Skip to content

ادھورے خواب

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر: 84
ادھورے خواب
خرم بقا ، لندن
(ان ہندوستانیوں کے نام جنہوں نے پہلی جنگ عظیم میں اپنی جانوں کی قربانیاں دیں اور وہ فراموش کر دی گئیں۔ )

اس کا جسم بہت نحیف اور لاغر ہوگیا تھا ، چیت میں گرمی اور حبس سے مرنے والے کچھوے کی جھلسی ہوئی جلد کے مانند اوپری سطح کب کی سوکھ چکی تھی ، بس اندر ہی ممتا جیسی کوئی نرم ملائم چیز ہنوز ایک انتظار کے مرنے کی آس میں زندہ تھی۔صرف فلاکت زدہ گردش ایام ایک ماں کی بے بسی اور کرب کی شدت، آنکھوں میں انتظارکی میٹھی اذیت، رگ و پے میں تھکن کی گواہ تھی یا پھر اس کا مفلوج شوہرجو اپنے احساس کے اظہار سے معذور ہوگیا تھا،ایک کاسنی رنگ کی شکن زدہ بوسیدہ ساڑھی تھی جس کی کہنگی نے اس کی خستگی کو ڈھانپ لیا تھا۔کانوں میں نقلی موتی کے آویزے تھے جو سر کی چاندنی میں رنگ چکے تھے۔ چہرہ جھریوں زدہ تو نہیں تھا مگر زندگی کی مبارزت اور ظلمتوں کے نقش دور سے دیکھے جاسکتے تھے۔اپنی ہی جتنی سن رسیدہ کرسی پر دروازے کی طرف رخ کئے ہوئے آنکھیں موند کر ٹیک لگائے بیٹھی تھی ، آنسو آنکھوں سے نکلتے ، گالوں کو چومتے ہوئے سینے کی طرف چل پڑتے۔ سینہ جو بیٹے کے انتظار کی تپش سے جل رہا تھا۔ چہرے پر کبھی اذیت اور کبھی سکون نظر آتا۔ کمرے کی ہر چیز سے رائگانی ٹپک رہی تھی ۔ رانی،اس کا شوہر ، بیٹا اور زندگی سب کو وقت رائگاں کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا، کھڑکی پر پڑے بوسیدہ پردیدونوں طرف سے اس طرح ہٹے ہوئے تھے کہ آنے والا دروازے سے پہلے کھڑکی پر نظر آجائے۔
رانی کے دائیں ہاتھ میں نظر کا چشمہ تھا اور بائیں ہاتھ میں پانچ سال پرانا خط۔ محاذ جنگ سے اس کے بیٹے کا آخری نامہ۔ خط کی تہیں بتا رہی تھیں کہ اسے لاتعداد بار پڑھا جا چکا ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں اس کے اکلوتے، جوان اور خوبرو بیٹے کو زبردستی بھرتی کرکے یورپ کیمیدان جنگ میں جھونک دیا گیا تھا جہاں ایک دن وہ جرمن طیاروں کی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بن گیا، وطن لوٹنے کی حسرت خاک ہوگئی، اسیانگلستان میں ہی دفن کر دیا گیا۔
“او غا غووو” رانی کو اپنے مفلوج شوہر کی آواز سنائی دی۔ اس نے آنکھیں موندے ہی خود کلامی کے انداز میں کہا، “اس نے لکھا تھا کہ ہری آنکھوں والی آئرش لڑکی سے اسے پیار ہو گیا ہے۔ جنگ ختم ہو جانے کے بعد وہ اسے ہندوستان لائے گا اور پھر دونوں شادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”
“غو۔۔۔۔۔ غو۔۔۔۔” شوہر کی قدرے اونچی آواز میں رانی کی بات ادھوری رہ گئی۔باتیں ادھوری رہ جائیں توسانسیں گھٹنے لگتی ہیں۔ خواب ادھورے رہ جائیں تو اذیت دیتے ہیں۔یہ اس کے بیٹے کا ادھورا خواب تھا جس کو نہ جانے وہ کتنی دفعہ جاگتی آنکھوں پورا کرچکی تھی۔
