Skip to content

احساس

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 115
احساس
مریم جہانگیر ،اسلام آباد

اس نے آہستگی سے تانیہ کے کمرے میں پاؤں رکھے تھے کہ اگر سو رہی ہو تو آہٹ سے جاگ نہ جائے۔ لیکن حرماں نصیباں کو نیند کہاں آنی تھی۔ جب محبت مہرباں نہ ہو تو کسی بھی قسم کی مہربانی ،مہربانی نہیں لگتی ۔ ہر چیز زحمت لگتی ہے تھکاوٹ کے بعد بھی تھکاوٹ ہی ہوتی ہے نیند آنکھوں کے دریچوں پر دستک نہیں دیتی۔ سامنے اُجڑی تانیہ لکڑی کی کھڑکی سے جڑی کھڑی تھی تنہائی کا دیمک اس گلابوں کی طرح کِھلی لڑکی کو چاٹ چکا تھا۔ آزر نے پاس آکر اس کا نام پکارا تو وہ چونک اٹھی۔آنکھوں میں سوال تھے اورر تجگوں کی نشانیاں حلقوں کی صورت میں عیاں تھی۔ یوں لگتا تھا کسی گہرے خواب سے اٹھی ہو۔ ’’ تم اسے بھول کیوں نہیں جاتی؟‘‘ ’’ عجیب بات کرتے ہو ؟ انسان کسی کتے کو بھی پال لے تو اس سے محبت ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ زیبِ تن کیا ہوا جوڑا بھی اپنا محسوس ہونے لگتا ہے۔وہ شخص تو نو سال میرے ساتھ تعلق میں رہا۔ نو سال سمجھتے ہو تم؟اس میں کتنے موسم بدلتے ہیں۔ کتنی عیدیں آتی ہیں؟ کتنی راتیں گزرتی ہیں؟ میں کیسے بھول جاؤں ؟ تمہیں پتہ ہے آج سے سات سال پہلے میں نے ایک بڑھیا کو ہاتھ دکھایا تھا اس نے کہا تھا دولت تو نہیں مگر تمہاری قسمت محبت کے معاملے میں دھنی ہے۔ اس وقت مجھے شک تھا کہ آزر تم مجھ سے محبت کرتے ہولیکن میرا روم روم اس کی محبت کی مالا جپتا تھا۔ میں نے امید بھری آنکھوں کو اس بڑھیا پہ مرکوز کیا میرے دماغ نے سوال پوچھا مجھے کیسے پتا چلے گا کہ کون مجھ سے سچی محبت کرتا ہے۔وہ بڑھیا دنیا دیکھ بیٹھی تھی سمجھ گئی کہ روگِ عشق تکیے کے نیچے پال رکھا ہے بولی تمہیں وقت بتائے گا کہ کون تمہارے ساتھ ہے ۔ لیکن تمہارا دل جس کہ لئے گواہی دے اس کے تصور پر تہجد کے وقت ۴۰۰ مرتبہ یا عزیز پڑھ کر پھونک دینا اللہ خیر کرے گا۔ تصور پکا نہ ہو تو تصویر رکھ لو ۔ آزر پھر میں تم سے خود ہی دور ہوتی گئی کیونکہ وہ مجھے اپنے پاس چاہئیے تھا۔ میں ہر رات اٹھتی تھی ٹھیک تہجد کے وقت ۔ مجھے یاد ہے وہ جاڑے کا موسم تھا ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے میرا بال بال کھڑا ہو جاتا تھا مگر میں بنجارن کھلے آسمان کے نیچے جائے نماز پر بیٹھ جاتی تھی۔ تہجد کے نوافل میں تو دلچسپی ہی کہاں تھی خود غرض قسم کی عبادت تھی سلام پھیرتے ہی اسکا نام لیتی تصویر سامنے رکھتی اور ورد شروع کر کے پھونکیں مارتی۔ لیکن دیکھو میری کوئی پھونک میرے کام نہ آئی گھر کا پیر ہولا ہوتا ہے ناں ، اسے میرا نہیں بنایا گیا تھا۔ میری ساری دعائیں رائیگاں گئیں مجھے وہ چائیے تھا اس لئے نہیں کہ وہ حاصل کرنے کے قابل تھا بلکہ اس لئے کہ اس نے میرا نام اپنے نام کے ساتھ مشہور کر رکھا تھا لیکن کیا ملا مجھے ؟ جگ ہنسائی ؟ رسوائی؟۔‘‘بولتے بولتے وہ تھک گئی تھی لوگوں کے طنز اس کی آنکھوں کے ڈوروں میں ہلکورے لے رہے تھے کرسی پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔آزر کو اس پر ترس آیا تھا۔ وہ اسکی تھکاوٹ اتارنا چاہتا تھا اس کے دماغ سے تلخ یادوں کو معدوم کر دینے کا متمنی تھالیکن تانیہ کو بانو قدسیہ کی سیما نہیں بنانا چاہتا تھا۔ ’’ وہ تمہارے لئے بنا ہی نہیں تھا ۔ جب تم یہ تسلیم کر چکی ہو تو کس بات کا رونا ؟چھوڑ دو آگے بڑھ جاؤ۔‘‘ اس نے حوصلہ دیا۔ تانیہ نے اب اسکی گہری آنکھوں میں گھورا وحشت ناچ رہی تھی۔ ’’ بھول جاؤں ؟ کیسے بھول جاؤں؟ نو سال ایک شخص کے ساتھ صبح شام کرنا اپنا آپ اسے دان کر دینااور اس کے بعد ممکن ہے کہ میں اسے بھول جاؤں؟ میں نے دعائیں مانگنا چھوڑ دی ہیں کیونکہ اس کا نام خود ہی لبوں پہ آجاتا ہے نو سال کی عادت تھی کیسے چھوٹ سکتی ہے اتنی جلدی ؟ یہ سچ ہے کہ میں اسکی بیوی نہیں تھی لیکن وہ مجھے ایسے ہی پچکارتا تھا۔میں نے اسے بتایا تھا کہ اگر تم میری کھال کے جوتے بھی بنوا کر پہن لو تو مجھے اعتراض نہیں ہو گا میری کھال تمہارے لمس کی خوشبو سے زندہ رہے گی۔ اس نے ایسا ہی کیا دیکھو میرے سارے رنگ اتار لے گیا روز رات کو جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزاری کر کے واپس گھر جاتا تھا تو یہ میں تھی جو اپنے بستر پر کروٹیں بدلتی جاگتی رہتی تھی۔ یہ میں تھی جو آیت الکرسی پھونک کر تصور میں اسے اللہ کی امان میں دیتی تھی۔ یہ میں تھی جس نے اسکے گھر کے ہر غم اور ہر بلا کو آیتوں سے رد کرنا چاہا۔ وہ سدا کا نکھٹو۔ ڈر کے مارے اپنے امتحانات کا نتیجہ بھی نہیں دیکھتا تھا۔میں دو نفل حاجت پڑھ کر یہ کام کرتی تھی۔رمضان میں اسکی طرف سے قرآن پڑھتی تھی اور تم کہتے ہو کہ اسے بھول جاؤ؟‘‘ آزر کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنے تاثرات کیسے قابو کرے جس لڑکی کو اس نے اپنے دل کی سب سے اونچی مسند پر براجمان کر رکھا تھا وہ اپنے دل پر گزری قیامت اتنی آسانی سے سنا رہی تھی وہ اس پہیلی کو آج کھوج لینا چاہتا تھا۔ہر چیز اس کے منی سے نکلوا لینا چاہتا تھا. ’’ ہو سکتا ہے اس کی واقعی کوئی مجبوری ہو؟ڈھنگ کی نوکری نہ ہو، گھر والے نہ مانتے ہوں؟ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘ ’’ اونہہ مجبوری؟ ہاں تھی اس کی مجبوری۔اس کی مجبوری پیسہ تھا اور میں نے خوب سارا دیا۔15 سال کی عمر سے آخری دن تک میں نے اپنی پاکٹ منی ، اپنی عیدیاں اس شخص پر خرچ کی ۔ وہ مجھے گڑیا کہتا تھالیکن پروین شاکر نے صحیح کہا ہے کہ کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں گڑیا ہی لگتی ہوں۔