Skip to content

آگہی

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 24
“آگہی ”
سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

اس کے ملنے سے قبل مجھے انگوٹھوں کی قدروقیمت کا مطلق اندازہ نہیں تھا.اب جو شئے موجود ہی نہ ہو، چاہے وہ زندگی کے لیے کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو، بغیر کسی ذاتی تجربے کے اس کی اہمیت و افادیت کایقین نہیں کیا جاسکتا.میں نے جب سے ہوش سنبھالا، اپنے ہاتھوں کو انگوٹھوں سے محروم ہی پایا.ان کی عدم موجودگی کے تعلق سے بہت ساری روایتیں منسوب تھیں. کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ میں ایام طفلی میں بےحد کند ذہن تھا اور اسی کند ذہنی کے باعث میں نے اپنے ہاتھوں کو ایک چارہ کاٹنے والی مشین میں ڈال دیا اور انہیں گنوا بیٹھا جبکہ بعض افراد اس حادثے کو میری شرارت کا خمیازہ مانتے تھے.ان کے مطابق مجھے یہ سزا قدرت کی طرف سے میری شرارت کی پاداش میں ہی ملی تھی.معدودے چند ایسے بھی تھے جن کا یقین تھا کہ میرے انگوٹھوں کو جبراً کاٹ ڈالا گیا تھا.
اب روایتوں میں جتنے بھی ابہام ہوں لیکن یہ ایک روشن حقیقت تھی کہ میرے ہاتھوں میں انگوٹھے نہیں تھے.مجھے ان کے نہ ہونے سے کوئی خاص پریشانی بھی نہیں تھی.یہ اصول فطرت ہے کہ ناموجود عضو کی کمی کی تلافی کے لیے موجود اعضاء میں ہی اضافی صلاحیتیں پیدا ہوجاتی ہیں.میری انگلیوں نے بھی ذہنی طور پر اس کمی کو قبول کرلیا تھا اور ان کی فاضل ذمےداری بھی اپنے سر لے لی تھی. میری انگلیاں زیادہ تر وہ کام بہ حسن وخوبی انجام دے لیتی تھیں جو انگوٹھوں کے تعاون کے بغیر مشکل تھا اور میں کسی محرومی کے احساس سے یکسر عاری ہوکر مطمئن سی زندگی گزار رہا تھا کہ اس سے ملاقات ہوگئی.
یہ ملاقات بالکل اتفاقیہ تھی. ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا تھا کہ ملک کا مقبول ترین قلم کار س. ی. راشد ایک سڑک حادثے میں زخمی ہوکر ہسپتال میں داخل ہے. وہ میرا ہم عصر قلم کار ہونے کے ساتھ ساتھ میرا اچھا دوست بھی تھا.حالانکہ اسے جس قدر عوامی مقبولیت اور شہرت حاصل تھی وہ میرے لیے خواب جیسا تھا لیکن اس کے باوجود میں کسی احساس کمتری میں مبتلا ہوئے بغیر اس کی دوستی میں مخلص تھا.مجھے یقین تھا کہ اس کی یہ مقبولیت، یہ شہرت تمام کی تمام عارضی ہیں.میرے خیال میں وہ اپنی تخلیقات سے روشنی کی ایک لکیر کھینچتا ہوا معصوم و محروم لوگوں کو اپنے عقب میں جس خواب جہاں کی طرف لیے جارہا تھا حقیقتاً اس جہاں کا کوئی وجود ہی نہ تھا. عالم غنودگی میں مبتلا لوگوں پر جب یہ حقیقت آشکار ہوتی تو اس کے تئیں ان کی محبت اور وفاداری یکلخت غم وغصہ اور بغاوت میں تبدیل ہوجاتی.میرے شدید اختلاف کے باوجود وہ اپنے نظریہ ء فکر وفن سے ایک انچ بھی ہٹنے کو روادار نہ تھا.اس کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے وہ جہاں محض ایک خواب ہی ہو لیکن اس جہاں کی اس نے جو تفصیل اور تصویر پیش کی ہے اور لوگوں نے جتنی گہرائی اور شدت سے انہیں قبول کیا ہے اگر وہ جہاں نہ بھی ملا تو وہ خود ہی اسے تشکیل کرلیں گے. میرا اعتراض تھا کہ وہ جہاں تو غیر حقیقی ہے ہی لیکن اس کے پیش کردہ خدوخال بھی اتنے غیر حقیقی ہیں کہ یہ تشکیل ممکن ہی نہیں.نظریاتی طور پر اس شدید اختلاف کے باوجود ہم میں ایک قدر مشترک تھی کہ ہم دونوں ہی اپنے اپنے طریقہءکار سے ظلم واستحصال کے خلاف محاذآرا تھے.
