Skip to content

آئینہ

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 109
آئینہ
ضیغم رضا بہالپور ، پاکستان

یہ خیال تو کئی دنوں سے اس کے ذہن میں آرہا تھا مگر عملی موقع ہاتھ نہ آتا تھا۔یہ موقع اس وقت بنا جب والد نے مسجد کی صفائی اس کے ذمے لگائی۔ مسجد کی صفائی کے معاملے میں والد اپنے نوکر اور دو بڑے بیٹوں کی نسبت ندیم پہ زیادہ اعتماد کرتا تھا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے، باقیوں کے برعکس ندیم کا پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے صفائی کا قدرے زیادہ خیال رکھنا تھا۔ ماہ رمضان شروع ہونے سے پہلے اتوار کو یقینآ غنیمت جانتے ہوئے والد نے اس کے ذمہ یہ کام لگایا ہوگا جو کہ ندیم کے لیے بہرحال خوش آئند تھا۔
ندیم کے لیے یہ صفائی اس لیے غنیمت تھی کہ فجر اور ظہر کے درمیان، جب اس نے صفائی کرنا تھی، مسجد میں کوئی اور فرد نہیں ہوتا تھا۔صفیں جھاڑتے ہوئے،جھاڑو دے کر چھڑکاو کرنے اور پھر قرینے سے صفیں بچھانے کے دوران میں اس نے ہر قسم کی احتیاط کو ملحوظ رکھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بے احتیاطی سے کوئی بھی مقدس ورق کوڑے کے ساتھ چلا جائے۔صفائی کے بعد وہ اس الماری کی طرف متوجہ ہوا جس کے بارے میں وہ گزشتہ کئی روز سے سوچ رہا تھا۔ طاقچوں پہ لگے لکڑی کے پٹ کھول کر اس نے احتیاط سے دونوں گٹھر اٹھا لیے۔ ان گٹھریوں میں قرآن پاک سے علیحدہ ہو چکے اوراق کو باندھا گیا تھا۔یہ وہ اوراق تھے جو مسجد کے صحن میں دفن کیے گئے قرآن کے شہید نسخوں سے بچ رہے تھے۔
مسجد کے متعلق ندیم کے والد اسے بتا چکے تھے کہ موجودہ عمارت تیسری دفعہ بنی ہے۔ ہر دفعہ کھڑی ہونے والی عمارت گویا سابقہ عہد کو ڈھا کے ہی اوپر اٹھتی رہی۔سب سے پہلے اس کی عمارت سنی مٹی سے بنائی گئیں،زمانہ بدلا تو کچی اینٹوں سے دیواریں اٹھائی گئیں، آخر آخر پکی اینٹوں اور سیمنٹ نے مسجد کی جازبیت کو نکھارا۔ والد سے،مسجد کی یہ اشاراتی تاریخ سن کر ندیم کی معصومیت نے اس کے اندر ایک ان چاہا تجسس ابھارا کہ جیسے وہ ان اوراق کو دیکھ کر سابقہ عہد کی زندگی کا کامل مطالعہ کر لے گا۔
گٹھری کو صف پہ رکھ کے، اپنی سانسوں سے بھی ایک لمحے کے لیے یکسر بے نیاز ہو کر، اس نے پوری یکسوئی سے گانٹھیں کھولیں۔ گانٹھوں کے کھلتے ہی گٹھری اور ندیم کی سانس کا کھنچاو یکلخت کم ہوگیا۔ اوراق بکھرے تو ان بسی، مٹی اور بوسیدگی کی سوندھی خوشبو نے اسے خوشگوار احساس سے روشناس کرایا۔ اس چور کی طرح جو چوری والے گھر سے، مکینوں کے جاگنے سے پہلے تمام اسباب سمیٹنا چاہتا ہو، ندیم نے جلدی جلدی ان صفحوں کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔ کچھ قرآن پاک کے صفحے تھے،پھٹی ہوئی جنتریاں،رمضان کیلنڈر جبکہ ایک دو طریقہ نماز کے کتابچے۔ان سب پہ اچٹتی ہوئی نظر ڈال کے اس نے ہاتھ سے لکھے ہوئے ایک صفحے کو اٹھایا۔ اس پہ لکھے؛موکل سے ہم کلام ہو کے؛ اپنی خواہشات پوری کرنے کے طریقے کو بغور پڑھا اور اپنی جیب میں ڈال دیا۔ بیچ راہ میں ہی اپنا گوہر مراد پالینے والے شخص کی طرح اس نے مزید کرید کرنے سے گریز کیا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اسی صفحے کے حصول کے لیے ہی ساری تگ ودو کر رہا تھا۔ دوسری گٹھری کو جوں کا توں رہنے دے کر، اس نے کھلی ہوئی گٹھری کو باندھ کے دونوں کو الماری میں ٹھونس دیا۔
ایک دو دن تک، اسے تنہائی میں جب بھی موقع ملتا صفحے کو غور سے پڑھتا اور اس پہ درج تنبیہات پہ بالخصوص غور کرتا۔ چوری چھپے کوئی کام کرنے سے وہ سہما ہوا بھی تھاجبکہ اس سے ملنے والے من چاہےنتائج بھی کچھ کم فریب خیال نہیں تھے۔ رمضان شروع ہونے میں ایک دن باقی رہتا تھا؛ جب اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس عمل کو ضرور آزمائے گا۔ رمضان میں ویسے بھی وہ نماز کی پابندی کرتا تھا جبکہ رمضان کے بعد بھی وہ چاہتا تو پابندی کرکے بآسانی چالیس روز پورے کر سکتا تھا۔ رہی زیادہ سے زیادہ بھوکا رپنے کی شرط تو اس کے لیے ماہ رمضان سے بہتر کونسے ایام ہوتے؟
رمضان کے شروع ہوتے ہی اس نے فجر کی نماز سے پہلے کیے جانے والے ورد کو معمول بنا لیا۔ سحری کے فورآ بعد وہ مسجد میں چلا جاتا اور نماز پڑھنے سے پہلے مقررہ تعداد میں ورد کر لیتا۔ اس دوران میں کئی رکاوٹوں نے اس کا راستہ روکنے کی غیر مرئی کوشش کر کے اسے اپنے مقصد سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ کبھی اس کی موجودگی میں کوئی اور فرد مسجد میں آجاتا تو اسے بظاہر قرآن کھول کر ورد پورا کرنا پڑتا۔ گاوں کے بزرگ سمجھتے تھے کہ نوجوانوں کا حدرد درجہ عبادت گزار ہونا یا اوراد و وظائف میں مشغول ہونا انہیں عملی زندگی میں ناکارہ بنا دیتا ہے۔ جب بھی نماز کا وقت آتا تب بھی ندیم کے زمے کوئی ایسا کام لگ جاتا کہ جس سے نماز قضا ہونے کا اندیشہ پیدا ہو جاتا۔ ایسے میں اس کی جان پہ بن آتی لیکن بہرحال جیسے تیسے اس نے نماز کبھی نہ چھوڑی۔ اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی کئی کلفتوں کا سامنا کرتے ہوئے اسے پینتیس روز گزرے تھے جب خواب میں اس کی ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی۔
مکانی تعین کیسے بغیر اس نے دیکھا کہ ایک بزرگ اس کی طرف پیٹھ کیے بیٹھے ہیں۔سفید لباس پہنے اس بزرگ کے سر پہ سفید عمامہ تھا، چہرے سے ڈارھی مونچھ غائب تھی ( ندیم کو اس بزرگ کے جنتی ہونے کا شبہ نہ رہا)۔ چہرے پہ بلا کا رعب کہ نظر بھر کے دیکھنے کی ہمت نہ ہوتی تھی مگر جازبیت ایسی کہ دیکھنے کو بار بار نظریں اٹھیں۔ خوف و انبساط کے ملے جلے تاثر چہرے پہ لیے؛ چند ثانیے ندیم گنگ رہا؛ تآنکہ بزرگ کی آواز گونجی:
“تو تم ہو ندیم؟”
