Skip to content

احتیاط

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 104
احتیاط
رضیہ صغیر، پٹنہ، انڈیا

”اختری، ادھر آ ذرا کام چورنی۔۔۔۔۔ تیری آنکھوں میں موتیا آ گیا ہے کیا؟۔۔۔۔۔ ای دیکھ پپیتے کے پورے پیڑ کو کیڑا کھائے جا رہا ہے۔۔۔۔۔ تجھے کئی دن سے یاد دلا رہے ہیں نا کہ کیڑے مارنے والی دوا باغیچے کے سب پیڑوں پر چھڑک دے مگر تجھے چھمک چھلو بننے سے فرصت ملے تب نا، تیرے کان پر جوں بھی رینگے”
”اما ای میں ہمری کوئی گلطی نا ہے۔ او گڈوا ؔ کو کہے رہے ہم کہ کیڑا مار دوا سب پیڑ پودا پر چھڑک دے مگر اوکے تو آج کل خوبے رنگین سوجھے ہے سب۔۔۔۔۔ پتا ہے اما ،او ہم رات کے دیکھے رہے کہ گڈوا ؔ اوہاں کھڑکی کے پیچھے۔۔”
”چپ کر چغل خور کہیں کی۔گڈوا کوئی خصم ہے تیرا، کا جو تو اس پر سارے کام کا بوجھا لاد دیتی ہے۔” نسیمہ بیگم نے اختری کی پوری بات سننے سے قبل ہی اسے پھٹکار لگائی اور ایک سرسری نگاہ سے اختری کو سر تا پا نہارا۔۔۔۔۔ ستارہ ٹانکی ہوئی ساری، گھنگھرالے بال بیچ میں لمبی لکیر کھینچ کر قرینے سے سنوارے ہوئے، پیشانی پر سرخ رنگ کی بندی، لبوں پر گہرا سرخ لپ اسٹک، اختری کی شخصیت کو نمایاں کرنے میں خوب معاون تھے۔ نسیمہ بیگم نے بھویں سکوڑتے ہوئے اسے گھورا اور پھر بھنویں اچکاتے ہوئے بولیں۔
”ہائیں۔۔۔۔۔ کیوں رے اختری آج تیری اما کا بیاہ ہے کا جو اتنا بن ٹھن کے آئی ہے۔”
”ہاں، ہاں اما اورے مارو طعنہ۔ اب وہی اجڑے پھجرے بال لیے رہتے، گندا سندا کپرا پہنے رہتے، بدن سے باس مارتا ہمرے تب تم ای ہی کہتی کہ کا رے اختری تیرے ابا کا ماتم ہے کا۔۔۔۔کچھہو میں تمہرے چین نا آوے ہے اما۔”
”زیادہ پھوٹانی نا دکھا۔ خوب جانتے ہیں ہم کہ تو آجکل کون سے خربوزے کو پانی دیتی رہتی ہے۔” اتنا کہہ کر نسیمہ بیگم نے اختری کو باغیچے کی صفائی کا حکم دے دیا اور خود زمین کی جانب جھک کر پپیتے کے گرے ہوئے سوکھے پتوں کو کانپتے ہاتھوں سے یوں اٹھانے لگیں جیسے کہ کوئی زخمی جسم اٹھا رہی ہوں۔ پتوں کو اٹھاتے ہوئے ان کی آنکھیں اچھل کر پپیتے کے پیڑ پر جا پہنچی، پھر ہر شاخ ہر پھل پر ذرا ذرا دیر قیام کرتی ہوئی پورے شجر کی مسافت طے کرنے لگیں۔ پپیتے کے درخت کے تنے اور پھلوں پر سفید رنگ کے کیڑے پھپھوندی کی مانند چمٹے ہوئے تھے۔ شاخوں اور پھلوں سے دودھ کے قطرے رس رس کر کھرنڈ کی شکل اختیار کر گئے تھے مگر کیڑوں کی اشتہاء شاخ در شاخ نمو پا رہی تھیں۔ ہر ایک شگوفے کی آفرینش کے ساتھ جانے کتنی بھوک جنم لے رہی تھی۔ بھوک کی شدت اتنی قوی تھی کہ چند کیڑوں کے لیے تنہا اتنے بوجھ کا تحمل محال ہوا جا رہا تھا۔ ہر ایک کیڑا کئی من بھوک اپنے پیٹ میں لیے پھرتا۔ اس خوف سے کہ کہیں پیٹ پھٹ نہ جائے، ایک کیڑا اپنی رال سے کئی کیڑوں کی تخلیق کر لیتا اور اپنی بھوک ان میں تقسیم کر دیتا اور پھر جھنڈ میں اپنے اپنے حصے کی بھوک مٹاتا۔ پھلوں کے سبز وجود کو بھوکے کیڑے تب تک سفید کفن میں لپیٹے رہتے جب تک اس کی ساخت سے دودھ کو آخری قطروں تک لہو کی مانند چوس نہ لیں۔ جب سبز جسم زرد ہو جاتا تو سفید کیڑوں کا کفن دھیرے دھیرے سڑکنے لگتا اور وہ برہنہ پھل غیرت و حیا کے مارے دم توڑ کر زمین بوس ہوجاتا اور ادھر کیڑوں کا جھنڈ پھر نئی بھوک کے جسم کی کھوج میں نکل پڑتا۔ ایک شاخ سے دوسری شاخ، ایک شجر سے دوسرا شجر۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
اختری آج پھر جلد بازی میں سارے گھر کی صفائی کر رہی تھی، جھاڑو سے بس فرش کو سہلاتی ہوئی اس خا ص کمرے کی جانب تیزی سے گامزن تھی۔ آج کل پورے گھر میں وہ ایک ہی کمرہ تھا جہاں اختری خوب دل لگا کر گھنٹوں صفائی کرتی رہتی۔ جب بھی وہ اس کمرے میں داخل ہوتی، اس خواب ناک کمرے کی معطر فضاء اس کے جسم میں گدگدی سی پیدا کر دیتی اور وہ کمرے سے نکلنے کے بعد کئی لمحوں تک مخمور رہتی۔ آج پھر اس کمرے کی مخصوص خوشبو نے اس کا استقبال کیا تھا۔ وہ جھاڑو لئے کمرے میں داخل تو ہوئی مگر جیسے ٹھٹھک سی گئی۔ کمرے میں فرش پر یہاں وہاں حسن بکھرا ہوا تھا، اس نے دیواروں کی جانب صفائی کے لیے ہاتھ بڑھایا تو دیکھا کہ حسن دیواروں پر رینگ رہا ہے۔ کمرے کے بام کی جانب نگاہ اٹھائی تو دیکھا حسن ہی حسن شبنم کی طرح ٹپک رہا ہے۔ وہ دم بخود سی دروازے سے جسم ٹکائے کھڑی رہ گئی کہ کچھ توقف کے بعد ایک مسحور کن آواز نے اس کی سماعت کو دستک دی۔
”کیا ہوا اختری بوا، دروازے پر ہی کھڑی رہو گی کہ اندر بھی آؤ گی۔”
”جی جی فاریہ بٹیا، او تو ہم ایسے ہی۔۔۔۔ ذرا ،،او،،” اختری کچھ گڑبڑا سی گئی اور پھر بڑے احتیاط سے آہستہ آہستہ کمرے کے اند ر قدم اٹھانے لگی گویا کہ کسی شیش محل میں جھیل کے فرش پر چل رہی ہو۔ فاریہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی خود کو سنوارنے میں منہمک تھی۔ برف جیسی اجلی رنگت، شعلے جیسے سنہرے بال اور جسم کی ساخت ایسی کہ جیسے کس سنگ تراش نے نہایت عمدگی سے تراشا ہو۔ اختری جھاڑو فرش پر سہلاتی جا رہی تھی مگر اس کی نگاہ آئینے پر مرکوز تھی جس کے سامنے فاریہ باری باری اپنی ذلفوں، گالوں، آنکھوں اور اپنے لبوں کو سنوارتی جا رہی تھی۔ اختری کے وجود پر جیسے سانپ لوٹ رہے تھے، اسے یوں محسوس ہوا کہ فاریہ کے حسن کا جام لبریز ہو کر چھلکنے لگا ہے۔ اس کا جی چاہا کہ دوڑ کر فاریہ کے سامنے فرش پر بیٹھ کر اپنا آنچل پھیلا دے کہ چھلکتا ہوا کچھ حسن اس کے جسم میں بھی جذب ہوجائے۔ اسی اثناء میں یکلخت تیز ہوا کے جھونکے کی وجہ سے اختری کی نگاہ کھلی ہوئی کھڑکی کی جانب اُٹھ گئی، وہ فوراً کھڑکی بند کرنے لگی کہ فاریہ نے ٹوک دیا ۔