اس کے حادثے کی خبر سن کر میں پہلی فرصت میں اس کے قریب پہنچ گیا.ہسپتال میں اسپیشل وارڈ کے باہر بچھی ہوئی کرسیوں پر اس کی بیوی اور بچے پریشان اور مضمحل سے بیٹھے تھے.ان کے علاوہ ایک اور شخص بےحد فکرمند اور فعال تھا.میں نے اس شخص کو پہلی بار دیکھا تھا. اس کی شخصیت میں کچھ ایسی مقناطیسی کشش تھی کہ اسے بار بار دیکھنے کے لیے کوئی بھی شخص مجبور ہوسکتا تھا.بلند قد و قامت اور سرخ وسپید چہرے پر سب سے قابل توجہ اس کی بڑی بڑی آنکھیں تھیں.ایسی زندہ، روشن اور متحرک آنکھیں میں نے شاید ہی پہلے کبھی دیکھی ہوں. بعد میں اس کے ساتھ کچھ وقت گزارنے اور اس کی آنکھوں میں بغور دیکھتے رہنے پر ایک عجیب و غریب مشاہدہ ہوا.اس کی آنکھوں میں بیک وقت دو متضاد کیفیتیں ابھرتی تھیں.محبت و نفرت، حزن و مسرت اور نرمی و سختی جیسے متضاد رنگوں کا ایک ساتھ جھلکنا حیرت انگیز امر تھا.
راشد کے بیٹے سے معلوم ہوا کہ فوری طور پر اعلیٰ درجے کا ہسپتال اور علاج میسر ہوجانے کی وجہ سے راشد کی جان بچ گئی اور اب وہ خطرے سے باہر ہے.گرچہ کچھ ہڈیاں فریکچر ہوگئی ہیں لیکن اس کے لیے فکرمند یا خوفزدہ ہونے والی کوئی بات نہیں.اسی سے یہ جانکاری بھی ملی کہ راشد کی جان بچانے میں اس اجنبی شخص کا بڑا ہاتھ تھا.اگر وہ بذات خود مداخلت نہیں کرتا تو ایسا خاص الخاص علاج ممکن بھی نہیں تھا.اس کے علاج پر جو کثیر رقم خرچ ہورہی تھی اسے وہی برداشت کر رہا تھا.دراصل راشد کا اسکوٹر جس ٹرک سے ٹکرا گیا تھا اس کا مالک وہی شخص تھا. حالانکہ عینی گواہوں کے مطابق ٹرک ڈرائیور کی کوئی غلطی نہیں تھی بلکہ نشے کی زیادتی کی وجہ سے راشد ہی اپنا اسکوٹر سنبھال نہیں پایا تھا.اس شخص سے باضابطہ تعارف ہونے پر اس انکشاف سے کچھ زیادہ ہی حیرت ہوئی کہ وہ ملک کا مشہور اور کامیاب ترین صنعت کار اودے سنگھ امکانی ہے.میرا نام سن کر وہ بےحد گرم جوشی سے پیش آیا.میرے ہاتھوں کو والہانہ انداز میں دباتے ہوئے گویا ہوا.
