Skip to content

آخری بوند

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر 52

آخری بوند

مطلوب الرسول قمر

لاہور ، پاکستان

مراد بغیر بستر کے ڈھیلی ڈھالی چارپائی پر بازو کو تکیہ بنائے سونے کی ناکام کوشش میں کروٹوں پہ کروٹیں بدل رہا تھا۔وہ نیندکو جتنا اپنی آنکھوں کے قریب لانے کی کوشش کرتا وہ اتنا ہی دور بھاگتی۔یوں لگ رہا تھا جیسے آج وہ نیوٹن کا تیسرا قانون ثابت کرنے پر تُلی ہوئی تھی۔

قریب کی چارپائی پر اس کی بیوی اور ننھا اس ساری صورتحال سے بے خبر سورہے تھے۔اچانک ننھا نیند میں کسمسایا تو اس کی بیوی نے کروٹ بدل کر لیٹے لیٹےقمیص کو اوپر کھسکا کر ننھے کو چھاتی کے ساتھ چپکا لیا۔زیرو کے بلب کی مدھم روشنی میں اسے بیوی کی سانولی چھاتی نظر آئی تو ایک لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی جیسے برسات میں بجلی کے بٹن کو دبانے سے کبھی کبھار ہلکا سا کرنٹ انگلی میں دوڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔لیکن اس کے دماغ میں چلنے والی فلم کی رفتار اس کرنٹ سے کہیں تیز تھی لہذا اس نے کچھ خاص توجہ نہ دی اور کروٹ بدل کر اپنی آنکھوں میں تیرتی ریت کی چبھن کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

آخر ہم جیسوں کا کیا بنے گا؟ کتنے دن اس طرح گزارا ہوگا؟ ننھے کی ماں کو وقت پر کھانا نہ ملا تو وہ ننھے کو دودھ کیسے پلائے گی؟ ننھے کو دودھ نہ ملا تو وہ بھوک سے نڈھال ہوجائے گا۔چلو میری تو خیر ہے،میں تو سگریٹ پی کر بھوک مار لوں گا،بھوک نے زیادہ ستایا تو کچھ نہ کچھ کرہی لوں گا لیکن ننھا اور اس کی ماں۔۔۔۔۔اس سے آگے اس کا دماغ کچھ سوچ ہی نہ سکا۔

انہیں خیالوں میں گم تھا کہ صبح کی ہلکی ہلکی روشنی نے اس کے گال تھپتھپائے۔وہ۔اٹھ کر بیٹھ گیا۔چارپائی کی چرچراہٹ سن کر بیوی کی بھی آنکھ کھل گئی۔

“لگتا ہے آپ رات صحیح طرح سوئے نہیں”

اس نے اپنی قمیص کو نیچے کرتے ہوئے مراد کی سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر کہا۔

” آں۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔بس کچھ ایسا ہی ہے” مراد نےنیم انگڑائی لیتے ہوئےکہا اور اپنی جیب سے مڑا تڑا سگریٹ نکال کر سلگایا اور پپڑی زدہ ہونٹوں میں دبا کر زور زور سے یوں کش لینے لگا جیسے اس کا ننھا اپنی ماں کی چھاتیوں کو منہ میں دبا کریوں چوستا ہے جیسے آج ہی سارا دودھ ختم کردے گا۔

دوتین بار گہرے کش لینے کی وجہ سے اسے کھانسی شروع ہوگئی۔وہ زور زور سے کھانستا ہوا غسل خانے میں چلا گیا اور سینے میں جمی بلغم یوں کھینچ کھینچ کر باہر نکالنے لگا جیسے وہ رات بھر دماغ میں جم جانے والی سوچوں کی غلیظ تہہ کو اکھاڑ اکھاڑ کر نکالنا چاہتا ہو۔

سگریٹ کی بو اور بلغم نے سیلن زدہ غسل خانے کو اور بھی متعفن کردیا۔

” دو گھونٹ گرم گرم چائے کی پی لیجیے، گلا صاف ہوجائےگا۔” اس کی بیوی نے چائے کا پیالہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

