Skip to content

آخری افسانہ

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر 56 تیسری نشست

آخری افسانہ

سید تحسین گیلانی ،ساہیوال ۔ پاکستان

دسمبر 2014 میں، مَیں نے ایک افسانہ لکھنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔ اس افسانے کا پہلا لفظ تھا ۔۔۔۔ ماں ۔۔۔۔ بس پھر کیا !! میرے آنسو نکل پڑے ۔ یادوں کے سنہری قافلے کی گھنٹیاں میرے دل و دماغ میں بجنے لگیں بچپن تا جوانی۔ ایک خیال کی مسافت میں زندگی بھر کا سفر طے کر گیا میں۔۔۔ اور کیا۔۔۔؟؟؟ اُسی سنہری لمحے کی عطا کہ پَل بھر میں ، مَیں اپنی ماں کی قبر پر جا کھڑا ہوا۔ مَیں نے قبر کی خاک کو چہرے پر مَلا ۔رخسار محوِ وضو ہوئے ساتھ ساتھ ہاتھ تیمم بھی کرنے لگے۔۔۔آنسو بےاختیار سجدے میں گر رہے تھے۔۔ پانی میسر ہو تو تیمم کی کیا ضرورت؟؟؟ ہاں ہاں مجھے معلوم ہے کہ وضو افضل ہے مگر وہ خاک افضل ترین تھی۔۔روح نے تیمم کیا تھا ۔۔میری پیاسی روح نے۔۔۔ میں تو اس خیالِ خاکِ شفا سے سکون پا رہا تھا ۔ میں نے دوسرا جملہ لکھا : “ماں تم کہاں ہو ۔۔۔۔ ؟؟” اور پھر میں دھاڑیں مار کر رونے لگا ۔۔ میں مزید نہ لکھ سکا ۔۔ اوراق بھیگ گئے ۔ لمحے بہہ گئے ۔۔۔میں ڈوب گیا ۔۔۔حیات کی ناؤ انھی آنسوؤں میں ہچکولے لیتی رہی ۔۔ میرے سامنے میری ماں کا متبرک و منور چہرہ تھا۔۔۔ سراپا محبت ۔چمکتا ہوا ستارہ چہرہ۔۔ میری ماں کا چہرہ ۔۔ رات کا پچھلا پہر تھا ٹھنڈی اور مسحور کُن ہوا کے جھونکے کھڑکی سے اندر آ رہے تھے۔ اچانک ایک آواز سنائی دی۔ “بیٹا رو مت میں ہمیشہ دعا بن کر تمہارے ساتھ ہوں۔” میں نے آواز کا تعاقب کرنا چاہا لیکن یہ کیا وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔ بجُز خوشبو۔۔ہاں وہی دھیمی دھیمی مسرور کن خوشبو جو ہمیشہ مجھے نویدِ حیات دیتی تھی چہار جانب سے امڈ امڈ کر آ رہی تھی ۔مجھے ہَوا ماں کے ہاتھوں جیسی لگی جو میرے آنسو پونچھ رہی تھی۔ ایسے لگا جیسےکئی سہارے میرے آس پاس آبیٹھے ہوں۔ خوشیوں کی ساری گھڑیاں میری دلجوئی کو آن موجود ہوئی ہوں ۔ میرا دل میرے سامنے رقص کر رہا تھا ۔ میرا جسم اس کی بانہوں میں بانہیں ڈالے جھوم رہا تھا ۔۔۔ ماں ۔۔۔ماں ۔۔ماں میرا رَوم رَوم بےاختیار ہو کر پکار اٹھا آ جائیں نا ! میں آپ کے پیر دباؤں ۔۔ آئیں نا ماں جی ۔۔۔۔۔کتنے برس ہوئے آپ نے میرے ماتھے کا بوسہ نہیں لیا ۔۔۔۔ ماں دیکھیں میں نے ہنسی کے غلاف میں آپ کے غم کو لپیٹ رکھا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں میں خوش ہوں۔ کامیاب ہوں ۔ ہاں ہوں ماں ۔۔