“میں آپ لوگوں کا بےحد قدر داں ہوں.مجھے جیسے ہی علم ہوا کہ اس حادثے کا شکار راشد صاحب ہیں تو میں اپنی تمام مصروفیات تج کر چلا آیا.اوپر والے کا شکر ہے کہ اس نے میری لاج رکھ لی ورنہ میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاتا. ”
اس سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی. گفتگو کے دوران میں اس کی ایک ایک ادا سے متاثر ہوتا رہا. غضب کی باغ وبہار شخصیت تھی اس کی.یوں تو اس کے لہجے میں انکسار ہی انکسار جھلکتا تھا لیکن اس میں ایک ایسا تحکم بھی پوشیدہ تھا کہ اس کی باتوں سے انحراف کی قطعی گنجائش نہیں تھی.یہی سبب تھا کہ جب اس نے مجھے دوسرے دن اپنے گھر کھانے پر بلایا تو میں انکار نہیں کرپایا.
اس کے عظیم الشان بنگلے میں قدم رکھتے ہوئے میں اس کی شان و شوکت کا قائل ہوتا گیا.اس نے میرا پرتپاک خیرمقدم کیا. ہلکی سی شراب نوشی کے بعد ہم کھانے کی میز پر پہنچے.کھانے کے دوران طرح طرح کی باتیں ہوتی رہیں. اس کی باتوں سے عیاں ہوا کہ وہ نہ صرف میری تخلیقات سے مکمل طور پر واقف تھا بلکہ کچھ تخلیقات تو اسے زبانی یاد تھیں. بجا طور پر یہ میرے لیے باعثِ فخر بات تھی. چونکہ اب تک ادب ہی موضوع گفتگو تھا اس لیے ماحول بالکل سنجیدہ ہی تھا کہ اچانک وہ کچھ ہنس کر بولا.
“آپ نے خود کو کبھی کھانا کھاتے ہوئے آئینے میں دیکھا ہے؟ ”
“جی!؟ .. ”
میں نے شدید حیرت سے اس کے متبسم چہرے کو دیکھا.
“آپ کے ہاتھ میں انگوٹھے نہ ہونے کی وجہ سے کھانا کھاتے وقت عجیب مضحکہ خیز منظر پیدا ہو جاتا ہے.اب ہم لوگ کھاتے ہیں تو نوالے کو منھ میں ڈالنے کے لیے انگوٹھا ہی کلیدی کردار ادا کرتا ہے.یہ دیکھئے! اس طرح… ”
اس نے ہاتھ میں نوالہ اٹھایا، چاروں انگلیاں منھ میں ڈالیں اور پھر انگوٹھے سے ڈھکیلتے ہوئے نوالے کو منھ میں ڈال لیا.یہ سارا عمل اتنی آسانی اور نفاست سے ہوا کہ میں آواک سا دیکھتا رہ گیا. سچ مچ اس کے مقابلے میں میرے کھانے کا انداز کچھ بےڈھب اور بےڈھنگا ہی تھا.زندگی میں پہلی بار انگوٹھوں کی غیرموجودگی پر مجھے بری طرح شرمندگی کا احساس ہوا.
“سچ انگوٹھے تو بےحد کارآمد اور ضروری ہیں.کیا آپ کو ان کی ضرورت کبھی محسوس نہیں ہوئی؟ ”
ابھی ابھی چند لمحے قبل اس کی تعریف و توصیف اور قدردانی پر میرے اندر احساس تفاخر کا جو بلند مینار کھڑا ہوا تھا یکلخت وہ زمین بوس ہوگیا.میں اپنے اندرونی کرب کو چھپاتا ہوا شکست خوردہ آواز میں بولا.
“جی میں نہیں سمجھتا کہ انگوٹھے انتہائی ضروری ہیں.میں ان کے بغیر بھی اچھی خاصی اور مکمل زندگی گزار رہا ہوں. ”
“جی نہیں! ”
وہ قطعی لہجے میں میری بات کی تردید کرتے ہوئے بولا.