”کھڑکی کھلی رہنے دو اختری بوا، تازی ہوا کمرے میں آتی رہتی ہے،”
”او تو ٹھیک ہے فاریہ بٹیا، مگر کبھو کبھو دھول مٹی بھی اُڑ کر آ جاوے ہیں نا ہوا کے ساتھ” اختری کی باتوں سے بےنیاز فاریہ نے گھڑی پر نگاہ ڈالی اور جلد از جلد ہاتھ میں پرس لئے کمرے سے باہر نکل گئی۔ فاریہ کے جانے کے بعد اختری کی نگاہ پھر کھلی ہوئی کھڑکی کے غبار آلود شیشے پر پڑے انگلیوں کے نشانات پر جم گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے زہریلے سانپ شیشے کو جگہہ جگہہ چاٹ رہے ہوں، اس کی خوف زدہ نگاہ پھر کمرے کے فرش اور دیواروں پر رینگتے ہوئے نوزائیدہ حسن کی جانب مرکوز ہو گئیں، جو بےخبر کلکلاریاں مار رہا تھا۔۔۔۔ اس نے جھٹ سے شیشے کو رگڑ رگڑ کر صاف کیا اور کس کر چٹخنی لگا دی۔
ادھر نسیمہ بیگم کو فاریہ کے باہر جانے کی بھنک لگ چکی تھی۔ وہ مضطرب سی کبھی دروازے کو نہارتیں کبھی گھڑی کے کانٹوں کے ساتھ گشت لگانے لگتیں۔ ان کے ذہن میں وسوسے ابلنے لگے تھے کہ تبھی فاریہ ان کی نظروں سے بچتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی۔ مگر بوڑھی نگاہیں بھی عقاب کی مانند ہوتی ہیں شاید، جن سے بچنا ناگزیر ہوتا ہے۔
”لو جی آ گئیں چھبیلی رانی، سنے ہو فاریہ کی اما، ذرا اپنی راجکماری بیٹی پر سے لال مرچیاں اتار کر جلا دو اور دو رکعت شکرانے کی نماز بھی پڑھ لو۔ اس فرنگن نے تو قسم کھا رکھی ہے خاندان کی عزت پلید کرنے کی، اب تو نماز دعا ہی کام آئےگی۔” نسیمہ بیگم کے طنزیہ جملوں سے فاریہ کا دل کٹ کر رہا گیا۔ وہ قدم پٹختی ہوئی گھر کے دوسری جانب رخ کر گئی۔
”ہائے اما۔ بڑا کڑوا بولو ہو تم، کتنی خبسورت لگ رہی تھی اپنی فاریہ بٹیا، بیچاری کا منہ اِِتا سا ہو گیا۔ سچ اما کسیلی کھا کر تمہری زبان بھی نا کسیلی جیسی ہو گئی ہے۔” اختری کسیلی کاٹتی ہوئی انہیں ٹہوکا لگاتی ہوئی بولی۔
”ہاں ہاں تیری زبان سے تو تھوک کے بجائے شہد ٹپکتا ہے نا۔ چل ہٹ۔ لا ،دے ہماری کسیلی۔ ہم خود کاٹ لیں گے۔” نسیمہ بیگم نے اختری کی پشت پر ایک ہاتھ مار کر اسے خفیف سا دھکہ دیا اور کسیلی کا برتن اپنی جانب کھینچ لیا۔ اختری نے منہ بسور کر نسیمہ بیگم کو کنکھیوں سے گھورا اور پھر اٹھ کر جانے لگی کہ عقب سے نسیمہ بیگم نے پھر آواز دی۔
”اری او، مدھو مکھی کہاں کو چلی؟ چل جا باغیچے میں، بیلا کے پودے میں اب پھول آنے شروع ہو گئے ہیں۔ جا کے تاڑ اور لکڑیوں کی بینت کا گھیرا ڈال دے۔ کہیں کوئی آوارہ جانور نہ کھا جائے۔”