اس نے بغیر کچھ کہے چائے لے لی اور دونوں ہاتھوں سے پیالہ پکڑ کر سُڑک سُڑک کر چائے کے گھونٹ لینے لگا۔

” سکینہ! ” مراد نے اپنی بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ خود تو یہیں ہو لیکن اس کی آواز کہیں اور۔

” کیا بات ہے؟ ” سکینہ اس کے پاس ہی چارپائی پر بیٹھ گئی۔

چارپائی کی کمر جو مراد کے بوجھ سے پہلے ہی جھکی جا رہی تھی اور جھک گئی۔

” یہ بلا تو نہ جانے کب ٹلے، کتنے ہی لوگوں کو ہڑپ کرچکی ہے۔کتنے ہی شہر ویران ہوچلے ہیں۔اب تو کام دھندا بھی بند ہوگیا ہے۔حکومت نے ہمارے شہر کو بھی بند کردیا ہے۔یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا ہے کہ سمجھ میں نہیں آرہا گھر کیسے چلے گا۔شہر تو بھیڑیئے کی طرح ہوتا ہے۔بھوک لگے تو اپنے ہی ساتھیوں کو چیرپھاڑ دیتاہے۔ بغیر کمائے کتنے دن تمہارا اور ننھے کا پیٹ پالوں گا۔”

مراد کہتے کہتے رک گیا جیسے تھک گیا ہو۔

” میں سوچ رہا ہوں گاؤں چلے جاتے ہیں۔وہاں لوگ تو اپنے ہوں گے۔کوئی کام دھندا بھی مل ہی جائے گا۔نہ ملا تو کھیتوں میں کام کرکے پیٹ پال لوں گا۔” اس نے اپنی بات مکمل کی اور جواب کےلیے سکینہ کی طرف دیکھا۔

” جیسے تمہاری مرضی۔” سکینہ نے ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا۔

” تم ناشتے کے بعد ضروری سامان اکٹھا کرو میں باہر جا کر حالات دیکھتا ہوں اور جلدی یہاں سے نکل جاتے ہیں۔”

” سکینہ۔۔۔۔سکینہ۔۔۔۔۔۔ذرا جلدی کرلو، لوگ بتا رہے ہیں کہ حکومت بسیں اور ٹرینیں بھی بند کرنے کا سوچ رہی ہے۔اس سے پہلے کہ وہ بھی بند ہوجائیں ہمیں نکل جانا چاہیے۔” مراد نے دروازہ کھولتےہی فکر مند لہجے میں اونچی آواز میں کہا۔

” بس تھوڑا سا سامان ہی رہ گیا ہے۔” سکینہ نے بوسیدہ سے بیگ میں کپڑے ٹھوستے ہوئے کہا۔

سامان تھا بھی کتنا۔ایک بیگ اور ایک کپڑے کی گٹھڑی۔

وہ دونوں اپنی کل کائنات کو اٹھائے ریلوے اسٹیشن کی طرف چل دئیے۔ریلوےاسٹیشن کی جانب جانے والی سڑک کی طرف مڑتے ہی لوگوں کا ایک ہجوم نظر آیا جو اسٹیشن کی طرف یوں جارہا تھا جیسے کوئی انہیں ہانک رہا ہو۔سب تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے، سر پر جمے سامان کی گٹھڑیوں کو سنھبالتے، گود میں بچوں کو لٹکائے، بڑھے جارہے تھے۔سب کو جلدی تھی۔زندہ رہنے کی خواہش نے ان کی تمام تر توانائیوں کو یکجا کرکے ان کی ٹانگوں میں منتقل کردیا تھا۔

ان دونوں نے بھی اپنے قدم تیز کردیئے۔

اسٹیشن کے قریب پہنچ کر ہجوم کی رفتار یوں بتدریج کم ہوگئی جیسے سینکڑوں چیونٹیاں کسی خطرے کو اپنے سامنے پا کر اچانک رک جاتی ہیں۔