“آپ زندگی گزار رہے ہیں لیکن مکمل نہیں.آپ کی زندگی میں ڈھیروں خلا ہیں.کیا آپ پانی یا شراب کا ایک گلاس بھی قاعدے سے پکڑسکتے ہیں؟ صبر وقناعت اچھی چیزیں ہیں لیکن یہ کسی محرومی کا ازالہ نہیں کرسکتیں. زیادہ سے زیادہ اس محرومی کو قبول کرنے کے لیے ذہن و دل کو آمادہ ہی کرسکتی ہیں. اچھا ایک چھوٹا سا لیکن بےحد اہم کام..کیا آپ چٹکی بجاسکتے ہیں؟ اس طرح… ”
اس نے اپنے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کو ملا کر چٹکی بجاتے ہوئے پوچھا.میں نے تعجب سے اس کی جانب دیکھا.
“اگر میں چٹکی نہیں بجا سکتا تو اس میں کیا نقصان ہے؟ ”
“یہی تو قابل غور امر ہے.ذاتی تجربہ نہ ہو تو ہر عمل بےفیض نظر آتا ہے.آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو چٹکی بجا کر حل کرسکتے ہیں.آپ اپنے تمام غم وفکر کو چٹکیوں میں اڑا سکتے ہیں.یہ عمل آپ کو بالکل بےفیض نظر آتا ہے لیکن میرے تجربے کے مطابق انگوٹھے کا سب سے اہم مقصد چٹکی بجانا ہی ہے.اچھا! ایک بات پوچھوں.آپ کی عمر کتنی ہوگی؟ ”
میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی اپنی عمر بتائی.
“یہی کوئی ساٹھ ستر سال ہوگی. ”
“کیا آپ اندازہ لگا کر بتا سکتے ہیں کہ میری عمر کیا ہوگی؟ ”
میں نے اس کے صحت مند سرخ و سپید چہرے کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا.
“میرے خیال میں آپ مجھ سے پانچ چھے سال چھوٹے ہوں گے. ”
“جی نہیں! میں آپ سے کافی بڑا ہوں. ”
اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا.
“اور میری اتنی اچھی صحت اور جوانی کا راز بس اتنا ہے کہ میں چٹکی بجا سکتا ہوں.اس لیے کوئی بھی مسئلہ میرے لیے پریشان کن نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی غم میرے قریب پھٹکتا ہے. ”
میں دیر تک اس کی باتوں کی صداقت اور اہمیت پر غور کرتا رہا.حیرت انگیز طور پر آہستہ آہستہ مجھ پر منکشف ہوتا گیا کہ بغیر انگوٹھوں کے زندگی عبث ہے. مجھے ہر وہ کام یاد آتا گیا جو میں انگوٹھوں کے نہ رہنے کے باعث کرنے سے مجبور تھا. میں جس قدر بھی خوش فہمی میں مبتلا رہوں لیکن یہ ایک تلخ حقیقت تھی کہ میں ایک قابل رحم معذور شخص تھا. مجھے شدت سے خواہش ہونے لگی کہ کاش کسی بھی صورت میری اتنی بڑی محرومی کا ازالہ ہوسکتا. میں گہری شرمندگی کے زیراثر اس شخص سے نظریں چرانے کی کوشش کرنے لگا جو بڑی محویت سے میرے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا.کافی دیر تک ماحول پر بوجھل سی خاموشی چھائی رہی.معاً اس نے سرگوشیوں میں مجھے مخاطب کیا.
“اگر آپ چاہیں تو میں اس عظیم نقصان کی تلافی کرسکتا ہوں. میں آپ کو عاریتاً انگوٹھے دے سکتا ہوں. ”
“کیا؟ ”
میری حیرت ایک ناقابل بیان خوشی کے بوجھ تلے دبتی چلی گئی.
“جی ہاں! میں آپ کا زبردست مداح ہوں اس لیے آپ کی اس محرومی کا ازالہ کرنے کے لیے تیار ہوں. میرے دیے ہوئے انگوٹھوں کو آپ بلاتکلف اپنے ہر استعمال میں لاسکتے ہیں.بس ایک چھوٹی سی شرط ہوگی. ”
“وہ کیا؟ ”
میں نے بےساختگی سے پوچھا. ذہنی طور پر میں اس کی پیش کش کو قبول کرنے کے لیے بالکل تیار ہوچکا تھا.میرے لیے اس کی یہ پیشکش نعمت غیرمترقبہ تھی.
