Skip to content

آج کی رات پیا

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 98
آج کی رات پیا
کائنات بشیر، اولڈن برگ، جرمنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کی رات سجن من چاہے رہ لوں تیری بانہوں میں۔۔۔ ‘ گیت کے سُر کمرے کی فضا میں بکھر کر رات کے سناٹے میں ارتعاش پیدا کر رہے تھے۔ ایک بج چکا تھا۔ ریڈیو پر رات گئے کی نشریات میں گیتوں کا پروگرام جاری تھا۔ سرسراتی ہوا سے پردہ ہولے ہولے لہرا رہا تھا۔ آج چودھویں کی رات تھی۔ چاندنی کھڑکی کے راستے کمرے میں اتر کر بستر پر بکھری پڑی تھی۔ اُف،اتنی خوبصورت رات ۔۔۔! ، اِک ٹھنڈی آہ بے اختیار اس کے منہ سے نکلی۔ گھبرا کر اس نے کمرے میں روشنی جلا لی۔ تپائی سے کتاب اٹھا کر پڑھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن بے سود۔ حروف آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے۔ نہ جانے کیسی بےکلی تھی جو من پہ حاوی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ پیاس سے گلے میں کانٹے پڑنے لگے۔ جوتی میں پاؤں اڑسے اور کمرے سے نکل گئی۔ نظر بے اختیار اٹھی۔ ساتھ والے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ ساس، سسر کے سونے کا کمرا اوپر والی منزل پر تھا۔ وہ کب کے سونے کے لیے جا چکے تھے۔ ہنگامہ تھم چکا تھا۔۔۔۔۔ پہلے گھر میں کتنے لوگ اور رونق ہوا کرتی تھی۔ تینوں نندیں زریں، افشاں، ارسہ اپنے گھر بار کی ہو چکی تھیں۔ لوگ کم ہوئے تو گھر میں خاموشی چھا گئی۔ جس دن وہ آ جاتیں زندگی بیدار ہو جاتی۔ بچوں کی آوازوں سے شاداب ہاؤس کی رونقیں جاگ اٹھتیں۔ وہ کچن کی طرف چل پڑی۔ فرج کھول کر پانی کی بوتل نکالی۔ شیشے کے چمچماتے گلاس میں پانی بھر کر وہیں ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پہ بیٹھی گئی۔
گلاس آدھا بھرا تھا اور آدھا خالی۔ میری زندگی بھی اس گلاس کی مانند ہے۔ سب کچھ ہے اور نہیں بھی۔۔ گھونٹ گھونٹ پانی پیتے ہوئے طائرانہ نظر کچن پہ ڈالی۔ ہر شے اپنی جگہ پہ تھی۔ صاف ستھراچمکتا دمکتا کچن، گھر کے مکینوں کی نفاست کا پتہ دے رہا تھا۔ کچن کا ایک دروازہ لان کی طرف کھلتا تھا دوسرا برآمدے میں۔ دروازہ کھول کر وہ باہر آ گئی۔ ہوا میں خوشگوار سی ٹھنڈک تھی۔ گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے چہل قدمی کرنے لگی۔ آسمان پہ پورا چاند سرو کے درخت پہ جھومر کی طرح ٹکا تھا۔ ہر سو رات کا جادو چل رہا تھا۔ لاشعوری طور پر وہ چاند کی طرف دیکھنے سے گریزاں تھی۔ ماحول کے فسوں سے خود کو آزاد رکھنے کی شائد غیر ارادی کوشش تھی۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ گھر کے کسی کسی حصے میں ہلکی سی روشنی کا ساماں کئے چھوٹے چھوٹے قمقمے روشنی بکھیر رہے تھے۔ آس پاس کے گھر بھی تاریکی میں ڈوبے تھے۔ البتہ کسی کسی گھر کی بالکونی یا کھڑکی سے روشنی باہر نظر آ رہی تھی۔ کتنی ہی دیر وہ لان میں پھرتی رہی۔