“غوووووو” شوہر نے دوبارہ آواز لگائی تو اس نے اپنی موندی آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا۔ بیٹے کی خبرآنے کے بعدتیسرے دن اس پر فالج کا حملہ ہوا اور اس نے ہمیشہ کے لئے چار پائی پکڑ لی۔جسم کے بائیں حصے کی حرکت کے ساتھ ساتھ وہ قوت گویائی سے بھی محروم ہوگیا۔ دیکھتا، سمجھتا سب کچھ تھا مگر جب وہ بولتا تھا توکسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا۔رانی بھی اس کی بات اندازے یا وقت کے حساب سے سمجھنے کی کوشش کرتی۔ اگر کھانے کا وقت ہوتا تو اسے کھلا، پلا دیتی۔ کمرہ متعفن ہونے کی صورت میں اس کی غلاظت صاف کردیتی۔دوسری آواز پر رانی اٹھی، باورچی خانے سے ایک گلاس میں پانی بھر کر لائی اور اسے سہارا دے کر پلایا۔ اس کو لٹا کر گلاس قریب کی کارنس پررکھا، کواڑ کھول کر باہر گلی میں جھانکا اور مضمحل قدموں کے ساتھ واپس کرسی پر بیٹھ گئی۔
شوہر کی غو غا دوبارہ سنائی دی تو وہ مایوس نظروں سے اسے دیکھ کر بولی”معلوم نہیں کب جواب دیتے ہیں۔ ایک ہی خط بار، بار مختلف لوگوں کو بھیجا ہے۔ شاید کوئی ہماری بات سن لے۔ پانچ سال ہونے کو آئے”
٭٭٭
از طرف رانی بی بی
والدہ سپاہی چاند
جناب عالی،میں جانتی ہوں کہ آپ لوگوں کا وقت بہت قیمتی ہے اس لیے زیادہ لمبی بات نہیں کروں گی۔ سپاہی چاند میرا جواں سالہ بیٹا تھا جو محض انیس سال کی عمر میں سمندر پار محاذ جنگ میں بھیج دیا گیا۔ وہ میرا اور میرے مفلوج شوہر کا اکلوتا سہارا تھا جو غیر ملک میں ملکہ عالیہ کے وقار کے لیے لڑتاہوا شہید ہوگیا۔چاند چھوٹا سا تھا تب بھی وہ رات کسی کے گھر نہیں گزارتا تھا۔ اسے اپنے گھر اور اپنے بستر کے علاوہ نیند نہیں آتی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی قبر میں بھی جاگ رہا ہوگا۔
جناب عالی، میں اس کی قبر پر اس کے وطن کی بنی کوئی چیز ڈالنا چاہتی ہوں۔ مٹی۔ گیندے، موتیا کے پھول کچھ بھی۔ اس کی پسندیدہ چادر اگر اپنے ہاتھوں سے اس کی قبر پر ڈال دوں تو وہ سکون سے سو جائے گا اور مجھ بڑھیا کوبھی سکون آجائے گا۔ اپنے آخری خط میں اس نے ایک آئرش لڑکی کا ذکر کیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ لڑکی آج بھی دیا جلانے اس کی قبر پر آتی ہو۔ میں اس کا ہاتھ تھام کر، اس کا ماتھا چوم کر اسے گلے لگا کر تسلی دینا چاہتی ہوں۔ اس سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ میرے بیٹے نے اسے کوئی پیغام دیا تھا؟ آخری شام جب وہ اس سے ملا تھا تو اس کی آنکھوں میں کوئی خواب بسا کر گیا تھا؟ ہو سکتا ہے کہ میں اس کا خواب پورا کر سکوں۔ کچھ نہیں تو میرا بیٹا ہم دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت خوش ہو گا۔ میں لال جوڑا بھی تو لے کر جاؤں گی اسکے لیے۔