“اگرچہ یہ انگوٹھے ہمیشہ آپ کے حکم کے تابع رہیں گے لیکن کبھی کبھی پل دو پل کے لیے یہ اپنی مرضی سے آزادانہ حرکت کر سکیں گے. ”
میں نے اس شرط کا گہرائی سے جائزہ لیا اور مجھے اس میں کوئی بڑی خرابی نظر نہیں آئی. بھلا انگوٹھوں کی بساط ہی کیا؟ کبھی کبھی یہ آزادانہ حرکت کر بھی لیں تو میرا کیا بگڑ سکتا ہے. اور میں نے ہامی بھردی.
انگوٹھوں کی فراہمی کے بعد میری زندگی میں ایک نہایت خوشگوار اور روشن انقلاب آیا. میں نے جانا کہ انگوٹھے کارحیات میں کتنا لازمی اور اہم مقام رکھتے ہیں اور سچ مچ چٹکی بجانا کتنا کارگر اور مفید ہے. اب میں ہر مسئلہ ہر غم سے نجات پا چکا تھا.میری صحت تیزی سے بہتر ہوتی جارہی تھی.میرے چہرے سے وہ صحت مند سرخی جھلکنے لگی تھی جو بےفکر زندگی کی پہچان ہے.اب میرے ہر قدم میں ایک مضبوطی اور استحکام پیدا ہوچکا تھا.
اس مدت میں ان انگوٹھوں نے میری مرضی کے خلاف آزادانہ طور پر کچھ حرکتیں کیں لیکن وہ اتنی بےضرر تھیں کہ میں نے ان پر کوئی توجہ نہیں دی.ہاں ایک بار اس کی حرکت بےحد ناگوار گزری. میں ایک ایسی محفل میں شریک تھا جس میں ملک کے معزز اور سربرآوردہ افراد شامل تھے.شراب کا پہلا گلاس ختم کرنے کے بعد میں نے دوسرا اٹھایا ہی تھا کہ یکلخت انگوٹھا میرے اختیار سے باہر ہوگیا.اس کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی گلاس زمین پر گر پڑا اور ساری شراب قیمتی دبیز قالین میں جذب ہو گئی.اس کے ساتھ ہی لوگوں کے استہزائیہ قہقہے ابل پڑے. انہیں شاید گمان ہوا کہ مجھے شراب کی ذرا بھی سہار نہیں اور میں ایک ہی پیگ میں ہوش وحواس کھو بیٹھا ہوں. جہاں تہذیب اور سلیقے کو پیمانوں کی تعداد سے ناپا جاتا ہو وہاں لوگوں کے اس گمان پر مجھے بےحد خفت اور شرمندگی ہوئی.انگوٹھے کی اس غیرمہذب حرکت پر میں پیچ وتاب کھاتا ہوا لوٹ آیا.
