Skip to content

ادرک کا سواد

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 123
ادرک کا سواد
امجد جاوید ۔حاصل پور پاکستان

شہر بھر کی طوائفوں نے تلسیؔ کی واپسی پر ذرا سی بھی حیرت کا اظہار نہیں کیا۔ وہ چند ماہ پہلے ایک پنڈت کے بھاشن سے متاثر ہو کر اس نےسب کچھ چھوڑ دیا تھا۔ اس نے جوگ لے لیا تھا۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد پتہ چلا کہ وہ پنڈت کے بنائے ہوئے آشرم میں تعلیم و تربیت کے لئے چلی گئی ہے ۔ شہر کی چند خرانٹ ، گھاگ اور تجربہ کار طوائفوں نے ایک دوسری سے شرط لگا لی اور اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگیں۔ تلسیؔ کی واپسی ہوئی ۔ کسی طوائف نے شرط جیتی ، کسی نے ہاری لیکن صحافیوں کے لئے یہ خبر خاصی دلچسپ اور سنسنی خیز تھی۔
میں نے تلسیؔ کو پہلی بار اس وقت دیکھا تھا ، جب اس کی ماں میڈم گلزاری اسے اپنے ساتھ میرے آفس لائی تھی ۔غبارے کی مانند پھولے جسم والی،میڈم گلزاری بڑی دھانسو قسم کی طوائف تھی۔میں ایک ہفتہ روزہ فیملی قسم کے میگزین کا مدیر تھا، جس کے سرورق اور اندر کے رنگین صفحات پر ماڈل شائع ہوتی تھی۔میڈم گلزاری اپنی بیٹی تلسیؔ کو بطور ماڈل متعارف کرانے کے لئے لائی تھی اور اس نے میرے ہی میگزین کا انتخاب کیا تھا۔ لڑکپن سے جوانی کی حدوں میں قدم رکھتی ہوئی تلسیؔ ،مجھے اُس آم کی مانند لگی ،جس میں رَس بھر گیا تھا۔کھٹاس جا رہی تھی اور مٹھاس کی شروعات ہو چکی تھی۔ کچی کیری اور ٹپکے آم میں بڑا فرق ہوتا ہے اور تلسیؔ اس کے کہیں درمیان تھی ۔تیکھے نین نقش، قدرے سانولی، چہرے پر خاصا نمک ، سڈول جسم ، جیسے جم جوائن کرکے خاصی محنت کی ہو۔ سینے پر نسائیت کا اظہار اتنا زیادہ نہیں تھا ، جتنا کوشش کرکے ابھارا گیاتھا۔ میں خوف زدہ ہوگیا۔ یہ پہلا پاپ میں اپنے سر نہیں لینا چاہتا تھا۔میں بہانہ بنا کر ٹال دیا۔ یہ ٹال مٹول چند ہفتے جاری رہی۔ ایک دن میڈم گلزاری کا بڑے غصے میں فون آ گیا۔
’’ کیا چاہتے ہو تم ؟ عورت ، پیسہ یا کچھ اور۔۔۔ اپنی ڈیمانڈ بتاؤ، مجھے میری بیٹی کی پرموشن چاہئے۔‘‘میں نے بھی اس کا فون کوئی جواب دئیے بغیر بند کر دیا۔ اگلی چند منٹ میں اس کا دوبارہ فون آ گیا۔’’ دیکھتی ہوں میں تم کیسے نہیں چھاپتے ہو ، آ رہی ہوں تیرے آفس ۔‘‘
بلاشبہ وہ ٹھیک کہہ رہی تھی ۔جہاں تک اس کی رسائی تھی ، میں تو اس گلی میں بھی داخل ہونے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔
اگلے دن میں عصر پڑھ کر آفس آیا تو وہ تلسی سمیت میرے آفس میں براجمان تھی ۔میں نے اپنی ٹوپی دراز میں رکھتے ہوئے اس سے پوچھا
