Skip to content

اب کے برس

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر35
اب کے برس
نعیمہ جعفری پاشا،
نئی دہلی ۔انڈیا

نور جہاں بیگم سے وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا پل پل نظریں گھڑی پر لگی ہوئی تھیں اور کان دروازے پر۔ میاں کو گئے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے۔ صبح دس بجے نکلے تھے اور اب تین بج رہے تھے۔ نور جہاں بیگم کے پیٹ میں ہولیں اٹھنے لگیں۔ ‘‘الٰہی خیر۔ میاں کو تمام حادثات سے محفوظ رکھیو۔ مشکل کشا کی نیاز دلواؤں گی۔ اتنا بڑا کام تو نہ تھا۔ ٹرین کے ٹکٹ لینے ہی تو گئے تھے’’۔ نور جہاں بیگم بے دم سی ہوکر چار پائی پر بیٹھ گئیں۔ صبح تو ان کے جسم میں بجلی کا کرنٹ سا دوڑ رہا تھا۔ میاں کے جاتے کے ساتھ ہی سفر کی تیاریوں میں جٹ گئی تھیں۔ اسٹول پر چڑ ھ کر مچان پر سے ٹین کا بکس نکالا، بینت کی ڈھکن دار کنڈی (باسکٹ) اتاری، اسٹیل کا چار خانوں والا ناشتے دان نکالا۔ یہ سامان نکالتے ہوئے دو ایک مرتبہ پلاسٹک کا اسٹول ڈگمگایا بھی۔ نور جہاں بیگم ذرا دیر کو ڈر بھی گئیں اسدکتنا کہتا ہے ‘‘اماں تم اسٹول پر مت چڑھا کرو، گرجاؤگی کسی روز۔ ہڈی ٹوٹ گئی توجڑے گی بھی نہیں اس عمر میں ’’۔ نور جہاں بیگم گھبرا کر اسٹول سے اتر آئیں ۔ ہڈی وڈی ٹوٹ گئی تو ان کا سفر بھی ملتوی ہوجائے گا، خدا نہ کرے انھوں نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور کپڑا لے کر بکس اور کنڈی کی صفائی میں جٹ گئیں۔جب وہ دہلی آئی تھیں تو یہ سب سامان نیا ہی خریدا تھا لیکن پچھلے چالیس سال سے انھیں کہیں باہر جانے کا موقع ہی نہیں ملا۔ نئے بکس کا ہرا رنگ ماند پڑ گیا تھا اور ڈھکن پر بناگلابی پھول تو بالکل ہی پیلا پڑ گیا تھا اگر چہ احتیاط سے کپڑے میں لپٹا ہوا رکھا تھا پھر بھی جابجا زنگ کے دھبّے پڑ ہی گئے تھے۔ انھوں نے سر سوں کے تیل میں پانی ملا کر بکس اور کنڈی کو چمکانے میں جان لڑادی تب کہیں جا کر اس قابل ہوئے کہ سفر میں ساتھ لے جائیں۔ ناشتے دان تو خیر سے نیا ہی تھا۔ دس سال پہلے رقیہ کی شادی پر خریدا تھا تاکہ اسد کے بال بچوں کے لیے شادی کا بچا ہوا کھانا بھیج سکیں۔ اسے بھی دھو مانجھ کے چمکا دیا۔ اتنے میں بارہ بج گئے تو خیال آیا کہ میاں آتے ہوں گے کھانا تو پکا ہی نہیں ہے۔ جلدی جلدی پیاز، ٹماٹر ، ہری مرچ ہرا دھنیا کاٹ کر دو انڈوں کا خوگینہ بنایا اور مونگ کی ہری دال میں باریک باریک پالک کتر کے گیس پر چڑھا دیا۔ آٹا گوندھ کے رکھ دیا کہ میاں کے آتے ہی دال بگھار کر گرم گرم روٹی دال دیں گی۔ ظہر کی نماز بھی پڑھ لی لیکن میاں کا کہیں پتہ نہیں تھا۔ دنیا بھر کے وہموں نے دماغ پر یلغار کر رکھی تھی۔ آخر قرآن کھول کر سورہ یاسین کا ورد کرنے بیٹھی ہی تھیں کہ دروازے کی کنڈی کھٹکی۔ نور جہاں بیگم نے ننگے پاؤں دوڑ کر دروازہ کھولا۔ پسینے میں نہائے، تھکے ہارے مشرف حسین گھر میں داخل ہوئے اور جیب سے ٹرین کے دو ٹکٹ نکال کر بیوی کو تھماتے ہوئے بولے ‘‘لو بیوی۔ سنبھال کر رکھو۔ جان پر کھیل کر ریزرویشن کروایا ہے۔ وہ بھیڑ تھی کہ الامان والحفیظ۔ تین بار لائین میں لگا۔ ہر بار جب پرچی بھر کر لے جاتا اور میرا نمبر آتا تو کلرک کہہ دیتا کہ اس تاریخ کو ٹرین میں جگہ نہیں ہے۔ اللہ اللہ کرکے تیسری بارمیں اگلی جمعرات کا ریزرویشن ملا ہے۔ کیا زمانہ آگیا ہے بیوی۔ نہ بزرگوں کی عزت نہ عورتوں کا لحاظ۔ ٹکٹ کی کھڑکی پر تو گویا قیامت صغرا بپا تھی’’۔ انھوں نے کرتا اتار کر کھونٹی پر ٹانگا اور ہاتھ منہ دھونے غسل خانے میں چلے گئے۔ نور جہاں بیگم کی جان میں جان آئی ٹکٹ سنبھال کر قرآن پاک کے جزدان میں رکھے اور جھٹ پٹ اپنے مختصر سے باورچی خانے میں جاکر روٹی ڈالنے لگیں۔ ان کے ستر سالہ کمزور جسم میں اب پھر سے تازگی کی نئی روح بھر چکی تھی۔
مشرف حسین اور نور جہاں تقریباً چالیس سال پہلے تین سالہ اسد اور ایک سالہ رقیہ کو لے کر ایک بہتر زندگی کی تلاش میں اپنے گاؤں مہاراج گنج کو خیر باد کہہ کر دہلی آئے تھے اور پھر یہیں کے ہورہے۔مہاراج گنج کے گاؤں کّوا پور میں نور جہاں بیگم کے والد چودھری امام بخش کی تھوڑی سی زمین اور بڑا سا کچھ پکا کچھ کچا مکان تھا۔ گاؤں میں عزت تھی گاؤں کے سرپنچ رہ چکے تھے۔ امام بخش کے دوہی بچے تھے۔ بڑا لڑکا رئیس اور چھوٹی نور جہاں۔ امام بخش کے چھوٹے بھائی اور ان کی بیوی ایک حادثے میں مارے گئے تھے۔ ان کا کم سن بچہ مشرف حسین بھی امام بخش کی ہی ذمہ داری تھا۔ امام بخش کی بیوی اکبری بیگم سلطان پور کی تھیں۔ تہذیب یافتہ، پڑھے لکھے خاندانوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا اسی لیے بچوں کی زبان پر اودھی کے ساتھ لکھنوی رنگ بھی نمایاں تھا۔ انھیں کی گود میں مشرف حسین بھی پلے بڑھے تھے۔ امام بخش نے کبھی بیٹے اور بھتیجے میں فرق نہیں کیا۔ دونوں کو گاؤں کے اکلوتے مڈل اسکول میں بھیج کر تعلیم دلوائی اور کھیتی باڑی میں بھی اپنے ساتھ رکھا۔ مشرف بچپن سے ہی نور جہاں عرف نوری کے دیوانے تھے۔ ساتھ کھیل کود کے بڑے ہوئے۔ جوانی آئی تو اس چاہت کا رنگ بھی بدل گیا۔ نور جہاں ان کے سامنے پڑنے سے کترانے لگیں۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی دونوں میں بات چیت کم ہی ہوتی تھی البتہ وہ دوپہروں میں اسارے میں اپنے پلنگ پر لیٹ کر حسرت کی غزل ‘‘چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے’’ بڑے جذب کے ساتھ گاتے اور نوری اپنی کوٹھری میں بیٹھے بیٹھے شرم سے دوہری ہوجاتی۔ مشرف نے روپیٹ کے کئی سال میں مڈل پاس کرلیا تو چودھری امام بخش نے انھیں پر چون کی دکان کھلوادی اور ایک سادہ سی تقریب میں نوری کا ہاتھ انھیں تھما دیا۔ دونوں بہت خوش تھے لیکن اولاد کا سکھ انھیں بہت دیر میں ملا۔ چھ کچے پکے بچوں کاد کھ جھیلنےکے بعد نور جہاں کی گود میں بڑے اللہ آمین سے اسد آیا پھر اس کے دو سال بعد رقیہ نے ان کی کوکھ کو ہرا بھرا کردیا۔ جہاں اولاد کی نعمت پاکر وہ نہال تھے وہیں مشرف حسین کو یہ فکر بھی دامن گیر ہوگئی تھی کہ ا س گاؤں میں رہ کر وہ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت نہیں کرسکیں گے۔ اِدھر پر چون کی دوکان بھی سسک سسک کر چل رہی تھی۔ زیادہ تر دوکان داری ادھار پر چلتی تھی جو کبھی چکتا ہوتا اور کبھی نہیں ہوتا۔ گاؤں والے سب اپنے تھے، مشرف حسین مروّت میں تقاضا بھی نہ کرپاتے۔ اسی دوران امام بخش بیمار پڑے اور چند دن کے بخار میں ہی چٹ پٹ ہوگئے۔ ان کے بعد گاؤں میں رہنے کا جواز بھی ختم ہوگیا۔ نور جہاں بیگم اپنے ہاتھ کے لگائے آم کے پودے کو پھلتا پھولتا بھی نہ دیکھ پائیں۔ پرانی دہلی میں بھی مشرف حسین نے پرچون کی دوکان سے ہی شروعات کی۔ انھیں بس یہی کام آتا تھا۔ یہاں اللہ نے ان کی محنت میں برکت دی اور دوکان داری چل نکلی۔ دونوں بچے اسکول جانے لگے وقت کا پہیہ گھومتا رہا، دن رات اور رات دن میں بدلتے رہے، سرد وگرم چلتے رہے، اسد نے انجینئرنگ کا ڈپلوما کرلیا اور پی ڈبلیو ڈی میں جونیئر انجینئرلگ گیا۔ رقیہ نے بارہواں ہی پاس کیا تھا کہ اس کے لیے ایک بہت اچھا رشتہ آگیا اور وہ بیاہ کر دبئی چلی گئی۔ اسد ذہین بھی تھا اور زمانہ شناس بھی، موقعہ سے فائدہ اٹھانا جانتا تھا۔ سرکاری ملازمت میں تنخواہ تو بہت کم تھی لیکن افسروں کو خوش رکھتا اور دفتر میں ہر روز شام کو ہونے والی بالائی آمدنی کے بٹوارے میں حصّہ داری وصول کرتا۔ اس کا ماننا تھا کہ میں خود کسی سے نہیں مانگتا لیکن بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے انکار بھی بےقوفی ہے، مشرف حسین بے چارے اس سب سے بے خبر اور بیٹے کی ترقی سے خوش تھے۔ چند ہی برسوں میں اسد نے دو کمروں کا فلیٹ خرید لیا اور ایوننگ کالج جوائن کر کے انجینئرنگ کی ڈگری بھی حاصل کرلی۔ اب وہ بمبئی کی ایک فرم میں اچھی سی تنخواہ پارہا تھا۔ نور جہاں بیگم نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے نوکری لگتے ہی شادی کردی اور ایک پڑھی لکھی غریب گھر کی لڑکی کو بہو بنا کر لے آئیں۔ اب دونوں اولادیں اپنے اپنے گھروں میں خوش آباد تھے۔ لیکن ان سارے دنوں میں نور جہاں بیگم ایک بار بھی اپنے گاؤں نہیں جاسکیں۔ رئیس بھائی سال دو سال میں آکر مل جایا کرتے تھے۔ ان کے خط برابر آتے رہتے تھے۔
‘‘نوری تمہارا لگایا ہواآم کا درخت چھتنار بنتا جارہا ’’۔
‘‘نوری تمہارے آم کے پیڑ میں دسہری کی قلم لگوادی ہے مالی کا کہنا ہے دو سال میں پھل آجائے گا’’۔
‘‘نوری تمہارے آم کے پیڑ میں پہلا بور خوب بھر کر آیا لیکن سب جھڑ گیا۔ مالی کہتا ہے پہلا بور جھڑنا ہی اچھا ہوتا ہے۔ اگلے سال پھل آئے گا’’۔