خیر اسے میں جلد ہی بھول گیا. لیکن اس روز کی حرکت نے مجھے ان کے متعلق کچھ سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کردیا. صبح سویرے میں چائے کے ساتھ اخبار کا مطالعہ کررہا تھا کہ میرا دیرینہ نمک خوار ملازم سسکیاں بھرتا ہوا میرے پاس پہنچا.استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ میرے بڑے بیٹے نے بلاوجہ اشتعال میں آکر اسے زدوکوب کیا تھا. اس کے دائیں گال پر طمانچے کا واضح نشان تھا اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں. اپنے بیٹے کا یہ حیوانی عمل مجھے سخت ناگوار گزرا.پشیمانی اور ہمدردی کے جذبے سے مغلوب ہوکر میں نے اس کی ڈھارس بندھائی اور اس کے آنسوؤں کو پونچھنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا کہ انگوٹھا اپنی من مانی پر اتر آیا.اس سے قبل کہ میں کچھ سوچ پاتا، اس نے خود کو اس کی اشک آلود آنکھوں میں گھسا دیا.ملازم درد کی شدت سے چھٹپٹایا اور چیختا ہوا بھاگ کھڑا ہوا. میں غم و غصے کی مورتی بنا انگوٹھے کی اس سرکشی پر حیرت زدہ سا بیٹھا رہ گیا. اس لمحہ میں نے سوچا کہ یہ انگوٹھے کچھ کچھ ناقابل برداشت ہوتے جارہے ہیں.اس سے پہلے کہ یہ میرے لیے کوئی بڑی پریشانی کھڑی کریں، ان سے نجات حاصل کرلینا عقل مندی ہے.لیکن ناگہاں مجھے ان کی موجودگی سے پیشتر کی محرومیاں اور معذوریاں یاد آتی گئیں اور میں بری طرح سہم گیا.میں نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ان سے حاصل ہونے والے مسلسل فیض کے مقابلے میں کبھی کبھی کی یہ ہلکی پھلکی پریشانی یا پشیمانی قابل درگزر ہیں.آئندہ احتیاط برتوں گا کہ یہ کوئی ایسی حرکت نہ کرنے پائیں جو میری ذلت و رسوائی کا باعث ہو.
کچھ عرصہ اطمینان اور سکون سے گزرا.میں ان انگوٹھوں کے ذریعہ اپنی گذشتہ محرومیوں کا برق رفتاری سے ازالہ کرتا رہا کہ وہ واقعہ ہوا جس نے کسی تیز و تند آندھی کی طرح میرے وجود کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا.
میرے گھر سے منسلک تھوڑی سی زمین تھی جسے میں نے چھوٹے سے باغیچے میں تبدیل کر رکھا تھا.اس زمین کے کچھ حصے پر میرے پڑوسی کا قبضہ تھا اور وہ باقی پر بھی دعویٰ رکھتا تھا. اس سلسلے میں طویل عرصے سے ہمارے درمیان تنازعہ تھا. دو ایک بار یہ تنازعہ باہمی تصادم میں بھی تبدیل ہوچکا تھا.ان دنوں میں نے خلوص دل سے سوچنا شروع کردیا تھا کہ برسوں کے اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے کوئی ایسی راہ نکالی جائے کہ یہ تلخی اور بدگمانی کی فضا ختم ہو. اس کے لیے بہتر صورت یہی تھی کہ کسی مفادپرست ثالث کی موجودگی کے بغیر آپسی گفتگو کے ذریعہ کسی ایسے حل پر پہنچا جائے جو دونوں کے لیے قابل قبول ہو.میں نے پہل کی اور کچھ ردوکد کے بعد ادھر سے بھی رضامندی ظاہر کی گئی.دو تین ملاقاتوں کے باوجود کوئی امید افزا کرن نظر نہ آئی لیکن میں مایوس نہیں تھا.
ایک روز گفتگو کے دوران اس کے لہجے میں کچھ تلخی در آئی.میں نے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ ماحول تلخ بنانے سے کوئی فائدہ نہیں.اول تو اس کا دعویٰ ہی غلط اور بےجا ہے پھر بھی یہ میری شرافت اور صالح ذہنیت کی پہچان ہے کہ میں اس مسئلے کو آپسی گفتگو کے ذریعہ ہمیشہ کے لیے ختم کرکے آئندہ اچھے پڑوسیوں کی طرح رہنا چاہتا ہوں.میری نرمی کو شاید اس نے بزدلی پر محمول کیا.وہ کچھ اور شیر ہوگیا اور باقی زمین پر بھی بزور قوت قبضہ کرنے کی دھمکی دینے لگا.میں ہرممکن حد تک معاملے کو بڑھانے سے گریز کرنا چاہتا تھا اس لیے اس کی احمکانہ دھمکی کو نظرانداز کرتا ہوا بولا.