مجھے گمان ہے آپ کو کچھ نہیں ہوتا ہوگا۔ مگر میں اپنے بیٹے کی غریب الوطنی سوچ سوچ کر کڑھتی ہوں۔ اس کی بے بسی سوچ کر میرے آنسو آج بھی نہیں تھمتے۔مجھے یاد ہیکہ جب وہ پیدا ہونے والا تھا تو ہمارے محلے میں دو بچے معذور پیدا ہوئے تھے۔ میں خوفزدہ تھی کہ میرا بچہ بھی معذور نہ پیدا ہو۔ میں نے صحیح سلامت بچے کے لیے منت مانی تھی۔کاش نہ مانی ہوتی۔جناب عالی، میں اور میرا شوہر اتنی رقم پس انداز نہیں کرسکے کہ انگلستان کا سفر کر سکیں۔ برائے مہربانی ہمارے سفر کا بندوبست کیا جائے۔ مجھے امید ہے کہ زندگی کی اس آخری مسافت میں مجھے مایوس نہیں کیا جائے گا۔
آپ کی فرمانبردار
٭٭٭
فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کاروائی جاری تھی اور سپاہی چاند وردی ٹانگے بائیں طرف ایک کرسی پر بیٹھا تھا جسے گارڈ عدالت کے حلف کے بعد اندر لے کر آئی تھی۔ پروسیکیوٹر نے کھڑے ہوکر مختصر سی عدالت کو دیکھا اور مشینی لہجے میں بولنا شروع کیا،”سپاہی چاند، رجمنٹل نمبر 222044، پندرہ انفنٹری رجمنٹ، آرمی ایکٹ کے سیکشن چار، پانچ اور چھ کے تحت فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی، اپنے افسر کی حکم عدولی، جنگ کے خلاف منفی پراپییگنڈا،دوران ڈیوٹی شراب نوشی اور بزدلی کا مرتکب قرار پایا ہے۔ میری عدالت سے درخواست سے کہ ملکہ برطانیہ کے وقار کے لیے ملزم کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے تاکہ یہ فتنہ یہیں پر دم توڑ جائے۔”پراسیکیوٹر نے فائل پریذیڈنٹ کو دی، احترماً اپنا سر جھکایا اور کرسی پر واپس بیٹھ گیا۔ کورٹ میں بیٹھے دونوں معاون میجروں نے اثبات میں سر ہلا کر ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر سامنے بیٹھے ملزم کی طرف توجہ مرکوز کردی۔
سفید وگ پہنے لیفٹینٹ کرنل نے، جو بطور جج یا پریذیڈنٹ مقدمے کو سن رہا تھا، نے ایک نظر سرخ پٹی لگے اپنے کالے گاؤن پر ڈالی اور پھر اپنی عینک سنبھال کر کاغذات کو پڑھنا شروع کیا۔ کاغذات پڑھنے سمے عدالت میں سانس لینے کی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔ کاغذات پڑھنے کے بعد اس نے ایک نظر پروسیکیوٹر کو دیکھا اور پھر ملزم چاند کو مخاطب کرکے کہا، “تم نے اپنی دفاع کے لیے فرینڈ آف ایکوزڈ لینا پسند نہیں کیا؟”
سپاہی چاند کھڑا ہوا اور سامنے بنچ پر آکر منہ سے کچھ بولے بغیر ایڑھیاں بجا کر اور سینہ مزید چوڑا کرکے بات کا جواب ہاں میں دیا۔
آرٹلری سے تعلق رکھنے والے پریذیڈنٹ نے سپاٹ چہرے اور کرخت آواز میں پوچھا، “الزامات تم سن چکے ہو۔تمھیں اپنی صفائی میں کچھ کہنا ہے؟”
“اگر مجھے بولنے کی اجازت دی جائے تو میری بات تھوڑی لمبی ہے جناب” سپاہی چاند کی آواز گونجدار تھی۔
پریذیڈنٹ نے چند ثانیے سوچ کر اسے بولنے کی اجازت دے دی۔ سپاہی چاند نے شکریہ کہا اور اپنی ٹوپی اتار کر اپنی بغل میں دبائی۔ اس طرح ٹوپی اتارکر بغل میں دبانے پر تینوں افسران کرسی پر پہلو بدل کر رہ گئے۔ چہروں پر پھیلی ناگواری کی بو اب کمرہ عدالت میں بھی پھیل گئی تھی۔