’’ جی فرمائیں۔‘‘
’’ تمہارے میگزین کے مالک سے بات ہوئی ہے۔ میں یہی سوچ کر آئی ہوں ۔ اگر تم میری بیٹی کو نہیں چھاپو گے تو اس دفتر سے ذلیل کر کے نکال دئیے جاؤ گے۔لیکن ۔۔۔‘‘
’’ لیکن کیا۔۔۔‘‘ میرا دماغ بھی گرم گیا۔ اس نے میری سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا
’’ میں نے سوچا تھا، میری کانچ بدن بیٹی کو شہرت دو، میں تمہیں عیش کرادوں گی لیکن ۔۔۔‘‘
’’ لیکن کیا، یہ بتاؤ گی ؟‘‘ میں ہر طرح کے حالات کے لئے تیار ہوگیا۔
’’ لیکن یہ جو تم نما زپڑھ کر آئے ہو نا ، اب میں سمجھی ، تم میرے مطلب کے نہیں ہو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھی اور اپنے غبارے جیسے بدن کو سنبھالتی ہوئی اٹھ کر بڑے عجیب لہجے میں بولی۔’’ بندر کیا جانے ادرک کا سواد۔‘‘یہ کہہ کر وہ آفس سے نکلتی چلی گئی اور میں خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ میں اس کا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
چند ہفتے بعد سنا ، تلسیؔ کی رونمائی ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ہوئی تھی ۔شہر بھر سے صحافی ، طوائف اور تماش بین جمع تھے ۔ جو اسی رات وہ جمگھٹا، جسم کی منڈی میں تبدیل ہوگیا۔
تلسیؔ اپنے کیرئیر کے عروج پر تھی کہ یہ خبر آ گئی کہ وہ ایک پنڈت کے حلقہ ادارت میں شامل ہوگئی ہے ۔ان کے بھاشن سے متاثر ہو کر وہ ان کے آشرم میں تعلیم تربیت کے لئے چلی گئی ہے ۔ جلد ہی اس کی واپسی ہوگئی ۔میں نے میڈم گلزاری سے رابطہ کیا اور ان کے گھر جا پہنچا۔ تلسیؔ سے چند سوال کئے تو وہ پھٹ پڑی ۔
’’ میری آشرم سے واپسی کی وجہ وہاں پر ودھیارتھی لڑکیاں تھیں۔مجھے انہوں نے یہ بھولنے ہی نہیں دیا کہ میں ایک طوائف ہوں ۔ ‘‘
’’ طنز کرتی تھیں، مطلب نفرت ۔۔۔‘‘ میں نے پوچھا
’’ میرے طوائف ہو نے پر نفرت کرتی تو اچھاتھا مگر وہ تو میرے طوائف ہونے میں کشش محسوس کرتی تھیں۔ان کے سوالوں نے مجھے یاد دلائے رکھا کہ ۔۔۔‘‘
’’ مثلاً کس قسم کے سوال ؟‘‘میں نے تجسس سے پوچھا
’’یہی کہ ایک سے زیادہ مرد کا مزہ الگ ہوتا ہے کہ نہیں؟کس طرح کا مرد کیسا ہوتا ہے ؟ایساکیا کیا جائے کہ مرد پاگل ہو جائے ؟ہر مرد ایک جیسا ہوتا ہے ؟ جنس کے موضوع سے وہ ہٹتی ہی نہیں تھیں۔ ایسے ایسے سوال جنہیں میں بھی نہیں سمجھتی تھی ۔‘‘
’’ کیا اسی وجہ سے واپس آ ئی ہو ؟‘‘
’’ نہیں بلکہ اب پتہ چلا ہے کہ ادرک کا سواد کیا ہوتا ہے ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مسکرائی اور ایک خاص ادا سے مجھے دیکھا۔مجھے اپنا آپ ڈولتا ہوا محسوس ہوا

Published inافسانچہامجد جاویدعالمی افسانہ فورم