“ج ی ی جی۔۔” بمشکل اس کی زبان ہلی، مگر یک لفظی اس جواب کے بعد اس نے دم سادھ لیا۔ اسے تو بس چلہ پورے کرنے کی دھن تھی؛ اس عاشق کی طرح جو محبوب سے محض ‘ہاں’ سننے کا متمنی ہو۔ اس کے بعد اسے کیا کرنا ہوگا، یہ لائحہ عمل وہ سرے سے طے ہی نہ کرے۔ ندیم کی حالت بھی اس عاشق کی سی تھی، وہ خواہشات کی بار آوری تو چاہتا تھا مگر اس کے متعلق اس کا تیقن پختہ نہیں تھا۔ اب جب ایک دم سے منزل اس کے سامنے آئی تو وہ بوکھلا گیا، ایک طرح سے بے یقینی کی کیفیت نے اس کے حواس کو اپنے قابو میں لے لیا۔
“ایک سوال کے بدلے میں؛میں بتا سکتا ہوں کہ تمہیں کیا مانگنا چاہیے” بزرگ نے جیسےندیم کی زہنی کشمکش کو بھانپ کے اس کی مشکل آسان کرنے کا عندیہ دیا۔
ندیم نے بمشکل اثبات میں سر ہلا یا تو انہوں نے کہنا شروع کیا:
“دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو دماغی مشقت سے نام کماتے ہیں اور دوسرے وہ جو جسمانی مشقت سے۔ اگر مجھ سے پوچھو تو عمومآ دماغی مشقت والے زیادہ فائدے میں رہتے ہیں، اب اپنی خواہش بتاو؟”
“مجھے بہت سارا علم چاہیے” ندیم کے پیش نظر اس وقت صرف اپنی پڑھائی کی مشکلات تھیں۔
“تیسری خواہش؟” بزرگ نے پھر پوچھا
کچھ دیر تک ندیم تذبذب میں رہا؛بالآخر “کچھ نہیں” کہہ کر خاموش ہوگیا۔
اگلے دو دن تک ندیم سرشار رہا؛ اس کی آنکھوں سے بزرگ کی صورت محو نہ ہوتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے اندر ایک تبدیلی محسوس کی کہ اس کا معصومانہ تجسس ہر سامنے والی شے کی ماہیت وابدی حقیقت جاننے کے لیے بے تاب کر دیتا ہے۔ جب وہ اپنے بھائیوں کو کھیتوں میں کام کرتے دیکھتا تو کھیتی باڑی سے متعلق طرح طرح کے سوال اس کے ذہن میں آتے۔ بھائیوں کے ساتھ اگرچہ اس کی کبھی بھی زیادہ بے تکلفی نہیں رہی تھی لیکن وہ خود کو والد کے قریب زیادہ محسوس کرتا۔ ندیم کا والد اب اس عمر میں تھا جہاں زاتی تجربات و مشاہدات اور ناستیلجا کو کسی کے سامنے بیان کرنے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ندیم جب کاشتکاری سے متعلق اس سے کوئی سوال کرتا تو گویا وہ بند کے آگے رکے پانی کو راہ دینے کی کوشش کرتا۔ اپنے بیٹے کو ایک طرح سے وراثت منتقل کرنے کا جذبہ؛ باپ کی آواز میں ایسی شیرینی گھول دیتا کہ ندیم سنتے سنتے؛پہروں پلک نہ جھپکتا۔
اس کا والد اسی دور سے بات شروع کرتا جب وہ ندیم کی عمر میں اور لاشعوری طور پر اسی کی طرح کا متجسس نوجوان تھا۔ یہ بھی اس عمر میں آکے اسے پتہ چلا کہ جو نظر آجائے وہ کبھی محو نہیں ہوتا اور اسی مفروضے نے اس کی یادداشتوں کو اصلیت کا رنگ دے دیا تھا۔اس نے کنویں سے پانی نکالنے کے لیے جتے ہوئے بیل؛ پہروں چکر کاٹنے کے بعد بمشکل ایک کنال اراضی سیراب کر سکنے کے متعلق بتایا۔ ان بیلوں کے گلے میں پڑی ہوئی گھنٹیوں کی مترنم آواز؛ وقت کاٹنے کے لیے کاشتکاروں کی آپسی چہلیں؛ کاشت کے تمام مراحل میں ونگار کا تصور اور معمولی رنجشوں پہ جھگڑوں کا طول۔ اپنی تمام تر سنگینیوں اور رنگینیوں کو یاد کرنے کے بعد ندیم کا والد؛ ہمیشہ یہی کہتا؛ جو گزر گیا اچھا تھا!