دل کو سمجھانے، منانے کی لاشعوری کوشش، آنکھوں کے سامنے والدین کے شفیق چہرے آنے لگے۔ کیا نہیں کیا تھا انہوں نے اپنی لاڈلی بیٹی کے لیے۔۔ رافعہ۔۔ چار بیٹوں کے بعد پیدا ہونے والی بیٹی۔۔۔۔۔ جسے آنگن کے گلاب کی طرح سینچ سینچ کر انھوں نے پروان چڑھایا۔ بن مانگے، بن چاہے دنیا کی ہر چیز اس کی جھولی میں ڈالی۔ چار بھائیوں کی محبت نے اسے بہت مان دیا۔ کالج میں وہ اپنے نام سے کم اور۔۔۔ چار بھائیوں کی بہن۔۔۔ کے حوالے سے زیادہ شہرت رکھتی تھی۔ اسے لگتا جیسے وہ کہانیوں کی کوئی شہزادی ہو۔ کسی محل میں رہتی ہو۔ چار شہزادے ایک شہزادی۔ دور کہیں گھڑیال نے دو بجائے تو وہ پلٹ کر کمرے میں چلی آئی۔ نیند ابھی بھی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ تکیہ موڑ کر بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ گانوں کا پروگرام کب کا ختم ہو چکا تھا۔ انسٹرومینٹل میوزک بج رہا تھا۔ کونسا گیت ہو سکتا ہے اس ساز کے پیچھے۔ اس نے دھیان بٹانے کی کوشش کی، ‘ارے یہ تو اداکارہ نندہ کی فلم تھی’، وہ بڑبڑائی۔ ‘ کس لئے میں نے پیار کیا، دل کو یونہی بے قرار کیا، شام سویرے تیری راہ دیکھی، رات دن انتظار کیا، رات۔۔۔۔؟’ ہونہہ، ایک کڑوی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ پھیل گئی۔۔۔ ہاتھ بڑھا کر ریڈیو بند کر دیا اور بستر پر لیٹ گئی۔ دایاں بازو موڑ کر آنکھوں پہ رکھ لیا اور زبردستی سونے کی کوشش کرنے لگی۔ لیکن نیند کب اختیار میں تھی۔
اک فلم تھی جو آنکھوں کے سامنے چلی آ رہی تھی۔ بابل کے آنگن میں راج کرتے کرتے کیسےایک دن انہی محبتوں نے اسے ڈولی میں سوار کرا دیا۔ خوشحالی، آسودگی سب کچھ ہی تو اس کے پاس تھا۔ والدین نے اس کا نصیب بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ رشتہ ڈھونڈتے ہوئے ہر چیز دیکھنے، پرکھنے کی کوشش کی تھی۔ امیدوار لڑکوں کی اک بڑی تعداد سوئمبر رچنے کے مصداق تھی۔ آخر میں جا کر اچھی طرح دیکھ بھال کرکے کہیں ہاشم کا انتخاب ہوا تھا۔ اچھا خاندان، بڑا گھر، جما ہوا بزنس، اچھا لائف سٹائل۔۔۔۔ سوسائیٹی میں نام و مقام، خوبرو ہم سفر، اور زندگی کتنی مکمل ہو گئی۔ چند سال گزرنے کے بعد اسے لگتا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ بس کبھی کبھی ایک بات اسے پریشان کیا کرتی تھی۔ وہ دقیانوسی نہیں تھی۔ پڑھی لکھی سمجھدار تھی۔ لیکن نہ جانے کیوں پڑھا لکھا انسان بھی کبھی کبھی توہمات کے چکر میں پڑ جاتا ہے۔ اس نے سن رکھا تھا کہ اکلوتی بیٹی کبھی سکھی نہیں رہتی۔ اپنے اردگرد دوچار ہوئی مثالیں اس کے وہم کو مزید پختہ کرنے لگتیں۔ وہ دل کو مضبوط کرنے لگتی۔ نہیں نہیں، وقت میرے ساتھ کوئی چال نہیں چلے گا۔ سات سال گزر گئے۔ جب اچانک دوراہا سامنے آ گیا۔ نئے تقاضے خاموش نظروں سے جھانکنے لگے۔ دوسروں کی خواہشات ان کے چہروں پہ اک شبیہ بنانے لگیں۔ سب کچھ ہونے کے باوجود آخر کچھ تو تھا جس کی کمی تھی۔ جس سے منہ موڑنا مشکل ہو رہا تھا۔ تعلیم نے اسے شعور کے ساتھ ذات کی آگہی دی تھی۔ وہ ہمیشہ یہی سوچا کرتی تھی کہ اپنا حق کبھی سلب نہیں ہونے دے گی۔ اسے لگا وہ سب کچھ سنبھال لے گی۔ ادھر بشری خواہشات خدائی فیصلے کے سامنے سر اٹھا رہی تھیں۔ شبیہ آنکھوں سے اتر کر لبوں پہ لفظوں کا روپ دھار گئی۔ شائد بھول چکی تھی کہ وہ انہی رویوں، خواہشات والے معاشرے میں رہتی ہے۔ وہ خود کو تو بدل سکتی ہے لیکن دوسروں کو نہیں۔ لوگوں کی نظریں عفریت بن گئی تھیں، زبانیں لمبے ناگ اور چہرے ماسک زدہ۔ والدین کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں اک بےبسی، بےچارگی نظر آئی اور ساس سسر کی نظروں میں سوال۔۔۔۔؟ گیند اس کی کورٹ میں پھینکی جا چکی تھی۔ پہلی بار اسے احساس ہوا وہ لاکھ جدید خیالات اپنے حقوق کی علمبردار سہی لیکن حالات بندے کو اس نہج پر لے آتے ہیں جب سب کچھ ہاتھوں سے پھسلنے لگتا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ رویوں کو سوچنے لگی تھی۔ کبھی اپنے بارے میں سوچتی کبھی دوسروں کے بارے میں۔ لڑنا جھگڑنا، اس کا وصف نہیں تھا۔ لاڈلی بیٹی اور سمجھدار بہو کے درمیان کشمکش شروع ہو چکی تھی۔ ساس سسر، والدین، بھائی بھابھیاں، نندیں سب اس کی چپی ختم ہونے کے منتظر تھے۔ حالات کسی فیصلے کے متقاضی تھے۔ کئی دن وہ کمرے میں بند اپنے آپ سے الجھتی رہی۔ چِت، پٹ کا سکہ اچھالتی رہی۔
اور۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ اپنے حق کے لیے لڑنے والی، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی، دوسروں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے والی خود ہار کر سر جھکا بیٹھی۔ بااختیار ہو کر بے اختیار ہو بیٹھی۔ شائد وہ آج بھی اندر سے دقیانوسی ہی تھی۔ صبر، ایثار کی پتلی۔۔۔۔ عورت کا وہی ازلی روپ۔۔۔۔ کوئی ہنگامہ کیے بغیر دوسروں کے فیصلے پر اس نے چپ چاپ مہر لگا دی۔۔۔۔ اکلوتی بیٹی ہو کر اس نے راج کیا تھا۔ اکلوتی بہو بن کر اب وہ آگ کا دریا پار کرنے جا رہی تھی۔ اپنا آپ تیاگ کر۔۔! ساری زندگی بلندیوں کا سفر کرنے والی اچانک پاتال میں جا گری۔ اکلوتی بیٹی واقعی سکھی نہیں رہتی۔ وقت نے ایک بار پھر مہر لگا دی۔ اسی لیے آج اس کا شوہر اس کی بجائے ساتھ والے کمرے میں اس کی سوکن کے پاس تھا۔

Published inعالمی افسانہ فورمکائنات بشیر