اور پھر تو ہر سال رئیس بھائی آموں کا ایک جھولا کسی نہ کسی کے ہاتھ بھیجوا ہی دیتے تھے۔ نور جہاں بیگم کا بڑا دل تھا کہ ایک بارتو اپنے بابل کے دیس کا پھیرا لگالوں۔ وہ ہمیشہ مشرف حسین سے کہتی تھیں ‘‘میاں مرنے سے پہلے مجھے میرا میکے کا گھر دکھا دو’’۔ لیکن مشرف حسین کو دوکان سے کبھی فرصت ہی نہیں ملتی تھی اور سفر کے خرچ کا تخمینہ بھی نہیں جڑ پاتا تھا۔ اس مرتبہ رئیس بھائی کا فون آیا۔ ‘‘نوری اس بار آم کی فصل بہت اچھی ہوئی ہے۔ تمھارا درخت آموں سے لدا پڑا ہے۔ اور ٹپکوں کا تو کیا کہنا۔ ایسی مٹھاس تمھیں اور کہیں نہیں ملے گی’’۔
نور جہاں بیگم بے قرار ہوگئیں۔ اسد کا بمبئی سے فون آ یا تو اپنے دل کی بات بیٹے سے کہہ ہی دی۔ اس نے فوراً ہی کچھ رقم مشرف حسین کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردی اور باپ سے اصرار کیا ‘‘ابا اس بار امی کو گاؤں ضرور لے جائیں۔ میں اور پیسہ بھیج دوں گا’’۔
نور جہاں بیگم کی خوشی تو دیدنی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے نئی نویلی دلہن پہلی بار سسرال سے میکے جا رہی ہو۔ عید بقرعید کے لیے سینتے ہوئے سارے نئے کپڑے بکس میں سجالیے تھے۔ رئیس بھائی اور بھابی کے لیے جوڑے ، ان کے پوتا پوتی کے لیے تحائف غرض بکس اپنی گنجائش سے زیادہ ہی بھر چکا تھا۔ کنڈی (باسکٹ) دنیا بھر کی الا بلا سے بھر چکی تھی اور ٹونٹی والا پلاسٹک کا لوٹا کنڈی کے ہینڈل کے ساتھ ستلی سے بندھا تھا کیونکہ نور جہاں بیگم کا کہنا تھا کہ ٹرین میں پاکی ناپاکی کا تو کوئی خیال ہی نہیں کیا جاتا۔ دو دن پہلے سے انھوں نے تقاضا کرنا شروع کردیاتھا۔ ‘‘میاں ایک کلو بکرے کا قیمہ لادو اور دیکھو اپنے سامنے بنوانا۔ یہ ناس پیٹے قصائی نری چربی اور چھیچھڑ ے کوٹ کے رکھ دیتے ہیں۔ لمبا سفر ہے میں پر اٹھوں کے ساتھ شامی کباب اور قیمہ بھرے کریلے لے چلوں گی’’ مشرف حسین نے کہا بھی ‘‘کیوں علت پال رہی ہو بیوی۔ اسٹیشن پر ہر طرح کا کھانا مل جاتا ہے۔ اور آج کل تو ریزرویشن والوں کو سرکار کی طرف سے کھانا ناشتہ سب ملتا ہے’’۔
‘‘اللہ اللہ کرو میاں ۔ میں نے تمھیں کبھی بازار کا کھانا کھلایا ہے۔ چھٹی چلّوں تک میں اپنے ہاتھ سے پکا کر کھلاتی تھی ایک وقت یار دوستوں کے ساتھ باہر کھا آتے ہوتو چار دن پیٹ خراب رہتا ہے’’۔ عام حالات میں کم سخن نور جہاں بیگم مارے جوش کے آج کل کچھ زیادہ ہی بول رہی تھیں مشرف حسین یوں تو کرتا پائیجامہ پہنتے تھے لیکن سفر کے لیے بیوی نے شیروانی اور ٹوپی پہن وانا ضروری سمجھا ۔ برقعہ میں لپٹی ہوئی نور جہاں بیگم اور مشرف حسین کو سیکنڈ کلاس چیئر کار میں اپنی سیٹ تلاش کرنے میں ذرا بھی پریشانی نہیں ہوئی۔ نور جہاں بیگم کے جھریائے ہوئے چہرے سے خوشی پھوٹی پڑ رہی تھی آج انھیں لگ رہا تھا جیسے ایک بار پھر وہ چھوٹی سی بچی بن گئی ہوں بچپن اور جوانی کا ایک ایک منظر ان کی آنکھوں کے سامنے سے گزررہا تھا۔ آخر چالیس سال بعد ایک بار پھر ان کے قدم اپنے بابل کے آنگن کی مٹی کو چھوئیں گے، ایک بار پرے ان کھلی ہواؤں اور مہکی فضاؤں میں سانس لیں گی۔ اپنے ہاتھوں کے لگا ئے آم کے درخت کی چھاؤں میں دم لیں گی۔