پہلےپہنچنے والوں میں سے کچھ خاموشی اور بے بسی سے واپس مڑ کر مزید تیز قدموں سے دوسری سڑک کی جانب چل رہے تھے اور کچھ وہاں اپنے غصے کا اظہار کرنے کےلیے اونچی اونچی آواز میں بول رہے تھے۔مراد نے سکینہ کو سڑک کے کنارے رکنے کا کہا اور خود صورتحال کا جائزہ لینے کےلیے ہجوم کے اگلے حصے کی بڑھا۔

” کیا معاملہ ہے؟ ” مراد نے واپس مڑنے والے ایک خاندان سے پوچھا۔

” حکومت نے ٹرینیں بند کردی ہیں” ایک مرد نے مایوسی میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا۔

مراد کو اپنی سانس سینے میں بند ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔اس نے زور سے کھینچ کر اسے باہر نکالا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا سکینہ کے پاس پہنچا۔

” ہمیں لاری اڈے کی طرف جانا ہوگا” مراد نے سکینہ کے سوال کا انتظار کیے بغیر کہا اور دونوں لاری اڈے کی جانب چل پڑے۔

سورج کی تمازت نے فضا میں گرمی کے احساس کو بڑھا دیا تھا لیکن آج یہ تمازت زندہ رہنے کے جذبے کی تمازت سے کہیں کم تھی۔یہی وجہ تھی کہ لوگ اس کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ رہے تھے۔

وہ دونوں جوں جوں لاری اڈے کی طرف بڑھتے گئے ہجوم میں اضافہ ہوتا گیا۔لگتا تھا جیسے کوئی طوفان آنے والا ہو اوربےشمار جانور اپنے اپنے بلوں سے باہر نکل آئے ہوں۔

اس وقت وہ سب ایک ہی قبیلے کے افراد لگ رہے تھے جو ارتقا سفر میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہو۔طاقت کے اس بگڑے ہوئے توازن میں اپنی بقا کی جنگ۔

جنگ تو دوسرے لوگ بھی لڑ رہے تھے لیکن وہ بے سروسامان نہیں تھے۔یہ قبیلہ تو بلا کے ساتھ ساتھ بےسروسامانی کے عفریت سے بھی پنجہ آزما تھا۔ان کا مسئلہ فقط زندہ رہنا نہیں باقی رہنا تھا۔

وہ دونوں لاری اڈے پہنچے تو منظر ہی مختلف تھا۔یوں لگا جیسے وہ گُڑ کی منڈی میں آگئے ہوں گُڑ کی ہر ڈھیری پر مکھیوں اور بھڑوں نے قبضہ جما رکھا ہو۔لاریوں کے انجن کی گھڑگھڑاہٹیں انسانوں کی بھنبھناہٹ میں گم ہوکر عجیب تاثر دے رہی تھیں۔ہر لاری کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔لوگ چھتوں پر تو بیٹھے ہی تھے، جسے جہاں پاؤں جمانے کی جگہ مل گئی وہ اسی جگہ پر قابض ہوگیا تھا۔کوئی چھپکلی کی طرح تو کوئی چمگادڑ کی طرح۔

اچانک اسے یوں لگا جیسے یہ لاریاں، بڑے بڑے ہاتھی ہوں اور لٹکے ہوئے لوگ، بڑے بڑے چمگادڑ، جو اپنی گول گول آنکھوں سے اسے گھور رہے ہوں۔

مراد نے چاروں طرف نظر دوڑائی، ہر طرف یہی منظر تھا۔

اس نے سکینہ کا بازومضبوطی سےتھام لیا ۔سکینہ نے ننھے کو اپنی بغل میں لٹکایا ہوا تھا اور اس کی قمیص ایک طرف کو کھسک جانے کی وجہ سے اس کی چھاتی کا ابھار گلے میں سے جھانک رہا تھا۔مراد کی چھچھلتی ہوئی نظر اس ابھار سے پھسلتی ہوئی لنگور کی طرح لٹکتے ہوئے ننھے پر پڑی تو جسم کی تمام توانائی جمع ہوکر اس کی ٹانگوں میں سرایت کرگئی۔ اس نے سر کو جھٹکا دیا اور سکینہ کو اپنے ساتھ گھسٹتا ہوا چل پڑا۔