سب تمہارے قدموں کے صدقےہی تو ہے ۔ تُو ہی تو میرا خدا تھی ماں۔۔ اگر خدا مجسم ہوتا تو وہ یقینا تیرے جیسا ہوتا۔ لیکن لوگ کیا جانیں میں پیٹ بھرا بھوکا ہوں ماں ۔ میں تو آپ کے ہاتھ کی پکی روٹیوں کو ترس گیا ہوں ۔ اب میں ہر بزرگ چہرے میں آپ کو ڈھونڈتا ہوں۔ تمام ماؤں سے مجھے آپ کی خوشبو آتی ہے۔ آنکھ میں نیند نہیں آپ رہتی ہیں۔ کیا میں اتنا برا تھا کہ میں آپ کا آخری دیدار تک نہ کرسکا آپ کے جنازے میں شامل ہونے کی اجازت بھی نہ ملی مجھے ۔۔۔۔!!! آپ کا کہا حرف حرف پورا ہوا۔آخری بار ائیرپورٹ پر مجھے سینے سے لگا کر روتے ہوئے آپ نے کہا تھا ۔۔۔ “دیکھنا میں مر جاؤں گی اور تم میری میت کو کاندھا دینے کے لیے بھی آ نہ سکو گے ۔۔۔” مَیں کتنا بدقسمت ہوں ماں ۔۔۔ایسا ہی ہوا۔۔

میں نے بڑی کوشش کی جنازے پر پہنچ سکوں لیکن کسی صورت یہ ممکن نہ ہو سکا ۔۔۔ مجھے جب آپ کے انتقال کی خبر ملی تو ہوش و حواس نے میرا ساتھ چھوڑ دیا چوبیس گھنٹے بعد ہسپتال کے بستر پر میری آنکھ کھلی تو میں تڑپ تڑپ کر رویا ، کُرلایا۔۔۔ٹکٹ لینے کو بھاگا میرے دوستوں نے بھی بہت کوشش کی فلائیٹ مل جائے لیکن ۔۔۔وائے قسمت میں آپ کی زیارت سے محروم رہا۔۔۔۔ رات بھر میں شہر کی سرد گلیوں میں کسی لاوارث کی طرح بھٹکتے ہوئے مَیں ہچکیاں لے لے کر روتا رہا اور پھر میں ٹھوکر کھا کر گیا تب سے میں اوندھے منہ پڑا ہوں۔کوئی نہیں تھا جو ماں تیری طرح منہ کا نوالہ وہیں پھینک کر بسم اللہ پڑھ کر بھاگتے ہوئے مجھے اٹھاتا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج دسمبر 2030 ہے ۔۔۔۔ ماں میں اسی افسانے کو یاد کر رہا ہوں اور اس بار میں ایک شیشے کے کیبن میں بند ہوں ۔میرے لیے وقت تھم چکا ہے ماں ۔ میرا دل و دماغ صرف آپ کو پکارتا ہے بس آپ کو یاد کرتا ہے ۔ میرے سامنے ایک ربوٹ ہے جو میرے دماغ کو پڑھ رہا ہے ۔ وہ مجھے سن رہا ہے ۔۔۔ ماں آپ بھی مجھے سن رہی ہیں نا ؟ ماں۔ اگر وقت بدلا اور انسان کا ظہور پھر ہوا تو آنے والے زمانوں میں شاید کوئی میری یہ کہانی سُن لے یا پڑھ لے ۔۔۔۔ شاید میرا یہ پیام بَر میری یہ معمولی سی کہانی کسی اور نسل کو منتقل کر سکے ۔۔۔شاید !!! ماں میں آپ سے کبھی ایک لمحے کو بھی جُدا نہ ہو سکا ۔مجھے نہیں معلوم آپ کس پردے میں ہیں لیکن میں جانتا ہوں آپ مجھے آج بھی دیکھ رہی ہیں ۔ میرا وجود ماؤف ہو چکا ہے میں صرف سوچ سکتا ہوں اور میرا یہ ساتھی مجھے سانس دے رہا ہے ۔۔۔