تین چار گھنٹے وہ ٹرین کی کھڑکی سے سر ٹکائے پیچھے کی طرف بھاگتے ہوئے درختوں، مکانوں، بجلی کے کھمبوں اور سبزہ زاروں میں اس طرح کھوئی رہیں کہ انھیں وقت گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوا۔ ٹرین کی رفتار کم ہو رہی تھی شاید کوئی اسٹیشن آنے والا تھا۔ مشرف حسین نے ان کے کان کے پاس منہ لے جا کر دھیرے سے کہا۔ ‘‘بیوی یہ اسٹیشن گزر جائے تو کھانا کھالیں۔ بھوک محسوس ہو رہی ہے’’۔ نور جہاں بیگم شرمندہ ہوگئیں۔‘‘اپنی دھن میں میں تو بھول ہی گئی تھی کہ تم نے صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا’’۔ انھوں نے ناشتے دان اٹھا کر سیٹ پر رکھ لیا۔ تب ہی ایک جھٹکے کے ساتھ ٹرین رک گئی ساتھ ہی انسانوں کا ایک ریلا سا ڈبّے میں گھس آیا۔ سیٹیں پہلے ہی سب گھری ہوئی تھیں۔ کچھ لوگ کنڈا پکڑکر کھڑے ہوگئے، کچھ اوپر کی سیٹوں پر چڑھ گئے۔ پانچ چھ ہٹّے کٹّے نوجوان جنھوں نے گلے میں ایک مخصوص رنگ کا گمچھا ڈال رکھا تھا، مشرف حسین کی طرف بڑھے ‘‘ائے بڈھے۔ اٹھو یہاں سے یہ ہماری سیٹ ہے۔ ہم روز اسی سیٹ پر بیٹھتے ہیں’’۔
مشرف حسین بڑی شرافت سے بولے ‘‘جناب یہ ہماری سیٹ ہے۔ ہم نے دس دن پہلے سے ریزرویشن کروا رکھا ہے’’۔
‘‘پوری ٹرین ہماری ہے۔ چل اٹھ یہاں سے۔ نہ سیٹ اور ٹرین تیری اور نہ یہ دیش تیرا۔ نکل یہاں سے’’۔
تبھی ایک کی نظر کنڈی سے بندھے لوٹے پر پڑی ۔ اس نے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے سے اسے چھوا ‘‘ہا ہا ہا ہا۔ اپنا ٹریڈ مارک ساتھ لیے پھرتے ہیں سالے ۔ چل اٹھ’’۔ نور جہاں بیگم کے ہاتھ ناشتے دان کھولتے کھولتے رک گئے تھے۔ خوف سے ان کا رنگ پھیکا پڑگیا۔ مشرف حسین کو بھی تاؤ آگیا۔ ‘‘عجیب آدمی ہیں آپ دیکھتے نہیں ہم کھانا کھانے جا رہے ہیں اور اپنی سیٹ پر بیٹھے ہیں۔ یہ دیکھیے ہمارا ٹکٹ’’۔
‘‘تیرے باپ کی ٹرین ہے سالے گھس بیٹھئے۔ یہاں تیرا کچھ نہیں ہے’’۔ وہ جو سب سے آگے تھا اس نے ٹکٹ مشرف حسین کے ہاتھ سے چھین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ وہ ‘‘ارے ارے ’’ کرتے ہی رہ گئے۔ پیچھے والے موٹے نے اپنے دنڈے سے ناشتے دان کو بجاتے ہوئے کہا ‘‘کیا ہے اس میں ’’ اب مشرف حسین بھی سہم گئے ‘‘کھانا ہے ہمارا’’۔
‘‘ڈھکن ہٹا ہم بھی دیکھیں کیا کھاتا ہے تو’’۔
اس نے لاٹھی کی نوک سے ڈھکن پھینک دیا۔ تازہ تازہ شامی کبابوں کی مہک چاروں طرف پھیل گئی۔
