Skip to content

الہام

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 33
الہام
علی زبیر، کراچی، پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تپتی جھلساتی گرمی سے فضا دھواں دھواں سی تھی۔ وہ سفری بیگ پشت پر لادے خود کو گھسیٹ رہا تھا۔ ناتوانی بھی کوئی ناتوانی تھی، دائیں رکھتا تو قدم بائیں بہک جاتا، بائیں رکھتا تو شمال و جنوب قدموں میں آن گرتے۔ وہ کٹی پتنگ کی مانند ڈول رہا تھا۔ جسم میں گز بھر چلنے کی سکت نہیں تھی لیکن پیروں تلے شاید کوئی بے قابو اُڑن کھٹولا ہی تھا کہ ڈولتے ڈالتے بھی اس کا سفر تیزی سے کٹ رہا تھا، لمحوں میں منظر بدل رہے تھے، جیسےخوف سے بےحال گرگٹ شکاری کو دیکھ کر اپنا رنگ بدلتا ہے۔ اُس کی زبان بھی اُس کی فکر کی طرح ہی کالی تھی، گٹر سے مشاہداتی تھوتھنی نکالتی ہوئی چھچھوندر کی طرح سیاہ۔ یہ جو چاروں طرف دھبّوں کی مانند سیاہی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔ یہ جو راکھ بکھری ہوئی تھی ۔۔۔ یہ جو سرمئی سی مٹی کے ڈھیر تھے۔۔۔ یہ اُس کی زبان ہی نے تو اُگلے تھے۔ اُس نے جو کہا وہی ہوا، اُس نے جو پیشین گوئی کی وہ حرف بہ حرف نہیں بلکہ زیر بہ زبر پوری ہوئی۔
کیا وہ مجرم ہے؟ کیا وہ قاتل ہے؟ کیا اُس نے کروڑوں لوگ قتل کردیے؟ کیا وہ وہی ہے جس نے اپنی دھرتی کو بانجھ کردیا؟ وہ اپنی جان نہ بچاتا تو کیا یہ اَن گنت جانیں بچ سکتی تھیں؟ سوالات اُس کے سینے سے دماغ میں ایسے منتقل ہورہے تھے جیسے کوئی کھولتی ہوئی بھٹی سے فولادی لاوے کی کُٹھالیاں بھر بھر کے سانچے میں انڈیل رہا ہو اور سوچ کی زہر آلود لہریں اِس لاوے کو اُس کے رُویں رُویں میں منتقل کر رہی ہوں۔ ارے ارے! سامنے کچھ ہِل جُل دکھائی دے رہی ہے۔
وہ تیزی سے اُس جانب بڑھا۔ وہاں کچھ مرد اور کچھ عورتیں تھیں، جن کے جسم پر دھجیاں اور چیتھڑے لپٹے ہوئے تھے۔ عورتوں کا رنگ یقینا گورا ہی ہوگا مگر گرد اور راکھ نے اُن کے جسم پر سیاہی کی غیر متزلزل تہہ چڑھائی ہوئی تھی ۔اُن کے سوکھے ہوئے زانو اور ڈھلکے ہوئے پستان عریاں ہونے کے باوجود لباسِ خاک کے پردے میں تھے۔ مَردوں کے بال اور داڑھیاں جھاڑ جھنکاڑ کی مانند بڑھے ہوئے تھے۔ ان سب کی آنکھیں ویران تھیں، مُردوں سے بھی زیادہ ویران، بے رونق، بانجھ اور بنجر۔ وہ ابھی اُن کا جائزہ ہی لے رہا تھا کہ بجلی کوند گئی، آنًا فانًا ہی عورتوں نے اُسے دھکا دیا اور دو مرد اُس کے سینے پر چڑھ بیٹھے، اور تیسرا مرد اپنے خون آشام خنجر سے اُس کا نرخرہ کاٹنے کے درپے ہوگیا۔ یک دم منظر ہی بدل گیا، مُردوں کی طرح بے جان نظر آنے والے یکایک پتنگوں کی طرح تھرکنا شروع ہوگئے۔ اُن کی ویران آنکھوں میں مُردَنی کی جگہ رقصِ وحشت نے لے لی۔ خنجر تلے نرخرہ اُس کا تھا مگر ذبح ہوتے ہوئے بیل کی طرح آنکھیں اُن کی ابل رہی تھیں۔ پھرخنجر پر دبائو بڑھاتے ہوئے ایک مرد سوالیہ انداز میں چیخا;
’’پاک بھارت؟‘‘
’’بول! پاک بھارت؟‘‘ ایک عورت بھی چلّائی۔ دو عورتیں اُس کی ٹانگوں پر چڑھی بیٹھی تھیں۔ایک مرد اس کے پیٹ پر اور ایک خنجر بدست اس کی چھاتی پر چڑھا بیٹھا تھا، ایک ایک مرد نے اُس کا ایک بازو دبوچا ہوا تھا۔ وہ سمجھ نہ سکا کہ وہ کیا پوچھ رہے ہیں۔ اِس اجڑے ہوئے دیار میں انسانوں سے اُس کی یہ پہلی مڈبھیڑتھی۔ اُسے معلوم تھا یہاں کونوں کھدروں میں اب بھی کچھ لوگ موجود ہیں،وہ اِنہی سے تو ملنے آیا تھا، اِنہی سے تو وہ حال بانٹنے آیا تھا۔ انہی کو تو امانت لوٹانے آیا تھا۔ وہ بالکل بھی خوف زدہ نہیں ہوا، اُس نے ہکلاتے ہوئے کہا؛
’’میں سمجھا نہیں۔۔۔ کیا پاک بھارت؟‘‘
’’ابے بول پاک بھارت؟‘‘ خنجر اب اُس کی کھال کی اوپری جھلی میں پیوست ہوچکا تھا۔ اُسے اور کچھ تو سمجھ نہیں آیا، بس اُس کے دل سے بے ساختہ وہی آواز نکلی، وہی جس نے اُسے وطن فروش غدار کہلوایا تھا؛
’’پاک بھارت دوستی زندہ باد‘‘ اُس کی زبان سے یہ جواب کیا ادا ہوا، اُن کے تنے ہوئے اعصاب یک لخت ڈھیلے پڑگئے، سب بہ یک آواز چلّا اُٹھے؛
’’پاک بھارت!‘‘
اُس نے پوری قوت سے جواب دیا،’’ زندہ باد۔‘‘، انھوں نے اُسے فورًا ہی چھوڑ دیا۔ وہ حیران نظروں سے اُس کے مکمل لباس اور صاف ستھرے وجود کو دیکھ رہے تھے کہ وہ اُن جیسا بالکل نہیں دِکھتا تھا۔ اب اُن کی بیتاب نظریں اُس کے بیگ پر جمی تھیں۔ نظروں میں چھُپا پیغام وہ سمجھ گیا تھا۔ اُس نے جلدی جلدی بیگ کاندھے سے اتارا، اُس میں سے کچھ بسکٹ کے پیکٹ نکال کر انھیں دیے، وہ چیل کوّوں کی طرح جھپٹے،اور ایک ایک پیکٹ لے کر جھومتے لہراتے، نعرے لگاتے ایک جانب دوڑ گئے؛
