Skip to content

اشک فروشی

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 52
اشک فروشی
تسنیم عابدی، ٹیکساس، امریکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دبئی سے اسے آئے چند روز ہوئے تھے۔ جس کے لئے اس نے کیا کیا جتن نہیں کئے تھے۔ سیٹھ شوکت کے دفتر کے چکر لگاتے لگاتے اس کے پھٹے ہوئے جوتوں میں سوراخ ہو گئے تھے۔ ہر مرتبہ اسے ایک نئی رکاوٹ کا سامنا ہوتا تھا۔ ہر مرتبہ اس کے خواب ٹوٹتے اور پھر وہ نئی امید کے ساتھ اپنے بھیا کے دلاسوں کے سہارے خوابوں کی ازسر نو مرمت میں لگ جاتا۔ یہ خواب بھی انسان کو اکثر ہلکان کر دیتے ہیں۔ جب سیٹھ شوکت کے سیکریٹری نے اسے بتایا کہ پچاس ہزار روپے سے ایک پیسہ کم نہیں لے گا اور یہ رقم اسے فوراً یعنی دو دن کے اندر اندر پہنچانی ہے ورنہ کسی دوسرے مزدور کو موقع دیا جائے گا تو وہ تمام رات سو نہیں سکا تھا۔ جاگتے میں خواب دیکھتا کہ وہ دوڑتا چلا جارہا ہے اور کوئی انجان اسے دھکا دے کر آگے بڑھنے کی کوشش میں لگا ہے۔ بھیا نے بڑی مشکل سے دس ہزار کا انتظام کیا تھا۔ اب آخری امید یہی تھی کہ زمین کا جو چھوٹا سا ٹکڑا باقی ہے اسے گروی رکھ کر باقی انتظام کیا جائے۔ آخر کار بھیا نے زمین کو دے کر سودا کر لیا تھا، سب کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر یہ آنسو شاید آس اور ندامت کے امتزاج سے تھے۔ یااﷲ تو نے جس طرح انسانوں کی قسمتیں بنائی ہیں اسی طرح آنسوؤں کی بھی بہت ساری قسمیں ہیں۔
اف کتنی خوشگوار شام تھی جب بھیا نے اسے آ کر بتایا کہ راجہ تجھے پرسوں ہوائی جہاز سے دبئی جانا ہے۔ اور ۔۔۔ اور وہاں کی سب سے بڑی عمارت پر تجھے کام کرنا ہوگا ۔’’برج الخلیفہ ‘‘بلڈنگ کی آدھی سے زیادہ تعمیر ہو چکی ہے باقی نصف کے لئے مدد درکارہے۔ تجھے پتا ہے کہ یہ عمارت 125منزلہ ہے اور وہ خلاؤں میں ہر منزل کو گنتا رہ گیا۔ ایک ۔۔۔ دو۔۔۔ تین۔۔۔ ریلوے اسٹیشن پر اسے پورا گاؤں چھوڑنے آیا تھا ۔ دوسرے دن کراچی سے دبئی کی فلائٹ تھی۔ اسے پہلی مرتبہ اپنی اہمیت کا احساس ہوا تھا۔ ماں کی چھلکتی ہوئی آنکھوں میں اسے جھٹپٹے کا سماں نظر آیا اور چمپا کی روئی ہوئی آنکھوں سے آنکھیں ملانے کی اس کی ہمت ہی نہ ہوئی۔
بھیا نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب موڑا ۔ “میرے راجہ جا جلدی جا تجھے کھدا کے حوالے کیا۔ راجہ دیکھ میں نہ کہتا تھا کہ ہمارا نصیب بھی جرور بدلے گا۔ دیکھ چٹھی جرور بھیجنا ورنہ فون کرلینا۔ اپنا کھیال رکھنا۔ راجہ اپنا کھیال۔۔۔۔ دیکھ ہمیں۔۔۔۔۔۔ سرکھرو رکھنا۔
