خیال آ یا وہ بھاگتے بھاگتے اپنے پَروں سے اڑنے لگے گی اور آ سمان کی وسعتوں میں کھو جانے گی ۔۔۔۔۔ شاید آ ئیندہ اسے کبھی نہیں دیکھ سکوں گی ۔ میں نے اپنی سوچ کو سوچ ہی میں لعن طعن کر کے دبا دیا ۔۔۔۔ اب فرحین دوبارہ بھاگتی ہوئی نظر آ رہی تھی اور ائیر اسٹرپ سے نکل کر املتاس اور سفیدوں والی چوڑی پٹی کراس کر کے سڑک پہ تھی ۔ بس گول سڑک گھوم کر میرے گھر کی طرف آ ئی اور بچوں کو ڈراپ کر دیا ۔ بیٹیا رانی کی بہت سے قصے کہانیاں شروع ہو چکے تھے سو میں اسکا بیگ سنبھالتی بنا پیچھے دیکھے اپنا گیٹ کراس کر گئی دو تین مہینوں تک فرحین اکثر تھکی تھکی نظر آ نے لگی چہرے کی رونق اور چمک ماندپڑنے لگی ۔۔۔۔ کسی سرگرمی میں دل نا لگتا ۔ آ ج بہت دنوں کے بعد آ ئی تھی شاداب چہرہ واماندہ سا نظر آ رہا تھا ۔۔۔ کچھ کچھ چڑچڑی سی لگی اکتائی اکتائی سی بیٹھی تھی ۔ گھر چینج کیا تھا اس نے ۔ میں سمجھی کام کی زیادتی کی وجہ سے چڑ گئی ہے پھر ایکدم اٹھی اور چل دی آ ج سہج سہج قدم دھر رہی تھی استفسار پہ بولی چلنا تو درکنار بولنے کو بھی دل نہیں چاہ رہا ۔۔۔۔ شاید بہت تھک گئی ہے پیکنگ کر کر کے میں نے دل میں سوچا ۔ کسی ضرورت سے آ ئی تھی فوراً واپس ہولی ۔ چال کی ترنگ مفقود تھی ۔ اب روز روز ہی بیمار رہنے لگی ۔ انصر بھائی بہت دلجمعی سے اسکا علاج کروا رہے تھے مگر مرض سمجھ میں نہیں آ تا تھا ۔۔۔۔۔۔ یہ ٹیسٹ وہ ٹیسٹ ۔۔۔ فلاں میڈیسن ۔۔۔۔۔ ہر ہفتے اسلام آباد کا چکر لگتا سارے ٹیسٹ یہاں نہیں ہو سکتے تھے ۔ دونوں بچے میرے پاس ہی رہتے تاکہ اسکول کا حرج نا ہو ۔ میں ان دنوں چھٹیاں منانے میکے گئی ہوئی تھی جب ایک مشترکہ دوست نے فون پہ بتایا کہ فرحین کی طبیعت کافی خراب ہے اسکے پھیپھڑوں میں پانی بھر گیا ہے ۔ اسلام آباد ریفر کر دیا ہے اسے ۔ اف صدمے سے میں گنگ رہ گئی ۔ میں وزٹ شاٹ کرکے واپس آ ئی تو وہ اسلام آباد میں تھی بچوں کے پاس نانو تھیں ۔۔۔۔ آ نٹی نے زار زار روتے ہوئے کہا بیٹا فرحین کے لیئے بہت دعا کرو اسکی بائیوپسی ہے ۔۔ میں دہل گئی بہت دعائیں مانگتی رہی مگر رپورٹس پازیٹیو آ گئیں اسے جگر کا کینسر تشخص ہوا تھا ۔ میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ اسے دیکھنے جاؤں ۔ دل جیسے دباؤ میں رہتا ۔۔۔ بہت عجیب لگتا تھا کہ اس بھاگتی دوڑتی زندگی سے بھر پور لڑکی کو بیڈ پہ پڑا دیکھوں گی تو کہوں گی کیا ۔ اسکا گھر جو دس منٹ کی پیدل واک پہ تھا دس سالوں کی مسافت پہ دکھتا مگر جانا تو تھا ۔۔۔۔ وہ ہاسپٹل میں ہی تھی ۔۔۔ لگتا تھا اس نے پکا ٹھکانہ وہیں بنا لیا ہے اور مجھے اسے پوچھنے جانا تھا ۔ کیسے دیکھ سکوں گی کن الفاظ میں تسلی دوں گی دماغ سُن سا ہوگیا۔۔۔۔سفید بیڈ پہ آ نکھیں موندھے پڑی تھی ۔ میں نے اپنے آ نسو اپنے اندر اتار لیئے ۔ جہاں گلاب کِھلتے تھے وہاں زردیاں کھنڈی تھیں ۔ رنگت کی ساری سرخی اڑ کر پیلاہٹ میں بدل چکی تھی باہر درختوں پہ لگے ڈھیروں پھولوں کی طرح بالکل املتاس کا پھول ہی لگ رہی تھی ۔ دروازے کی آ ہٹ پہ آ نکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور ایکدم اٹھ کر بیٹھ گئی میری آ نکھوں سے ریلا نکلا اور سمندر بننے لگا گلے میں آ نسوؤں کا پھندہ سا پھنسنے لگا ۔ اپنے کسی عزیز کو اسپتال کے بیڈ پہ دیکھنا بہت ہی کرب انگیز ہوتا ہے مجھے سالوں پہلے ابّا کی بیماری اور انکا کبھی ٹھیک نا ہو سکنا یاد آ گیا جب ابّا پہلی بار ایڈمٹ ہوئے تھے اور میں انہیں دیکھنے ہوسپٹل گئی تھی تو ایسے ہی دل پھوٹ بہا تھا ۔ اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے بے اختیار آ نسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا ۔ وہ مجھے یوں تسلی دینے لگی جیسے ہاسپٹل کے لیبر وارڈ میں پہلی بار ملی تھی اور جیسے بیمار وہ نہیں میں ہوں ۔ بے وقوف کیوں رو رہی ہو ۔اس نے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ دیکھنا میں دنوں میں ٹھیک ہو جاؤں گی ۔ پتہ نہیں مجھے یا خود کو بہلا رہی تھی۔ آ نٹی نے بتا کے بھیجا تھا فرحین کچھ نہیں کھا رہی کوشش کر کے کچھ کھلا دینا ۔۔۔۔ میرے اصرار پر آ دھا کپ یخنی پی لی اور زبردستی تھوڑا سا سیب بھی کھا لیا ۔۔۔اگرچہ احتجاج کرتی رہی کہ بالکل دل نہیں چاہ رہا ۔۔۔۔ کچھ تھوڑی سی رونق آ گئی تھی اب اسکے چہرے پہ ۔۔۔ ہم بہت دیر تک باتیں کرتے رہے اور جب وہ دواؤں کی غنودگی میں ہوں ہاں کرنے لگی تو میں لوٹ آ ئی ۔ اب گھر دور تھے تو پہلے کی طرح بھاگم بھاگ والی پہنچ نہیں رہی تھی ۔
جس دن اسکی پہلی بار کیمو ہونی تھی میرا دل بہت گھبرا رہا تھا ۔۔۔۔ آ نٹی اسکے ساتھ ہی نوری ہوسپٹل گئیں ۔۔۔۔ تین چار دن کے بعد واپسی ہوئی چل کر گئی تھی ایمبولینس میں واپس آ ئی ۔ میں بہت دیر تک ہمت جمع کرتی رہی اور پھر لڑکھڑاتے قدموں سے چلی ہی گئی باہر لیٹی ہوئی تھی انصر بھائی نے بتایا فرحین آ پ کو بہت یاد کر رہی ہے ۔ اسکی امی اور بہن بھی آ ئی ہوئی تھیں ۔ واش روم جانا چاہتی تھی مگر اٹھنے کی بالکل ہمت نہیں تھی بمشکل سہاروں سے لیجایا گیا ۔۔۔واپس آ ئی تو زیادہ نڈھال تھی میں اسکے ہاتھ اور ٹانگیں دھیرے دھیرے سہلانے لگی ۔ وہ بار بار منع کرتی رہی ۔ مجھے پھر اپنا ہوسپٹل والا وقت یاد آ گیا ۔۔۔ دو چار۔ چمچ یخنی زبردستی پلائی میں نے جب وہ سو گئی تو میں بھرے دل سے لوٹ آ ئی ۔