“مائی لارڈ۔ میں ایک کسان کا اکلوتا بیٹا ہوں جس کا شوق بانسری بجانا، نئی دھنیں نکالنا اور لوک گیت گانا تھا۔ میں شاید گاؤں کا واحد لڑکا ہوں جس نے مولوی صاحب سے بھی تعلیم حاصل کی اور پنڈت مہاراج سے بھی۔ سنگیت کا شوق مجھے گردوارے جا کر ہوا جہاں میں اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر جاتا تھا۔ میرا ارادہ چند سالوںمیں پورا ہندوستان گھوم کر لوک گیت جمع کرنا اور موسیقی کی تعلیم لینا تھا۔ مگر آپ کی جنگ شروع ہو گئی اور مجھے زبردستی فوج میں بھرتی کر لیا گیا۔ شروع میں مجھے اچھا لگا۔ میرا جسم مزید خوبصورت ہو گیا، میرے چہرے پر نکھار آگیا، ہتھیاروں کے استعمال بھی اچھا لگنے لگا۔ جو گیت میں اپنی بانسری سے نکالتا تھا اس کے نغمے بعض دفعہ مجھے بندوق کے دہانے سے نکلتے محسوس ہوتے تھے۔ جوان ہوں اس لیے مجھے یہ سب اچھا لگتا تھا۔ ایک بہادری کا احساس ہوتا تھا کہ جب میں اپنے گاؤں واپس جاؤں گا تو اپنی بہادری کے جھوٹے، سچے قصے سنا کر لوگوں کو مرعوب کرونگا۔ پراسیکیوٹر نے مجھ پر بزدلی کا الزام لگایا ہے۔ اسی سپاہی چاند کا نام ملٹری میڈل کے لیے بھجوایا گیا تھا۔” سپاہی چاند نے فخر سے عدالت میں موجود ایک، ایک چہرے کو غور سے دیکھا اور پھر اپنی بات شروع کی “میں نے محاذ میں ان گنت گولیاں چلائیں، سینکڑوں دشمنوں کو زخمی و ہلاک کیا مگر پیٹھ نہیں دکھائی۔ آخری معرکے میں دشمن ہمارے سر پر پہنچ گیا اور ہمیں دس بدست اس سے لڑنا پڑا۔ میں نے اپنے مقابل کے سینے میں اپنی سنگین گھونپی تو اس کے منہ سے خدا، لارڈ یا ایشور کا لفظ نہیں نکلا بلکہ اس نے “آہ ڈیوڈ” کہا اور میری سنگین میں ہی ڈھ گیا۔ اسی وقت ہمیں فضائی کمک مل گئی اور لڑائی کا خاتمہ ہماری فتح پر ہوا۔ اپنے زخمی ساتھیوں کی تلاش میں جب میں میدان کا چکر لگا رہا تھا تو مجھے اسی جرمن سپاہی کی لاش نظر آئی۔نہ جانے کیوں میں اس کے قریب دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ تلاشی لینے پر اس کی چھاتی کی جیب سے پلاسٹک کا ایک لفافہ برآمد ہوا جس میں ایک تصویر تھی۔ اس میں مقتول سپاہی اور اس کا بچہ ہاتھ میں ہاتھ دیے کھڑے تھے۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ سنگین نے تصویر کو بیچ میں سے دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ تصویر کے پیچھے لکھا تھا
F252r vater
Mit liebe,
Von david
(ابو کے لیے
بہت سارے پیار کے ساتھ
ڈیوڈ کی طرف سے)