والد کے لیے بھلے ہی یہ سوچ اطمنیان بخش تھی لیکن ندیم کو اس سے مزید سوچنے کی مہمیز ملتی۔ زندگی کی تمام تر مشکلات کے باوجود ماضی میں لوگوں نے اپنی بقا تو قائم رکھی مگر ارتقا و ترقی کا سفر کافی سست رہا۔ وہ جب اپنے حالات پہ غور کرتا تو اسے دو بھائی اور نوکر کاشتکاری سے جڑے نظر آتے جبکہ اس کا والد بھی ہاتھ بٹا لیتا تھا۔ اپنے گاوں کی نسبت ان کا گھرانہ قدرے خوشحال تھا، لیکن یہ خوشحالی بھی ایک خاص ڈگر پہ اور یکسانیت سے پر تھی۔ تیز ارتقائی سفر اس کے گھرانے نے بھی طے نہ کیا تھا بلکہ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ندیم کو ماضی اور حال ایک سا لگتا۔ تب جانور کھیتی باڑی کے زرائع تھے اب مشینری تھی محنت کم تو ہوئی تھی لیکن وقت اب زیادہ سے زیادہ دینا پڑتا تھا۔ اسی طرح پیداوار میں سے جدید زرعی آلات پہ اٹھنے والا خرچ بھی منہا ہوتا تھا۔ اس کٹھن اور سست روی سے چلنے والی زندگی پہ وہ جس قدر غور کرتا اسے بزرگ کی بات میں سچائی نظر آتی۔
‘مجھے دماغی مشقت کرنا ہوگی؛ یہ فیصلہ کرنے کے بعد اس نے بارھویں سے آگے نہ پڑھنے کے متعلق اپنے والد کو مطلع کیا۔ والد جو کہ ندیم کی تعلیم سے کافی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھا اس کی یوں کم ہمتی دیکھ کر خاصا مایوس ہوا۔ وہ زبردستی بھی اسے پڑھنے پہ مجبور کرسکتا تھا لیکن ڈھٹائی کو چھوتے ندیم کے عزم نے اسے خاموش رہنے پہ مجبور کر دیا۔ باپ کی طرف سے اطمنیان کے بعد وہ سنجیدگی سے آئندہ کے لائحہ عمل پہ غور کرنے لگا۔ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں سے فراغت کے بعد وہ آس پاس کی زندگی کا مشاہدہ کرنے لگتا۔
کافی سوچ بچار کے بعد وہ اس نتیجے پہ پہنچا کہ قناعت پسندی، سستی و کاہلی اور آمدن بڑھانے کے بجائے اخراجات گھٹانے کے رویے نے لوگوں کو مسلسل پستی کی طرف دھکیلا ہے۔ اپنے گاوں کے چند افراد کے سامنے؛ جو اس کے استدلالی طرز گفتگو سے اب مرعوبانہ حسد کرتے تھے؛جب ندیم نے اپنا مدعا رکھا تو وہ بھڑک اٹھے :
” تو آج کا چھوکڑا ہمیں سمجھائے گا کہ پاوں پہلے پھیلائیں اور چادر بعد میں کھسکائیں؟”
“او بھئی یہ جو بھی کہنا چاہے کہہ سکتا ہے؛ اس کا باپ پندرہ ایکڑ کامالک ہے” ایک بوڑھے نےطنز کیا
“چاچا!بات ایکڑوں کی نہیں ہے، جب آپ سوچ کے ہی بیٹھتے ہیں کہ محنت سے کچھ ہاتھ نہیں آتا تو کیا خاک محنت کریں گے؟ اور جب محنت نہ ہوگی توچادر کیسے پھیلے گی؟”
“یہ چاہتا ہے اپنی ضروریات بڑھا کے ہم اس کے باپ سے قرض لیں” یہ الزام اس شخص نے لگایا جس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ اس نے کبھی کسی کام کو ہاتھ نہیں لگایا۔ اس کی بیوی؛ اس کے دو بچوں اور اس کا پیٹ پالنے کے لیے ہرطرح کی مزدوری کرتی تھی۔ ندیم کا جی چاہا کہ اسے نامرد ہونے کا طعنہ دے کر چپ کرادے مگر شر کو ہوا دینے پہ اس نے خاموشی کی ترجیح دی؛ اور اپنی تمام تر توجہ اپنے گھر تک محدود کر دی۔
کیوں نہ ہم کچھ زمین ٹھیکے پہ لے لیں” اپنے بھائیوں کی موجودگی میں اس نے والد کو مخاطب کیا
” ہم سے تو اپنی زمین بھی بمشکل سنبھالی جاتی ہے” بڑے بھائی نے عذر پیش کیا
“اگر ندیم ہمارا ساتھ دے تو ایسا مشکل بھی نہیں” منجھلے نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔
“دیکھو بیٹا! تمہارے بھائی تو خون پسینہ ایک کرتے ہیں؛ نوکر پہ مزید بھروسہ کرنے کی بجائے اگر تم بھائیوں کا ساتھ دو تو جتنا جی چاہے لے لو زمین ٹھیکے پہ” والد نے گویا اس کے مدعے کی توثیق کر دی۔