اس نے لاری اڈے کے دوچکر لگائےلیکن کسی لاری میں کوئی جگہ نہ ملی۔

” مراد” سکینہ نے تھوک سے گلا تر کرتے ہوئے اسے پکارا۔

” ہوں” مراد نے ہنکارتے ہوئے کہا۔

” کہیں سائے میں بیٹھ کر ننھے کو دودھ ناں پلا لوں، اسے بھوک نہ لگی ہو” سکینہ کے لہجے میں کائنات کا سارا پیار رس کی طرح گُھلا ہوا تھا۔

” ہاں ٹھیک ہے” مراد نے مختصر سا جواب دیا۔

ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر سکینہ نے ننھے کو دودھ پلایا۔ مراد کچھ دیر سستانے کی غرض سے ایک اینٹ پر سر ٹکا کر لیٹ گیا۔اچانک درخت کے پتوں میں سرسراہٹ سی ہوئی۔اس نے لاشعوری طور پر اوپر دیکھا تو کئی چمگادڑ درخت کی شاخوں پر لٹکے ہوئے اسے یوں دیکھ رہے تھے جیسے اس کا ٹھٹھہ اڑا رہے ہوں۔وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔

” سکینہ کہیں اورجاکر بیٹھتے ہیں” مراد نے سامان اٹھاتے ہوئے سکینہ کو سہارا دے دے کر اٹھاتے ہوئے کہا۔اور تھوڑے فاصلے پر ایک دیوارکے سائے میں جاکر بیٹھ گیا۔

مسلسل چلنے اور پھر دودھ پلانے کی وجہ سے سکینہ پر بھوک چھاگئی۔گھر سے نکلتے وقت انہیں اس نئی مصیبت کا بالکل اندازہ نہیں تھا۔سکینہ کے پاس گھر میں جو کچھ کھانے پینے کا سامان موجود تھا اس نے ساتھ رکھ لیا تھا اور موقع پاکر اس نے چند روٹیاں بھی جلدی سے بنا لی تھیں۔اس نے پوٹلی سے روٹیاں نکالیں، ایک روٹی پراچار رکھ کر مراد کو دے دی اور ایک خود کھانا شروع کردی۔مراد کی توجہ کھانے کی طرف بالکل نہیں تھی لیکن اچار کی خوشبو نے اسے کھانے کی طرف راغب کرہی دیا۔

کھانے کے بعد جسم میں نئی توانائی عود کرآئی۔مراد نے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی تو معلوم ہوا کہ لوگوں نے پیدل ہی سفر شروع کردیا تھا۔اب اس کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔اُس نے متجسس نظروں سے سکینہ کی طرف دیکھا۔سکینہ کی نگاہوں میں حوصلے کا سمندر اسے دعوتِ سفر دے رہا تھا۔

بڑی سڑک پر لوگ ٹولیوں کی شکل میں چلے جارہے تھے۔ کچھ چھوٹی ٹولیاں، کچھ بڑی اور کہیں کہیں کچھ لوگ اکیلے اکیلے بھی جارہے تھے۔ان ٹولیوں میں سے ایک میں اسے اپنے جاننے والے لوگ بھی نظر آئے۔وہ تیز قدم اٹھاتے ہوئے ان کے ساتھ جاملے تاکہ سفر میں آسانی ہوجائے۔

تاحدِ نگاہ تارکول کی سیاہ سڑک، جیسے جیسے آگے بڑھتی جارہی تھی تنگ ہوتی جارہی تھی بالکل قبر کی طرح جس کا شگاف لحد تک پہنچتے پہنچتے اتنا تنگ ہوجاتا ہے کہ آدمی اس میں بمشکل ہی کھڑا ہوسکے۔

دن بھر سورج کی تمازت نے اس تارکول کو جہنم میں بدل دیا تھا لیکن ان قافلوں کو تو جیسے اس جہنم میں زندگی گزارنے کی عادت ہو۔اور عادت تھی بھی کہ وہ سب کےسب دن بھر چلچلاتے سورج میں کام کرکے پیٹ کے جہنم کی آگ بجھانے والے تھے یہ جہنم ان کے جذبوں کا کیا ٹھنڈا کرےگی ۔بالآخرسورج تھک ہار کر خود ہی زمین کی گود میں جا سویا۔