ریل کی سیٹی کی آواز کے ساتھ ہی اس کے ضبط کے پیمانے چھلک پڑے تھے۔ کراچی کے ہنگامہ پرور شہر میں پہنچ کر اسے جلدی تھی کہ وہ کسی طرح ہوائی اڈے پہنچ جائے۔ کاندھے پر بیگ سنبھالے وہ ایئرپورٹ کی عمارت میں گھسنے لگا تو اسے ایک باوردی فوجی نما شخص نے روکا۔ اس کا دل بے اختیار دھڑک گیا۔ کہیں خواہ مخواہ میں روک نہ لیا جاؤں۔ وہ آدمی بار بار اس سے کسی کاغذ کامطالبہ کرتا۔ راجہ سب کچھ دکھاتا رہا مگر کام نہ چلا آخر کار اسے معلوم ہوا کہ شاید پانچ سو روپے کے شہر میں مختلف نام ہوتے ہیں اس نے کتنی احتیاط سے یہ نوٹ بچا کر رکھا تھا کہ جب وہ دو سال بعد واپس آئے گا تو اماں کی نظروں سے بچ کے چمپا کے لئے گجرے اور چوڑیاں خریدے گا اور اسے شہر لے جا کر آئس کریم کھلائے گا۔ چمپا کو شہر کی دکانوں سے آئس کریم کھانے کا بہت شوق تھا۔ اسے پانچ سو روپے کا پچھتاوا تو تھا مگر اس نے سوچا تو چلو کیا ہوا۔ اب تو میرے پاس دبئی کے پیسے ہوں گے۔ بھیا نے اسے کتنی مشکل سے نام یاد کروایا تھا۔ وہ بھلا سا نام ۔۔۔ درہم۔ اسے بڑی گدگدی ہوئی تھی جب بھیا نے اسے بتایا کہ تو ایک درہم کمائے گا تو اس کے بدلے پاکستانی تئیس روپے تجھے ملیں گے۔ راجہ تو تو پورا ہجار درہم کمائے گا تئیس ہزار پاکستانی روپے۔ یہ کہتے ہوئے بھیا کی آنکھیں باہر آ گئی تھیں۔
ایک ۔دو۔ تین۔ چار ۔۔۔اس نے اسی وقت فیصلہ کرلیا تھا کہ آدھی پگار بھیج دے گا تاکہ گھر میں دو وقت کی روٹی موج سے کھائی جائے اور آدھی پگار جمع کرکے جمین کے پیسے ادا کرے گا۔ اس کے منہ میں پانی بھر آیا اور آنکھوں میں نمی تیر گئی ۔جہاز کا سفر اس کے لئے کتنا اچھا تجربہ تھا۔ کھانے کی میز کھول کر جب ایئر ہوسٹس نے اس کے سامنے کھانے کی ٹرے رکھی تو اس کا دل چاہا ٹوٹ پڑے مگر اسے پھر اماں یاد آ گئیں ۔ جب کئی وقتوں کے بعد اماں اسے لہسن کی چٹنی اور چپڑی روٹی دیتیں تو ہمیش اس سے کہتی کہ بسم اﷲ پڑھ ۔بسم اﷲ برکت ڈالتی ہے۔ راجہ یہ ایک روٹی تیری کئی وقتوں کا پیٹ بھر دے گی اور وہ جلدی جلدی ایک بجائے کئی مرتبہ بسم اﷲ پڑھ کر روٹی کھانے لگتا مگر بسم اﷲ نے کبھی بھی روٹی میں برکت نہیں ڈالی نجانے کیا ہو جاتا بھوک میں برکت ہو جاتی۔ ہاں مولوی صاب صحیح کہتے ہیں وہ شاید غلط طریقے سے بسم اﷲ پڑھتا ہے وہ ہمیشہ مرغی نوچتے اور بھنبھوڑتے ہوئے خبردار کرتے۔ راجہ تو بسم اﷲ کھلوص سے نہیں پڑھتا اسی لئے دیکھ تیرے پاس برکت نہیں۔ میرے پاس تو برکت ہی برکت ہے ۔
اس نے خیالات کوجھٹکا دیا تو تیل پڑی لٹیں ماتھے پر ادھر ادھر بکھر گئیں۔ آسمان پر اڑتے ہوئے کتنا مزا آرہا تھا۔ بادل فضاؤں میں تیر رہے تھے جیسے کسی نے ہر طرف روئی دھنک رکھی ہے پھر جہاز بلندی سے نیچے کی طرف اترنے لگا۔ اعلان ہوا کہ جہاز تھوڑی دیر میں دبئی اترنے والا ہے۔ اس کا دل اچھل کر حلق تک جا پہنچا۔ اس نے جہاز کی کھڑکی سے جھانکنا شروع کیا تو اسے عمارتوں کا جنگل نظر آیا۔ بھیا نے اسے پہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ راجہ وہاں کچے مکانات نہیں ہوتے بڑی بڑی عمارتیں ہوتی ہیں۔
