Skip to content

الوداع

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر۔78
الوداع
سارہ خان ، لاہور ۔ پاکستان

چناب کی بے قرار موجیں کناروں سے سر پٹختی رہیں۔ اور بے گناہوں کی اذیت بھری قید کو ایک ماہ ہوچلا تھا۔یوں تو خوردونوش کی چیزیں ملاقاتی دے آتے۔ زخمی دل اور پیاسی آنکھوں میں اگلی ملاقات کی امید لے آتے۔مگر دل کی اندھیری گلیوں میں اپنوں کی رہائی کے ارمان دم توڑتے جا رہے تھے۔
یہ مئی 1974ء کی بات ہے ابا جان محترم امام الدین صاحب جنہیں ان کے شاگرد ان کی شرافت،محبت اور حلیم طبیعت کے باعث فرشتہ کہتے تھے۔ اپنے بیٹے اور نواسے کو جیل میں ملنے کے لئے بے چین رہنے لگے۔اور ایک ہی ضد پکڑ لی کہ اب کی بار ملاقات کے لئے قافلے کے ساتھ جاؤنگا۔ اس وقت قافلے کی صورت میں ریل گاڑی کا سفر کر کے سرگودھا جیل جاتے تھے سماعت اور نظر کی کمزوری کے سبب کوئی نہیں چاہتا تھا۔کہ آپ ریل گاڑی کا سفر کریں۔ مگر باپ کے دل میں ملنے کی لگن اپنی تمام کمزوریوں پہ حاوی تھی۔ اس لئے ان کی ضد کے آگے سب نے ہار مان لی۔ ملاقات کا دن آ گیا۔ جوں جوں سورج طلوع ہو رہا تھا۔ابا جان کے چہرے پر خوشی کے رنگ واضح نظر آ رہے تھے۔صبح اٹھتے ہی پودوں کو پانی دیا۔ ایک ایک پتے کو نہلایا۔ کچن میں گئے اماں سے پوچھ کرگھر کا سودا سلف لائے۔دیوار پہ لگی گھڑی میں وقت دیکھا۔منہ میں کچھ بربڑائے۔جیسے گھڑی کی سوئیوں سے کہہ رہے ہوں ذرا تیز چلو بس میں بھی آ رہا ہوں۔اور نہانے چلے گئے بیٹی نے کپڑے استری کر دیئے۔نیا تہہ بند نئی قمیض اور ٹوپی پہن کر جب وہ جانے لگےتو عجب نورانی چہرے کے ساتھ سب پر محبت بھری نظر ڈالی اور الوادع کہہ کردوسرے نواسےکیساتھ قافلے کے ہمرار سرگودھا جیل جانے کے لئے ریل گاڑی میں سوار ہو گئے۔ ابا جان کی خوشی دیدنی تھی۔اپنا خیال رکھنے کی تاکید کے ساتھ وہ روانہ ہو گئے۔ ہم گاڑی کو دور تک جاتا ہوا دیکھتے رہے۔ گیارہ بج چکے تھے گاڑی کی واپسی پانج بجے تھی۔ مختلف کاموں میں وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ پانچ بجنے سے پہلے ہی میں اسٹیشن پہنچ گیا۔اور انتظار کرنے لگا۔۔اور بھی لوگ تھے جو اپنے عزہز رشتہ داروں کو لینے آئے ہوئے تھے۔ چھ بج گئے مگر گاڑی آنے کے کوئی آثار نہ تھے۔میں بے چینی سے چکر لگاتے ہوئے بار بار گھڑی دیکھتا۔خالی پٹری پہ میرے اندیشے اور وسوسے اِدھر سے اٌدھر بھاگ رہے تھے۔ گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ دل کی دھڑکن دھمال ڈالنے لگی تھی۔اچانک پیچھے سے گاڑی نے تیز ہارن سے اپنی آمد کا اعلان کیا۔میں بھاگتا ہوا پٹری کے اور قریب ہو گیا۔ گاڑی چٌھک چھک کرتے آہستہ آہستہ اپنی رفتار کم کرتی ہوئی روکی میری بےچین نظریں ہر ڈبے کے اندر تک جھانک رہی تھیں۔ تین ڈبوں کے بعد ہمارے قافلے کے چند افراد اترے۔
چہرے وہی تھے مگر لباس جگہ جگہ سے سرخ تھا۔میری آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئیں۔ میں تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔انکل ! یہ ۔ یہ سب کیا ہے؟ کیا ہوا آپ سب کو؟ یہ خون کیسا؟ اور۔ ۔ ۔اور ابا جان کہاں ہیں؟ ایک ساتھ کئی سوال اگلے سانس کا انتظار کئے بغیر پوچھ ڈالے۔کندھے پہ لگے زخم سے نڈھال انکل نے آدھ کھلی آنکھوں سے میری طرف دیکھااور گاڑی کے ڈبے کی طرف اشارہ کیا۔۔کچھ نہ سمجھتے ہوئے میں تیزی سے اٹھا اور ڈبے پہ چڑھ گیا۔ میرے ہاتھ خون سے رنگین ہو چکے تھے شائد دروازے پہ یا سیٹ پہ ہاتھ رکھنے سے۔ جگہ جگہ خون دکھائی دے رہا تھا پر ابا جان کہیں نہیں تھے۔ میں نے پورے ڈبے پہ نظر دوڑائی مگر جابجا خون اور خون کے دھبے میرے خدشات میں اضافہ کر رہے تھے میں نیچے اتر آیا قریب ہی ایک شخص جو زخمیوں کو لے کر آیا تھااپنے ہاتھ صاف کرتا دکھائی دیا۔میں نے لپک کر اسے دونوں کندھوں سے پکڑ لیا۔اور اباجان کا نام بتا کر بے چینی سے اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی سرمہ لگی آنکھیں یوں لگیں جیسے ماتمی لباس سے جھانک رہی ہوں۔ کچھ سوچتے اور ایک انگلی سے سر کھجاتے ہوئے ایک گہری سانس لے کر بولا۔! بھائی یہ قافلہ سرگودھا جیل سے ملاقات کے بعد واپس لوٹ رہا تھاکہ راستے میں اچانک ایک طرف سے کچھ نامعلوم نقاب پوش افراد نعرہ لگاتے آئے” انھیں مار کے جنت کماؤ “اور پیچھے سے فائرنگ کر دی۔ آپ کے والد کی قوت سماعت کمزور تھی ساتھیوں نے زمین پر لیٹنے کا شور بھی مچایاپر کچھ فاصلہ ہونے کی وجہ سے وہ سن نہ پائے۔ افسوس ایک بے رحم گولی ان کے سر میں لگی اور وہ شدید زخمی حالت میں وہاں ہسپتال میں ہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بولتا جا رہا تھا اور مجھے لگا کہ ابا جان کی طرح میری قوت سماعت بھی مفلوج ہو چکی ہے۔جاتی ٹرین کی چھک چھک دور ہوتی جارہی تھی۔اندھیرا چھا چکا تھا۔ اور دریا چناب کی موجیں اب بھی کنارے سے سر پٹخ رہی تھیں

Published inافسانچہسارہ خانعالمی افسانہ فورم