رات نے تارکول کی تپش کو کم کیا تو ان چلتے قافلوں کے جسموں کو نیند کی راحت نے آن گھیرا۔ایک ایک کرکے لوگ رکتے گئے۔وہ سڑک اب ان کےلیے بستر بن گئی۔انہوں نے اپنا اپنا سامان اپنے پاس رکھا اور چاندنی کی دودھیا نرم چادر اوڑھ کر نیند کی آغوش میں سرچھپا کر سو دیئے۔

ابھی رات پوری طرح بیتی نہیں تھی کہ مراد نے ہلکا ہلکا شور سنا۔وہ آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا۔لوگ رات کے سکون میں زیادہ سے زیادہ سفر طے کرنے کا سوچ کرچلنے کی تیاری کررہے تھے۔مراد کو بھی یہ بات درست معلوم ہوئی۔اس نے دھیرے سے سکینہ کو آوازدی۔” سکینہ۔۔۔۔۔۔سکینہ۔۔۔۔اٹھو، سب لوگ سفر شروع کرنے لگے ہیں تم بھی اٹھو۔”

سکینہ بھی آنکھیں ملتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔کچھ دیر تک اردگرد کا جائزہ لیا اور پھر دونوں نے اپنا سامان اٹھایا اور چل پڑے۔

سورج نکلنے تک وہ لوگ بہت سا فاصلہ طے کرچکے تھے لیکن وہ جتنا فاصلہ طے کرتے سفر اتنا زیادہ بڑھ جاتا۔

سورج کی مدھم پڑتی روشنی شام کی آمد کا پتہ دینے لگی۔دن بھر کے سفر نے جسموں کو تو تھکا دیا تھا لیکن جذبےسرد نہیں پڑے تھے۔گرتے پڑتے سبھی چلے جارہے تھے۔کبھی کبھار کوئی بھوک پیاس سے نڈھال ہو کر گر جاتا تو کوئی نہ کوئی اسے اٹھا کر کسی پودے کے ادھورے سائے میں لٹا دیتا۔کوئی چند بوند پانی اس کے منہ میں ڈال دیتا تو کوئی تھوڑی سی شکر۔لیکن بقا کی جنگ لڑتا یہ قافلہ رکتا نہ تھا۔

مراد نے بھی کل دوپہر کے بعدسے کچھ نہ کھایا تھا۔جو تھوڑا بہت کھانے کا سامان تھا،وہ اس نے سکینہ کےلیے بچا رکھا تھا کیونکہ ننھے کو دودھ پلانے کےلیے سکینہ کو توانائی چاہیے تھی۔ننھے کے حصے کا بہت سا دوودھ پہلے ہی غربت چوس چکی تھی،جو باقی تھا وہ تو بچا رہتا۔اسی خیال سے مراد بغیر کچھ کھائے چلتا جارہا تھا۔لیکن انسانی جسم کی بھی اپنی ہی بساط ہے۔آخر کب تک اور کہاں تک۔شام کے قریب اسے اپنے جسم میں کچھ کمزوری سی محسوس ہوئی لیکن اس نے اپنی سوچ کو جھٹک دیا اور سفر جاری رکھا۔لیکن جلد ہی اسے احساس ہوا کہ شاید اب مزید نہ چلا جائے۔اس نے سکینہ کا بازو پکڑ کر اسے سڑک کے کنارے کی طرف جانےکا اشارہ کیا۔سڑک کے کنارے ایک نسبتاََ ہموار جگہ دیکھ کر وہ بازو سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا اور آنکھیں موند لیں۔اس کا سر چکرا رہا تھا اور ہر چیز ایک دائرے میں گھومتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ہر چیز ایک نقطے سے گھومنا شروع کرتی اور پھر اسی نقطے پر آکر رک جاتی۔دائرے ہی دائرے،گول گول گھومتے چکر لگاتے دائرے۔کوئی چھوٹے چھوٹے بہت جلد ختم ہوجانے والے اور کچھ بڑے بڑے جنہیں اپنا سفر مکمل کرنے کےلیے دیر تک گھومنا پڑتا۔کوئی بھی دائرہ ایسا نہیں تھا جو ادھورا رہتا ہو۔ہر دائرے کو اپنی تکمیل تک گھومنا ہی پڑ رہا تھا۔اس نے آنکھیں کھول دیں تو سکینہ اپنی گول گول چھاتی ننھے کے منہ میں ڈالے اسے دودھ پلا رہی تھی۔دودھ پیتے پیتے ننھے نے ایک لمحے کےلیے چھاتی کو چھوڑا تو دودھ کی ایک ننھی سی بوند چھاتی کے منہ پر اٹک گئی۔ننھی منی گول گول بوند۔ایک چھوٹا سا دائرہ بناتی بوند۔