وہ ایئرپورٹ سے باہر نکلا تو ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اس کا نام پکارا پھر وہ اسے اپنی گاڑی میں لے کر چل دیا۔ دبئی کی خوبصورت اور کشادہ سڑکوں پر گاڑی رواں دواں تھی اور وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کبھی دیکھتا تو کبھی بائیں۔ اس کے خوابوں کا شہر آچکا تھا۔ عبدالقادر نے اسے ایک کیمپ کے سامنے اتار دیا اور ایک آدمی صمدو کو آواز دے کر اس کے حوالے کیا وہ کیمپ میں داخل ہوا تو بہت ساری نظروں نے اسے دیکھا تو ایسا لگا جیسے مویشی منڈی میں کوئی نیا جانور داخل ہوا ہے۔ اسے جس کمرے میں پہنچایا گیا وہاں سہ منزلہ بیڈ بچھے ہوئے تھے ایک کمرے میں بارہ افراد تھے۔ شاید وہ اس کمرے کا بارہواں شخص تھا۔ باقی تمام لوگ کام پر گئے ہوئے تھے۔ اسے بتایا گیا کہ کل اس کا میڈیکل چیک اپ ہوگا اور چار پانچ روز کے بعد وہ کام پر جانا شروع کر دے گا۔ اسے بتایا گیا کہ ڈاکٹر لوگ اس لئے چیک کرتے ہیں کہ کوئی بیماری تو نہیں ہے اور مزدور کام کرنے کے قابل ہے بھی یا نہیں وہ اپنے بازوؤں کی مچھلیاں دیکھ کر لوگوں کی بےوقوفی پر ہنس دیا۔ گاؤں میں اس جیسا کوئی گھبرو جوان نہ تھا اور چمپا تو اس کی بے وقت کی زور آزمائی سے بہت ڈرتی تھی کلائی چھڑانا مشکل ہو جاتا۔
کمرے کے ہر فرد کی اپنی داستان تھی۔ کسی کو ماں کی چوڑیاں بیچ کر آنا پڑا تھا ،کسی کو پچاس ہزار قرضہ ادا کرتے مہینوں گزر گئے تھے۔ کوئی گھر والی کا زیور بیچ کر آیا تھا۔ یہاں کا ہر فرد اپنے خوابوں اور اپنی امیدوں کا قرض دار تھا۔ اس قرضے کی ادائیگی میں انہیں اکثر اپنے خواب اور آنسو بیچنا پڑتے تھے مگر قرضہ ادا ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔ و ہ سب ایک مشین کے پرزے کی طرح کام پر جاتے واپس آتے اور پھر کام پر چلے جاتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی عیاشی ان کا مشقت زدہ کام تھا جس کے حصول کے لئے وہ ہر چیز بیچنے پر آمادہ ہوئے تھے۔ ان کی زندگی کی یکسانیت کا یہ عالم تھا کہ انھیں روزانہ وقت مقررہ پر سونا یا خواب دیکھنا اور مقررہ وقت پر بے چین رہنا پڑتا تھا۔ صرف مہینے کے چند دن ایسے ہوتے تھے جب انھیں تنخواہ ملتی وہ اپنے پیسے گھر بھیجتے اور اپنے گھروالوں یا گھر والی کو فون پر بات کرتے تھے۔ ان کی خوشیاں او ر تمنائیں کیا ان کے در د بھی ایک جیسے تھے۔ لڑکے بحث کرتے، ہاتھا پائی کرتے، بے تکا اور چھچھورا مذاق کرتے اور خوش ہو جاتے تھے۔ گھروں سے ملتی جلتی خبریں آتیں۔ کسی کی ماں بیمار ہے اور بیٹے کو دیکھنے کی آرزو میں تڑپ رہی ہے، کسی کا باپ مر گیا اور بیٹا جنازے کو کندھا بھی نہیں دے سکا۔ کسی کا پہلا بچہ ہوا اور اب وہ دو سال کا ہونے والا ہے مگر باپ۔۔۔۔۔۔ راجہ بھی ان اشک فروشوں اور خواب کا کاروبار کرنے والوں میں شامل ہو چکا تھا ۔