کچھ دنوں بعد ہی ایک ایسے سخص سے؛ جس کا اپنے بھائی سے تنازعہ چل رہا تھا؛ انہیں پانچ ایکڑ زمین ٹھیکے پہ مل گئی۔ندیم کے بھائی جو اسے خود سے چھوٹا ہونے باجود اس کی تعلیم کے سبب قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اس کے ساتھ مکمل تعاون پہ کمربستہ ہو گئے۔ ندیم کا؛ان کی سطح پہ اترنا بھی ان کے دل کو مزید کشادہ کر گیا۔ زمین کی تیاری کے دوران میں ندیم نے فیصلہ کیا کہ جب تک اپنی کاشت مکمل نہیں ہو جاتی ان کا ٹریکٹر کسی اور کی زمین میں نہیں جائے گا۔فصلوں کی کاشت میں بھی یہ تبدیلی لائی گئی کہ ایک موسم میں ایک سے زائد فصلیں کاشت کی جائیں۔ اس کا یہ فائدہ ہوا کہ ایک فصل اگر زیادہ اچھی نہ ہوتی تو پیداواری توازن دوسری فصل سے مکمل ہو جاتا۔
نوکر کو صرف جانوروں جبکہ والد کو نوکر اور ڈیرے کی دیکھ بھال تک محدود کر دیا گیا۔شروع شروع میں اگرچہ ندیم؛ برابر اپنے بھائیوں کے ساتھ کام میں لگا رہا لیکن جلد ہی وہ ان سے برتر ہوتا چلا گیا۔ یہ برتری اسے بھائیوں نے غیر محسوس انداز میں اس وقت دینا شروع کردی جب انہوں نے محسوس کیا کہ وہ دونوں پندرہ کی بجائے بیس ایکڑ بھی کاشت کر سکتے ہیں۔دوسری اہم وجہ اس کی زہنی مستعدی تھی؛ وہ جب بھی کوئی نیا مشورہ دیتا تو دونوں بھائی اسے حاکمانہ سمجھ کے قبول کرتے۔کام کی طرف سے فراغت ملنے پہ ندیم کے نئے نئے تعلقات بھی پنپنے لگے۔وہ اپنے دوستوں سے ملنے کے لیے دور دراز کے علاقوں میں جاتا تو نئے مشاہدات اس کے شعور کا حصہ بنتے۔
مختلف علاقوں کے معیار زندگی کےمطالعے نے اسے یہی سکھایا کہ زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ چھ ماہ بعد آنے والی فصل پہ تکیہ کرنے سے سستی دوچند ہوتی ہے،اور یہی سستی زندگی کو مسلسل پستی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس نے تہیہ کر لیا کہ خواہ وہ ترقی کے کسی بھی زینے پہ پہنچ جائے آگے بڑھنے کے عمل کو موقوف نہیں کرے گا۔
اسی سوچ کو لے کے؛ ابتدائی تجربے کے بعد؛ ہونے والے معاشی استحکام کے پیش نظر انہوں نے زمین خریدنے اور ٹھیکے پہ لینا نہ چھوڑا۔ ائندہ چند سالوں میں ندیم کی درست فیصلہ سازی نے اس کے گھرانے کا وقار تیزی سے بلند کیا۔ اب کسی کو پیسے ادھار چاہیے ہوں؛ زمیں ٹھیکے پہ دینی ہو یا بیچنی ہو تو اس کی پہلی ترجیح ندیم کا ہی گھرانہ ہوتا۔ ندیم کی زمینداری مستحکم ہوئی تو ایک زرعی ادویات کی کمپنی کے نمائندے نے اس سے رابطہ کیا۔وہ فصل کی مناسب دیکھ بھال ،فصلوں کو بیماری سے بچاو کے لیے بروقت اقدامات کرنے اور پیداوری بہتری کے لیے مشورے دہنے کے لیے کسانوں کا کٹھ بلانا چاہتا تھا۔ ندیم کو جب اس نے درخواست کی کہ وہ کسانوں کو اپنے ڈیرے پہ جمع کرکے ایک طرح سے میزبانی کرے تو اس نے قبول کر لیا۔
ڈیرے پہ صفائی کرانے اور چارپائیاں بچھوانے کے بعد جب تیار ہونے کے لیے وہ گھر آیا تو آئینے میں اسے، اس بزرگ کا چہرہ نظر آیا جسے چند سال پہلے اس نے خواب میں دیکھا تھا۔ گو بزرگ کے چہرے پہ اسی طرح کا رعب تھا مگر ندیم پہ اس رات کی طرح کا کوئی تحیر طاری نہ ہوا۔ اب بزرگ کا چہرہ بھی اس کی طرف تھااور چند ایک بار پلکیں جھپکتے ہوئے وہ مسکرایا؛ غیر ارادی طور پر ندیم بھی مسکرا دیا۔ اس کے مسکراتے ہی بزرگ کا چہرہ اچانک غائب ہوگیا اور ندیم آئینے میں اپنی شکل دیکھتا ڈیرے کی طرف چل پڑا۔

Published inضیغم رضاعالمی افسانہ فورم