میرے اردگر مشینوں اور تاروں کا ایک جال بچھا ہے ۔۔۔ ماں !! اس دنیا میں آنے کے بعد ایک بچہ کس قدر غیر محفوظ ہوتا ہے ۔ یہ ہی جانا ہے میں نے ۔ ایک آپ ہی کی آغوش ایسی تھی جس میں اخلاص تھا ورنہ یہ دنیا تو اس گدھ کی مانند ہے جو اپنے شکار کے انتظار میں رہتی ہے ۔ ماں میں واپس کیوں نہ آیا؟ آپ کے بار بار کہنے پر بھی میں کیوں نہ لوٹا ؟ ماں میں آج آپ کو بتاتا ہوں ۔ ماں مجھے اب کچھ نہیں چھپانا یہ وہ باتیں ہیں جو میں نے اپنے آپ سے بھی کبھی نہ کِیں ماں ممکن ہے یہ باتیں کسی کے لیے معمولی ہوں ۔۔ آج انھی معمولی باتوں کی وجہ سے دنیا سسک سسک کر مر رہی ہے وہ معمولی باتیں جسے انسان نے کبھی کچھ سمجھا ہی نہیں ۔۔۔مگر آپ تو ایک ماں ہیں میرا درد سمجھ سکتی ہیں۔میں بتاتا ہوں آپ کو کہ آپ کی اولاد کو کہاں کہاں ذبح کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔ میں ایک ڈاکٹر ہوں اور میں نے ہزراوں انسانوں کی آخری سسکیاں سنی ہیں ان سب انسانوں کی جو اس دھرتی کے خدا تھے۔ ماں میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے عبد اور معبود دونوں کو تڑپتے دیکھا ہے ۔۔۔۔ ایسا کیوں ہوا ؟؟ وہ معمولی باتیں مجھے آپ کو بتانا ہیں ماں جن کا میں شاہد رہا ہوں ۔۔۔ وہ باتیں ۔۔جو میرے احساس میں درد کا پیوند لگا گئیں ۔۔ وہ باتیں جو چپ کی مہر بنی میرے اندر ایسے پلتی رہیں کہ میں آپ سے بھی نہ کہہ سکا۔۔۔ میں نے زندگی میں آپ سے تین بار جھوٹ بولا ۔۔۔ لیکن وہ تین جھوٹ ضروری تھے ۔۔ کبھی کبھی جھوٹ بھی بہت ضروری ہوتے ہیں ۔۔یہ مجھے زندگی نے سمجھایا۔

ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ پہلا جھوٹ اس دن بولا جب آپ نے مجھے بہت ڈانٹا اور ابا نے بھی پہلی بار بہت مارا ۔۔۔لیکن میں نے مسجد جانے سے انکار کر دیا ۔۔۔اور قرآن دو سپارے سے آگے نہ پڑھ سکا ۔۔۔۔ بھلا کیوں ۔۔۔!؟ وہ مولوی صاحب اچھے آدمی نہیں تھے ماں ۔۔۔۔ میں آپ کو اور ابا کو کچھ بھی نہ بتا سکا ۔۔۔۔ کیسے بتاتا ؟؟ کیسے بتاتا میرے ساتھ کیا ہوا ؟ پھر جب مجھے کالج کے دنوں میں شاعری کا شوق ہوا اور ابا مجھے میرا جنون دیکھتے ہوئے ایک شاعر استاد کے پاس چھوڑ آئے ۔ لیکن میں نے کچھ ہی دنوں بعد وہاں جانا بھی چھوڑ دیا ۔۔ ماں ۔۔۔۔۔ وہ استاد بھی اچھا آدمی نہیں تھا ۔۔۔۔ ماں آپ نے مجھے کئی بار پوچھا لیکن میں نے ہر بار ٹال دیا ۔۔۔۔مجھے لوگ بچھو لگنے لگے تھے ماں۔۔۔ پھر میں نے تنہا رہنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔ وہ جو آنٹی آپ کی دوست تھیں آپ ہمیشہ مجھے ان کے گھر چیز دینے بھیجا کرتی تھیں ۔ ماں میں نے ایک دن ان کے گھر جانے سے بھی انکار کر دیا تھا ۔ ماں وہ بھی اچھی عورت نہیں تھی ۔۔۔۔ کچھ عورتوں کے ماتھے پہ ایک چھپا پَھن بھی ہوتا ہے یہ سب میں آپ کو کیسے بتاتا ماں ۔۔۔۔ مجھے سانپوں سے ڈر لگتا تھا۔ مجھے صرف آپ کے پاس رہنا اچھا لگنے لگا۔ باقی ساری دنیا مجھے گِدھ لگنے لگی۔ کیا یہ معمولی باتیں ہیں ماں؟ شاید دنیا کے لیے یہ معمولی باتیں ہوں لیکن ایک بچہ جس سماج میں محفوظ نہ ہو وہ غلیظ سماج ،گٹر کی طرح بدبودار ہو جایا کرتے ہیں۔ خدا بھی یہ سب کچھ کب تک برداشت کرتا؟؟ کب تک ماں؟ ۔ میں نے باہر جانا کھیلنا کودنا سب چھوڑ دیا کتابوں سے دل لگا لیا ۔۔۔۔ آپ کی خواہش پوری کی اچھا ڈاکٹر بنا ۔۔۔۔کامیاب ہوا ۔۔۔ لیکن ماں اس کامیابی نے مجھے آپ سے اور اپنے وطن سے دور کر دیا ۔۔۔۔ بچپن سے میرے دل و دماغ میں اُس پنپتی نفرت نے مجھے اکیلا کر دیا ۔۔۔۔۔