“آپ خواہ مخواہ اشتعال میں آ رہے ہیں.بات وہ کیجئے جو قابل عمل ہو.میں کسی لڑائی سے گریز کرنا چاہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ میں کمزور ہوں. بلکہ ہم دونوں کی بہتری اسی میں ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف اپنی توانائی ضائع کرنے کی بجائے کوئی باوقار صلح کرکے اس توانائی کو اپنے اپنے گھریلو مسائل پر صرف کریں. ”
“میں بھی صلح چاہتا ہوں لیکن دب کر نہیں.اگر مجھے دبانے کی کوشش کی گئی تو میں اس تنازعے کو میدان میں ہی حل کروں گا. ”
اس کے لہجے کی کرختگی میری سماعت کو بےحد ناگوار گزری پھر بھی آخری کوشش کے تحت میں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اس کی سمت اشارہ کرتے ہوئے کہنا چاہا کہ وہ غلط فہمی میں مبتلا ہے.میں اس مسئلے کے حل کے لیے بےحد مخلص اور سنجیدہ ہوں کہ یکایک ایک بار پھر انگوٹھا میرے اختیار سے باہر ہوگیا اور وہ تمام انگلیوں کو سختی سے دباتا ہوا سینہ تان کر کھڑا ہوگیا. اس کھلی بےعزتی اور دھمکی پر میرا پڑوسی ایک جھٹکے سے کھڑا ہو گیا اور غصے کی زیادتی سے تھر تھر کانپتا ہوا چیخا.
“میں تمہیں اس ٹھینگے کا مطلب سمجھاؤں گا.میں اپنی اس بےعزتی کا بدلہ بیچ چوراہے پر نہ لیا تو میرے نطفے میں فرق سمجھنا… ”
وہ پاؤں پٹختا ہوا دروازے کی سمت بڑھا.میں نے تیزی سے آواز دے کر اسے روکنا چاہا کہ انگوٹھے وہ حرکت کر بیٹھے جس کا میں نے تصور تک نہیں کیا تھا. دونوں انگوٹھے میرے ہونٹوں پر اس طرح جم گئے کہ میری آواز حلق میں ہی گھٹ کر رہ گئی.
اور تب مجھے احساس ہوا کہ یہ انگوٹھے حد سے تجاوز کرچکے ہیں اور اب ان کا وجود ناقابل برداشت ہوچکا ہے. آج انہوں نے میری آواز کا گلا گھونٹا ہے کل پتہ نہیں…کسی انجانے خدشے سے میری رگ وپے میں خوف کی ایک تیز لہر دوڑ گئی.اس سے قبل کہ انہیں اپنی من مانی کرنے کا کوئی اور موقع نصیب ہو، میں نے ان سے نجات حاصل کرنے کا پختہ فیصلہ کرلیا.میں نے اپنی انگلیوں کی مدد سے انہیں اپنے ہونٹوں سے ہٹانے کی کوشش کی.تھوڑی سی جدوجہد کے بعد انگوٹھے اپنی جگہ سے ہلے اور نیچے کی جانب سرکتے چلے گئے.اور اس سے پہلے کہ میں ان کی نیت کا ذرا بھی اندازہ کرپاتا، وہ میری شہ رگ پر کس گئے.میں نے بری طرح چھٹپتا کر ان کی گرفت سے شہ رگ کو چھڑانا چاہا لیکن ان کا دباؤ بتدریج بڑھتا ہی گیا.میری سانسیں رکنے لگیں، آنکھیں باہر کی جانب ابل پڑیں اور بس اب وہ لمحہ آنے ہی والا تھا کہ میری روح قفس عنصری سے پرواز کر جائے. اس آخری پل میرے ڈوبتے ہوئے ذہن میں ایک شدید خواہش ابھری.
کاش مجھے اتنی سی مہلت مل جائے کہ میں اپنی آنے والی نسل کو ابھی ابھی حاصل ہونے والی یہ آگہی بخش سکوں کہ مانگے کا انگوٹھا بالآخر شہ رگ کو ہی کستا ہے.___

Published inسلیم سرفرازعالمی افسانہ فورم