تم تصور کر سکتے ہو آزر میں اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک کمرے کے دروازے کے باہر کھڑی تھی۔کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک جوڑا اپنی روح کی عریاں نگری میں اپنے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کر رہا تھا۔میں نے ڈر کر اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا تھا۔میں نے کبھی کسی مرد کو ایسی حا لت میں نہیں دیکھا لیکن محبت نے اس وقت مجھے یہ بُھلا دیا تھا کہ یہ مرد جسکا ہاتھ تھامے میں کھڑی ہوں مجھ سے وہی کچھ چاہتا ہے جو اندر کمرے میں موجو د شخص چھپا رہا ہے۔یہ بھی نا محرم ہے اور وہ بھی نا محرم۔لیکن تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے مجھے اس گناہ کی دلدل میں بھی بچائے رکھا سنبھالے رکھا۔اب جب محبت تباہ کر چکی ہے تو میں ایک اور نا محرم کے سامنے کھڑی یقین دلا رہی ہوں تمہیں کہاں آئے گا یقین لیکن دیکھو میں پاک ہوں۔‘‘ آزر کے پاس اس بات کے جواب میں کوئی تسلی نہیں تھی اس نے تانیہ کے پھیلے ہوئے خالی ہاتھوں کو دیکھا اپنا نام تلاش لجنے کی خواہش سرسرا رہی تھی لیکن نہیں …. بات بدلنے کی غرض سے لہجے میں شگفتگی گھول کر بولا’’آج چاند رات ہے آؤ چلو مہندی لگوا لاتا ہوں تمہیں۔‘‘ تانیہ کی آنکھوں میں تمسخر جاگ اٹھا اسکا چوڑا ماتھا سپاٹ تھا نہ کوئی قسمت تھی اور نہ امید۔ ’’ تم جتنا مجھے اسکی یادوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہو اتنا پاس لے جاتے ہو۔مہندی کا قصہ بھی سناتی ہوں۔ اسے مہندی بہت پسند تھی لیکن میرے ہاتھوں پہ مہندی کا صرف ایک ہی ڈیزائن پسند تھا۔اور میں نے نو سال اپنے بائیں ہاتھ پر صرف اس کی پسند کی صرف اسکے نام کی مہندی لگائی۔ پھر جب کم عمری سے ہم ذرا منگنی کی عمر میں داخل ہوئے اور جاننے والوں نے مجھے کہا کہ یہ تم سے کبھی شادی نہیں کرے گا تو میں ڈر گئی میں نے ہر وسیلہ ڈھونڈا جو اسکو میری طرف مائل کر سکے۔ کسی نے کہا باداموں پر فلاں سورت پڑھ کر فلاں درخت کے ساتھ باند ھ دو۔ درخت قبرستان میں ملا۔ میں جا پہنچی۔ کسی نے کہا میٹھے پر یہ دم کر کے دے دو ۔ میں نے چالیس چالیس دن وظیفے کئے اور اس کو چاکلیٹس پر پھونک پھونک کر حلق سے اتروائے۔ اس کے گھر میں ایک قرآن پاک ہے جو میں نے دیا تھا، نیلی موم بتیوں والا کینڈل اسٹینڈ اسکی 20ویں سالگرہ پر لیا تھا، ایک کارڈ جس میں اسے جانِ تانیہ لکھا تھا ، ایک پنک کلر کی شرٹ اور ہاں اسے گوگل سے دیکھ کر ایک لوشن بھی بنا کر دیا تھا سردیوں میں جلد بہت خشک ہو جاتی تھی ناں اسکےبنجر دل کی طرح ! اُف میں بھی مہندی کا قصہ سناتی کہاں نکل گئی۔۔۔۔۔۔ میرے ایک جاننے والے نے بتایا کہ 9 یا 10 محرم کو شاہ چن چراغ کے مزار پر ہاتھ پہ مہندی لگا کر موم بتی رکھ کر اسے جلا کر تا وقتیکہ موم بتی ختم ہو جائے جو منت مانگی جاتی ہے پوری ہو تی ہے۔ میں جا پہنچی شاہ چن چراغ کے مزار پر ننگے پاؤں۔ محبت وسیلے ڈھونڈتی ہے حالانکہ سچی محبت کو کسی حیلے وسیلے یا وظیفے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ محبوب اور معاشرے کے سامنے خود اپنے آپ کو منوا لیتی ہے۔رات گہری ہوتی جارہی تھی اور موم بتی پگھلنے میں اتنا وقت لگا رہی تھی جیسے دلہن تیار ہونے میں لگاتی ہے جلتا گرم موم میرے ہتھیلیوں کو جھلسا رہا تھا لیکن محبت کو پا لینے کی امید نے میرے لبوں کو خوشگوار مسکراہٹ سے دوچار کر رکھا تھا ۔ پیچھے سے ابا کے گھر آ جانے کا ڈر لیکن میں نے تن تنہا یہ منت بھی مانی اور جانتے ہو یہ منت ماننے کے بعد میں نے کبھی مہندی نہیں لگائی حالانکہ میرے ہاتھ شاذونادر ہی خالی رہتے تھے۔ میں بے ربط جملے بول رہی ہوں میری یادیں تسلسل سے دستک نہیں دیتی ان کا ہجوم آتا ہے اوربالکل ایسے ہی میرے آج کو میری ذات کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔انسان کو مرگی کا دورہ پڑ جائے یا وہ طاعون سے مر جائے، اس کے جسم میں کیڑے پڑ جائیں یا وہ جسم کے ریشے ریشے کے جدا ہونے کا درد جھیل لے لیکن کبھی کسی بے وفا کی محبت اور وہ بھی سچی محبت اسکی سانسوں کے ساتھ پرورش نہ پائے ورنہ انجام میرے جیسا ہوتا ہے۔ عبرتناک انجام۔۔ خالی آنکھیں، خالی ہاتھ۔۔۔۔ ‘‘ ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔’’ تمہیں اس سے اتنی محبت تھی تو تم نے اسے چھوڑاکیوں؟ اسے آخری وقت تک آزماتی ناں؟ ویسے تو بہت کن فیکون کہتی ہو شاید اللہ اس کا دل بھی بدل دیتا؟‘‘ آزر اب سمجھ رہا تھا کہ شاید وہ کسی لا علاج مریض سے بات کر رہا ہے جسے موت سے دلچسپی نہیں ہوتی لہٰذا وہ اس کی توجہ زندگی کی طرف مبذول کروانا چاہ رہا تھا۔ ’’ پتہ کیا آزر اللہ نے قرآن پاک میں صحیح کہا ہے کہ ’’ تم زمین اور اس میں جو کچھ ہے (خزانے) کے بدلے بھی کسی کے دل میں محبت پیدا نہیں کر سکتے اور میں کر سکتا ہوں‘‘ میں جب مکمل طور پر اس کے نام کی مالا جپنے لگی تو میں نے ربِ کائنات سے شکایت کی کہ میرے دل میں اس کا خیال ڈالنے والا تُو ہے تو پھر اس کے نام کو میرا نصیب بھی تُو خود ہی بنا دے۔ میں نے اس ضمن میں اتنی دعائیں کی کہ لوگوں نے مجھ سے اپنی دعائیں منگوانی شروع کر دی۔ میرے ہاتھوں سے تسبیح جدا نہیں ہوتی تھی ہر وقت ذکر اذکار اور اللہ کے کلام میں تو جانتے ہو نا کتنا اثر ہے ۔ اللہ کے کلام نے میرا دل اسکی طرف سے سخت کر دیا۔ جو شخص اللہ کے کلام سے نہ بدلا وہ میری محبت سے کیسے بدل جاتا۔ نہیں نہیں میں کچھ جلدی میں بات سمیٹ رہی ہوں ہوا یوں کہ مجھے پتا چلا کہ اسکا کسی لڑکی کے ساتھ جسمانی تعلق ہے میں حیران ہو گئی اور کٹورے پر کٹورا یہ کہ اس نے خود میرے سامنے اعتراف کیا لیکن جانتے ہو کہ بجائے میں اس پر خفا ہوتی وہ مجھ سے خفا ہو گیا کہ’’ تم میری ہونے والی بیوی ہو اتنی ذرا سی خطا معاف نہیں کر سکتی تو تمام عمر کیسے کاٹو گی؟ ‘‘ نتیجہ یہ ہوا کہ 24 گھنٹے بعد میں اس کے سامنے روتی ہوئی کھڑی تھی کہ ہاں میری غلطی ہے۔ اس واقعے کے بعد میرے وظائف تیز سے تیز تر ہو گئے ۔ میری نمازیں لمبی اور سجدے آنسوؤں سے تر ہوتے گئے۔ کیا میں زانیہ ہوں جو میرے نصیب میں زانی لکھا گیا یہ سوال میرے وجود کو لرزا دینے کو کافی تھا تقریباً ایک سال بعد پھر پتا چلا کہ اس کے جسم کی آگ میری منتوں سے بجھنے والی نہیں ہے لہٰذا وہ موہن پورہ کی کسی لڑکی کاعرق قطرہ قطرہ اپنے انداُتار رہا ہے۔اس دن میرا دل اس کے لئے دھڑکنا بند ہو گیا۔ میں نے چاہا میں اسے معاف کر دوں لیکن میں چاہ کر بھی اسکو معاف نہیں کر سکی۔ آج دو سال ہونے کو آئے اس کے سندیسے آ تے ہیں کہ میں اسکو معاف کر دوں اس سے پہلے کی طرح بات کروں لیکن میرے دل کو اس کے لفظوں کی گرمی نہ تو بھاتی ہے اور نہ پگھلاتی ہے۔حالانکہ یہ وہ شخص ہے کہ جس نے دایاں پاؤں میرے بائیں رخسار پر رکھا تھا اور کہا تھا بولو تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔میں نے فوراً اس کے پیروں کو چوم کر کہا تھا ہاں میں تم سے محبت کرتی ہوں.تمہارے لئے یہ صرف لفاظی ہے میں نے ازکو برتا ہے جھیلا ہے۔میں نے اسکے تسمے اپنے شوق سے باندھے تھے ۔اس کے لئے کتنی دفعہ چائے بنائی اور وہ بھی میرے مڑنے سے قبل پیالی خالی کردیتا تھا ڈھونگی….۔ مجھے سب کہتے تھے تمہیں اس کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ تا اور میں کہتی تھی کہ وہ ہے ہی ایسا کہ اسکو دیکھنے کے بعد کچھ اور دیکھنے کی تمنا باقی نہیں رہتی۔ آج مجھے اس کے چہرے سے بھیانک چہرہ کوئی نہیں لگتا۔ تم اس قرب کا تصور بھی کر سکتے ہو؟نو سال تک استعمال کرنے کے بعد کوئی آپ کو دھتکار دے، آپ کو اور کسی کے قابل نہ چھوڑے ایسا لگتا ہے کہ میری زندگی کا کوئی مصرف ہی نہیں ہے۔ میرا ہونا ایک بوجھ ہے۔مجھے سانس لینا بھی دشوار لگتا ہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ میں خود کو نوچ کر رکھ دوں۔میں چاہتی ہوں کہ مجھے ٹی بی ہو جائے میرے جسم سے خون کا ہر وہ قطرہ جو اس سے محبت کے وقت موجود تھا ختم ہو جائے جل جائے۔رگوں میں اس کے نام پہ بہتے خون کے ساتھ میں کیسے اسے بھول جاؤں؟میرا اس سے بات بھی کرنے کا دل نہیں چاہتا۔چاہوں تو ہاتھ بڑھاؤں اور فاصلے مٹا دوں وہ ہوس کا پجاری پھر سے وقت گزارنے لگ جائے گا۔ اسے تن سے مطلب ہے۔