مراد اٹھ کر بیٹھ گیا اور دو گھونٹ پانی پی کر اپنا حلق تر کرنے کے بعد خود کو کچھ تازہ دم محسوس کرنے لگا۔

” چلیں” مراد نے سکینہ کی طرف دیکھتے ہوئے نحیف آواز میں کہا۔

” امید ہے آج رات ہونے تک ہم گاؤں کے قریب پہنچ جائیں گے” سکینہ نے اپنا اندازہ ظاہر کیا۔

” ہوں” مراد زیادہ بول کر اپنی توانائی ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اس نے ایک ہاتھ زمین پر ٹکا کر جسم کو سہارا دیا اور کھڑا ہوگیا۔

دونوں نے ایک بار پھر سفر شروع کردیا۔لیکن مراد نے جلد ہی محسوس کرلیا کہ اب اس کےلیے مزید چلنا ممکن نہیں۔اسے اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس ہورہا تھا اور سڑک بجائے سیدھی جانے کے دائرے میں گھومتی ہوئی۔وہ۔چکرا کر گر گیا۔

” مراد۔۔۔۔مراد۔۔۔۔مراد اٹھو۔۔۔مراد” سکینہ نے گھبرا کر اسے آوازیں دینا شروع کردیں۔اس کی آواز رندھ گئی تھی اور آنکھوں کی دہلیز آنسوؤں کو روکنےمیں ناکام ہورہی تھی۔

اس نے جلدی سے پانی کا چھینٹا اس کے منہ پر مارا۔مراد نے سر کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور دھیرے سے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔

” میں ٹھیک ہوں” مراد بمشکل بول پایا۔اور پھر آنکھیں موند لیں۔

سکینہ نے دو آدمیوں کی مدد سے اسے سڑک کے کنارے لٹا دیا تھا۔اور خود اس کے سر کے قریب بیٹھ کر اس کے سر کو سہلا رہی تھی۔

ننھے نے رونا شروع کردیا تو اس نے اپنی قمیص کو ایک طرف سے اوپر سرکا کر اپنی اپنی چھاتی ننھے کے منہ میں ڈال دی۔

مراد کی آنکھیں تو بند تھیں لیکن وہ پھر بھی سارے قافلے کو دیکھ رہا تھا جو مسلسل اپنی بقا کےلیے چلے جا رہا تھا۔اسے اپنا بدن ڈھیلا ہوتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی شے اس کے جسم سے نکل کر فضا میں معلق ہورہی ہو۔اس نے اپنی پوری توانائی صرف کرکے آنکھوں کو کھولنا چاہا تو وہ بس اتنا ہی کھل سکیں کہ وہ ننھے کو سکینہ کی چھاتی سے چمٹے دودھ چوستا دیکھ سکے۔

آنکھیں پھر بند ہوگئیں۔اسے لگا کہ سارا قافلہ زمین کی چھاتی سے چمٹا ہوا اپنے اپنے حصے کے دودھ کی آخری بوند چوسنے کی کوشش کررہا ہے۔

Published inعالمی افسانہ فورممرد افسانہ نگارمطلوب الرسول قمر