ماں ۔۔۔۔ مرد اور عورت دونوں سے میرا اعتبار اٹھ گیا ۔۔۔۔ آپ ہر کال پر مجھے کہتیں شادی کر لے ۔ لڑکی دیکھی ہے تیرے لیے ۔لیکن میں ہمیشہ ٹال دیتا۔ ماں میں نے یہاں مریضوں سے دل لگا لیا ۔ پانچ سال میں نے ایتھوپیا میں انسانوں کی خدمت میں لگا دیے ۔ کالوں نے مجھے بہت پیار دیا میرا ایک دوست تھا جیکب ماں وہ میری بہت خدمت کرتا تھا اس کا دنیا میں کوئی نہیں تھا وہ میرا خدمت گزار تھا لیکن میں نے اسے بھائی کی طرح پیار دیا۔ ہاں یاد آیا ماں آپ نے ایک سوئیٹر بُن کر بھیجا تھا عنابی رنگ کا میں اس میں آپ کا لمس محسوس کرتا تھا لیکن وہ جیکب کو بہت پسند تھا میں نے اسے دے دیا ۔مجھے بہت سکون ملا وہ بہت خوش ہوا ۔ ماں مجھے ایک بات بہت جلد سمجھ گئی تھی کہ اچھا بننا اس دنیا میں سب سے مشکل کام ہے۔ میں نے امیر نہیں اچھا بننے کے لیے محنت کی میں نے انسانیت کے لیے کام کیا۔ اس رات جیکب میرے لیے ہرن کا شکار کر کے لایا اور میں نے وہ گوشت جیکب اور اس کے دوستوں کے ساتھ بھون کر کھایا وہ سب بے سہارا تھے ان سب کو میں نے اچھے انسان بننے کے راز بتائے اور وہ سب آج اچھے انسان ہیں اور اپنے ملک میں لوگوں کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ ماں جب میں چالیس سال کا ہوا تو مجھے ایک عورت سے محبت ہو گئی نجانے کیوں مجھے اس سے محبت ہو گئی پھر جب میں اس کے ساتھ رہنے لگا تو مجھے لگا جیسے وہ تمہاری شبیہہ ہے۔ یعنی یہ راز بعد میں کھلا لیکن شاید یہ میرا زعم تھا۔ کیا تھا میں آج تک نہ سمجھ سکا بس اس کی کئی باتیں مجھے تمہاری یاد دلا دیتیں ۔۔۔ جیسا کہ اس کا کبھی کبھی مجھے ڈانٹنا ۔۔