ریشم باتوں کے پھندے مجھ پہ پھینکے گا اور میں بغیر کسی پتوار کے اسکی گود میں جا گروں گی۔میں تمہیں بتاؤں؟ وہ بذاتِ خود ایک نفسیاتی مریض ہے اس لئے وہ مجھے کہتا تھا کہ میں تمہاری نفسیاتی باتوں سے تنگ آ گیا ہوں بھلا بتاؤ۔۔۔ ہمارے معاشرے میں محبت کے بعد شادی ہی تو ہوتی ہے یہ کیسی نفسیاتی الجھن ہے؟ لیکن وہ کہتا تھا تم کر لو شادی ہم پھر بھی ملیں گے ۔ ہم نے زندگی کا طویل حصہ ایک دوسرے کے ساتھ گزارا ہے تمہیں میں چھوڑ نہیں سکتااور واقعی اس نے ابھی تک مجھے نہیں چھوڑالیکن میں اسے چھوڑ چکی ہوں۔وہ ہوتے ہوئے بھی میرے لئے نہیں ہے۔وہ زہر ہے۔ وہ میرے اور میرے اللہ کے درمیان آ گیا اس نے میری عبادتوں کو بھی ناپاک کر دیا۔میرا اخلاص اس کی لمبی بھنوؤں اور گہری آنکھوں میں ڈوب کر رہ گیا مجھے اسکے سارے نقش یاد ہیں میرے ہاتھوں کی پوروں میں ہیں وہ زہر ہے وہ سرطان ہے اس نے کچھ نہیں چھوڑا‘‘اس کے ہونٹ بولتے بولتے تھر تھرا گئے تھے اور حلق بھی خشک ہو گیا تھا۔ ’’ اگر وہ تمہیں اتنا ہی بُرا لگتا ہے تو تم چار بھائیوں کی بہن ہو۔ میں تمہارا کزن ISI میں جھک تو نہیں مار رہا۔ایک اشارہ کرو اسے گو لیوں سے بھون دیں گے۔اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔اسکی گردن تمہارے سامنے لا پھینکیں گے۔ صرف اسکا نام بتا دو تو اسے نشانِ عبرت بنا دیں گے۔آزر کے اندر خون نے جوش مارا تھا۔’’’ تم کیا چاہتے ہو کہ میں اس شخص کے لئے موت کی دعا کروں؟ یا اسکی سزا موت تجویز کروں جس کے بعد دو سال سے ہر پل جیتی ہر پل مرتی ہوں؟میں یہ بھی کر گزرتی اگر وہ اپنی آخری حد سے نہ گرتا۔ تم جانتے ہو کہ اس نے مجھے دھمکانے کی کوشش کی ہے کہ اگر میں اس سے نہ ملی تو وہ محبت کے نام پر میری جتنی نشانیاں اس کے پاس ہیں وہ ان کو استعمال میں لائے گا۔ایسے شخص کو میں کیسے آسانی سے زندگی سے آزادی کی سزا سنا دوں؟ ‘‘ تانیہ کی آنکھوں میں شرارے لپک رہے تھے۔’’ میرے پاس اس کے اس لڑکی کے ساتھ جسمانی تعلقات کی تصاویر بھی ہیں اورمیں اسے اتنے آرام سے چھوڑ دوں۔‘‘ وہ معصوم سی لڑکی اب انتقام کی آگ میں لکڑی کی طرح جل رہی تھی۔آزر لمحہ بھر کو ڈر سا گیا ’’ پھر کیا کرنا چاہتی ہوتم اس کے ساتھ؟‘‘ ’’میرا دعا مانگنے کا حوصلہ نہیں لیکن دعاؤں پہ یقین ہے مجھے محبت پہ یقین ہے میں دعا کروں گی کہ اسے احساس ہو جائے کہ اس نے کیا کیا ہےاس نے کیسے سچی محبت گنوائی ہے۔اس نے کیسی پجارن گنوائی ہے۔جس دن اسے میری محبت کی شدت اور سچائی کا احساس ہو گیا اس دن سے زندگی کا ہر پل اس پہ بھاری ہو جائے گا وہ جینا چاہے گا جی نہیں پائے گا وہ موت مانگے گا اورموت بھی مہربان نہیں ہوگی ۔‘‘ غلط شخص سے ہوئی ناکام محبت دور کہیں دور کھڑی مسکرا رہی تھی

Published inعالمی افسانہ فورممریم جہانگیر