’’پاک بھارت ۔۔۔۔ زندہ باد۔۔۔۔۔ پاک بھارت زندہ باد۔‘‘
وہ،’’رکو! رکو!‘‘ کی صدائیں لگاتا رہ گیا مگر وہ تو اِس طرح دوڑے تھے جیسے بلی باورچی خانے سے مچھلی کا قتلہ چرا کر بھاگتی ہے۔ اُس نے بھی دانتوں سے ایک پیکٹ پھاڑا اور وہیں بیٹھ گیا۔ وہ دس سال بعد وطن لوٹا تھا۔ اس سانحے کو بیتے ایک سال بیت چکا تھا۔ یہ پورا سال اُس نے امریکا میں کانٹے نگلتے ہوئے گزارا۔ وہ تو اُسی لمحے واپس آجاتا مگر پوری دنیا نے پاکستان کے لیے اپنی پروازیں بند کردی تھیں۔ کوئی انسان پاکستان جانے کو تیار نہ تھا۔ ایک سال بعد کسی ایئر لائن نے پاکستان جانے کی حامی بھری تو اُس کے بعد بھی فلائٹ بھرنے میں پورے دو ماہ صرف ہوئے۔ دعائیہ تقریبات اور شمعیں روشن کرنے والے لاکھوں تھے مگر کوئی پاکستانی پاکستان جانے کو تیار نہ تھا حالانکہ ایک ثروت مند نے پوری پرواز کا کرایہ یک مشت ادا کردیا تھا اور اِسی پر بس نہیں کی بلکہ مسافروں کے تمام اخراجات بھی اُس نے اپنے ذمے لے لیے تھے۔ ایک اور دیوانے مستانے نے ہر ہر مسافر کے لیے ایک ہزار ڈالر نقد اور پانچ سو ڈالر کے تحائف ہمراہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بات اِتنی بڑھی کہ ایک خوبرو ماڈل نے پہلے مسافر کے ساتھ شب گزارنے کا وعدہ سرِعام کر ڈالا تھا۔ اُسے یاد آیا کہ لاس اینجلس کی سڑکوں پر ایک ملین مارچ بھی ہوا تھا، بے جان کتبوں، بے صدا نعروں، بے نشاں قدموں، بے وطن امریکیوں کا ملین مارچ۔ ان کی اکثریت نے پاکستان اور ہندستان کا نام یا تو اپنے ماں باپ کی زبانی سنا تھا یا ٹی وی اسکرین یا کسی اخبار میں پڑھا تھا۔ وہ سب اس فضول سے لانگ مارچ کے لیے مجبور کردیئے گئے تھے، جیسے گندم کا دانا پھینک کر زمین کو مجبور کردیا جاتا ہے کہ اب اِسے اُگا! اس معاشرے کا المیہ ہی یہ تھا کہ وہاں لوگ گلدستہ دینے اور شمعیں جلانے کا کوئی بہانہ تلاشتے ہیں۔ کچھ ہی دن قبل اٹلی میں ایک عورت نے پہلے اپنی بلی کو ذبح کیا اورپھر آٹھویں منزل سے کود کر خودکشی کرلی۔ اس واقعے کا امریکا میں بے پناہ دُکھ منایا گیا۔ لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اطالوی نزاد امریکیوں سے مل مل کر تعزیت کرنے لگے۔ ایک مشہور اطالوی فوڈ ریستوران کے باہر تو لوگوں نے گلدستوں اور شمعوں کے ڈھیر لگا دیے۔ کوئی اطالوی حجام تھا یا ڈرائی کلینر ،کوئی دفتری ساتھی یا پڑوسی ہر ہر امریکی نے اپنے شناسا اطالوی نژاد امریکی سے اس واقعے پر تعزیت بھی کی، اس پر تبادلہ خیال بھی کیا اور یہ جاننے کی کوشش بھی کی کہ یہ اندوہناک واقعہ کیونکر پیش آیا ہوگا؟ کیا وہ عورت بلی کی خوراک کا بندوبست نہیں کر پا رہی تھی؟ شاید وہ بلی پڑوسیوں کو تنگ کرنے لگی تھی اور وہ عورت شکایات سے تنگ آ گئی تھی؟ ہزاروں تجزیے اور ہزاروں سوال اٹھائے گئے تھے۔ اطالوی کمیونٹی کا کوئی فرد ایسا نہ بچا ہو گا کہ جس سے اس وقعے کی تعزیت نہ کی گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر یہ تو بہت بڑا واقعہ تھا۔ ایک بلی اور ایک انسان کی موت کا واقعہ نہیں تھا ،کروڑوں لوگوں کی موت کاالمیہ تھا۔ وہاں لاکھوں انڈین اور پاکیز بستے تھے۔ انڈین کمیونٹی اور پاکی کمیونٹی کا لوگوں سے میل جول فطرتا بھی اور عادتا بھی کچھ زیادہ ہی تھا۔ لوگوں کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ یہ بالکل ایک جیسا دِکھنے اور ایک جیسا بولنے والے لوگ آپس میں کروڑوں کو قتل بھی کر سکتے ہیں۔ یہ تو فیملی سسٹم پر، مل جل کر رہنے پر یقین رکھنے والی کمیونٹیز ہیں! یہ تو اپنی دھرتی سے بہت محبت کرنے والے جذباتی لوگ سمجھے جاتے ہیں تو پھر یہ لوگ کیسے خود ہی اپنی دھرتی کو خاک اور خون میں نہلا سکتے ہیں؟ انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ انڈین اور پاکی کمیونٹیز کے لوگ اپنے دیس میں رہنے والے اپنے ماں باپ کے رشتے داروں اور دوستوں سے کتنے بیزار ہیں؟ جب بھی کسی کا فون آتا ہے تو بس ڈالرز کے لیے، بس امریکی ویزے کے لیے، بس ایپل فون بھجوادو، بس فلاں چیز یہاں نہیں ملتی، بھجوادو! وطن سے آنی والی ای میلز میں کوئی نامہ بری، کوئی دلداری کچھ نہیں بس ’’سی ویز‘‘ اور سفری کاغذات کی بھرمار ہوتی۔ امریکا میں پیدا ہونے والی لڑکیوں کی تو خاص فکر کی جاتی تھی۔ نہ جانے انھیں کون اطلاع دے جاتا کہ امریکی بیٹیوں کی جوانی سے ان کے پاکستانی ماں باپ لرزہ بہ اندام ہیں، ان کی بے راہ روی کے خوف سے ہلکان ہوئے جاتے ہیں اور ان کا خوف تو بس ہندستان اور پاکستان میں بسنے والا کوئی سپوت ہی دور کر سکتا ہے۔ بیٹیاں ابھی دس سال ہی کی ہوتیں کہ ماں باپ کے پاس وطن سے آئے ہوئے رشتوں کی قطار لگ جاتیں اور سب کا دعویٰ ایک ہی تھا کہ ان کا بیٹا انتہائی فرمانبردار، پابند صوم صلاۃ یا پوجا پاٹ دین دھرم کا ماننے والاہے، ساس سسر کو ماں باپ سے زیادہ عزت و احترام دے گا لیکن یہ سب راگ پاٹ آزمائے ہوئے تھے۔ امریکی انڈین اور پاکیز ہندو پاک سے کسی قسم کا رابطہ تو درکنار شناخت بھی وابستہ نہیں رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا کیا جائے! زِین اور زمین کبھی جان نہیں چھوڑتیں، مغلوں کو منگولیا سے نکلے ہزار سال بیت گئے، دسیوں دیس بدل گئے، کسی کی کوئی بولی تو کسی کی کوئی زبان مگر جو بھی جہاں اور جس جگہ ہے وہ آج بھی مغل ہی ہے۔ سو یہ ملین مارچ کرنا اُن کی مجبوری تھی۔
ملین مارچ کی حد تک رواداری ان ہاں روا تھی مگر وطن جانے والی پہلی فلائٹ کے پیٹ کا ایندھن بننے کو وہ تیار نہ تھے۔کہنے کو تو یہ ملین مارچ تھا، لیکن کیا ہندستانی تو کیا پاکستانی پورا امریکی معاشرہ امڈ آیا تھا۔ ملین مارچ نے بلین مارچ کی شکل اختیار کرلی تھی۔ وہ بھی اس بلین مارچ میں شامل تھا۔ اس نے بہت کوشش کی کہ وہ پہلے مسافر کے طور پر اپنا نام لکھوائے، وہ بہت چیخا چلایا مگر اس کی جانب کوئی متوجہ نہیں ہوا تھا۔ وہ ایئرلائن کے دفتر بھی گیا کہ مجھے ٹکٹ دو مگر اُسے نہ جانے کیوں سنا ہی نہیں گیا، شاید اُسے دیکھا ہی نہیں گیا۔ وہ دیوانہ وار ادھر ادھر دوڑا تھا، اس نے خودکشی کی دھمکی بھی دی تھی مگر کسی نے اُس کی سنی ہی نہیں۔کوئی مسافر ہندو پاک جانے کے لیے تیار نہ تھا جبکہ وہ جانا چاہتا تھا تو اُسے کوئی سننے دیکھنے کے لیے تیار نہ تھا۔
جب کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے تو سب سے پہلے ایک ضعیف العمر انڈین پارسی جوڑے نے اپنا نام لکھوایا۔ پھر ضلع کرک کے ایک پٹھان کو جوش آیا، کراچی کی ایک پنج رُکنی آغا خانی فیملی کی محبت کا جام چھلکا، کلکتہ کے کچھ بنگالی اور کچھ سردار جی سامنے آئے۔ کچھ تحقیق دان تھے اور کچھ صحافتی اداروں کے لوگ اور ایک دنیا کا مانا تانا فوٹو گرافر اور حفاظت کے پیش نظر جدید اسلحے سے لیس دس کمانڈوزٍ۔ یوں مل ملا کے ستر ہندستانیوں اور پچاس پاکستانیوں کو لے کر پرواز روانہ ہوئی۔ پرواز کی پہلی منزل رحیم یار خان اور دوسری منزل چندی گڑھ تھی، لیکن وہ ان مسافروں میں شامل نہیں تھا۔ جب طیارہ رن وے پر دوڑنا شروع ہوا تو وہ ساری سیکیورٹی توڑتا ہوا طیارے تک پہنچ گیا تھا۔ اس نے دوڑتے ہوئے طیارے کے پہیوں سے لٹکنے کی ناکام کوشش کی، وہ بہت دور تک گھسٹتا ہوا بھی گیا اور پھر آخر کار وہ لہولہان ہو کر بیہوش ہوگیا تھا۔ جانے والے جا چکے تھے مگر وہ وہیں کا وہیں پڑا رہ گیا۔
کسی نے شاید سچ ہی کہا تھا کہ سچی لگن کسی ضابطے اور قاعدے کی محتاج نہیں ہوتی وہ اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے، اُسے نہیں معلوم کہ اُس کی لگن نے کیسے راستہ بنایا لیکن وہ اپنے وطن تک پہنچ ہی گیا تھا۔ لاس اینجلس ایئرپورٹ پر لاکھوں لوگ الوداع کہنے آئے تھے لیکن یہاں خوش آمدید کہنے والا کوئی موجود نہیں تھا۔ طیارہ بھی اپنی مدد آپ کے تحت اُتارا گیا۔ ایئرپورٹ کی عمارت بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی تھی، بارود سے گہنائے ہوئے پلستر پر گولیوں اور بموں کے نشانات پھنسی پھوڑوں کی طرح نمایاں تھے لیکن رن وے قابل استعمال تھا۔ دور دور تک تاخت و تاراج کھیت نظر آرہے تھے یا جا بجا سیاہ موبل آئل کے بڑے بڑے دھبے۔ ایئر پورٹ کی عمارت پر بس ایک چیز صاف ستھری اور قدرے نئی نظر آرہی تھی اور وہ تھا کپڑے کا ایک بڑا سا بینر جس پر لکھا تھا؛
’’ پاک ہند دوستی ہمالیہ سے بلند ہے۔‘‘