صرف تصویر دو حصوں میں نہیں کٹی تھی بلکہ ایک باپ اور بیٹا الگ ہوئے تھے۔ مجھے لگا کہ مجھ سے قتل ہو گیا، جرمن سپاہی کا نہیں بلکہ ایک پانچ، چھ سالہ معصوم ڈیوڈ کے باپ کا قتل۔ جس سے میری دشمنی نہیں تھی، میں اسے جانتا تک نہیں تھا۔ہمارا نہ علاقہ ایک تھا، نہ رنگ، نہ نسل، نہ قوم، نہ ہی جنگ کی وجہ پھر بھی میں نے اسے قتل کردیا صرف ان چند ٹکوں کے عوض جو مجھے تنخواہ کے نام پر ملتے تھے۔ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ میں بہادر سپاہی نہیں بلکہ ایک قاتل ہوں۔ مجھے لگا کہ میں اپنے گاؤں واپس جا کر کسی کو اپنی بہادری کے قصے نہیں سنا پاؤں گابلکہ تمام عمر ڈیوڈ کا معصوم چہرہ اور اس کی بد دعائیں میرا پیچھا کریں گی۔ میں، جو اس کے باپ کا قاتل تھا۔ میں، جس نے ایک بچے سے صرف اس کا باپ نہیں بلکہ بچپن بھی چھین لیا تھا۔ ”
جج نے ناگواری کے تمام تر احساسات کے ساتھ gavel کو بجایا اور سپاہی چاند کو بلاوجہ کی جذباتیت سے ٹوکتے ہوئے بات مختصر کرنے کا حکم دیا۔
سپاہی چاند نے دو تین دفعہ تھوک نگل کر گلا تر کیا مگرآنکھوں کی وحشت نہیں کم کر پایا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے ابھی بھی وہی منظر چل رہا ہے۔ سپاہی چاند پھر گویا ہوا۔ “می لارڈ، ڈیوڈ کے خیال سے بچنے کے لیے مجھے شراب کا سہارا درکار ہوا مگر ساتھ، ساتھ مجھے یہ بھی سمجھ میں آگیا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ دنیا کی کوئی بھی جنگ کسی انسان کی جنگ نہیں ہو سکتی۔ مرنے والے انسان ہوتے ہیں، یتیم ہونے والے انسان ہوتے ہیں، اپنی اولاد کی قبر پر پھول چڑھانے والے بھی انسان ہوتے ہیں، پوری جوانی بیوہ بن کر کاٹنے والی عورتین بھی انسان ہی مگر جنگ ہمیشہ حکومتیں جیتتی ہیں، مفادات جیتتے ہیں،اسلحہ بنانے والے جیتتے ہیں۔ میں نے صرف اپنے افسروں کو، اپنے ساتھیوں کو بتانے کی کوشش کی کہ انسان کی ضرورت امن ہے علاقہ یا ہتھیار نہیں۔”
جج نے ایک دفعہ پھر gavel بجایا اور بات ختم کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے حکم لکھنے لگا۔
٭٭٭
جنگ ختم ہوئے سال ہو چکا تھا۔ اس کی تباہ کاریوں کے گردوغبار چھٹ رہے تھے۔سپاہی چاند کی غداری کو چھپا لیا گیا کہ امکان تھا کہ ہندوستانی سپاہیوں میں بددلی پھیل سکتی ہے۔ ڈاکیا جب خط کا جواب لیکر رانی کے گھر پہنچا تو اسے فوت ہوئے دو دن ہوچکے تھے۔ اس کا شوہرحسرت و یاس سے خط کو تک رہا تھا جس میں مختصراً لکھا تھا “تاج برطانیہ کسی فوجی کے لواحقین کو بیرون ملک نہیں بھیج سکتا۔ ہزاروں سپاہی اس جنگ میں تاج برطانیہ کے جھنڈے تلے لڑتے ہوئے مر گئے اگر کسی ایک کو بھیجا گیا تو دوسرے بھی اس طرح کی فرمائش کرسکتے ہیں۔ جس کے اخراجات کی حکومت متحمل نہیں ہو سکتی۔”
٭٭٭
عدالت کی کاروائی ختم ہونے کے بعد اسی شام کو سپاہی چاند فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا تھا۔ جب پہلی گولی اس کے جسم سے ٹکرائی تو اس نے نہ خدا کو پکارا، نہ لارڈ کو اور نہ ہی ایشور کو۔
اس کے آخری الفاظ تھے “سوری ڈیوڈ”

Published inخرم بقاعالمی افسانہ فورم