Skip to content

آنکھ کا شہتیر

آنکھ کا شہتیر
افضال انصاری

مارو مارو___سالا چوری کرتا ہے!!! ہاتھ پیر توڑ ڈالو اس کے____ارے ہوا کیا ہے بھائی؟؟
کیوں اس بیدردی سے غریب کو مار رہے ہو؟؟
پہلے سے مجھے وہ ادھ موا سا نظر آ رہا ہے ایک آدھ ہاتھ غلط پڑ گیا تو مر جائے گا بیچارہ!!! اصغر نے مجمع میں گھستے ہوئے کہا____ارے بھائی تم نے دیکھا نہیں؟ باہر گلی میں رکھی ہوئی پانی کی ٹنکی کا ڈھکنا چوری کر کے بھاگ رہا تھا___ایک پہلوان نما شخص نے جواب دیا _____اصغر نے مار کھاتے ہوئے شخص پر نظر ڈالی،، وہ اکہرے بدن کا مدقوق سے چہرے والا ایک عادی نشے باز نظر آ رہا تھا اس قسم کے نشے باز اپنی نشے کی لت کو پورا کرنے کے لیے عموما چھوٹی موٹی چوریاں کرتے رہتے ہیں_____اصغر نے پھر بیچ بچاؤ کرتے ہوئے کہا ارے بھائی اب بس بھی کریں، بیچارہ!!!! نجانے کس ضرورت کو پوری کرنے کے لیے اس ڈھکنے کو چرایا ہو گا،
چھوڑیں بھی اب___جا بھائی تو تو نکل نہیں تو ابھی پھر مار پڑنی شروع ہو جائے گی…
وہ شخص ممنون نگاہوں سے اصغر کی طرف دیکھتے ہوئے گلی میں آگے بڑھ گیا اس کی رفتار بہت آہستہ تھی____دراصل یار لوگوں نے اسقدر جم کر پٹائی کی تھی کہ اسے چلنے میں بھی شدید تکلیف ہو رہی مگر وہ آہستہ آہستہ گلی میں آگے کی جانب چل پڑا____مجمع چھٹ چکا تھا___اصغر بھی اپنے گھر کی جانب روانہ ہو گیا____کچھ ساعت گذری تھی کہ اچانک اصغر دوڑتا ہوا آیا اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھنے لگا کہ وہ آدمی کدھر گیاہے____لوگوں نے ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے اصغر سے پوچھا کہ بھائی اب کیا ہو گیا؟ اصغر نے چلاتے ہوئے کہا ارے سالے نے میرے گھر کی ٹنکی کا ڈھکنا چرایا ہے_____یہ کہتے وہ گلی میں اس جانب دوڑاتا گیا_____. جدھر وہ شخص گیا تھا______کچھ ثانیوں کے بعد وہ چور پھر اسی جگہ موجود تھا جہاں اسے مار پڑی تھی_____اور اس مرتبہ مارنے والوں میں اصغر سب سے آگے تھا.

Published inافسانچہافضال انصاریعالمی افسانہ فورم