Skip to content

آوارگی

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 61
آوارگی
نورین علی حق، دہلی، انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اکثر صبح گیارہ بجے اٹھ کر نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہنتا ہوں اور آئینہ میں خود کو دیر تک نہارتا ہوں۔ پہلے بالوں میں تیل ڈالتا ہوں، پھر پانی ڈال کر دیر تک مساج کرتا ہوں، جب بال قدرے ملائم ہو جاتے ہیں تو چندیا کے بالوں کو اوپر کی جانب کھڑا کرتا ہوں اور کنارے کے بالوں کو کانوں کی لوپر لٹکاتا ہوں، نئے فیشن کے مطابق سر کے پچھلے حصے پر پورے سر سے زیادہ بال ہوتے ہیں۔ پینٹ پہننے میں اس وقت تک مزا ہی نہیں آتا، جب تک جوکی کا لیبل نہ دکھ جائے۔ ان باتو ں کا خیال رکھنا پڑتا ہے ورنہ ہمارے ہی دوست ہمیں دقیانوسی کہنے لگتے ہیں۔ اس دن بھی معمول کے مطابق تیار ہو کر میں گھر سے نکل گیا تھا۔ چوراہے پر چند دوست مل گئے تھے پھر وہی تیری ماں اور تیری بہن کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس دن میری گرل فرینڈ کی کال نہیں آئی تھی، شاید اسے گھر میں کچھ کام رہا ہو گا، اسی وجہ سے اس نے کال نہیں کی تھی۔ یوں بھی وہ کال کرتی ہی کب ہے، مجھے ہی اس کی فکر رہتی ہے۔ رفیق پبلک اسکول میں جب میں آٹھویں کلاس میں تھا، تبھی اس سے ملاقات ہوئی تھی ،وہ بھی اسی اسکول میں ساتویں کلاس میں پڑھتی تھی۔ نرم و نازک سی، انتہائی خوبصورت گلاب کی ادھ کھلی کلی کی مانند نظر آتی تھی۔ پہلی نظر میں ہی میں اس پر نثار ہو گیا تھا، تب سے اب تک میرے اس سے تعلقات ہیں ۔ گو کہ میں نے گھر والوں کی ہزار چاہتوں کے باوجود اسکول چھوڑ دیا ہے اور گھر میں ہی رہنے لگا ہوں یا محلے کے یار دوستوں کے ساتھ دن دن بھر مٹر گشتی کرتا ہوں۔ درمیان میں دوپہر کا کھانا کھانے گھر آتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے اور رات کو بھی گھر ہی پر کھاتا ہوں ، کبھی کبھی بجیا کے پرس سے سو دو سو نکال لیے یا کسی سامان کی قیمت بڑھا کر بتا دی تو پچاس سو روپے بچ جاتے ہیں اور اس دن چکن چنگیزی کا انتظام ہو جاتا ہے، کبھی کبھی کوئی دوست اپنے گھر سے انتظام کر لیتا ہے۔ بجیا ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم ہیں،گھرکے اخراجات بھر سیلری حاصل ہو جاتی ہے اور وقفے کے ساتھ مجھے بھی جیب خرچ مل جاتا ہے۔ عرصہ ہوا پاپا نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ میرے علاوہ گھر میں دو بھائی ہیں، جنہوں نے اپنی پسند سے شادیاں کر لی ہیں، باجی کے علاوہ تین بہنیں اور بھی ہیں۔ ایک اسکول میں زیر تعلیم ہے، ایک بی اے کر رہی ہے اور تیسری یونیورسٹی سے ایم اے فرسٹ ایئر میں ہے، بجیا تو خیر پڑھنے مین بہت تیز تھیں۔ انہوں نے آج سے پانچ سال پہلے ہی ایم اے مکمل کرنے کے بعدپاپا مما کی اجازت سے جاب شروع کر دی۔ دونوں بھائی رہتے تو ایک ہی گھر میں ہیں لیکن ان کے کھانے پکانے کا انتظام الگ ہے۔ ان کے بچے عام طور پر امی کے ارد گرد رہتے ہیں، جو ہم کھاتے ہیں، وہ بھی کھاتے ہیں۔ بھابیاں ذرا خود پسند ہیں، بہنوں سے ان کی بنتی نہیں، ذرا ذرا سی بات پر جھگڑا ہو جاتا ہے، لے دے کر بس بجیا ہیں جو گھر کا انتظام سنبھالتی ہیں۔
’’
ابے او، آج تو تو بڑا ہینڈ سم لگ ریا ہے۔” عقیل کی آواز چند قدموں کی دوری سے ہمارے کانوں سے ٹکرائی تھی۔ عقیل کے ساتھ شمیم، راجا اور ببلو ایک ہی بائک پر سوار تھے۔ آتے ہی کہنے لگے، آج سنڈے ہے، کہیں کا پروگرام بنایا جائے۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا، دوسرے نے تیسرے پر پھبتی کسی، لیکن کسی کے پاس پچاس، سو روپے سے زیادہ نہیں اور ہم کئی تھے، اس لیے کسی ہال میں جا کر مووی دیکھنے کا پروگرام بنایا نہیں جا سکتا تھا، دو بائک، آٹھ سوار، جیبیں خالی، بالآخرسنڈے مارکیٹ جانے کا پروگرام بنا۔ ایک بائک پر چار اور دوسری بائک پر چار، کل ملا کرآٹھ، بوریوں کی طرح لدگئے۔ ڈرائیور ٹنکی پر، اصل سیٹ پر دو کے علاوہ تیسرے کی گنجائش نہیں ہوتی اور چوتھا کیرئر پر سوار ہو کر بدکے ہوئے سانڈ کی طرح بائک روانہ ہوئی ۔ سڑکیں بھی اتنی اچھی کہ چلتی ہوئی بائک کتنوں کو کیچڑ زدہ کر ڈالتی ہے۔ میٹرو چوراہے سے ہماری بائک نکل چکی تھی۔ اس کے بعد تو گلیوں کا نہ ختم ہونے والا ایک طویل سلسلہ ہے۔ ان گلیوں میں بھی عام دنوں کی طرح دونوں جانب ٹرک کھڑے تھے ۔ رکشے اور کار والے دائیں بائیں کاٹ کرنکل رہے تھے ۔ پیدل چلنے والے بھی خود کو بچا بچا کر چلنے پر مجبور تھے کہ یہاں کی زندگی ہی یہی ہے۔ ہماری زندگی میں ٹریفک جام داخل ہوچکا ہے، ٹریفک جام سے بے نیاز ہماری بائک ان تنگ گلیوں میں دوڑ رہی تھی۔ کتنی ہی بار ہماری بائک سے عورتیں بچی تھیں۔ رکشوں پر بھی کئی کئی لوگ سوار تھے۔ یقینا انہیں ہماری یہ حرکتیں ناگوار گزر رہی ہوں گی البتہ یہ سب سوچنے اور ٹریفک قانون پر عمل کرنے کی ہمارے پاس فرصت ہی کب ہوتی ہے؟ کہتے ہیں ہمارے پرکھوں نے کسی زمانہ میں اس شہر کو سجایا اور سنوارا تھا، شاہی منشا کے مطابق آبادی بسائی گئی تھی اور آج بھی اسی طرح یہ آبادی موجود ہے۔ کتنی ہی عمارتیں بوسیدہ ہو چکی ہیں، حویلیاں ڈرائونی نظر آتی ہیں۔ کبھی کبھی تو مکان گر بھی جاتے ہیں اور ان کے ملبے میں دب کر سینکڑوں افراد اپنی جانیں کھو بیٹھتے ہیں۔ اب ان گلیوں کی دونوں جانب جو بڑی حویلیاں ہیں وہ ہماری نہیں ہیں۔
