Skip to content

ادھوری کہانیاں

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر 6

ادھوری کہانیاں

ثمینہ سید

لاہور، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ لوگ بہت بے وقوف ہوتے ہیں بہت حساس,انتہا کے بدبخت.اپنوں سے غیروں سے محبت کرنے والے.ہر آہٹ کو سماعتوں میں اترتا محسوس کرنے والے.گلی کے ذروں کو بھی عزت اور محبت سے دیکھنے والے.پھر اپنے بہت قریب والے لوگوں کی نظر انہیں پہچان کیوں نہیں پاتی وہ جھوٹے اور بےوفا سمجھے جاتے ہیں.بات سمجھنے تک ہی نہیں رہتی ان بےپناہ اور بےلوث محبتوں کی بنیاد پر دھتکار دئیے جاتے ہیں..شاید زیادہ قربت نے انکے نقش دھندلا دئیے ہوں.یاپھر انہیں اپنی بات کہنی اور سمجھانی ہی نہیں آتی.اسے سب یاد تھا بالکل تروتازہ ,صاف آوازیں ,غصے کی شدت سے بھرے چہرے.

شوہر کی غراہٹوں سے لے کر بچوں کی کلکاریوں تک اور…….بچوں کی کلکاریوں کے غراہٹوں میں بدلنے تک سب.

.وہ لاحاصل وجوداور دشت زدہ سی صورت بنائے لہروں کو تک رہی تھی.

“کیا لہریں بات سنتی ہیں؟ میں جو یہاں کھڑی ان کے ساتھ وقت بتا رہی ہوں تو انہیں میرے قیمتی وقت کی کوئی قدر ہوگی؟ اگر واقعی ہوگی تو پھر انسانوں کو کیوں نہیں ہوتی .ہمارے وقت کی,محبت کی,ریاضت کی,آنکھوں میں ٹھہرے پیار کی,ہم سے جڑی یادوں کی,ہمارے بھاگتے دوڑتے قدموں کی.ہمارے ہنستے,روتے لہجوں کی,ہمارے ارد گرد بکھری بےشمار چیزوں کی.

چیزیں بھی تو چیختی چلاتی ہیں.جانے والے کو آوازیں دیتی ہیں.ان کی آواز سماعتوں تک کیوں نہیں پہنچتی؟”

وہ سراپا سوال بنی لہروں کو گھور رہی تھی.کیا ہر دور میں مجھ جیسے بدبخت لوگوں کو پیٹ پہ پتھر باندھ کے لہروں میں پناہ لے لینی چاہیے؟”

وقت بھی اس کی محسوسات کی طرح ساکت تھا.سہما ہوا,منجمد.حرکت میں تھی تو ہوا یا پھر ناچاہتے ہوئے بھی اس کا دل.ہوا کے تند بگولوں سے ناصرف بال اڑ رہے تھے ,کپڑے اڑ رہے تھے ایسے لگ رہا تھا تلخی بھی تحلیل ہو رہی تھی.وہ زاروقطار رونے لگی سمندر کی لہروں کو چیخ چیخ کے بتانے لگی

“ابا نے اپنی مرضی سے مجھے پڑھایا,ڈاکٹر بنادیا ,پھر اپنی مرضی سے میری شادی کردی,واسطے دیتے تھے ہربار “میرا مان رکھنا ,نبھانا تم میں جان ہے میری” نبھایا میں نے شادی کے تمام لوازمات نبھائے شوہر بچے….اور اور لکھا بھی ساتھ ساتھ اپنا شوق صرف لکھنا تھا ,اپنی ہی کہانیوں کو تصویر کرنا بھی الگ روگ تھا.کہانیاں چھپتی رہیں ,نام بنتا رہا .تصویروں سے میرا کمرہ میرا سٹورروم بھرتا گیا.میں تخلیق کے عمل سے گزرتی تو شانت ہوجاتی…تم بھی تو ہوتے ہوگے ناں کبھی کبھی شانت.پرسکون.لیکن میرے اندر بھی تمہاری طرح اضطراب کی شرح زیادہ ہے.ہر وقت ہاتھ اور دماغ چلتے رہتے ہیں.میں نے ان سارے کاموں کے ساتھ اپنے بچے پوری محبت سے پالے.ایک پل بھی ان کا نہیں گنوایا کچھ بھی ضائع نہیں کیا.مجھے عبید سے محبت نہیں تھی بالکل نہیں ہے.کبھی ہوئی ہی نہیں.”