اختری بڑبڑاتی ہوئی حسب حکم باغیچے کی جانب چلی گئی جہاں فاریہ پہلے سے موجود تھی۔ باغیچے میں اس کی نگاہ امرود کے درخت کی شاخوں سے لٹکتی ہوئی لال، کالی، سفید رنگوں کی متعدد پالیتھین پر پڑی۔ کچھ دن قبل جب وہ باغیچے میں آئی تھی تب امرود کا درخت پھلوں سے لدا ہوا خوشنما دکھ رہا تھا مگر آج امرود کے درخت کے ارد گرد زمین پر کچھ کچے کچھ پکے آدھے ادھورے کھائے ہوئے امرود گرے ہوئے تھے۔
” اختری بوا، یہ امرود کے درخت پر رنگ برنگی پالیتھین کیوں لگی ہیں؟”
”اما لگوائیں ہیں پننی۔ کمبخت ماری چڑیاں کھود کھود کر سارا پھل کھائے جا رہی تھیں نا۔”
”مگر سچی میں، اچھا نا لگے ہے۔ بڑا بھدا دِکھے ہے ۔” اختری نے بُرا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔ فاریہ نے لاشعوری طور پر ”ہونہہ” کہا اور امرود کی جھکی ہوئی ڈالی پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔ اس کے ذہن کی فصیلوں پر کئی الجھنوں اور سوالوں کی کائیاں اگ رہی تھیں جس کے باعث اس کی ہر سوچ ہر فکر پھسلتی جا رہی تھی۔
”سچ سچ بتا گڈوا نہیں تو تو جانتا ہے کہ بڑے صاحب چمڑی ادھیڑ دیں گے تیری”
”نا اما ۔ ہم سچی بات کہہ رہے ہیں ۔ہم کچھہو نہیں کیے ای دوغلی مکارن کے ساتھ۔ جھوٹ بولتی ہے سالی۔ ارے ایکا تو چالن چلن ویسے ہی ٹھیک نا رہا اما اوپر سے کمینی چورنی بھی ہے۔ فاریہ بی بی جی کی لالی پاؤڈر چرا کر منہ پر پوت پوت کر لچک مٹک کر ہمرے آگے پیچھے گھومتی اور کام کرواتی تھی ہم سے۔ ایک دن ہم کو کہے رہی کی گڈوا ہمرا بلاؤز درجی سے سلوا کر لا دے۔ اب تم ہی بتاؤ اما کہ کوئی پرائے مرد سے ایسے چٹر پٹر کرتا ہے کا” نسیمہ بیگم نے ایک قہر آلود نگاہ گڈو پر ڈالی اور اپنی چھڑی سے اسے مارتے ہوئے دروازے سے باہر دھکیل کر نکال دیا۔ پھر بغیر کچھ کہے اپنے کمرے میں چلی گئیں اور کچھ وقفے کے بعد چند روپیے لیے اختری کے پاس آئیں۔
”یہ لے پانچ ہزار روپیے ہیں۔”
اختری نے سسکتے ہوئے ممنون نگاہوں سے اما کو دیکھا اور روپیے لینے کے لیے ہاتھ بڑھانے کے تذبذب میں ہی تھی کہ اما کے دوسرے جملے نے اس کے ہاتھ شل کر دیے۔
”اور کل سے کام پر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔” اختری سراپا لفظ ”کیوں” کی صورت اما کو حیرت سے دیکھنے لگی ۔
”مگر دادی یہ کیا بات ہوئی۔ آپ بھی جانتی ہیں کہ وہ کمینہ گڈو جھوٹ بول رہا تھا۔ تو پھر اختری بوا کو کام سے کیوں نکال رہی ہیں۔ ان بیچاری کی کیا غلطی ہے۔” فاریہ بوکھلا سی گئی۔ مگر اما اس کا جواب دیے بغیر خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”دادی اگر تحفظ کے لیےعورتوں کو گھر میں چھپ کر بیٹھنے اور خود کو کالے جھولے میں ڈال کر باہر نکلنے کا حکم ہے تو پھر مردوں کے ہاتھوں میں بھی ہتھکڑیاں اور پاؤں میں زنجیر لگا دیں نا۔ یہ یکطرفہ روش کیوں؟؟”