طیارہ رُکتے ہی سب سے پہلے کمانڈوز اترے اور انھوں نے پوزیشنیں سنبھالیں۔ اوکے کا سگنل ملتے ہی پاکستانی مسافر اتر آئے، ان کے ساتھ جلدی جلدی ڈھیروں تحائف اور خوراک سے بھرے ہوئے تھیلے اتار پھینکے گئے۔ پاکستانیوں نے مڑ کر دیکھا کہ شاید کوئی محقق،صحافی،فوٹو گرافر بھی اترے مگر کوئی نہ اترا۔ آخر کوئی کیوں اترتا؟ ان سب کی تحقیق اور صحافت کے لئے ہندستان قدرے بہتر جگہ تھی کیوں وہاں برائے نام ہی سہی مگر حکومت کے کچھ خدوخال بچے تھے لیکن پاکستان میں ایسا کچھ نہ تھا، ان کے لیے یہاں اترنا تو ایسے ہی تھا جیسے’’ زومبیز‘‘ کی سرزمین پر تازہ خون سے بھرے ہوئے انسانوں کا اترنا۔ اُس کے علاوہ جتنے پاکستانی یہاں آئے تھے وہ سب کے سب ضعیف العمر،چل چلاوٗ والے لوگ تھے،ی عنی وہ دفن ہونے ہی یہاں چلے آئے تھے یا پھر وہ ابھی تک جذباتی احمق تھے جو بلین مارچ اور میڈیا کی کمپین کے جوش میں آ کر گردن دینے چلے آئے تھے۔ وہ لوگ اترے تو گارڈز نے انھیں حصار میں لے لیا، اسی دوران طیارے کا اکلوتا فوٹوگرافر طیارے کے عرشے پر آیا اور اس نے گارڈز سمیت پاکستانی مسافروں کے کھٹا کھٹ کئی فوٹو بنائے اور طیارے میں لَوٹ گیا کیوںکہ اگلے روز دنیا بھر کے اخبارات میں یہ تصاویر اس عبارت کے ساتھ شائع ہونے والی تھیں؛
’’بہادر امریکی ایئرلائن کا شاندار کارنامہ، سیکیورٹی اور تابکاری کے شدید خطرات کے باوجود پاکستان سے پہلا رابطہ بحال کرلیا گیا۔‘‘
فوٹو گرافر کے ساتھ ہی گارڈ بھی انتہائی چوکنے انداز میں طیارے میں سوار ہوئے اور طیارہ یہ جا وہ جا!!! جب تک طیارہ نظروں سے اوجھل نہ ہوا وہ لوگ گردو پیش سے بے فکر، بے نیاز طیارے کو تکتے رہے ہاتھ ہلاتے رہے۔ طیارہ کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہوتے ہی اُن کے گرد میلے کچیلے دیہاتی آن کھڑے ہوئے؛ چھری، چاقو، درانتی، کلھاڑی، سریّے ہاتھوں میں لئے ہوئے، میلے کچیلے تہہ بند، پرانی قمیضیں پہنے، شکن آلود خاکی سے رومال سر پر لپیٹے ہوئے، چہرے پچکے ہوئے اور پیٹ کمر سے لگے ہوئے۔ امریکا سے آئے ہوئے پاکستانیوں کے پاس گولیوں سے بھرے ہوئے خود کار ہتھیار موجود تھے، جنہیں وہ چلانا بھی جانتے تھے لیکن کرک کے خان صاحب نے پہل کی۔ انہوں نے بڑی خوشی خوشی، فخریہ انداز میں ڈالرز کی اچھی خاصی موٹی گڈی دیہاتیوں کی جانب اچھال دی۔ خان صاحب بالکل ویسے ہی خوش ہو رہے تھے جیسے لوگ کبوتروں کے سامنے دانے سے بھری ہوئی چھابی پلٹ کر ہوتے ہیں۔ ایک دیہاتی نے وہ گڈی اٹھائی ،ڈالر دیکھے اوراستعمال شدہ ٹشو پیپر کی طرح لاپروائی سے ایک جانب پھینک دیے، پھر وہ عجیب مضحکہ خیز درشتی سے بولا؛
’’سب سامان ادھر رکھو اور بھاگ جاوٗ۔‘‘ پھر اُس نے زور دار نعرہ لگایا،’’پاک بھارت دوستی!‘‘
اس کے سب ساتھیوں نے بڑے جوش و جذبے سے جواب دیا؛’’زندہ باد،‘‘’’ہندو پاک دوستی!‘‘ ۔۔۔۔’’زندہ باد۔‘‘۔۔۔۔۔’’بھائی ہیں بھائی ہیں!‘‘۔۔۔۔۔’’ہندستانی بھائی ہیں!‘‘۔۔۔۔۔’’چوہدری نہ مہاراج!‘‘۔۔۔۔۔۔’’اب کرے گی خلقت راج۔‘‘۔۔۔۔’’نہ غم چلے گا نہ بم چلے گا!‘‘۔۔۔۔’’مظلوموں کا دَم چلے گا۔‘‘۔۔۔۔’’ہم سب کا دین دھرم!‘‘۔۔۔۔۔’’ایک خدا ایک صنم!‘‘
ایک نعروں پر نعرے لگا رہا تھا اور بقیہ اچھل اچھل کر جواب دے رہے تھے۔ کئی منٹ یہ تماشا چلتا رہا۔ وہ پچاس لوگ خاموش سہمے کھڑے رہے۔ نعروں کی آواز سن سن کر درانتیاں، چھریاں، سریّے لہراتے ہوئے جوق در جوق مزید دیہاتی دوڑے چلے آ رہے تھے، کچھ ہی دیر میں یہ تعداد سینکڑوں میں پہنچ گئی۔ انھوں نے خوراک کے سارے تھیلے اور اپنا سب سازو سامان ان کے حوالے کردیا تھا۔ چاکلیٹ، بھنا ہوا گوشت، کھانوں کے ڈبے، بسکٹ، دودھ،ڈبل روٹیاں اورجانے کیا کیا سامان تھا جو ان دیہاتیوں نے سال بھر کے بعد دیکھا تھا، وہ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے، چھین جھپٹ رہے تھے، تھیلے ایسے پھاڑ رہے تھے جیسے کئی دن کے بھوکے درندے شکار کی کھال ادھیڑ ڈالتے ہیں۔ وہ ان پچاس مسافروں کی گنتی میں شامل نہیں تھا لیکن وہ وہاں موجود تھا، وہ یہ ساری دھینگا مشتی دیکھ رہا تھا، دنیا یہ منظر آج دیکھ رہی تھی وہ دس سال پہلے اِسی دھرتی پر اپنا یہ بھیانک خواب لوگوں کو سناتا پھرتا تھا مگر گرمی کے مینہ میں چھپا سیلاب کسے دِکھتا ہے۔ سو اُس کی بات کبھی ہنسی مذاق میں اُڑادی جاتی تو کبھی نفرت کے اظہار سے اُسے سمجھا دی جاتی تھی۔ اُسے تو جلد از جلد یہاں سے کراچی پہنچنا تھا، اسے اِن پچاس بوڑھے مسافروں کی کوئی پروا نہیں تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ایک دو دن میں یہ بھی چھری چاقو لے کر گھومیں گے اور یہیں بھوک سے بلک بلک کر مر جائیں گے کیوںکہ یہ اِن دیہاتیوں کی طرح گھاس کے پتے ابال کر نہیں کھاسکتے۔ وہ اس منظر کو یہیں روک کر آگے بڑھ گیا۔ رحیم یار خاں ایئرپورٹ سے باہر جا بجا کاریں گاڑیاں کھڑی تو تھیں مگر صاف لگتا تھا کہ برسوں سے کھڑی ہیں۔ گاڑی چلے بھی تو کیسے،ایندھن کہاں سے آئے گا؟ بندرگاہیں تباہ برباد ہوگئیں،گیس اور تیل کے کنویں جل کر راکھ ہوئے۔ اُسے پیدل ہی کراچی تک جانا تھا، سو وہ چل پڑا۔ وہ محبت کا پرچارک تھا۔ اُس نے نفرتوں کے خلاف عَلم اٹھا رکھا تھا۔ اُسے لگتا تھا کہ وہ کوئی پیغمبر ہے اور خدا نے اُسے پیغام دے کر بھیجا ہے کہ میرے بندوں کو بتائو کہ میرا کوئی بیٹا، بیٹی نہیں لیکن تم سب، سب کے سب میرے بچے ہو۔ انھیں بتاوٗ کہ میرے بچو! میرے عظیم الشان باورچی خانے میں تمام کھانے، تمام پھل، تما م ذائقے صرف تمھاری خوشی اور لذت ہی کے واسطے ہیں۔ خوش رہو، محبت کرو، محبت بانٹو۔ نفرت سے بچو! نفرت ہی تو شیطان ہے۔ یہی تمھاری کھلی دشمن ہے۔ وہ محبت بانٹ رہا تھا، مسکرانا سکھا رہا تھا، کھا کر خوش ہونے اور کِھلا کر خوش ہونے کا فرق لوگوں میں عام کر رہا تھا لیکن بس اِکّا دُکّا لوگ ہی اُس کی بات سننے سمجھنے لگے تھے۔ باقی تو اُسے خبطی ہی سمجھتے تھے۔ پھر اُس پر الہام ہوا کہ یہ چھوٹی چھوٹی نفرتیں ختم نہیں کی جا سکتیں تاآنکہ ان نفرتوں کی جنم کار کو ختم نہ کیا جائے اور وہ تھی دو پڑوسیوں کی نفرت، دو سگے بھائیوں کی نفرت، وہ نفرت تھی پاکستان اور بھارت کی نفرت، ایک دھرتی کے باسیوں کی نفرت۔ اس بڑی نفرت کے سائے تلے چھوٹی چھوٹی تمام نفرتیں پنپ رہی تھیں۔یہ دونوں بھائی سات دہائیوں سے نفرت کو پال رہے تھے،حالانکہ حقیقت تو یہ تھی نفرت انھیںپا رہی تھی۔اُس نے صحافیوں کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا؛
’’ نفرت بھی پالن ہار ہے اور محبت بھی پالن ہار۔ ان میں سے کسی ایک کی بھی گود میں بیٹھ جائو، یہ پرورش شروع کردیتی ہے، گود میں بیٹھنے والا کوئی شخص ہو یا کوئی قوم یہ دونوں بہنیں ایک سا برتائو کرتی ہیں۔ محبت اپنے لے پالک کو علم و ادب، پھول، خوشبو، آسائش، معاشرتی رواداری، اخلاق عظمٰی، احساس، مروت، احسان مندی، امن و امان، عزت و مرتبت کی چوریاں بنا بنا کر کھلاتی ہے اور نفرت بھی اپنے گود بِٹھئیے کی تربیت اور انعام و کرام میں کافی منہمک رہتی ہے۔ وہ اپنے لے پالک کو خاندانی دشمنی، قبضہ گیری، بھتہ خوری، چھری چاقو، قتل، چوری، رہزنی، لوٹا ماری، خوف، بھوک، بدامنی، تلوار، بھاری بھرکم فوج، ایک سے بڑھ کر ایک ہتھیاروں کی بھرمار، میزائل، ایٹم بم،جنگ، خون ریزی اور ذلت و رسوائی کے جھولے میں بٹھا کر خوب ہلکورے دیتی ہے۔‘‘
اگلے دن اُس کے بارے میں چھاپ دیا گیا کہ اُس نے اپنے ملک کو نفرت نگر اور اپنی فوج کو نفرت انگیز قرار دیا ہے۔ اُسے گالیاں بکی جانے لگیں اور اُسے گالی کا جواب مسکراہٹ ہی سے دینا تھا۔ یہی تو اُس کی ڈیوٹی تھی کیونکہ اُسے بتا دیا گیا تھا کہ تیری دھرتی کا ہر دکھ پاک بھارت نفرت کی کوکھ نے جنما ہے۔ اور وہ تو بس جُت گیا اس نفرت کو دور کرنے میں۔ اس نے کتابیں لکھیں، کالم لکھے، لیکچر دیے، سوشل میڈیا پر سمجھانا شروع کیا کہ پاک بھارت نفرت کے خاتمے میں کسی کو پہل کرنی پڑے گی، جو پہل کرے گا وہی محبت کا پیامبر ہو گا تو کیوں نہ ہم محبت کے پیامبر بن جائیں لیکن یہ مسئلہ صرف محبت کا نہیں تھا۔ یہ کسی محبت کے آغاز کی بات نہیں تھی، یہ تو نفرت کو محبت میں بدلنے کی راہ تھی یعنی نفرت سے براہ راست مقابلہ ضروری تھا لیکن وہ تو محبت کا پیامبر تھا، وہ کیسے نفرت سے ٹکرا سکتا تھا، وہ تو کسی سے ٹکرا ہی نہیں سکتا تھا۔جب وہ ٹکراوٗ سے بچنے لگا تو نفرت خود اس سے ٹکرا گئی۔ اُسے انڈین ایجنٹ قرار دیا جانے لگا۔ کہا جانے لگا کہ پاکستانی قوم کی غیرت سُلانے کے لیے اُسے’’ را‘‘ نے تعینات کیا ہے۔ پھر اُس کے لیے زمین تنگ ہونا شروع ہو گئی۔ نفرت موت بن کر اُس پر جھپٹنا شروع ہوئی، وہ بچتا چلاگیا، نفرت نے اُسے مارنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور محبت نے اُس کی حفاظت میں اپنا سب کچھ داو پر لگادیا تھا۔ پھر محبت نے اُس کی انگلی پکڑی اور امریکا لے گئی۔ اُس نے وہاں بیٹھ کر محبت تحریک چلائی۔ اب وہ کھل کر بات کرنے لگا۔ محبت کی باطنی و ظاہری تشریحات میں اُسے بہت آسانی ہوگئی تھی۔ یہاں کچھ ہم خیال ہم وطن میسر آ گئے، جو وسائل فراہم کرنے لگے تھے۔ یہاں اُسے پریم شاستر ملا، وہ اُسی جیسا تھا، اسی کا ہم شکل، ہم خیال۔ اس کی کہانی بھی وہی تھی۔ وہ بھی محبت کا پرچارک تھا۔ وہ بھی دیس سے نکالا گیا تھا۔ اب وہ ایک سے دو ہو گئے۔ اب نفرت دونوں محاذوں پر اُن کے مدمقابل تھی لیکن محبت کو بھی کمک مل گئی تھی۔ دھیرے دھیرے ہند و پاک میں اُن دونوں کا حلقہ بڑھنے لگا۔ پھر وہ ان کی زندگی کا خوبصورت دن تھا جب کراچی اور ممبئی میں بیک وقت پاک بھارت دوستی کے حق میں پھول ہاتھوں میں لے کر شمعیں جلا کر اظہارِ محبت کا مظاہرہ کیا گیا۔ محبت اُس دن خوب مسکرائی، بام و در پر اُس نے اپنے بال پھیلائے، جب واہگہ بارڈر پر اُس نے ایک لطیف انگڑائی لی اور دِلی کی شاہی مسجد میں سجدہ کیا تو نفرت سے یہ سب کہاں دیکھا گیا، ممبئی میں بھی اور کراچی میں بھی محبت کے مظاہرہ کاروں کو جیل میں ٹھونس دیا گیا۔ ایک جگہ کہا گیا تم پاکستانی ایجنسیوں کے ایجنٹ ہو دوسری جگہ کہا گیا تم ‘را ‘ کے ایجنٹ ہو، عجیب بات تھی نفرت کے پاس حوالے بھی نفرت ہی کے تھے۔ وہ ماضی کے انھی دھندھلکوں میں گم رحیم یار خان سے کافی دور نکل آیا۔
وہ بظاہر تو چل ہی رہا تھا مگر اُس کی رفتار کافی تیز تھی۔ وہ جس نکتے پر نگاہ مرتکز کرتا لمحوں میں وہاں پہنچ جاتا۔ جرنیلی سڑک جو کبھی لمبے لمبے سبک خرام ٹرکوں کی آماجگاہ تھی، اَدھ کھائی لاشوں سے اَٹی پڑی تھی۔ ہر کلو میٹر دو کلومیٹر بعد سڑک پر بمباری کا دیا ہوا تحفہ گہرے گڑھے کی صورت میں موجود تھا۔ چھوٹی چھوٹی بستیاں کھنڈرات میں تبدیل تھیں۔ راہ کی نہریں دریا سب خشک تھے۔ بانسری بجاتے ٹیوب ویل سانپوں کے بِل بنے ہوئے تھے، رات کا سناٹا چیرتی ہوئی جھینگر کی سیٹی خاموشی کے بین میں بدل چکی تھی۔ اِکا دُکا لوگوں کی ٹولیاں گھومتی پھرتی نظر آتی تھیں، سہمے ہوئے، اپنے سائے سے بھی خوفزدہ، چھریاں چاقو اور سریّے تھامے ہوئے لوگ۔ جن کھیتوں میں گندم کی سنہری بالیاں چنتے ہوئے دوشیزائیں اٹھکھیلیاں کرتی نظر آتی تھیں وہاں انسانی گوشت سے بیزار لومڑیاں ٹہل رہی تھیں۔ نفرت انتہائی جوبن پر تھی۔ وہ رحیم یار خان سے صادق آباد، پنوں عاقل، سکھر، نواب شاہ، ٹنڈو آدم سے گزر آیا تھا۔ اب وہ جرنیلی سڑک چھوڑ کر دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا تھا اور حیدرآباد سے صرف نظر کرتے ہوئے وہ کوٹری کے قریب پہنچ چکا تھا۔ دریائے سندھ کے کنارے اُسے بڑا سا بورڈ نظر آیا جس پر ٹیڑھا میڑھا سالکھا تھا:
’’آگے مت جائیں، تابکاری اثرات آپ کی جان لے سکتے ہیں۔‘‘
اُسے جان کی کب پروا رہی تھی لیکن وہ تو حیدرآباد سے نظر بچا کر گزر آیا تھا۔ اُس نے اپنا سارا غم سارے آنسو شہرِ آشوب کے لیے بچا رکھے تھے، اُس شہر کے لیے جہاں وہ پیدا ہوا تھا جہاں اس نے بچپن اور لڑکپن گزارے تھے، جہاں اس نے محبت کی تھی اور جہاں اُس نے لوگوں کو محبت ودیعت کرنا شروع کی تھی۔ اُسے بس وہیں جانا تھا، کچھ تھا جو اُس شہر کو لَوٹانا تھا۔ کچھ تو تھا جو اُس نے بچالیا تھا۔ وہ دھیرے اپنے محبت کدے کی جانب بڑھ رہا تھا، وہاں پہنچنا بہت ضروری تھا۔ پاک بھارت سرحدی جھڑپیں تو نصف صدی کا معمول تھیں۔ نفرت کبھی کم پر راضی نہیں ہوتی لیکن یہ محبت ہی ہے جو ایک مسکراہٹ سے بھی سیر ہو جاتی ہے۔ تو یہ جھڑپیں کب تک جھڑپیں رہتیں،ایک دن جوش جذبات میں بھارت کی جانب سے کچھ زیادہ ہی گولہ باری کر دی گئی جو کہ ٹھیک نشانے پر بھی لگ گئی۔ پاکستان کے سو فوجی شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے۔ سو کے بدلے دو سو مارنے کی ٹھان لی گئی۔ ایک منظم سرحدی حملہ کیا گیا، خواہش دو سو بھارتی فوجی مارنے کی تھی لیکن مر پانچ سو گئے!!! بھارت نے اگلے ہی دن منڈی یزمان پر اچانک چڑھائی کردی۔ پاکستان کے ایک ہزار جوان شہید کر دیے اور کئی چوکیوں پر قبضہ کرلیا۔ بس پھر حملے اور قبضے شروع ہو گئے، سیاست چمکانے والوں کے ہوش ٹھکانے آئے اور دونوں طرف کے سیاست دان امن امن کی دہائی دینے لگے لیکن اب بات نفرت کی سیاست کرنے والوں کے ہاتھ سے نکل کر بندوق والوں کے ہاتھ میں آگئی تھی۔ دونوں طرف غیرت و حمیت کا کفر سرچڑھ کر بولنے لگا۔ سیاستدانوں کی آواز بند کردی گئی۔ نفرت نے اپنے لے پالکوں کو پہلے توپیں اور بندوقیں تھمائیں، پھر طیارے اور چھوٹے راکٹ برسنے شروع ہو گئے۔ شہر اجڑنے شروع ہو گئے۔ دونوں طرف کے سورما اپنی برسوں کی سیکھی ہوئی جنگی ریاضت کے جوہر دکھانے کو بیتاب ہو گئے۔ دنیا چیخ چیخ کر تھک گئی مگر نفرت نے کان بند کر دیے۔نفرت کا بول بالا ہونے لگا۔ اُس کے ہلکوروں میں ہند و پاک کی سرزمین جھولنے لگی۔ یہ ایک طرف سرگوشی کرتی کہ جنگ سے پیچھے ہٹو گے تو اپنے شہیدوں کے لہو سے غداری کرو گے، دوسری جانب بہادری کا کوڑا برساتی کہ بزدلوں کی طرح جنگ سے مت بھاگو، غیرت مند اور بہادر قوم کے جرات مند بیٹے بنو، اٹھو اور دشمنوں کی نسلوں کو مٹادو۔ پھر غلطیوں سے گنجان آبادیوں میں بم برسنے لگے۔ لاشیں اِتنی بڑھیں کہ اُنھیں دفنانے یا چِتا جلانے کا کام ہی چھوڑ دیا گیا۔ پھر وہی ہوا جس سے دنیا ڈری ہوئی تھی۔ بھارتی جنرل کو تجویز دی گئی کہ ہمارے پاس پاکستان کی تمام تر ایٹمی تنصیبات کی تازہ ترین معلومات ہیں اگر ہم بیک وقت ایک منظم اور بھرپور حملہ کریں تو پاکستان کی ایٹمی طاقت کے ساتھ ساتھ جنگ کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔ جنرل نے پوچھا؛
’’ معلومات کتنی مصدقہ ہیں؟‘‘ جواب دیا گیا،’’ سو فیصد!‘‘
ہولناک تباہی اور خون ریزی نے جنرل کے اعصاب چٹخا دیے تھے، رہی سہی کسر نفرت نے یہ کہہ کر پوری کردی کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاوٗ اور جان چھڑاوٗ پاکستان سے۔ کچھ نے شدید مخالفت کی اور یاد دلایا کہ ہم ایٹمی جنگ میں پہل نہ کرنے کا معاہدہ کیے ہوئے ہیں۔ جنرل نے کہا؛
’’ کیسا معاہدہ ؟ اور ہم ایٹمی حملہ کرنے نہیں ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے جا رہے ہیں یہ تو نیک کام ہے۔‘‘
چنانچہ کچھ کی مخالفت کے باوجودد جنرل نے منظوری دے دی اور منظم کامیاب حملہ کردیا گیا۔ جتنی معلوم ایٹمی تنصیبات تھیں وہ سب آن کی آن میں تباہ کردی گئیں، ان کی تابکاری سے مقامی آبادیاں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔ لاکھوں پاکستانی راکھ کا ڈھیر بن گئے لیکن یہ تنصیبات تو کل کا دس فی صد بھی نہیں تھیں۔ پاکستان میں سمجھا گیا کہ دشمن کو مکمل معلومات مل چکی ہیں، لہٰذا تباہ ہونے سے پہلے سب ایٹمی میزائل چلا دیے جائیں۔۔۔۔ اور وہ چلا دیئے گئے۔ پہلا بم احمد آباد میں ،دوسرا ممبئی میں تیسرا کلکتہ میں پھٹا تو وہاں سے کراچی حیدرآباد اور راولپنڈی پر بم مار دیے گئے اور پھر ایٹمی بموں کی برسات شروع ہو گئی۔ کل دس بم پاکستان نے چلائے اور پندرہ ہندستان نے۔پاکستان تقریبا تباہ ہوگیا، یہاں تقریبا دس کروڑ معصوم لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔اور ہندستان بھی آدھے سے زیادہ تباہ ہوگیا، ہندستان میں چالیس کروڑ انسان ایٹمی بھٹی کا ایندھن بن گئے اور پھر جنگ ختم ہوگئی نہ ہندستان جیتا نہ پاکستان ہارا۔نہ کشمیر کسی کے حصے میں آیا نہ کشمیر پر کوئی دعویٰ کرنے والا بچا، نہ سیاہ چن پر کوئی تصفیہ ہوا۔ سب کچھ وہیں کا وہیں تھا۔ بس صرف پچاس کروڑ لوگ مارے گئے تھے، جواب میں بچی کھچی عوام نے اپنے اپنے ملک کا ایک سپاہی بھی زندہ نہ چھوڑا تھا۔ سب کچھ خاک میں ملا کر نفرت بھی کہیں جا سوئی تھی۔ لٹے پٹے خاک آلود، بھوکے ننگے انسانوں نے اپنے دلوں کے دروازے کسی حد تک محبت کے لیے کھول دیے تھے، کم از کم پاک بھارت نفرت کی بات کرنے والے کی اس دھرتی پر اب کوئی گنجائش نہ رہی تھی۔
کچھ ہی دیر میں کراچی اُس کے سامنے تھا۔ سیاہی مائل بھورے پتھروں اور مٹی کے ڈھیر تھے۔ جگہ گہرے سیاہ تو کہیں بھورے تو کہیں ارغوانی رنگ کے اونچے نیچے ٹیلے سے بنے ہوئے تھے۔ بس وہ چلا جارہا تھا کہ اُسے وہ خنجر بدست نیم برہنہ عورتیں اور مرد ملے ۔ وہ اُس سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگوا کر اور بسکٹ لے کر دوڑ گئے تھے۔ اُس نے بمشکل ایک آدھ بسکٹ زہر مار کیا اور بقیہ پیکٹ وہیں چھوڑ دیا اور چل پڑا۔جگہ جگہ ایک دوسرے میں گتھے ہوئے راکھ کے ڈھیر پڑھے تھے۔ اُس نے غور سے دیکھا تو اُسے معلوم ہوا کہ یہ نیم مٹیالی سرمئی سی راکھ انسانوں کی ہے، اس شہر کے باسیوں کی راکھ۔ جس شہر کے دن خوابناک تھے اور جس کی راتیں بھی جاگتی تھیں۔ اُس نے آس پاس کا جائزہ لیا اور جگہ پہچاننے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ جگہ جگہ پر لوہا مختلف شکلوں میں منجمد پڑا تھا۔ زیادہ تر شکلوں سے اُس نے اندازہ کیا کہ یہ پگھلی ہوئی کاریں ہیں۔ سڑکوں کا نام و نشان تک نہیں تھا، کہیں کہیں تارکول کی گانٹھیں سی پڑی ہوئی دکھتی تھیں۔ ہائے میرا شہر، ہائے شہرنگاراں، ہائے شہر روزگار!!! اُس نے پہچان لیا تھا کہ وہ کس مقام پر کھڑا ہے۔ یہ ناگن چورنگی تھی۔ یہ نئے کراچی کا آغاز تھا، اس چوک پر پہلے ایک ناگن بنی ہوئی تھی۔پ ھر جب پل بنائے گئے تو وہ ناگن چورنگی ہی توڑ دی گئی مگر یہاں زہر تو بدستور ہی موجود رہا تھا ۔اُس نے خود دیکھا تھا۔ وہ ملک بدر ہونے سے کچھ پہلے ہی تو یہاں آیا تھا۔ اس راکھ کی جگہ بہت سارے انسان کھڑے تھے، رنگ برنگے جھنڈے لیے ہوئے، اُن کے پاس موٹر سائیکلیں اور کاریں تھیں۔ ایک بڑی سی جیپ پر لائوڈ اسپیکر لیے ایک پستہ قد باریش شخص اچھل اچھل کر تقریرکر رہا تھا، اُس کے چہرے پر ثبت تھا کہ وہ محبت کے خدا سے وہ واقف ہی نہیں، وہ چھچھوندر کی طرح اچھل اچھل کر خدا پر الزامات لگا رہا تھا؛
’’ کیا تم نے نہیں دیکھا ہم نے گستاخان صحابہ کا کیا حشر کیا ہے۔ اے لشکر مواحدین! اب بھارت کی باری ہے۔ مکار ہندو بنیئے تجھے معلوم نہیں تو نے کس غیر مند قوم کو للکارا ہے۔ ہمارا بچہ بچہ کٹ مرے گا۔ دلی کا لال قلعہ ہمارا ہے، ہمارے مجاہدین اس پر جلد ہی سبز پرچم لہرائیں گے،
نعرۂ تکبیر!‘‘۔۔۔۔’’اللہ اکبر۔‘‘۔۔۔۔۔”بھارت کا جو یار ہے۔‘‘۔۔۔۔’’غدار ہے غدار ہے۔‘‘ وہ باریش خطیب بہت دیر تک اپنی تبلیغ کرتا رہا، کبھی چیختا تھا کبھی چنگھاڑتا تھا۔ اچھل اچھل کر اس نے جیپ میں بھونچال بپا کیا ہوا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اُس کی اِس جلسی میں شریک پانچ چھ سو لوگ ہی بھارت کے لیے کافی ہوں۔ اُس سے رہا نہیں گیا وہ مجمع چیرتا ہوا جیپ کے قریب گیا اور ہاتھ جوڑ کر کہا؛
’’ مولانا صاحب روٹی ہی کمانی ہے تو نفرت بیچ کر کیوں، وہ تو محبت بیچ کر بھی کمائی جاسکتی ہے۔ خدا کے لیے لوگوں میں موت مت بانٹیں۔‘‘
مولانا صاحب اُسے دیکھ کر اور اُسے سن کر مسکرائے اور بھیڑیے کی طرح دانت نکوستے ہوئے بولے،
’’ آ گیا بھارت کا یار۔ اے محمد بن قاسم کے فرزندو! ذرا اِسے اپنی ایمانی قوت و حرارت کے جلوے تو دکھائو۔‘‘
بس پھر ہجوم اُس پر ٹوٹ پرا اُس کے نصیب اچھے تھے کہ قریب کھڑی سیکورٹی کی گاڑی نے اُسے بچا لیا مگر وہ تب تک لہولہان ہوچکا تھا۔ اُس نے سیاہ ٹیلوں اور پتھروں سے عبارت اس میدان کو دیکھا ۔اُسے وہ مولانا اِس راکھ کی بنیادوں میں زندہ و جاوید نظر آئے۔ وہی تو تھے اِس راکھ کی بنیاد۔۔۔۔۔۔ وہ چیخا؛
’’کہاں گئے وہ ہنستے بستے نعرے لگاتے انسان؟ کہا ں گیا وہ محمد بن قاسم کا قلعہ؟ ذرا دیکھو اپنی اسی خطیبانہ تجارت کا منافع!!! یہ بکھری ہوئی راکھ، یہ پگھلی ہوئی گاڑیاں، ان میں سفر کرتے حسین و جمیل چہرے کون کھاگیا؟ آوٗ دیکھو تمھاری نفرت کھا گئی! اے کاش تم دیکھ سکتے کہ تم تو جہنم کے بھی قابل نہیں رہے۔ کاش میں تم سے نفرت کرسکتا۔‘‘
وہ آگے بڑھ گیا۔ وہ بے سمت بس بڑھتا چلا گیا۔ وہ ٹیلوں سے اندازے لگاتا اور جگہیں پہچانتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ جلا ہوا خاکستر مُکّا نظرآیا، یہ مُکا چوک تھا۔ سب سے بڑی سیاسی جماعت کا مرکز، وہ یہاں کئی مرتبہ آیا تھا بلکہ بے شمار مرتبہ آیا تھا۔ ناقدری کے درد نے اُسے ایک مرتبہ پھر جکڑ لیا۔ کراچی کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازیں اُس کے کانوں میں گونجنے لگیں؛
’’ہم جان لڑا دیں کراچی کا حق کسی کو کھانے نہیں دیں گے۔‘‘۔۔۔۔۔’’کراچی کا ایک ایک انچ مہاجروں کا ہے ہے، یہاں وہی رہے گا جو مہاجروں کی حاکمیت تسلیم کرے گا۔‘‘۔۔۔۔۔’’کراچی پر قبضے کی سازش ہو رہیں ہیں، کراچی کے بیٹے کسی کو کراچی پر قابض نہیں ہونے دینگے۔‘‘۔۔۔۔۔’’ہماری کمائی سے پورا ملک عیش کر رہا ہے۔ عیاشی بند کرو۔‘‘
آوازیں اس کے کان کا پردہ پھاڑ کر اس کے دماغ میں ڈرل مشین کی طرح چلنے لگیں۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور روہانسا ہوگیا؛
“کہاں گیا تمھارا کراچی، کہاں گئے اس کے بیٹے؟ کہاں گئے سازشی؟ کہاں گئے عیاش اور کہاں گئے مقبوض؟ کاش تم نفرتوں کی سیاست نہ کرتے تو تم سرحدوں کے اِس پار اور اُس پار کے بہترین سفیر تھے۔ یہ مٹی کے ڈھیر ہی اب تمھاری ملکیت ہیں اب ان کی تم حفاظت کرو۔ انہی کو سازشوں سے بچائو۔‘‘
اُسے یاد آیا یہاں سے کچھ دور دوسری جماعت سیاست کر رہی تھی، لیڈر کارکنوں سے کہہ رہا تھا؛
’’ تم سندھ دھرتی کے بیٹے ہو۔ سندھ کا چپہ چپہ تمھارا ہے۔ اس کے ایک ایک انچ کے لیے کٹ مرنا تم پر فرض ہے۔ جو راستے میں آئے اسے مار دو۔

Published inعالمی افسانہ فورمعلی زبیر