زینیا ٹھنڈی گیلی ریت پر ڈھے سی گئی.بیٹھی تو جیسے سکون ملا.دکھوں پہ رونا اور کہہ دینا تو بہت بڑی نعمت تھی یہ اسے آج ہی پتہ چلا.سرد پرشور ہوا اس کی ہڈیوں سے درد چننے لگی.

“مرنے آئی تھی تیرے پاس ,پناہ لینے اور تو ماں کی گود کی طرح مجھے لگنے لگا ہے.میرے قصے سننے بیٹھ گیاہے “وہ سمندر کو دیکھ کے خفگی سے بولی.

زینیا عبید اللہ کو عبید اللہ سے الگ ہوئے پندرہ سال گزر گئے تھے.وہ اس سے دوگنی عمر کا ڈاکٹر عبید اللہ اسے پہلے دن سے خبطی عورت سمجھتا تھا دن میں ہزار بار بتاتا ” تم ڈاکٹر ہو یہی پروفیشن ہمارا خاندانی پروفیشن ہے.لیکن تم اندر سے نالائق عورت….ان کاغذوں میں الجھی رہتی ہو پاگل.چاچو کو تمہیں میڈیکل میں لانا ہی نہیں چاہیے تھا لیکن وہ پدری شفقت میں تمہارے اندر کی یہ فضول خبطی عورت نہیں دیکھ سکے.سب ضائع کردیا.”

زینیا کے دماغ میں کہانیاں پرورش پاتیں یا کوئی تصویر اٹک جاتی تو اسے یہ سب لغویات سنائی ہی نہیں دیتی تھیں.وہ چیخ چلا کے چلا جاتا تو وہ اپنے لمبے گھنے بال سنوارتی خود کو شیشے میں دیکھ کے مسکراتی اور اپنی لکھنے والی میز کو ترتیب دینے لگتی پھر کرسی کھینچ کے بیٹھ جاتی.اور کہانیاں قرطاس پہ اترنے لگتیں.سارے ملال دھل جاتے.ملک کے بہترین شماروں میں اس کی کہانیاں چھپنے لگیں.وہ عملی طور پہ ادب کے میدان میں اترنے لگی تو عبیداللہ کا غیض وغضب بڑھنے لگا.وہ چیختا چلاتا,گالی گلوچ کرتا اور کبھی تو اس کے قلم ,کتابیں اٹھا اٹھا کے پھینکنے لگتا.وہ روہانسی سی تہذیب زدہ عورت سہمی ہوئی بیٹھی رہتی.بچے بھی رونے لگتے.اب تو بیٹا ان دونوں کی لڑائی میں چیخنے لگتا چیزیں اٹھا اٹھا کے پھنکنے لگتا.نجانے کونسا لمحہ تھا جب وہ رامش کو سنبھالتے سنبھالتے نڈھال ہونے لگی تو پلٹ کر بولی” عبیداللہ مجھے طلاق دے دو.بس بہت ہوگیا”

” کوئی یار مل گیا ہوگا ادب کی دنیا میں؟”وہ اس کے سامنے آکھڑا ہوا نفرت سے بھرپور نظریں اس کے چہرے پہ گاڑ کے بولا