کبھی سیاست کی آندھی چلی تھی تو ان مکانوں کے مکین اپنے ملک جانے کے ارادے سے نکل پڑے تھے لیکن بعد کو پتہ چلا کہ وہ اپنے ملک پہنچ کر مہاجر کہلاتے، اس سے قبل ہی عدم آباد کےمسافر ہو گئے اور جو یہاں باقی رہ گئے وہ دبتے دبتے دنیا میں ہی قبر نشیں ہو گئے ہیں۔ اب ان گلیوں تک پہنچنے میں بھی ہمیں اچھا خاصہ وقت لگتا ہے۔ دائیں بائیں کاٹتے ہوئے ہماری بائک نکل رہی تھی۔ بائک میں ہارن بھی ایسا ہے جسے سن کر دور سے ہی لوگ سمجھ جاتے ہوں گے کہ شریفوں کی ٹولی آ رہی ہے۔ اچانک عمران نے بائک کا اگلا پہیا زمین سے اوپر کو اٹھا دیا تھا، تھوڑی دور کے بعد ایک دوشیزہ سے لگتی ہوئی ہماری بائک نکل گئی تھی، وہ سہمی سی ہمیں دیکھتی رہ گئی تھی، ہم عمران کی اس جرات پر قہقہے لگاتے ہوئے کافی دور نکل گئے تھے، ہم خوش ہو رہے تھے۔ اسی دوران ہماری بائک توازن کھونے لگی تھی عمران کیرئر پر بیٹھے ذیشان کو انتہائی غلیظ گالی دیتے ہوئے زور سے چیخا تھا؛
’’
ابے او سالے۔۔۔۔ ، ٹھیک سے۔۔۔۔۔ سیدھی کر کے بیٹھ۔۔۔۔۔‘‘ اور جواب پیچھے سے حاضر تھا؛ ’’ابے ماں کی۔۔۔۔۔ ، سالے چلا مت۔‘‘
سنڈے مارکیٹ جمی ہوئی تھی۔ جوتے، چپل، کپڑے، جینس، شرٹ، ٹی شرٹ، ذرا اور آگے پل تک پہنچے تو کتابوں کا انبار اور آگے کا راستہ جام تھا۔ کئی دوست بائک سے اتر گئے اور عورتوں کو دھکے مارتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ ہم سنڈے مارکیٹ آئے بھی تو اسی لیے ہیں کہ عورتوں کے بدن کی حرارت کچھ مل سکے۔ عورتوں کو دھکے مار مار کر جب ہم تھک گئے تو سارے دوست پھر سے بوریوں کی طرح بائک پر لدے اور ہوا کے دوش پر لہراتے ہوئے چل پڑے۔ دوستوں کے درمیان آوارگی کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے، گھنٹوں گھومنا پھر کچھ دیر کسی پارک میں ٹھہر کر لڑکیوں کو دیکھنا اور اس دن بھی یہی ہوا تھا لیکن تب احساس نہیں تھا کہ آنے والے کسی لمحہ میں خاموشی کی ایسی آندھی چھپی ہے، جس سے باہر نکلنا میرے لیے آسان نہیں ہو سکے گا۔ یہ آوارگی میرے لیے کوئی نئی نہیں تھی۔ باہر نکلتے ہی حسرتوں کے چراغ روشن ہو جاتے۔
ابے کیا سوچ ریا ہے۔۔۔۔۔؟” عمران نے بائیک چلاتے ہوئے پوچھا تو جیسے میں خواب سے جاگا۔
لڑکیوں کے بارے میں سوچ رہاتھا۔” شمیم نے ٹھہاکا لگایا۔
اس عمر میں لڑکیوں کے علاوہ بھی کچھ سوچا جا سکتا ہے کیا؟
آسمان پر ایک قطار سے پرندے غول در غول اڑتے چلے جا رہے تھے۔ اب ہم کناٹ سرکل سے گزر رہے تھے۔ ایک قطار سے خوبصورت دکانوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور ان دکانوں کے آس پاس منڈلاتی ہوئی حسین تتلیاں۔ سامنے ہی پارک تھا۔ سورج غروب ہو رہا تھا۔ شام کی پرچھائیوں نے پارک پر سایہ کردیا تھا۔ شمیم نے ایک جھٹکے سے بائیک روک دی تھی۔ پیچھے راجا نے بھی بائیک روک دی تھی۔