‘‘گئو ماتا کا ماس کھارہا ہے چور، بدمعاش ہتھیارا’’ وہ زور سے چیخا۔ نور جہاں بیگم تھر تھر کانپنے لگیں۔ ‘‘نہیں بیٹا یہ تو بکرے کے گوشت کے ہیں ۔ میں اپنے اکلوتے بیٹے کی قسم کھاتی ہوں’’۔مشرف حسین بمشکل کانپتی ہوئی آواز میں بولے ‘‘میاں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ہم گائے کا احترام کرتے ہیں۔ یہ تو بکرے کا گوشت ہے میں خود دوکان سے لے کر آیا تھا’’۔
‘‘چپ بے ۔ میاں ہوگا تیرا باپ ہم تو گئو ماتا کے بھگت ہیں اور ان کے رکشک ہیں۔ بھائیوں مارو سالے کو یہ ملیچھ ہماری ماتا کا ہتھیار ا ہے’’۔ اس نے مشرف حسین کی شیروانی کا کالر پکڑ کر جھٹکا دیا۔ ابھی وہ سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ پیچھے والے نے ان کے چہرے پر اپنا کلو بھر کا ہاتھ جڑ دیا۔ مشرف حسین کی ناک سے خون بہہ کر ان کی سفید ڈاڑھی کو رنگنے لگا۔ نور جہاں بیگم کھڑی تھر تھر کانپ رہ تھیں۔ اتنے میں دوسرے مسافر بھی جمع ہوگئے تھے۔ ہر ایک نے مقدور بھر ایک آدھ ہاتھ بے چارے کمزور بوڑھے پر جڑ دیا۔ کسی نے ناشتے دان اٹھا کر کھڑکی کے باہر پھینک دیا اور پلیٹ فارم پر کباب اور کریلے بکھرگئے۔ ایک نے ان کے کندھے پر ایسا گھونسہ مارا کہ آنکھوں کے نیچے اندھیرا چھاگیا تھا۔ اچانک نور جہاں بیگم چلائیں۔ ‘‘میاں سنبھل کے’’

اور گھڑی کی آن میں بجلی کی سی تیزی کے ساتھ وہ مشرف حسین پر آگر یں۔ موٹے کے ہاتھ سے پڑنے والا ڈنڈا ان کے سر پر پڑا نقاب اتر کر دور جاگری اور ان کے سر سے بہنے والا خون کمپا رٹمنٹ کے فرش کو قاتلوں کے کپڑوں کو داغدار کرگیا۔ وہ مشرف حسین کے ٹوٹے ہوئے بازو میں ڈھے گئیں۔ کچھ سیکنڈ کے لیے ڈبے میں سناٹا چھاگیا پھر سارے بدمعاش سست رفتار سے رینگتی ٹرین سے کود کود کر فرار ہوگئے۔ سارے مسافر اپنی اپنی سیٹوں پر ایسے جا بیٹھے جیسے کبھی اٹھے ہی نہ ہوں۔
تین دن کے بعد نور جہاں بیگم کی میت کو ان کے بابل کے آنگن میں ان کے لگائے ہوئے آم کے پیڑ کے نیچے لاکر رکھا گیا۔ بازو پر پلاسٹر ، سر پر پٹی اور چہرے پر زخم کھائے مشرف حسین ایک کونے میں بیٹھے ایک ٹک اس گہوارے کو دیکھ رہے تھے جس میں نور جہاں بیگم کو سفید لباس پہنا کر لٹا دیا گیا تھا۔ انھیں یا دآیا ایک مرتبہ وہ سفید رنگ کا خوبصورت سا کڑھائی والا دو پٹہ ان کے لیے لائے تھے تو انھوں نے بہت برا مانا تھا اور اسے ایسے دور پھینک دیا تھا جیسے اس میں سانپ بچھو بندھے ہوں ‘‘اے نوج میں یہ سفید ڈو پٹہ کیوں اوڑھوں۔ اللہ تمھیں سلامت رکھے میاں، آئندہ میرے لیے کوئی سفید کپڑا نہ لانا’’۔
‘‘بیوی دیکھو میں تو زندہ سلامت بیٹھا ہوں پھر تم نے یہ سفید لباس کیوں پہن لیا’’۔ ان کی سوجی ہوئی آنکھوں سے دو آنسو نکلے اور ڈاڑھی میں جذب ہوگئے۔ تب ہی آم کے درخت سے ایک ٹپکا نوری کے پاؤں کے پاس آکر گرا اور ان کے سفید کفن کو رنگین کر گیا۔ …

Published inعالمی افسانہ فورمنعیمہ جعفری پاشا