”دیکھ لڑکی زیادہ عربی فارسی نہ جھاڑ۔ ہم کوئی داروغہ نہیں ہیں جو جا کر سب کو ہتھکڑیاں یا بیڑیا لگاتی پھریں۔ اب ہمیں کیا پتہ کون شریف ہے کون لٹیرا۔ ہم تو سرے بازار اپنے زیور پوٹلی میں چھپا کے ہی نکلیں گے۔ ” نسیمہ بیگم اور فاریہ اپنے اپنے محاذ پر کھڑی اپنی دلیلوں کے تیر چھوڑ رہی تھیں۔ آج کسی کام سے نسیمہ بیگم اور فاریہ کو ایک ساتھ باہر جانا تھا اور نسیمہ بیگم کی وہی روایتی شرط پھر ان دونوں کے درمیان حائل تھی۔ چند لمحوں کی لفظی کشمکش کے بعد لامحالہ نسیمہ بیگم نے وقتی طور پر شکست قبول کر لی اور فاتح فاریہ کے ساتھ گھر کی دہلیز سے رخصت ہوگئیں۔ لوٹتے وقت نسیمہ بیگم اور فاریہ سنسان سڑک پر آٹو رکشہ کے منتظر تھے مگر کہیں کوئی رکشہ دور دور تک نہیں دکھ رہا تھا۔ فاریہ کے بھائی کو کال کرکے گاڑی لانے کے لیے کہا گیا مگر اس کی کار کی رفتار نسیمہ بیگم کے خدشوں اور اضطراب کی رفتار سے کئی درجہ کم تھی۔ ڈھلتا ہوا دن شام کی ردا اوڑھے خراماں خراماں رات کے سفر پر گامزن تھا۔ نسیمہ بیگم کی سہمی ہوئی نگاہیں بار بار فاریہ کے وجود کا احاطہ کرنے لگتیں اور پھر اس سنسان سڑک کے اطراف کا تفصیلی جائزہ لیتیں۔ فاریہ کا مغربی لباس اس کی شخصیت کو مزید دلکش اور پرکشش بنا رہا تھا۔ اس کی کھلی ہوئی بانہوں سے دودھ جیسی رنگت قطرہ قطرہ ٹپک رہی تھی۔ اس کے نسوانی حسن کی بھینی بھینی خوشبو فضاؤں میں تحلیل ہو کر یہاں وہاں منتشر ہونے لگی اور یکلخت کسی کے نتھنوں میں جنبش سی ہوئی۔ سبز پھل سے ٹپکتے ہوئے دودھ کی مہک نے کئی سوتے کیڑوں کی بھوک کو بیدار کر دیا تھا۔
”یا اللہ۔میرے بیلا کے پھول۔۔۔۔۔ ہائے دیکھو ،کہیں یہ چمگادڑ میرے امرود کو نہ کھود ڈالیں۔ ارے کوئی بچاؤ، کچھ تو کرو۔ میرے پھل کو یہ کیڑے چوس ڈالیں گے۔۔۔۔ اللہ،کیا کروں میں۔۔۔۔” نسیمہ بیگم کے اندرون میں ان کے ہمزاد کی گریہ و زاری نے کہرام مچا دیا تھا۔ ان کے منہ کا سارا لعاب خشک ہو گیا اور زبان جیسے تالو سے چپک گئی۔ چمگادڑ اب پھل کے بالکل قریب منڈرانے لگے تھے۔ کیڑوں کا جھنڈ رال ٹپکاتا ہوا سفید کفن لیے سبز جسم کے قریب پہنچنے کو تھا کہ تبھی نسیمہ بیگم کے وجود میں برق سی کوند گئی اور انہوں نے جھٹ سے اپنی چادر اتار کر فاریہ پر ڈال دی اور اسے اپنے حصار میں لے لیا۔
”ای لے بٹیا اوڑھ لے۔ تو مت گھبرا زبیدہ،تیری اما تیرے پاس ہے،کچھ نہیں ہونے دیں گے ہم اب کہ تجھے۔ کوئی چھو بھی نہ سکےگا میری زبیدہ کو۔” فاریہ کو اپنے حصار میں جکڑے ہوئے نسیمہ بیگم اسے بارہا زبیدہ کہہ کر پکارتی جا رہی تھیں اور فاریہ حیرت کا مجسمہ بنی انہیں دیکھے جا رہی تھی کہ تبھی فاریہ کا بھائی بلال کار لیے وہاں پہنچ گیا اور پھر نسیمہ بیگم کی کانپتی نگاہوں نے سڑک کے ارد گرد دیکھا تو وہ کیڑے اور چمگادڑ روپوش ہو چکے تھے۔۔۔۔ ذرا دور جا کر بلال نے ایک قصائی خانے کے قریب گاڑی روکی اور گوشت لینے کے لیے ایک قصائی کی جانب رخ کر گیا۔ فاریہ نے گہری سانسیں لیں، کار کے شیشے کو کھول کر باہر کا جائزہ لیا اور پھر اس کی نگاہیں کار کے سامنے والے آئینے پر مرکوز ہو گئیں۔ اپنے رخساروں پر انگلیاں رکھ کر اس نے اپنے چہرے کا بھرپور معائنہ کیا۔ پرس سے رومال نکال کر چہرے پر جمی گرد صاف کی، پھر اپنی کھلی ذلفوں میں انگلیاں پھیر کر ان سے بغلگیر غبار کو جدا کیا اور انہیں سمیٹ کر پیچھے کی جانب باندھ لیا۔ بلال پالیتھین میں گوشت لیے ہوئے اسے بےفکری سے ہلاتا ہوا کار کی جانب گامزن تھا کہ یکلخت جانے کہاں سے ایک کتا اس پالیتھین پر جھپٹ پڑا اور اس کے ساتھ ہی نسیمہ بیگم کی منجمد زبان متحرک ہوئی۔
” زبید۔۔ ہ ہ ہ۔۔” اور ایک ٹوٹا ہوا لفظ خفیف چیخ کی صورت بکھر گیا۔ دیکھتے دیکھتے ہی چند ثانیوں میں کتوں کے جھنڈ نے چیڑ پھاڑ کرکے گوشت کو ریشوں میں تبدیل کر دیا اور نسیمہ بیگم کی بےبس آنکھوں کے کاسے سے سرخ اور جلتا ہو ا ماضی چھلک پڑا۔
” یار یہ کمینے آوارہ کتے بھی نا۔ منسی پالیٹی والوں کو انہیں پکڑ کر بند کر دینا چاہیے۔”بلال جھنجھلایا سا کار میں بیٹھتے ہوئے بولا۔
”اور تمہیں بھی کیا ضرورت تھی گوشت کی پالیتھین کو اچھالتے ہوئے نمائیش کرنے کی۔ وہ تو کتے ہیں، جھپٹیں گے ہی نا۔ تمہیں تو احتیاط کرنی چاہیے تھی۔”
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج صبح نسیمہ بیگم باغیچے میں موجود پالیتھین لگے پکے امرود کو تڑوا رہی تھیں جو چڑیاؤں کی خوراک بننے سے محٖفوظ رہ گئے تھے اور دیگر امرود پر پالیتھین کا غلاف چڑھا رہی تھی کہ یکلخت ان کی خفیف سی چیخ نکلی۔
”ہائیں۔۔ای کا ہوا۔” وہ لڑکھڑاتی لڑکھڑاتی سنبھلیں۔ فاریہ نے ایک چادر سے ماسوا آنکھوں کے اپنا پورا چہرہ اور بال مکمل طور پر ڈھک رکھا تھا۔ آدھی آستین کی قمیض زیب تن کیے اس نے اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دستانوں میں ملبوس کر رکھا تھا۔
”ارے فاریہ ۔یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے۔” دروازے پر بائک لیےہوئےکھڑے بلال نے حیرت سے پوچھا۔
” اب کیا کروں ۔شہر میں پالوشن اس قدر بڑھ گیا ہے کہ حد ہے۔ میرے چہرے کی اسکین بری طرح ڈیمیج ہونے لگی ہے، ہاتھوں پر اسکین برن ہو گیا ہے۔ اور تو اور کالج سے گھر پہنچتے پہنچتے پورے بال غبار میں نہائے ہوتے ہیں۔ اب اس شہر کے پالوشن کو تو میں اکیلی کنٹرول کر نے سے رہی۔۔۔۔۔ سو خود ہی احتیاط ضروری ہے نا۔۔۔”
ادھر نسیمہ بیگم کی نگاہ پیڑ کی اونچی شاخ پر پھلےہوئے ایک امرود پر پڑی جس پر لگی ہوئی پالیتھین کو چڑیا نے پھاڑ کر اس پھل کو کھود ڈالا تھا

Published inرضیہ صغیرعالمی افسانہ فورم