“تم اتنے پڑھے لکھے ہو مہذب اور رررر میں جاہل .میرے اندر اب تمہارے لیے نفرت اور غصہ بڑھتا جارہا ہے.ہم کوئی بہت بڑا نقصان کر بیٹھیں گے.مجھے لگتا ہے یہی بہتر ہے.ابا کو کہنا میں بدکردار ہوں,جاہل اور بدزبان”

“ابا کو کیا ساری دنیاکو بتاؤں گا.تمہیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گا بہت بڑی ادیبہ…مائی فٹ.میں عبیداللہ صفی تمہیں طلاق دیتا ہوں,طلاق دیتا ہوں ,طلاق دیتا ہوں .اوررہو تم اس گھر میں اپنے کاٹھ کباڑ اور اپنے جیسی ذہنی مریض اولاد کے ساتھ” عبیداللہ پاؤں سے کئی چیزوں کو ٹھوکریں مارتا نکل گیا.بچے اسکے وجود کے ساتھ چپکے ہوئے تھے .لیکن رو نہیں رہے تھے.وہ دونوں بیٹوں کو ساتھ لگائے بیٹھی رہی سکون سے..رونا دھونا ختم ہوگیا تھا.

لیکن اس کا بھرم نجانے کس نیکی کے صلے میں رہ گیا.کچھ ہی گھنٹوں بعد اطلاع ملی کہ ڈاکٹر عبیداللہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں جان کی بازی ہار گیا.یہ تھی وہ جان ,وہ ڈگریاں ,وہ جاہ جلال جو سب فنا ہوگیا.

زینیا نے ہونٹ سی لیے.بچوں کو بھی سمجھایا

“جو اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ان کی برائی نہیں کرتے.بس بالکل خاموش رہنا ہے…کسی کو بھی اپنے گھر کی بات بتائیں گے تولوگ مزہ لیں گے ,مذاق اڑائیں گے بس یہ چیپٹر کلوز” دونوں بیٹوں نے اثبات میں سر ہلا دیا.

زندگی کی پوری ہئیت ہی بدل گئی.پیٹ کی اور بچوں کی تعلیم کی ضرورتوں نے اپنا آپ منوا لیا تو زینیا ڈاکٹر زینیا بن گئی. یہی تعلیم تھی لہذا یہی پیشہ اپنا لیا.معمولات قابل فہم ہونے لگے تو پھر قلم اٹھا کے بیٹھ گئی.انہی لفظوں نے شاید اس کا بھرم رکھاتھا.ان سے تو کسی صورت دستبردار نہیں ہوسکتی تھی.لکھتے ,پڑھتے ,کام نپٹاتے بچوں کو انسان بناتے وہ بھاگتی رہی سب بہت مشکل تھا لیکن سکون اور عزم کے ساتھ ہوتا گیا.اس نے اپنے اور بچوں کے درمیان کسی کو نہیں آنے دیا.محبتیں نہ جذبات.چاردیواری کو مزید مضبوط بنالیا.ابا نے نوکر چاکر رکھ دئیے تھے اور خود بھی آتے جاتے .بچوں کی تربیت پر مکمل نظر رکھتے.

محبت بہتے رواں پانی کی طرح ہے بندے کی ذات میں کب راستے بنا لیتی ہے خبر بھی نہیں ہوتی.لیکن الجھن میں ضرور ڈال دیتی ہے کہ اب کیا کیا جائے؟

بچے بڑے ہورہے تھے نانا اور ماں جیسے ڈاکٹرز کی تربیت میں بہت اچھے ڈاکٹر بن رہے تھےپھر رامش سپیشلائزیشن کے لیے امریکہ چلا گیا اور ساحر کو جاب ملتے ہی شادی کا شوق چرانے لگا.وقت کو پر لگے ہوئے ہیں کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا نا ہی آپ ایک لمحہ. بھی اپنی مرضی کا بنا سکتے ہیں.سب زینیا کو احساس دلاتے رہتے کہ تم بہت خوبصورت ہو جوان ہو اپنے بارے میں بھی سوچو.لیکن وہ تو ماں تھی بس .اس کے سوا اپنے وجود کا کوئی دوسرا مصرف نہیں سوچا تھا.جو محبت زندگی میں تھی بھی اس سے سہارے کی توقع نہیں تھی