دنیا کی سب سے بڑی عمارت پر کام کرتے ہوئے اسے بہت محتاط رہنا پڑتا تھا اسے کہا گیا تھا کہ بس سامنے دیکھنا ہے نیچے نہیں۔ جب موسم اچھا ہوتا تو کبھی کبھی بادل اندر بھی گھس آتے تھے وہ سوچتا تھا کہ جب میں جا کے اماں، بھیا ، بھابی اور چمپا کو یہ بتاؤں گا تو ہو سکتا ہے وہ یقین ہی نہ کریں۔ اس کے ٹھیکیدار اور ساتھی مزدوروں نے اسے بتایا کہ اس عمارت کو دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے آئیں گے تو اسے خواہ مخواہ ایک فخر سا محسوس ہونے لگتا۔ جب کبھی وہ فون پر چمپا یا بھیا کو بتاتا کہ جہاں وہ کام کرتا ہے وہاں سے نیچے صرف مٹی کا رنگ نظر آتا ہے تو وہ لوگ اس سے عجیب عجیب سوال کرنے لگتے اور پھر اس کے موبائل کا بیلنس ختم ہو جاتا۔ چمپا تو اس سے یہی دہراتی رہتی دیکھ راجہ سنبھل سنبھل کر کام کرنا اور وہ بات کرنے کے دوران اپنے بازوؤں کی مچھلیاں ابھار لیتا۔
آج وہ بہت خوش تھا اب گروی رکھی جمین اس کو واپس مل جائے گی۔ اس کو لالہ دین نے کمیٹی کے پانچ ہزار درہم دیئے تھے۔ اس نے اتنی رقم کبھی ہاتھ میں نہ لی تھی اس کے ساتھی مزدوروں نے اسے بتایا تھا کہ ہنڈی کے بجائے پیسے ویسٹرن یونین سے بھیج دے تو اسی دن پہنچ جائیں گے وہ بھی یہی چاہتا تھا کہ اتنی رقم ذرا محفوظ طرح پہنچ جائے۔ہنڈی والوں کا بھلا کیا بھروسہ۔۔۔ کیمپ کے باہر دفتر کی گاڑی ہارن پر ہارن بجا رہی تھی اس نے جلدی سے نوٹوں کا بٹوہ اور روٹی کی تھیلی اٹھائی اور کیمپ سے باہر نکل گیا۔ لفٹ کے ذریعے اسے 120منزل کے شیشے صاف کرنے تھے۔ بلڈنگ کا جلد ہی افتتاح ہونے والا تھا۔ ٹھیکیدار نے کہا تھا کہ کام اچھا ہونا چاہئے۔ وہ مستعدی سے کام کر رہا تھا اسے ایسا لگا کہ اس کی جیب کا بٹوہ ہوا میں تیرتا جا رہا ہے ۔ تمام احتیاط بھول کر وہ نیچے جھکا اور پھر۔۔۔۔۔۔۔ Dancing Fountain کے میوزک میں راجہ کی چیخیں شامل ہو گئیں۔ قضا رقص کناں تھی۔ فضہ نوحہ کناں ! ! ہر طرف درہم بکھر چکے تھے جنھیں بمشکل اکٹھا کرکے ورثاء کو بھیج دیا گیا۔
بھیا سب کو بتا رہا تھا کہ راجہ دنیا کی سب سے بڑی بلڈنگ سے گر کے مر گیا وہ بڑا گبھرو جوان تھا۔ بھیا کے آنسووؤں میں آج فخر کی نمی شامل تھی ورنہ گزشتہ برس گھر پر بابا کی موت واقع ہوئی تھی تو بھیا کے آنسووؤں میں خشکی محسوس ہوتی تھی بابا کی خشک کھانسی جیسی

Published inتسنیم عابدیعالمی افسانہ فورم