تیسری بار کیمو میں اسکے سارے بال جھڑ گیے میں ملنے گئی تو رومال باندھا ہوا تھا سرپہ مجھے اسکا ریشمی چمکیلے گھنے بالوں والا سر یاد آ رہا تھا ۔ بیماری کتنی ظالم چیز ہے انسان کا سب کچھ چھین لیتی ہے ۔ اب کسی بھی وقت اسکی طبیعت ایکدم خراب ہو جاتی فوری طور پہ آ کسیجن لگوانے سے چند گھنٹوں بعد سنبھلتی ۔ پھر اس روز کی کِل کِل سے تنگ آ کےانصر بھائی نے آ کسیجن سلنڈر گھر میں ہی رکھ لیئے ۔۔۔۔۔ اب طبیعت خراب ہوتی تو فوری آ کسیجن ماسک لگ جاتا ۔ میں تقریبا روز ہی اسے دیکھنے جاتی ۔ گھر کے کاموں کےلئے اس نے میڈ رکھ لی تھی مگر سارا کام اپنی ہدایت میں کرواتی ۔ ایک ایک وقت میں اسے مٹھی بھر ٹیبلٹ کھانی ہوتیں ۔ اسکی امی جا چکی تھیں گاؤں سے ایک لڑکی بھیج دی جو فرحین کو گھڑی کی سوئیاں دیکھ کر میڈیسن کھلاتی ۔ وہ اتنی کمزور ہوچکی تھی کہ شیشے یا اسٹیل کا خالی گلاس بھی بھاری ہونے کی وجہ سے نہیں اٹھا سکتی تھی ۔ دواؤں کی گرمی سے شدید پیاس لگتی تو مارے نقاہت کے برابر لیٹے انصر بھائی کو آ واز تک نہیں دے سکتی تھی ۔ ہلکے پھکے پلاسٹک کے گلاس میں آ دھے سے بھی کم مقدار میں بھرا پانی اسکی سائیڈ ٹیبل پہ دھرا رہتا تاکہ شدید پیاس سے جاں بلب نا ہو ۔۔۔۔
ہماری وہ دوستانہ بیٹھک اور بے فکری اب خواب خیال ہو گئی میں جاتی تو اکثر وہ پلانز چھیڑ دیتی جو ابھی ادھورے تھے ۔ اٹالین ڈو سے بنے پھول جنکی ترتیب ابھی باقی تھی جنکی پتیاں ہم نے اپنے ہاتھوں سے گھڑی تھیں ۔ اور ہر پتی میں ہمارے مشترکہ قہقہے اور سنہری گپ شپ بھی گندھ گئی تھی ۔ وہ چینی کی سفید نازک پلیٹیں جنہیں ہم نے بلیو پینٹ سے باریک ڈیزائن کرنا تھا ۔ وہ اورنج شرٹ جسکے گلے پہ ہم دونوں نے گولڈن موتی ستارے لگا کر آ نے والی عید پہ پہننا تھا بس تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ تو سب ادھورے کام مکمل کرنے ہیں ۔ مگر وہ کبھی ٹھیک نہیں ہو سکی ۔ آ خری بار اسے زندہ تب دیکھا جب میں سارہ کے وائرل انفیکشن کے سبب اسے لیکر ایڈمٹ تھی اِنہوں نے مجھے بتایا روم نمبر 6 میں فرحین بھابھی کو رات لایا گیا ہے سانس لینے میں شدید تنگی محسوس کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔ تم دیکھ آ ؤ جب میں دستک دے کر کے اندر گئی تو بیڈ پہ چت لیٹی ہوئی تھی اسکا روشن کتابی چہرہ بری طرح سوجا ہوا تھا ۔۔۔۔ دونوں بازو پہلوؤں پر سیدھے پڑے تھے ۔ سفید ہاتھوں کے کنول کٹورے اب باسی پھولوں کی طرح مرجھائے سے معلوم ہو رہے تھے ۔ مومی مخروط نما انگلیاں دراز میں رکھی پرانی موم بتیوں کا پیکٹ سا محسوس ہو رہی تھیں ۔۔۔ فرحین کیسی ہو میں نے دھیرے سے اسکا ہاتھ تھاما ۔۔۔۔۔ اللہ کا شکر ہے بہت بہتر ہوں رات طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تھی سانس لینے میں شدید دشواری تھی مگر اب بالکل ٹھیک ہوں ۔ اتنا سا بولنے پر ہی اسکی سانسیں دشوار ہو رہی تھیں۔ میں نے ایک بھر پور نظر اسکے چہرے پر ڈالی شاید کوئی پرانی شوخی ، کوئی روشن شرارت وہاں ٹہری ہو ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی امید ، زندگی کی کوئی رَمق کسی لکیر میں چھپی ہو ۔ مگر وہ تو مسکرانا بھول چکی تھی وہاں ایک اجنبی ، پھیکا سا چہرہ کسی پرانی یاد یا حوالے کے بغیر صاف سلیٹ محسوس ہو رہا تھا ۔ تم جلدی ٹھیک ہو جاؤ گی ۔۔ میں نے اپنی کھوکھلی ، مایوس اور اجنبی آ واز اپنے کانوں میں محسوس کی ۔۔۔۔ مگر اسکی ، انشاءاللہ ، بہت پرجوش اور بھرپور تھی ۔ وہ جینا چاہتی تھی ۔ جینے کی شدید خواہش رکھتی تھی اس نے کبھی کوئی وصیت نہیں کی کیوں کہ وہ ابھی مرنا نہیں چاہتی تھی ۔ شدید بیماری کے دنوں میں بھی اسے یقین تھا کہ وہ مر نہیں سکتی ۔۔ اس نے اپنے بچوں کے بارے میں بڑے خواب سجا رکھے تھے دل میں ۔ وہ اپنے بچوں کے منہ میں اپنے ہاتھ سے نوالے دینا چاہتی تھی ۔ بچوں کو اپنی آ غوش کی گرمی اور گھیرے میں بھرنا چاہتی تھی ۔ انکی کم عمری کی معصومیت کو مامتا کا بھرپور اعتماد دینا چاہتی تھی ان کو انجینئر بنانا چاہتی تھی مگر اس ظالم بیماری نے اسکے سارے ارمان اسکے اندر ہی دفن کر دیئے تھے ۔
اس روز جمعہ تھا جب اسکے جانے کی اطلاع آ ئی ۔ میں رات ہی تو دیکھ کر آ ئی تھی چپ سی تھی جیسے اب کبھی نا بولے گی ۔ رات بھر بے چین رہی سو نہیں سکی ۔ کل وقتی میڈ کو ہدایات دیں کہ پلاؤ بنا لو ساتھ میں رائتہ آ ج جمعہ ہے سب جلدی واپس آ جائیں گے ۔ میں بھی تھوڑا سا پلاؤ ہی کھاؤں گی آ ج ۔ پھر مجھے بہت لمبا سا ، بہت گہری نیند سونا ہے ۔ اور اگر ابھی مجھے نیند آ جائے تو اٹھانا نہیں ۔ میڈ کھانا بنانے میں مصروف ہو گئی تو فرحین کروٹ لے کر سو گئی کبھی نا اٹھنے کے لیئے ۔۔۔۔
میں آ خری دیدار کے لیئے گئی ۔ چولہے پہ اسکی ہدایت میں بنا پلاؤ دَم پر منتظر تھا موت کی بھیانک زردی درو دیوار پر کسی آ سیب کی مانند کھنڈی تھی ۔ ہر چیز خاموش اور سوگ میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ ریڈ بیڈ شیٹ پہ اس کا بے جان دھان پان سا وجود دھرا تھا ان تین سالوں میں سارا خون نچڑ چکا تھا بس ایک پیلا زرد سا وجود پڑا تھا ہمارے جانے تک اسپتال سے ایمبولینس بھی آ گئی اسکی ڈیڈ باڈی اسکے آ بائی شہر لے جانے کو ۔۔۔۔۔ اپریل کی پچیس تاریخ تھی آسکے جانے کی اسی موسم میں اچانک ملی تھی اسی موسم میں چپ چاپ بچھڑ گئی ۔ آ ج پانچ سال ہوگئے اسے بچھڑے ۔۔ بھلا پینتیس چھتیس سال کو ئی عمر ہوتی ہے دنیا سے جانے کی ۔ لگتا ہے صدیاں بیت گئیں ۔۔۔۔ مگر آ ج باہر بالکل ویسا ہی موسم ٹہرا ہوا ہے ۔ رات آ نے والے آ ندھی نے ہر چیز مٹی مٹی کر دی ہے ۔ آ موں کی چھوٹی چھوٹی کیریاں پورے لان میں بکھری پڑی ہیں ۔ ڈیزی ، پینسی ، ڈاہلیا اور پوپی کے پھول اپنے آ خری دموں پر ہیں آ م کے سوکھے زرد پتوں نے لان میں خزاں سی بنا دی ہے یا شاید ایک قیامت ہے جو آ ج کہیں اندر ہی اندر بپا ہے

Published inزارا مظہر