سوتے میں دن میں کہے جملوں کو دہرانا ۔۔۔ اور میرا بہت زیادہ خیال رکھنا ۔۔۔ شاید ساری ہی بیویاں اپنے شوہروں کا بہت زیادہ خیال رکھتی ہوں ۔ لیکن کیا سب شوہروں کو اپنی بیویوں میں اپنی مائیں نظر آتی ہیں ؟ میرے لیے یہ ایک سوال ہی رہا۔ ماں آپ کو یاد ہے ہمارے گھر ایک لڑکی آیا کرتی تھی کام کرنے ، ویسے تو سلائی کڑھائی کے لیے بہت سی لڑکیاں آتی تھیں لیکن ایک لڑکی جس کی ناک پر تیکھا سا تِل تھا۔ وہ جو نئے نئے گاؤں میں آئے تھے پچھواڑے میں ان کی چھت ہماری چھت سے ملی تھی اب اس کا نام مجھے یاد نہیں ۔۔۔۔ مجھے شک ہے ماں ۔۔۔۔ ابا اس پر بری نظر رکھتے تھے۔آپ کو تو معلوم ہے مجھے بار بار پیاس لگتی تھی ایک بار رات کو میری پیاس کی وجہ سے آنکھ کھل گئی تو مجھے لگا کوئی چھت پہ ہے میں دبے پاؤں اوپر گیا ۔۔۔ماں تب ابا میری نظر میں گر گیا۔۔اس رات کے بعد مجھے ہمیشہ ابا کے کندھے سے اوپر اندھیرا ہی نظر آیا چہرہ کبھی نہیں دِکھا۔۔۔لیکن میں یہ کبھی کہہ نہ سکا۔ تمام عمر میں نے خود کو جھوٹا دلاسا دیا کہ شاید میرا وہم ہو۔۔کہا نا جھوٹ ضروری بھی ہوتے ہیں۔ اُس وقت میں کئی معاملات کو لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر تھا لیکن میرا حافظہ اب نجانے کیوں سارا ماضی میرے سامنے لا لا کر پیش کر رہا ہے ۔خیر ابا کی بہت سی حرکتوں کے بارے میں آپ کو علم ہوتا تھا لیکن آپ ہمیشہ درگزر کرتی تھیں اور چپ چاپ گزارا کرتی تھیں ۔ میں ہمیشہ سوچتا تھا عورت ایسا کیوں کرتی ہے۔ وہ کیسے سب کچھ دیکھ کر بھی چپ رہ لیتی ہے۔ یہ شاید ایک عورت ہی بہتر بتا سکتی ہے۔ ماں میں چاہتا تھا کہ آپ کو علاج کے لیے اپنے پاس بلا لوں لیکن آپ نے ہر بار آنے سے انکار کیا اور آپ ابا کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں اور آپ کی خواہش تھی کہ آپ کی قبر گاؤں میں بنے ورنہ میں آپ کو ہر قیمت پر اپنے ساتھ لے آتا ۔لیکن مجھے آپ کی خوشی عزیز تھی۔ میری بیوی بھی آپ کی طرح زیادہ دیر میرے ساتھ نہیں رہی وہ زچگی کے دوران شادی کے دو سال بعد ہی مجھے تنہا چھوڑ گئی۔ ماں ۔۔ مجھے یوں لگا جیسے آپ ایک بار پھر مجھ سے جدا ہو گئیں ۔ میں اس دن بہت رویا تھا ۔ ماں ۔۔۔ ماں ۔۔ دنیا ختم ہونے کو ہے اور اب تک خدا کے وعدے کے مطابق ظہور والوں کا ظہور نہیں ہوا ۔ اور خدا پر تہمتیں لگانے والوں کو تو مزید بہانے مل گئے برقی صفحات پر جنگ کا سا سماں رہا۔۔۔۔۔بحث و مباحث منظارے۔۔۔ خدا کے منکروں نے جشن منائے۔ ماں ۔۔بھلا خدا پر سوال اٹھانے والوں کو خدا تو نہ ملا ہاں ان سب کو موت نے آ لیا ۔ خدا کا گھر 2020 میں ایسا خالی ہوا کہ دوبارہ آباد نہ ہو سکا ۔ انسان خدا کا ایسا منکر ہوا کہ خدا روٹھ گیا ۔۔۔۔

دنیا ایک وبا سے خالی ہونا شروع ہوئی تو دس سال میں اربوں لوگوں کو کھا گئی ۔ انسان ایک ویکسن کے لیے تڑپتا رہ گیا۔ ماں انسان جو کِبر و غرور کا مارا تھا وہ بے بس ہو گیا لاکھ کوششوں کے باوجود وہ نجات نہ پا سکا ۔ انسان پر انسان کی سبقت کی جنگ نے انسان کو ہلاک کر دیا ۔ دلوں کا فساد دنیا ہی میں رسوائی کا باعث بنا ۔ میں اس وقت دنیا میں باقی رہ جانے والا غالباً پچاسواں انسان ہوں۔ بس میرا دماغ چل رہا ہے ۔۔۔۔ اور یہ ربوٹ میری کہانی محفوظ کرنے والا آخری ربوٹ ہے ۔ ماں لافتح تلوار کب بے نیام ہو گی؟ قیامت کب آئے گی نہیں معلوم ؟ لیکن ایک قیامت گزر چکی ہے ماں ۔۔۔ انسان رحمان سے جنگ میں ہار گیا۔ ماں ۔۔۔ مجھے سونا ہے ۔میرا سر اپنی گود میں رکھ لو نا ۔۔۔۔ آپ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرو میں نیند سے ناتا جوڑتا ہوں ماں۔۔۔۔۔۔ گہری اور ابدی نیند میرے انتظار میں بیقرار بالکل ایسے ہی جیسے میں آپ کے لیے۔۔۔۔۔!! I Love you ماں I Love Human. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈیٹا کاپیڈ اینڈ سیوڈ ۔ ہیومن از ڈیڈ ربوٹ ۔ Z999

Published inسید تحسین گیلانیعالمی افسانہ فورممرد افسانہ نگار