کیا جانئے کب دھوپ کی آغوش میں دےدے

جس شخص کا سایہ مجھے بادل کی طرح ہے

ادب میں کوئی منزل تھی نہ مقام.بس لفظوں سے کھیلنے کا چسکہ جوئے کی لت جیسا لگا ہوا تھا.وہ اپنے اردگرد بہت سی ادیب, شاعر خواتین کو تنہا ہی زندگی گزارتے دیکھ رہی تھی.ایسے میں مسکرا کر شکر کرتی کہ چلو “اپنی زندگی کی باگ ڈور چلانے کے وسیلے تو ہیں ناں باعزت وسیلے اور اولاد بھی الحمدللہ”

پیشہ ورانہ مصروفیات اور ادبی کانفرنسوں اور تقریبات کی مصروفیات نے اسے تھکا کے رکھ دیا تھا.کبھی ادبی چپکلشیں,سازشیں بیزار کردیتیں وہ دیکھ رہی تھی ہرچیز میں منافقت ہے اقربا پروری یا پھر اپنی جگہ بنانے کے لیے,نظر آنے کے لیے جھوٹے سچے معاشقے.وہی لوگ ادب کے افق پہ جگمگا رہے تھے جن کے دامن جتنے زیادہ آلودہ تھے.کردار جن کا مسئلہ ہی نہیں تھے.اور پیار محبت ,عزت سب قدریں منافقت کی نذر ہورہی تھیں کبھی کبھار تو دل ان تمام چیزوں سے اچاٹ ہوجاتا اور زینیا خود کو تنہا کرلیتی.تبھی اس پہ کھلتا ہر رشتہ زندگی کاہر میدان کارزار ہے.گرم ریت پہ ننگے پاؤں بھاگنے جیسا اسکی پانچ کتابوں نے کوئی کمال کیا ناہی دوڈاکٹر بیٹوں نے بہت اہمیت اور عزت دی.ایک لمبا اور تھکا دینے والا سفر شل کررہا تھا.اسے لگنے لگاسارا جیون بیکار گزرا ہے.

رہتے ہیں سفر میں ہمیں عادت ہے سفر کی

یہ بھول گئے ہیں کہ کیا غائت ہے سفر کی

ملتے ہی نہیں حرف و صدا اتنی تھکن ہے

جو بات بھی کرتے ہیں وہ بابت ہے سفر کی

اس نے لکھ کے ڈائری بند کردی.آج رات کی ڈیوٹی تھی ڈائری بیگ میں ڈالی اور فرصت کے چند لمحے آنکھیں موند کر سر کرسی کی پشت سے ٹکادیا.

رامش آرہا تھا وہ ساری فیملی کے ساتھ امریکہ شفٹ ہونا چاہتا تھا.زینیا نے تو اپنی مٹی سے الگ ہونے کا کبھی سوچا تک نہ تھا وہ کئی بار رامش کے پاس جا چکی تھی ادبی دوستوں سے بھی ملتی ملاتی اسے اچھا لگتا.لیکن ہمیشہ کے لیے اپنے وطن سے چلے جانا اور ابا کو عمر کے اس حصے میں چھوڑ کے جانا زینیا کے لیے کسی طور ممکن نہیں تھا.رامش نے آنے سے پہلے ہی بتادیا

“ساحر کی اپنی فیملی ہے وہ سب میری ذمہ داری نہیں ہیں.صرف میں اور آپ جائیں گے.شادی کے تمام انتظامات کرکے آرہا ہوں.آپکا شادی میں ہونا ضروری ہے اور ہاں یہ اپنے کتابوں کاغذوں کے پلندے بند کر کے وہیں چھوڑ دیں اس سب کی گنجائش نہیں ہے.”