ارادے کیا ہیں۔؟” میں نے حیرانی سے پوچھا۔
آئس کریم کھاتی ہوئی لڑکیوں کو دیکھیں گے اور کیا؟” ایسے پارکوں میں لڑکے لڑکیوں کو محبتوں کی حسین وادیوں میں گم دیکھنا بھی جنت جیسی لذت سے کم نہیں۔ جسم کے اندر پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ تھی۔۔۔۔۔ رگ وپے میں دوڑتی ہوئی ایک آگ تھی، جو ایسے ماحول میں مجھے جلانے کے لیے کافی تھی۔۔۔۔۔ پارک میں چاروں طرف لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ ہم ان کے درمیان سنبھل کر چل رہے تھے۔ آسمان سے اتری ہوئی پریاں۔۔۔۔۔ کوہ قاف کی پریاں۔۔۔۔۔ رنگ برنگی تتلیاں۔۔۔۔۔ کہیں خاموش سسکیاں۔۔۔۔۔ کہیں لرزتی ہوئی گھنٹیاں اور اچانک۔۔۔۔۔ جیسے جسم میں انگارے بھر گئے تھے۔۔۔۔۔ ایک دم بدن کی آگ سرد ہو گئی تھی۔ ایک تیز سرد لہر آئی تھی۔۔۔۔۔۔ جو مجھے بھگوتی ہوئی گزر گئی تھی۔۔۔۔۔ وہ چہرہ۔۔۔۔۔ اس چہرے کو یہاں دیکھ پانا میرے لیے کسی قیامت کے لمحے سے کم نہیں تھا۔۔۔۔۔ ایک آندھی چپکے سے گزر گئی۔ یقیناً وہ بجیا تھی اور بجیا کسی مرد کے ساتھ تھیں۔ درخت کی آغوش میں مرد کا ہاتھ بجیا کے کندھے پر تھا۔ میرے جسم میں سرعت کے ساتھ ایک بجلی دوڑ گئی تھی۔ میں نے شمیم کا ہاتھ تھاما اور زور سے کہا۔”مجھے گھر جانا ہے ۔ کچھ ضروری کام ہیں۔” بائیک دوبارہ چل پڑی تھی۔ ہمارے درمیان ایک انجان سی سراسیمگی اور اجنبیت پیدا ہو گئی تھی۔ دوڑتی ہوئی بائک سے کئی بار مجھے لگا کہ میں زمین پر گر پڑا ہوں، سر میں رہ رہ کر تیز جھٹکے لگ رہے تھے۔ مٹھیاں خود بہ خود بندھ رہی تھیں، دانت آپس میں پس رہے تھے، کبھی جسم آگ میں تپا ہوا محسوس ہو رہا تھا، کبھی پسینے سے شرابور ہو رہا تھا، آنکھوں میں دھواں سا لہرا رہا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آنکھیں بے جان لگ رہی تھیں، سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔
دن دن بھر کی آوارگی کے بعد گھر لوٹتے ہوئے کبھی پائوں میں اتنے سارے کانٹے نہیں چبھے تھے، جتنے اس دن چبھ رہے تھے، گھر پہنچ میں بستر پر دراز ہو گیا، گھر میں کسی نے مجھے اس دن کچھ نہیں کہا، سب اپنے اپنے کام میں مصروف تھے، مما کچن میں کچھ کھٹ پٹ کر رہی تھیں۔ میری نگاہیں گھڑی پر ٹکی ہوئی تھیں، شام کے سات بج چکے تھے۔ اور دنوں میں اس وقت سڑکوں پر نظر آتا تھا۔ پارک سے واپسی کے بعد کہیں جانے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ فون بھی خاموش پڑا تھا کہ اس کے بجنے میں ابھی چار گھنٹے باقی تھے، بے سوچے سمجھے میں لیٹا تھا۔ رات کے نو بجے مما نے کھانے کو کہا تھا، لیکن کچھ بھی کھانے کی خواہش نہیں تھی، رہ رہ کر شدت کی پیاس لگ رہی تھی اور پانی منھ میں جاتے ہی گرم توے پر پانی کے جلنے کی آوازیں ابھر رہی تھیں، اندر کچھ سرسرا رہا تھا، رہ رہ کر میرے وجود میں کچھ ٹوٹ پھوٹ ہو رہی تھی۔ باہر سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ آئینہ کے سامنے میں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
باہر بیل بجی ہے۔ مجھے احساس ہے کہ بجیا گھر میں داخل ہوچکی ہیں۔ شام کے سایہ میں پارک میں وہ چہرہ ابھی بھی میرے جسم میں لرزہ پیدا کر رہا ہے۔ ایک سنامی لہر ہے، جو مجھے بھگوتی ہوئی گزر گئی ہے۔ کیا بجیا کا کسی مرد کے ساتھ ہونا غلط ہے۔۔۔۔؟ ایک لہر اور تیزی سے آئی۔۔۔۔ بجیا اس گھر کی خواہشیں پوری کرتی رہیں، لیکن کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ بجیا کی خواہشیں کیا ہیں؟ آنکھوں کےسامنے ایک سمندر ہے اور سمندر کی لہریں گرج رہی ہیں میں نے یا کسی نے بھی کبھی جاننے کی کوشش کی کہ بجیا میں بھی ایک لڑکی چھپی ہے۔۔۔۔۔ لہریں گرج رہی ہیں۔۔۔۔۔ بجیا کے پاس بھی تو ایک انسانی جسم ہے اور جسم کی خاموش مانگیں بھی ہوا کرتی ہیں۔۔۔۔۔ میں بہت دیر تک آئینہ کے سامنے کھڑا رہا۔ شاید مجھے یقین تھا کہ بجیا چل کر میرے پاس ضرور آئیں گی۔ مجھے یہ بھی یقین تھا کہ بجیا نے بھی مجھے وہاں دیکھ لیا تھا کیونکہ ایک لمحے کے لیے بجیا کی آنکھیں اٹھی تھیں پھر بجلی کی طرح جھک گئی تھیں۔ جب بجیا بہت دیر تک کمرے سے باہر نہیں نکلیں تو میں دروازے سے باہر آ گیا لیکن بجیا وہاں بھی نہیں تھیں۔ سارا گھر خاموش تھا۔ امی اور بہنیں اپنے اپنے کمرے میں لوٹ گئی تھیں۔ میں برآمدے میں آتے ہی یکایک چونک پڑا۔۔۔۔۔ بونسائی کے گملوں کے قریب بجیا پتھر کے بنچ پر بیٹھی تھیں۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ چلتا ہوا میں بجیا کے پاس ہی آ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔ بجیا نے پہلے سہمی ہوئی نظر اٹھائی۔۔۔۔۔ میں نے مضبوطی سے مسکرانے کی کوشش کی اور بجیا کے ہاتھوں کو ہاتھوں میں لے لیا۔۔۔۔۔ انہوں نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو میں نے روک دیا۔۔۔۔۔ بجیا کے ساتھ کمرے میں واپس لوٹتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ جیسے یکایک تیزی سے تبدیلی آئی ہو۔ میں نے پلٹ کر بونسائی کے پودوں کو دیکھا۔۔۔۔۔ اب وہاں بھی نئے کونپل مسکرا رہے تھے

Published inعالمی افسانہ فورمنورین علی حق