Skip to content

آشوب زوج

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 70
آشوبِ زوج
فیض عالم بابر، کراچی، پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں میں شرمیلا ہوں’۔۔۔۔۔۔ ‘شرمیلا اس لیے کہ میں مرد ہوں مگر میرے اندر ایک عورت چھپی ہوئی ہے۔’ یہ عورت مضطرب ہے۔ ہر وقت اضطراب میں میرے ظاہری مردانہ رخ پر غالب آنا چاہتی ہے، تمہیں یاد ہے؟ جب میں نے اظہار محبت کرتے ہوئے ایک سانس میں تم سے کہا تھا کہ؛
’’
تم وہی لڑکی ہو جس میں چھپے مرد کی میرے اندر کی عورت کو تلاش ہے۔‘‘ تم نے ایک لمحے کے لئے حیرت کی دیوی بن کر غصیلے لہجے میں کہا تھا۔
’’
واٹ! تم پاگل تو نہیں ہو۔‘‘ یاد ہے تمہیں جب کالج میں سب مجھے شرمیلا کہہ کر میرا مذاق اڑاتے تھے اور تم بھی ان خوش مذاق لوگوں میں شامل تھیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ تم نے شادی کرنے کی حامی میری معصومیت کی وجہ سے بھری تھی یا میرے ہر وقت کھوئے کھوئے رہنے کی ادا تم کو بھا گئی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ تم مجھ سے شادی کرکے کیوں خوش تھی مگر مجھے اتنا معلوم تھا کہ میں تم سے شادی کرکے اس لئے خوش تھا کہ میرے اندر کی عورت نے تمہارے اندر کے مرد سے ملاپ کرکے اپنا اضطراب کھو دیا تھا۔ کتنا پرسکون تھا میں۔
او سوری! میرے اندر کی عورت مجھے اعتراف ہے کہ تمہارا شکوہ بجا تھا کہ میں شادی کے بعد بھی کھویا کھویا ہی رہا مگر تمہارا شک کرنا کہ میں کسی اور لڑکی کے خیالوں میں کھویا رہتا ہوں مجھے بہت کھلتا تھا۔ چپ رہنا تو میرے خمیر میں شامل تھا کہ مجھے بچپنے میں گُٹی میں میری گونگی دادی نے دی تھی۔ تم جانتی ہو نا مگر تم کیسے جانو گی کہ جب ایک ہفتے کے لئے تم میکے جاتی تو میرا دن ،رات اور رات ،دن کی طرح گزرتی تھی۔ تمہاری ہر تصویر مجھے دیکھ کر مسکراتی تھی۔ ہاں مسکراتی رہتی تھی اور میں جانتا تھا یہ مسکراہٹ اس لیے ہے کہ میں مرد ہوتے ہوئے بھی عورت کیوں ہوں؟ اس کیوں کا جواب اگر مجھے مل جاتا تو کیا میں فنا ہو کر شانت نہیں ہوجاتا؟ دائمی خوشی مجھے حاصل نہیں ہو جاتی؟
ابھی ہماری شادی کو چھ ماہ ہی تو گزرے تھے کہ تمہارے رویے میں اجنبی پن جھلکنے لگا تھا اور تم جانتی ہو؟ نہیں تم نہیں جانتی کہ اسی اجنبی پن کی وجہ سے تو میرے اندر کی عورت میں ایک بار پھر اضطراب کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ وہی میرے مردانہ رخ پر حاوی ہونے کی خواہشِ بے جا۔ یہ تو ہونا تھا۔ نہیں یاد، ہاں تمہیں یاد بھی نہیں اور معلوم بھی نہیں کہ یہ اسی روز ہوا تھا جب تم نے مجھ سے کہا تھا؛
’’
تم کیسے مرد ہو! نہ تمہیں دنیا میں دلچسپی ہے نہ خدا میں اور تو اور تمہیں تو مجھ میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تم بے حس ہو۔ پتھر ہو۔ تم وہ ظالم ہو جو خاموشی کے خنجر دل میں گھونپ کر بھی خاموش ہی رہتا ہے۔ تم سے شادی کرکے میری زندگی جہنم بن گئی ہے۔ میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔
تمہیں معلوم ہے۔ نہیں تمہیں نہیں معلوم کہ یہ اسی روز ہوا تھا۔
’’
تم سے شادی کرکے میری زندگی جہنم بن گئی ہے۔”، تمہاری اس بات نے میرے اندر کی عورت کو آگ بگولہ کردیا تھا۔ آگ بگولہ۔ ہاں آگ بگولہ اور اسی دن میرے اندر کی عورت میرے مردانہ رخ پر حاوی ہوگئی۔ میں عورت بن گیا تھا۔ ایک مکمل عورت۔ ہاں میں تماشا بن گیا تھا۔ او سوری! تماشا بن گئی تھی۔ اپنے تو اپنے۔ دور دراز سے اجنبی لوگ بھی مجھے دیکھنے آتے تھے اور تو اور اخباروں میں میری دو فوٹو بھی چھپی تھیں اس خبر کے ساتھ کہ؛
’’
کراچی میں ایک لڑکا لڑکی بن گئی۔‘‘ ہاہاہا۔۔۔۔۔۔ تم مجھے ایسے ٹکٹکی باندھے دیکھے جا رہی تھی جیسے میں تمہارا شوہر نہیں سوکن ہوں۔ تمہارا احسان کہ تم مجھے اس حالت میں چھوڑ کر میکے نہیں گئی۔ تمہیں شک تھا کہ میں نے کوئی ڈھونگ رچایا ہے۔ میں اب بھی مرد ہوں مگر جب تم نے میرے بدن کو ٹٹولا اور مجھے برہنہ کرکے دیکھا تو تمہیں یقین ہو گیا کہ میں تم جیسا ہی ہوچکا ہوں۔ اف تمہارے وہ چھلکتے ہوئے موٹے موٹے آنسو جنہیں میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ ہاں کبھی نہیں بھول سکتا۔ تمہیں میں نے بتایا تھا کہ اب میرے اندر ایک مرد آ گیا ہے مگر یہ مرد اس عورت کی طرح مضطرب نہیں اور نہ جانے کیوں یہ مرد تمہارے اندر کے مرد کو پیار بھری نظروں سے دیکھتا ہے۔ تمہیں تو مجھ سے جان چھڑانے کا بہانہ چاہئے تھا نا اور وہ تمہیں تمہارے گھر والوں نے میرے انکار پر میرے خلاف مقدمہ دائر کرکے مہیا کردیا تھا۔ مجھے منصف سے منصفانہ فیصلے کی امید تھی مگر منصف نے بھی تمہارے ہی حق میں فیصلہ دیا تھا کہ میرے عورت بننے کے باعث ہمارا نکاح منسوخ ہو چکا،ہمارے مذہب میں عورت کی عورت سے شادی جائز نہیں۔ تمہیں یہ بتاتا چلوں کہ فیصلہ آنے کے دن سے میں منصف اور مفتی میں امتیاز کرنے کی حس کھو چکا ہوں۔ میں تمہیں تمہاری طرح بھول کر اپنے اندر کے مرد کے لئے کسی اور عورت کی تلاش میں نکل جاتا مگر میں تمہیں یہ بات ایک بار پھر بتا کر اجازت چاہتا ہوں کہ میرے اندر کا مرد اس عورت کی طرح مضطرب نہیں اور نہ جانے کیوں یہ مرد تمہارے اندر کے مرد کو آج بھی پیار بھری نظروں سے دیکھتا ہے

Published inافسانچہعالمی افسانہ فورمفیض عالم بابر