زینیا کو ادراک ہوا کہ تربیت یا میری محنت اور محبت سے کہیں زیادہ ان کے گندے اور کٹھور خون کا اثر طاقتور ہے.وہ ریت کی دیوار کی طرح مسمار ہوگئی تھی.گھنٹوں چپ رہی پھر موبائل اٹھا کے رافیل کا نمبر ملانے لگی.محبت پہ بھی آزمائش کا وقت آخر آہی جاتا ہے.رافیل کو اپنے سارے دکھ سنانے لگی.رامش اور ساحر کے رویے ایک بڑی اور کامیاب عورت کی کھوکھلی جڑیں دکھانے لگی.روتی رہی پھر فیصلہ کن لہجے میں بولی

” تم نے ہمیشہ مجھے اپنانے کی بات کی ہے ناں.چلو ہم دنیا کی پرواہ چھوڑتے ہیں.اپنی محبت بچا لیتے ہیں.”پورا یقین تھا اس کے لہجے میں.پورا مان.

“ہاں میں کب پیچھے ہٹ رہاہوں.نکاح کرلیتے ہیں .تم مت رہو بیٹوں کے ساتھ نکال دو انہیں اپنے گھرسے .میں آتا جاتا رہوں گا…یار تم میرے مسائل سے واقف ہو جب ہم ملے تھے تب سے شادی ,بچے سب ایسا ہی تھا.بتاؤ کیا کہتی ہو”

“نہیں شادی کے لیے نہیں ں کہہ ہ ہ رہی ی تھی ی ی.وہ بکھرے وجود کے ساتھ اپنا بھرم سمیٹنے لگی.

“بچوں کو کیسے نکال سکتی .ان کے باپ کا گھر ہے اور محبت پا کر اکیلیے ہی زندگی گزارنی ہے تووووو”فون بند کردیا اس نے.اور جنونی کیفیت میں سارے کاغذ اور لیپ ٹاپ سمیٹ کے کونوں میں لگانے لگی.

اب گیلی ریت پہ بیٹھی سارے راز اگل دئیے.ذہن میں سب کی زندگیاں,سب کے اپنے اپنے گھر چل رہے تھے.روتی رہی.خود کو لہروں کے حوالے کرنے کی ہمت بنانے لگی.اٹھ کے سمندر کے سامنے ڈٹ کے کھڑی ہوگئی سانس کھینچی تو نجانے کہاں سے کاغذوں کی خوشبو,کتابوں کے ٹائٹل ,ادھوری تصویریں اور ڈھیروں قلم طاقت بن کے اسے کھینچنے لگے.وہ پوری آنکھیں کھولے یہ تماشا دیکھتی رہی

“سب اپنی اپنی زندگی جی رہے ہیں زینیا تو تو کیوں ہار رہی ہے.جھوٹے دنیاوی سہارے تجھے دھوکہ کیوں دے رہے ہیں اس لیے کہ تو دھوکہ کھا رہی ہے.”

“یہ دیکھ زینی تیری کہانی چھپی ہے میں نے لفافے کے اوپر سے بھی تیرا نام پھاڑ کے سنبھال لیا.میری جان .کہیں زمین پہ نہ گر پڑے.یہ نام تو ہمیشہ زندہ رہے گا میری زینیا احمد کا نام”اماں کی کھنکتی آواز نے اس کے مردہ وجود میں جان ڈال دی.وہ اپنی ماں کی اکلوتی قیمتی تخلیق تھی.یہ آواز اسے حصار میں لےکے لہروں سے دور لے آئی.جہاں بہت سی ادھوری کہانیاں اسکی منتظر تھیں.

Published inثمینہ سیدعالمی افسانہ فورم